ٹانک میں سائیکل پر پابندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائیکل اور انسان کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ جب انسان کے پاس سفر کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا تو یہ سائیکل ہی تھا جو اس کی اکلوتی سواری بنی رہی۔ بچے سکول جانے کے لئے، بابو حضرات دفاتر جانے کے لئے، گوالا دودھ کی فروخت کے لئے، اخبار فروش اخبار گھر گھر تک پہنچانے کے لئے سائیکل ہی استعمال کرتے۔ فی زمانہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس کا استعمال متروک ہوچکا ہے بلکہ اب بھی ترقی یافتہ ممالک میں لوگ کثیر تعداد میں سائیکل کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی ہمارے ہاں لوگوں کا ایک نفسیاتی مسئلہ یہ ہے کہ وہ سائیکل پر سفر کرنے کو اپنے لئے توہین سمجھتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے موٹاپے سے پریشان لوگ وزن کم کرنے کے لئے ورزش والی سائیکل تو گھر لے آئے ہیں لیکن سائیکل پر سواری کو اپنے لئے اچھا نہیں سمجھتے۔

یورپی ممالک میں سائیکل کے استعمال میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ وہاں کے چھوٹے، بڑے سب سائیکل چلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ شاید قارئین کو یاد ہو سابق جرمن سفیر پورے پاکستان میں بلا خوف خطر سائیکل پر ہی سیر کو نکلتے۔ حالیہ کرونا وبا کے نتیجے میں جب پوری دنیا لاک ڈاؤن ہوئی تو عالمی ماحولیاتی اداروں نے دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی میں کمی کو واضح محسوس کیا جس کی بڑی وجہ گاڑیوں کا کم استعمال تھا۔ سائیکل ماحول دوست سواری ہے جو نہ تو دھواں چھوڑتی ہے اور نہ ہی شور کرتی ہے جبکہ بغیر ڈیزل پٹرول کے آپ کی خدمت کو ہر وقت مفت میں دستیاب ہوتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں سائیکل کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی اور ڈیزل پٹرول کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کنڑول کیا جاسکے۔

لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے ہی علاقے کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں جہاں سائیکل رکھنا تو جرم نہیں لیکن اس پر سوار ہونا جرم ہے۔ جی ہاں صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک سے 30 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ایک گاؤں کوٹ خدک (گومل) میں سائیکل چلانا سختی سے منع ہے اور اس کے استعمال پرتقریباً 1990 سے سخت پابندی ہے۔ سائیکل سوار جو ہی گاؤں کوٹ خدک میں داخل ہوگا اسے فوراً سائیکل سے اتر نا ہوگا اور گاؤں کے حدود سے گزرنے کے بعد ہی اس کو سائیکل پر سوار ہونے کی اجازت ہے۔

یہ پابندی صرف مقامی لوگوں کے لئے خاص نہیں بلکہ ملک کے جس حصے سے کوئی بھی اس گاؤں میں آئے اسے اس پابندی کا خیال رکھنا ہوگا اور اسے قطعاً اجازت نہیں کہ وہ سائیکل پر سوار ہوکر گاؤں میں گھومتا پھیرے۔ لیکن اس پابندی کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے اور وہ اس طرح ہے کہ گاؤں کوٹ خدک جو کہ مشہور و معروف علاقہ گومل ہی کا ایک پسماندہ گاؤں ہے۔ یہاں پرانے وقتوں میں جب طلباء جماعت پنجم پاس کرکے ہائی سکول میں داخلہ لینے کے لئے یہاں سے پانچ چھ کلومیٹر دور گورنمنٹ ہائی سکول گومل بازار اورکوٹ حکیم میں داخلہ لیتے تو کیونکہ اس زمانے میں گاڑیاں نہیں ہوا کرتی تھی اس لیے ان طلباء کے لئے سکول تک پہنچنے کا واحد ذریعہ سائیکل ہوتا تھا۔

یہ منظر کافی دلکش ہوتا جب مختلف طلباء مختلف ٹولیوں کی شکل میں جمع ہوتے اور پھر ہنستے مسکراتے اور خوش گپھیاں لگاتے ہوئے سکول کو روانہ ہوتے۔ گاؤں خدک کے شمال میں دو چھوٹے قصبے سگئی اور نرسیز ہیں یہاں سے بہت زیادہ تعداد میں طلباء گروپوں کی شکل میں جمع ہوتے اور سائیکلوں پر کوٹ خدک کو کراس کرکے جنوب کی طرف مین روڈ پر پہنچتے۔ اس وقت کوٹ خدک میں پانی کا کوئی ٹیوب ویل موجود نہیں تھا اور گاؤں کے لوگ نزدیکی تالابوں سے پانی بھر کر لاتے۔

یہ پانی عموماً چھوٹی چھوٹی بچیاں اور عمر رسیدہ عورتیں صبح کے وقت بھر کر لاتیں جبکہ سکول جانے کا وقت بھی یہ ہوتا۔ گاؤں کی ساری گلیاں مین گلی یعنی بازار میں آکر کھلتی ہے۔ تو جب نرسیز اور سگئی کے طالب علم سائیکلوں پر کوٹ خدک کے بازار کو کراس کرتے تو اکثر ادھر کوئی بچی یا عورت گلی سے نمودار ہوتی اور ادھر سائیکل والے آ جاتے اور یوں اکثر ان کو ٹکر ماردیتے۔

یہ واقعات ایک معمول بن گئے اور گاؤں کے بڑوں نے بہت سمجھایا لیکن نوجوان طلباء بھلا کب سمجھنے والے تھے۔ آخر میں گاؤں والوں نے مجبور ہوکر کچھ عملی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا اور بات طاقت کے استعمال تک جا پہنچی جس میں خوب مارپھیٹ کے واقعات رونماہوئے۔ ایک دن گاؤں والے جمع ہوئے اور جو ہی سائیکلوں پر یہ طلباء نمودار ہوئے وہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ پولیس بھی اس دوران آپہنچی اور معاملہ کو وقتی طور پر رفع دفع کیا لیکن گاؤں کے بزرگوں نے اس مسئلہ کا مستقل حل نکالنے کے لئے کوٹ خدک اور نرسیز کے مشران پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دیاجس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوٹ خدک کو داخل ہوتے وقت جس کی شروعات ”چگ پل“ سے ہوتی ہے سے لے کر کوٹ خدک کے اختتام تک جس کا خاتمہ ”وندونہ پل“ پر ہوتا ہے جو تقریباً پیدل ادھے گھنٹہ کافاصلہ ہے۔ اس درمیان میں کسی بھی شخص کو سائیکل چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ یہاں کے مشران کا ایک متفقہ فیصلہ تھا جس پر من و عن آج تک عمل ہورہا ہے۔ اور اب تو لوگ اس قدر اس روایت کے پابند ہوچکے ہیں کہ سائیکل چلانے کو وہ اخلاقی طور پر بھی اچھا نہیں سمجھتے۔

کوٹ خدک گاؤں جو کہ تقریباً بیس ہزارنفوس پر مشتمل ایک بہت بڑا گاؤں ہے اس میں آباد تمام لوگ اس روایت کی مکمل پابندی کرتے ہیں یہاں کے باسیوں کے بقول ان کے آباء و اجداد نے یہ پابندی لگائی تھی اور وہ آج بھی من و عن اس پابندی پر عمل پیرا ہے اور کسی کو بھی اس روایت کو توڑنے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی انجانا شخص اس روایت سے لاعلم نکلے اور سائیکل پر سوار ہوکر نکلے تو گاؤں کے لوگ اسے اتر کر پیدل چلنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اگر کوئی بھی شخص سائیکل پر سوار ہوکر نکلے تو گاؤں کے بچے اور بوڑھے سب اس پر آوازیں کستے ہیں۔ اگرچہ اس وقت سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل نے لے رکھی ہے اور زیادہ تر لوگ موٹر سائیکل کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود آج بھی اس گاؤں میں سائیکل کے چلانے پر پابندی ہے۔ اگرچہ موٹر سائیکل سے بڑھ کر اس وقت کوئی جان لیوا سواری نہیں اور ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ ون ویلنگ اور تیز رفتاری کی وجہ سے سینکڑوں نوجوان موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔

اس عید پر ایک رپورٹ کے مطابق صرف ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں 28 ہلاکتیں موٹر سائیکل کی وجہ سے ہوئیں۔ سب سے بڑھ کر حیرانی کی بات یہ کہ اس گاؤں میں موٹر سائیکل سوار جس تیزرفتاری سے موٹر سائیکل چلائے، ون ویلنگ کرے، سائیلنسر نکال کر شور نکال کر لوگوں کا جینا حرام کرائے لیکن اس پر کوئی پابندی نہیں لیکن سائیکل جو کہ ایک خاموش اور ایک بے مضرسواری ہے اس کے چلانے پر پاپندی عائد ہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں غیر ضروری اور بے مقصد روایات کی پابندی تو بڑی شان سے کی جاتی ہے لیکن جب عوام کو جہیز میں کمی کرنے، کچرہ کوڑے دان میں ڈالنے، بے جا سگریٹ نوشی کرنے، غیر ضروری تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانے، گاڑیوں کے چھتوں پر سواری لے جانے اور حتیٰ کہ موجودہ حالات میں ماسک پہننے ہاتھ دھونے کی اپیل کی جاتی ہے تو اسے مذاق سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لئے اور بھی بہت سی غیر ضروری رسومات ہیں جس کا چھوڑنا ہم کسی طور ٹھیک نہیں سمجھتے اور اسے اپنی انا کا مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے انسان موٹرکاروں اور ہوائی جہازوں سے ہوتا ہوا واپس سائیکل تک آپہنچا ہے اور اب تو میڈیکل والے پیدل چلنے کو بہت زیادہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ صحت مند زندگی کے لئے ورزش انتہائی ضروری ہے اور سائیکل چلانے سے بہتر ورزش کوئی نہیں جبکہ مفت میں انسان کو سواری بھی مل جاتی ہے اور ڈیزل پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی پریشانی سے بھی چھٹکارہ مل جاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر سائیکل ایک ماحول دوست سواری ہے اور پوری دنیا میں اب لوگوں کا رحجان اس طرف ہے۔

ہمارے ہاں کہیں اس کے چلانے پر پابندی تو کہیں لوگ خود اس کو چلانے پر عار محسوس کرتے ہیں وہ سائیکل چلانے پر خود کو چھوٹا محسوس کرتے ہیں۔ ہم یورپی ممالک جیسی ترقی تو چاہتے ہیں لیکن اپنی خوئے شاہانہ بدلنے کو تیار نہیں، اپنی انانیت اور گھمنڈ کو چھوڑنے پر تیار نہیں، سادگی اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ ایسی قوم کی حالت مشکل ہی سے بدل سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply