سیز فائر کے بعد نیو نارمل: امن کا خواب یا وقتی سکون؟

پاک بھارت تعلقات میں حالیہ سیز فائر ایک خوش آئند پیش رفت ہے جو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ممکنہ تباہ کن جنگ کے خطرے کو وقتی طور پر ٹالتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سیز فائر ایک نئے اور پائیدار ”نیو نارمل“ کی طرف پہلا قدم ہے یا صرف وقتی دباؤ کے تحت کیا گیا فیصلہ؟ اس امر میں شک نہیں کہ پاکستان نے موجودہ صورتحال میں غیر معمولی تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ اس

Read more

ریت رواج اور عورت مارچ

2012 کی بات ہے، ہمارے ہاں جڑواں بچیوں کی پیدائش ہوئی۔ چونکہ دماغ کی خرابی یہ ہے کہ مجھے مرد اور عورت کا فرق کبھی سمجھ ہی نہیں آیا۔ مجھے دونوں ایک جیسے لگتے ہیں۔ ہسپتال میں آپریشن کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھیں یہ خدا کے کام ہیں۔ تو میں نے کہا کہ جی میں باخبر ہوں کہ انسانی پیدائش قدرت کا کام ہے۔ مگر آپ نے کیسے سمجھ لیا کہ میں نہیں جانتا،

Read more

میک اپ، ہماری حقیقت اور انسانی حوالے

اس زمانے میں میک اپ کی اہمیت وہی ہے جوکسی دور میں صرف لباس کو حاصل تھی۔ یعنی میک اپ اب لباس کا حصہ ہے، ہم جیسے ہیں اس طرح اچھے نہیں ہیں شاید۔ کسی زمانے میں لباس بدن ڈھانپنے کے لیے تھا اور پھر انسان نے اس ضرورت کو بہتر نظر آنے کے فن سے جوڑدیا۔ اب لباس اور عمدہ لباس رفتہ رفتہ تہذیبی شرط بن گئی۔ لباس کا انسانی نفسیات کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اچھا لباس آپ

Read more

کتنے نمبر ہیں بچے کے؟

کبھی یہ وقت تھا کہ لوگ بحیثیت والدین یہ چاہتے تھے کہ ان کی اولاد کی تعلیم و تربیت اس ڈھنگ سے ہو کہ وہ عمدہ انسان بن سکیں۔ پیشے کے چناؤ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے مگر جو انسان اسے منتخب کرتا ہے، اس میں معقول انسانی اوصاف کا ہونا بھی ضروری ہے۔ پیشہ وارانہ اخلاقیات کا فقدان بھی دراصل اس تربیتی کمی کی بدولت ہے، جس کا اندازہ ہمیں صحیح وقت پہ نہیں ہوتا۔ معاشرے کو ہم ایک خاص تنقیدی چھاننی سے گزارتے ہیں مگر دیکھنا یہ بھی چاہیے کہ ہماری بحیثیت شہری ”ان پٹ“ کیا ہے۔

Read more

آگ کے کھیل میں سرکار کی مدد۔ ۔ ۔

گزشتہ دنوں ایک سفر کرنا پڑا کہ جو جنڈ شہر (اٹک) سے خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ تک کا تھا۔ ان دونوں شہروں کے درمیان لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت ہے جو اس دوران دریائے سندھ کے بے باک بہاؤ سے بھی آپ کو آشنا کرتی ہے۔ اس مقام کو خوشحال گڑھ کہتے ہیں۔ اطراف کی آبادی زیادہ تر دریا کے نظارے سے لطف اٹھانے کے لیے خوشحال گڑھ پہنچ جاتی ہے۔ شاہراہ جو راولپنڈی سے کوہاٹ تک ہے، آج کل زیر مرمت ہے لہذا سفر باعث کوفت ہی رہتا ہے۔ ہمارا سفر بھی چونکہ مجبوراً تھا، اس لیے اختیار کرنا پڑا۔ قابل ذکر اس جنگ کی صورتحال ہے جو کورونا کے نام پہ لڑی جا رہی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ جنگ خیبرپختونخوا میں کس طرح لڑی جا رہی ہے، جہاں حکمران جماعت کے مسلسل سات سال مکمل ہونے کو ہیں۔

جیسے ہی ہم پنجاب کے حدود سے نکلے تو جو کچھ ہمارے تصور میں تھا حالات اس سے زیادہ بھیانک تھے۔ عموماً جب حکومت کی کارکردگی زیر بحث ہوتی ہے تو تمام دوست احباب جو حکمران پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، وہ ڈٹ کے مقابلہ کرتے ہیں۔ مجھے پسپائی پہ ندامت نہیں ہوتی اور نہ ہی حوصلہ شکنی ہوتی ہے کیونکہ میرے سامنے کی حقیقت مجھے زیادہ قائل کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ دعوے میں اور عمل میں کتنی بڑی خلیج حائل ہے، یہ دیکھنا کوئی مشکل نہیں۔

Read more

ایدھی۔ اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

بہت کم ایسے ہوتا ہے کہ لکھنے کا شغف رکھنے والے لکھنا چاہیں اور رک جائیں، بلا وجہ نہیں بلکہ جو عنوان انہیں حاصل ہوا اس کے تقاضے بڑے ہیں۔ کہاں سے اور کیسے وہ الفاظ لائے جائیں جو حق ادا کر سکیں۔ ایک سطر لکھیں پھر اسے مٹائیں کیونکہ ایک مثالی آدمی کے سماجی کردار اور اس کی خدمت کا اعتراف کرنا آسان نہیں ہے۔ اکثر موضوع کردار کی شکل میں وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ان کی ہمہ جہت شخصیت کو روایتی الفاظ کے ذریعے بیان کرنا شاید ان کے شایان شان نہیں۔

الفاظ کی حرمت کا اندازہ یقیناً ایسے موقعوں پہ ہی ہوتا ہے۔ گویا الفاظ کا استعمال سماجی تاریخ میں اتنا بے دریغ طریقے سے ہوتا رہا اور الفاظ کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا اس کی داستان الگ ہے۔ الفاظ بھی شاید مقید ہیں، بے بس ہیں، الفاظ کو آزاد کرانے کے لیے بھی شاید ہمیں ”ایدھی“ چاہیے، جو الفاظ اور ان کے پیچھے کیفیات کے باہمی تعلق کو بحال کر سکے۔

Read more

مورخین جو بتا گئے، کیا وہی سچ ہے؟

ڈاکٹر رام پنیانی بائیومیڈیکل انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن برصغیر کی تاریخ پہ ان کی تحقیق اپنے آپ میں ایک سند ہے۔ بہت سے ایسے واقعات جو ہم تاریخ کی مروجہ کتب سے نہیں جان پاتے وہ ان کے ویڈیو لیکچرز کے ذریعے جانے جا سکتے ہیں۔ اس وقت کے حالات کا پس منظر، لوگوں کا رد عمل اور بعد میں آنے والی نسل کا نظریات استوار کرنا، یہ سب اپنے لحاظ سے کھوجنے لائق ہے۔ ۔

Read more

والد کی یاد اور تقسیم کی لکیر

بٹوارے کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا، زمین ایک ہی رنگ کی فصل اور ایک جیسا پھل دینے کے لیے تا حد نگاہ پھیلی تھی۔ رات کے سناٹے میں سسکی، آہ اور ہنسی سب ایک سکوت میں گم تھے۔ کہیں کوئی ٹرانسزٹر برصغیر کے احوال کے بارے میں پہلے سے لکھی ہوئی خبر نشر کر رہا تھا۔ لوگ جو کان لگا کے بیٹھے تھے، وہ سن رہے تھے کہ جس دھرتی پہ ان کے آبا و اجداد نے زندگیاں

Read more

کورونا اپنے پیچھے کیا چھوڑ جائے گا؟

ہم میں سے ہر آدمی موجودہ صورتحال کی وجہ سے پریشان ہے، یہ علیحدہ بات ہے کہ کچھ وبا کے پھیلاؤ کے سبب پریشان ہیں اور باقی معاشی حالات کی بے یقینی کے سبب الجھن کا شکار ہیں۔ اس دوران قدرتی ماحول ہم سے بے نیاز، اپنے بناؤ سنگھار میں مصروف نظر آتا ہے۔ فضا میں آلودگی کا تناسب گھٹ رہا ہے، شور اور دھویں میں کمی ہو رہی ہے۔ لوگوں کو سماجی فاصلے، بار بار ہاتھ دھونے اور ماسک

Read more

اگر مجھے کورونا ہوا تو۔ ۔ ۔

میں نے اپنی کمزوری کو ہمیشہ طاقت بنانے کی مشق کی ہے۔ مگر جب خطرہ جاں ہو تو پھر خدانخواستہ بھی کہتا ہوں، اول تو زندگی پیاری ہے، دوم کچھ لوگوں کی زندگی سے میں وابستہ ہوں۔ یہ سوچ زندگی کی لالچ بڑھا دیتی ہے۔ ورنہ ایسے معاشرے میں کیا جینا اور کیا مرنا جہاں دنیا کی دہائیاں بھی بے اثر جارہی ہیں۔ جہاں زندگی دم توڑ رہی ہے، جہاں مسیحا لقمہ اجل بن رہے ہیں، جہاں معصوموں کے ہاتھ

Read more

کچھ لوگ ایکٹر نہیں ہوتے

گزشتہ کچھ دنوں سے کئی پوسٹس عرفان خان کے بچھڑنے کی خبر دے رہی ہیں، ہر آدمی اپنے لحاظ سے دکھ کا اظہار کر رہا ہے۔ میں بھی اس فین کلب کا حصہ ہوں، مگر میں اپنی منافقت کے ہاتھوں شرمندہ ہو رہا ہوں۔ کیا ہے کہ ہم فلمیں بھارت کی دیکھنا چاہتے ہیں مگر اپنے ٹی وی پہ نہیں بلکہ انٹرنیٹ پہ، انسان دوستی پہ اداکاروں کے لئے اچھے جذبات تو ہیں، مگر ان کے مر جانے پہ ہی

Read more

کیا کرائسٹ چرچ واقعے سے دنیا کچھ سیکھے گی؟

ہر شکاری جانور ایک بنیادی صفت رکھتا ہے کہ وہ بہت کم اپنی ہی نسل اور قبیلے کا شکار کرتا ہے۔ سینڈ ٹائیگر شارک، برفانی ریچھ، مکڑے اور کچھ دوسری ایسی اقسام ہیں جو اپنی بھوک مٹانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ مگر ایسے جاندار جو اپنے علاقے کے بارے میں بہت ملکیتی جذبات رکھتے ہیں اس میں مگر مچھ جیسی مخلوق ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ریپٹائیلز میں یہ خاصیت موروثی چلی آتی ہے کہ وہ متعلقہ چیزوں

Read more

سائنس سے بیزاری کیوں

پرویز ہود بھائی کی فکری حیثیت کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں، سائینسی انداز فکر کے فروغ کے لئے ان کے کام کو نہ صرف سراہا جاتا ہے بلکہ مانا بھی جاتا ہے۔ گزشتہ برس ان کے تحریر کردہ ایک مضمون کوپڑھنے کا تجربہ ہوا، جو سائینس میں طلبہ کی عدم دلچسپی کے پیچھے مخفی بہت سی وجوہات کو اجاگر کرنے کی ایک موثر کوشش تھی۔ ان کے تحقیقی کام کو تنقیدی مرحلے سے گزارے بغیر بھی مستند تصور کیا جا سکتا ہے۔ مگر ان کی استدلالی اور حقیقت پسندی پہ مبنی تحریر نے مجھے بھی مائل کیا کہ میں بطور قاری کوئی تبصرہ کروں۔ساتھ ہی ساتھ پرائیمری اور ایلیمنٹری جماعتوں سے اپنی تدریسی وابستگی کے تجربات کی روشنی میں کچھ پہلووں کی نشاندہی کروں جو اس عدم رحجان میں باقاعدہ کردار ادا کرتے ہیں۔ سائینس اور سماج کے درمیان باہمی تعلق کو جب بھی زیر بحث لایا جائے گا یا کوئی بھی سائینسی و سماجی دریافت ہو گی تو یقینا پرویز ہود بھائی جیسی شخصیات کے حوالے کے بغیر وہ نصاب نامکمل ہی رہے گا۔

Read more

عالی جناب! تھپڑ میں کیا برائی ہے؟

منہ پہ پڑے تھپڑ اور چند مشہور گالیوں کو عموما قبول کر لیا جاتا ہے، خاص کر جب ہاتھ کسی مقتدر کا ہو اور زبان کسی زورآور کی ہو۔ لیکن یہ حق کسی کمزور کو حاصل نہیں ہے کہ وہ بوقت ضرورت اس روایت پہ عمل کر کے فائدہ لے سکے۔ اگر خلاف روایت کسی نے یہ کر دیا تو بستی کے تمام معزز حضرات اسے برا بھلا کہنے کے لئے ایک صفحے کے مقرر بن جاتے ہیں۔ ارتقائی سائنس

Read more

رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

جولائی 2018ء کے انتخابات کی گہما گہمی ہے؛ ہر فرد کسی نہ کسی جماعت سے اپنی وابستگی ظاہر کر رہا ہے۔ لوگ بہت سی توقعات کے ساتھ امیدواروں اور جماعتوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اپنے قائدین کو خوش آمدید کہنے اور ان کی انتخابی مہمات میں شرکت کرنے کے لیے باقاعدگی کے ساتھ اپنی مصروفیات سے وقت نکالتے ہیں۔ جھنڈے لہراتے ہیں، پرجوش نعروں اور تقاریر کا سلسلہ ہے جو جاری و ساری ہے۔ ایک دن بیٹھک میں کوئی

Read more

سانحہ پشاور کو ہم نہیں بھولیں گے

دو سال قبل ہونے وا لے سانحہ پشاور کو بھولنا تو نا ممکن ہے، جب بھی دسمبر کی صبحیں سورج سجائیں گی، اس قیامت کے منا ظر یاد آئیں گے۔ ننھے شہدا کے والدین اپنے خوابوں کی کرچیوں کی چبھن محسوس کریں گے تو آنکھیں بھر آئیں گی۔ پلکوں پہ ٹھہرے آنسوؤں کا بوجھ جب پورے سال میں نہیں اترے گا تو دسمبر کی سولہ تاریخ آئے گی، ایک دفعہ آنکھیں ہلکی پڑیں گی۔ وہ سوچیں گے اور کچھ ایسے

Read more