کورونا اپنے پیچھے کیا چھوڑ جائے گا؟
ہم میں سے ہر آدمی موجودہ صورتحال کی وجہ سے پریشان ہے، یہ علیحدہ بات ہے کہ کچھ وبا کے پھیلاؤ کے سبب پریشان ہیں اور باقی معاشی حالات کی بے یقینی کے سبب الجھن کا شکار ہیں۔ اس دوران قدرتی ماحول ہم سے بے نیاز، اپنے بناؤ سنگھار میں مصروف نظر آتا ہے۔ فضا میں آلودگی کا تناسب گھٹ رہا ہے، شور اور دھویں میں کمی ہو رہی ہے۔ لوگوں کو سماجی فاصلے، بار بار ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ آزادانہ حرکت اور میل جول کا سلسلہ منقطع ہو رہا ہے، سفر کرنے کی ضرورت کو کم محسوس کیا جانے لگا۔ کورونا سے پہلے اور بعد کی زندگی میں واضح فرق ہو گا۔ سماجی قربت اب سماجی فاصلے پہ منتج ہوگی۔
موجودہ وقت ایک آزمائش کی گھڑی ہے جس میں انسان نے خود کو بچانا بھی ہے اور سیکھنا بھی ہے، ہمیں کیا کرنا چاہیے تھا اور ہم نے کیا کیا ہے۔ ہم نے کاروباری مفادات کے لیے دنیا کو گلوبل ولیج کا درجہ دیا، ٹیکنالوجی کا معاشی خوشحالی کے لیے بے دریغ استعمال کیا۔ یوں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفری سہولت کو سمارٹ بنانے کے لیے زمینی سے بحری اور پھر ہوائی سفر کے ذرائع ترقی پا گئے۔ اسی نقل و حمل کی تیزی نے وبا کے پھیلاؤ کی رفتار کو بھی بڑھایا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ اس سفر میں دانستہ کمی کی گئی پھر باقاعدہ بندش ہوئی۔ زمین غیر محفوظ ہونے لگی خاص کر شہری گنجان آبادیوں کے بے لگام پھیلاؤ نے ایک بڑے خطرے کی گھنٹی بجائی۔
اس وبا کا چین سے آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے براعظموں کی وسعتوں کو یہ وائرس پھلانگ گیا۔ ہوائی جہازوں، بحری جہازوں، ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے لوگ اس جرثومے کو اپنے ساتھ منتقل کرتے رہے۔ تیزی اور پھرتی خود وبال جان بن گئی۔ قدرت کو تسخیر کرنے کی لگن اور بے لگام رفتار کو صرف ایک جھٹکے سے قدرت نے منجمد کر دیا۔ انسان نے تعلیم و ترقی سے باہمی تعاون کی بجائے لالچ خود غرضی اور اختلافات کو پروان چڑھایا۔ ہم نے ممکنہ بیماریوں سے جنگ کرنے کے لیے خود کو متحد نہیں کیا بلکہ مادی وسائل اور جغرافیائی سرحدوں پہ اجارہ داری کو قائم کرنے کے لیے اتحاد بنائے۔
تمام ریاستیں تھوڑے یا بہت فرق کے ساتھ ناکام ہوتی دکھائی دینے لگیں، صحت کے لیے ناکافی سہولیات اس بیماری کی روک تھام کی راہ میں رکاوٹ بن گئیں۔ ہمیں سمجھ آنے لگا ہے کہ صحت فلاحی ریاستوں کی ترجیح ہوتی تو حالات اس قدر پریشان کن نہ ہوتے۔ جینے کی تدبیر کرنے کی بجائے جنگوں کے جواز بنائے جاتے رہے۔ جس نظام پیداوار کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گئے، آج وہ بھی ہمیں نامراد نظر آتا ہے۔ ہم نے صحت کے شعبے میں پیش رفت کو بھی صنعتی پیداوار سے جوڑا۔۔۔ جنگ کو دنیا کی فلاح اور امن کے مفروضے سے جوڑ دیا، یوں دراصل انسانوں کے مابین نسلی، مذہبی اور علاقائی آگ کو ہوا دی گئی۔
قدرت نے ہمیں آکسیجن دی اور ہم نے زہر آلود مادے یعنی کلوروفلورو کاربن کو فضا میں منتقل کیا۔ درخت ہمیں زندگی دیتے ہیں، ہماری آب و ہوا کو بہتر بناتے ہیں۔ پرندوں کو گھونسلہ دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ہم نے انہیں کاٹ کر دھندہ کیا، ہم ایک دوسرے کے بہت قریب آ کے بھی دور رہے، اس سیلولر سوسائٹی نے ہم پہ سماجی دوری کی سزا مسلط کر دی ہے۔ شہری آبادیوں کو بڑھاوا دیا اور دیہاتوں سے لوگ منتقل ہو کے شہروں میں آن بسے، سوسائٹیوں نے زندگی کی بھیڑ لگا دی۔
رات بھر رونقیں بکھیرنے والے بازار اب شام سے پہلے اپنی روشنیاں گل کر دیتے ہیں۔ فراٹے بھرتی اور بھاگتی زندگی میں ایک سکوت طاری ہے۔ ایک کنال سے دس مرلے، پھر 7 مرلے، 5 مرلے اور اب 3 مرلوں میں ایک گھر کی کائنات سمٹ گئی۔ پسماندہ ممالک کہ جن کی اکثریتی آبادی ابھی تک اس عذاب جاں کو سازشوں سے منسوب کر رہی ہے وہیں طبی سازو سامان کو ذخیرہ کر کے منافع بٹورنے کی حرکات بھی ہو رہی ہیں۔ سرجیکل ماسک پہلے غائب ہوئے پھر ان کے مہنگے داموں فروخت ہوئی۔ اسی طرح علاج میں مفید ادویات کی پہ بھی یہی فارمولا لگانے کی کوشش کی گئی۔ یعنی ہم انسانی المیئے کو بھی سرمایہ داری کے مروجہ اصولوں کے تحت استعمال کرتے ہیں۔
دیہاتوں سے شہروں کی طرف منتقلی نے جہاں دیگر مسائل کو جنم دیا وہیں شہروں میں ابادی کے بے لگام اضافے نے انہیں بیماری کا بم بنا دیا۔ ہمیں قدرت نے خالص خوراک دی اور ہم نے جینیٹک انجینیرنگ کا اندھا دھند استعمال کر کے قدرتی پیداوار کو متاثر کر دیا۔ اس بداعتدالی نے صنعتی فائدہ تو دیا مگر خوراک سے معیاری اور متناسب غزائیت جاتی رہی۔ پروسیسڈ فوڈ کے نقصانات آج ہم پڑھ رہے ہیں اور پھر بھاری دل سے اپنی اولاد کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ استعمال نہ کریں۔ حالانکہ ایک عرصہ ہم نے خود اسی خوراک کے مزے لیے اور فیشن کے طور پہ اسے اپنی خوراک کا حصہ بنایا۔ جینیٹک انجینیرنگ کے قائدین خود قدرتی فارمنگ کو متعارف کرانے لگے ہیں۔ غرض یہ کہ ہم نے قدرتی توازن میں خلل ڈالا، سب کچھ سبک رفتاری سے کیا۔ آج ہمیں یہ سبق مل رہا ہے کہ آہستہ ہر صورت میں آہستہ چلو اور آہستہ۔ ۔ ۔
زندگی سہل بنانے کی کوشش میں ہم نے مصنوعی اور غیر مصنوعی سب طریقے آزمائے، ناممکن کو ممکن بنایا اور اسے جدت کا نام دیا۔ مشینوں پہ ایسا انحصار کیا کہ خود پہ حرکت کی پابندی لگا لی۔ آج ہمیں تجاویز دی جارہی ہیں دن بھر میں آدھا گھنٹہ جسمانی ورزش کیجیئے۔ جس ماحول کو اپنی مشینی سہولیات کے تحت آلودہ کیا، اسی ماحول میں ہوا صاف کرنے کے یونٹ لگائے جا رہے ہیں۔ جس پانی میں سیورج کا زہریلا پانی ہماری ناقص منصوبہ بندی کے تحت شامل ہوا، آج ہمیں پانی صاف کرنے کے پلانٹس کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
یہ وبا تو اپنے نقصانات اور نشانات چھوڑ کے چلی جائے گی مگر ہم اس کے قدموں کے نشان اور تباہی کے اسباب جاننے میں کتنی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ ہم وہ کیا اقدامات کرتے ہیں کہ جن کے سبب انسانی نسل کی صحت اور بقا کو ایسی کڑی آزمائش سے نہ گزرنا پڑے۔ ہماری آئندہ نسلوں کو وہ تمام ممکنہ صحت کی سہولیات میسر ہوں کہ جن کا آج فقدان ہے۔ انسان جغرافیائی سرحدوں اور نام نہاد خودساختہ نظریاتی کشمکش سے آزادی پا کے حقیقی انسانی فلاح کی طرف بڑھتا ہے یا پھر اس تجربے کومحض ڈراؤنا خواب سمجھ کے بھلا دیتا ہے، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا




