راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلمان دنیا کے جس کونے میں بھی پائے جاتے ہیں اپنے کارناموں کے ساتھ ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ ابو العربی سے لے کر بو علی سینا تک، محمد علی جناح سے لے کر محمد علی تک، لیکن 9 ستمبر کے حادثے نے مسلمانوں کی پہچان ہی بدل ڈالی ہے۔ غرض دنیا کے کسی بھی کونے میں پائے جانے والے مسلمانوں کو ایک الگ پہچان ملی کہ وہ دہشتگرد ہیں۔ جبکہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جس کا اعتراف دنیا کی بہت ساری با اثر شخصیات نے بار ہاکیا ہے۔

مذہب چاہے کوئی بھی ہوہر مذہب امن کا درس دیتا ہے، چاہے وہ عیسائیت ہو، یہودیت ہو اور اگر دیکھا جائے تو ہندوؤں میں بھی ایک امن پسند طبقہ پایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ کئی ایسے بھی طبقات پائے جاتے ہیں جو انتہا پسندی کی حد کو تجاوز کرتے دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ آر ایس ایس (راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ) جس کی بنیاد پاکستان بننے سے پہلے رکھی گئی۔ آر ایس ایس کا بنیادی مقصد ہندوتوا آئیڈولوجی کو پروان چڑھانا ہے جس کو دیکھتے ہوئے بانی پاکستان حضرت محمد علی جناح نے۔

”دو قومی نظریہ“ کو مسلمانوں کو سامنے لاتے ہوئے تحریک پاکستان کا آغاز کیا۔ لیکن آر ایس ایس کی ایک الگ شناخت 65 کی دہائی میں رکھی گئی جس میں آر ایس ایس کا ایجنڈا بالکل صاف صاف تحریر کیا گیا۔ سب سے اہم نکات میں سے ایک ہندو کمیونٹی کو مضبوط کرتے ہوئے مسلمانوں کی نسل کشی کرنا تھا اگر ا ثر حاضر کی صورت حال دیکھی جائے، بھارتی حکومت کے دور حاضر کے اقدامات اور پارٹی نظریہ میں آر ایس ایس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

مودی حکومت نے اپنی الیکشن مہم میں متعدد مرتبہ بھارتی عوام کو یہ باور کروایا کہ وہ بھارت کو ایک ”ہندو اسٹیٹ“ بنائیں گے۔ 2019 میں ایک بار پھر سے اقتدار میں آنے والی مودی سرکار نے آر ایس ایس کے نظریے کو کھل کر لاگو کرنا شرو ع کر دیا جس میں CAA کا نفاذ، آرٹیکل 370 کا منسوخ کرنا اور کشمیر پر آر ایس ایس کادہاوا شامل ہیں۔ ناصرف کشمیر بلکہ بھارت کے صوبے آسام جہاں پر بنگالی کمیونٹی ایک عرصے سے آباد تھی اور جن کی دوسری نسلیں بھی پروان چڑھ چکی ہیں۔ مودی سرکار نے ان سے ان کی شہریت کا حق چھین کر آر ایس ایس کے نظریے کو پروان چڑھا یا ہے۔

آر ایس ایس کی انتہا پسندی صرف یہاں تک محدود نہیں ہے بلکہ مختلف علاقوں میں ڈیٹنشن سنٹروں کا قیام، عورتوں کے ساتھ زیادتی، یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات پر تشدد، مسجدوں پر دھاوا اور بابری مسجد کی حوا لگی، آر ایس ایس کا مودی حکومت میں پائے جانے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آر ایس ایس کی ذہنی پسماندگی اور اسلام دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ دور حاضر میں Covid۔ 19 کی وجہ سے وبائی صورت حال اور مشکل کی اس گھڑی میں بھی ہسپتالوں کے دروازے مسلمان متاثرین کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ اگردیکھا جائے تو آسیہ مسیح کیس پر پوری دنیا یک زبان ہو گی تھی لیکن کشمیر اور دوسری بھارتی اقلیتوں پر مودی سرکار کے مظالم کے جواب میں اقوام عالم کی خاموشی اس بات کامنہ بولتا ثبوت ہے کہ آسیہ مسیح کی جان ہزاروں کشمیریوں اور بھارت میں پائی جانے والی دوسری اقلیتوں پر زیادہ وزن رکھتی ہے۔ یونایٹیڈ پریس انٹرنیشنل کا صرف مودی سرکار کو ہٹلر کا لقب دینا ہی کافی نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام عالم انسانیت کے لیے یک زبان ہو، تا کہ مظلوم کشمیریوں سمیت تمام اقلیتوں کو انصاف ملے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آمنہ نثار عباسی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *