بے غیرت بریگیڈ کے نام ایک غیرت مندانہ پیغام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"غیرت ایک اہم چیز ہے جو کہ کسی انسان کا اخلاقی مرتبہ طے کرتی ہے۔ خواہ ذاتی معاملات ہوں یا ملکی، ہر فیصلہ غیرت کے تحت کیا جانا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ عقل و دانش، حکمت اور معاملہ فہمی وغیرہ صرف بے غیرتی کے دوسرے نام ہی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم ایک باغیرت معاشرے میں رہتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ دور جاہلیہ کے عرب اتنے غیرت والے تھے کہ بیٹی کی پیدائش پر شرم سے زمین میں گڑ جاتے تھے۔ مگر بہرحال، ہر غیرت مند شخص کی طرح ان کے دل میں اولاد کے لئے محبت بھی ہوتی تھی اس لئے وہ بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے قتل نہیں کرتے تھے، بلکہ زندہ ہی زمین میں دفن کر دیتے تھے۔

لیکن ہمارا معاشرہ ان سے غیرت کے معاملے میں کسی طرح بھی پیچھے نہیں ہے۔ سنہ 2008 کا وہ مشہور واقعہ آپ کو یاد ہو گا جب بلوچستان کے شہر نصیرآباد میں عمرانی قبیلے سے تعلق رکھنے والی پانچ خواتین کو زندہ دفن کر دیا گیا تھا۔ تین بے غیرت لڑکیاں پسند کی شادی کرنا چاہتی تھیں اور وہ تمبو باباکوٹ سے بھاگ کر اوستہ محمد آئیں اور انہوں نے وہاں ایک مقامی ہوٹل میں کمرہ لیا۔ اسی اثنا میں عمرانی قبیلے کے غیرت مند جوان ان کا پیچھا کرتے ہوئے پہنچے اور انہیں واپس پکڑ کر لے گئے۔ ان غیرت مند گھر والوں نے ان تینوں لڑکیوں کو گولیاں مارنی چاہئیں تو ان کی والدہ اور ایک عزیزہ بے غیرتی پر اتر آئیں اور ان کی زندگی بچانے کی کوشش کی۔ اس پر ان دونوں کو بھی گولیاں مار دی گئیں اور پانچوں کو زخمی اور زندہ حالت میں ہی دفن کر دیا گیا۔

اس پر ملک میں موجود بے غیرت طبقے کی طرف سے شور بلند ہوا، مگر شکر ہے کہ غیرت مند سینیٹر میر اسرار اللہ زہری نے ببانگ دہل کہا کہ ’’ بلوچی قانون کے مطابق کسی عورت کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جائے اور غلط کام کرے۔اس لڑکی کے والدین، رسم و رواج اور قبیلہ اس بات کو ہر گز بر داشت نہیں کر سکتا۔ اس اقدام کو ہم بالکل صحیح نہیں سمجھتے۔ ایک بلوچی سردار کی حیثیت سےمیرا یہ حق بنتا ہے کہ میں روایات اور بلوچی قوانین کا دفاع کروں‘‘۔ صوبائی وزیر میر صادق عمرانی کے بھائی کا نام بھی ان غیرت مند افراد میں آ رہا تھا جنہوں نے ان لڑکیوں کو زندہ دفن کیا مگر کسی وجہ سے وہ اس سے انکاری رہے اور خود کو قطعاً لاتعلق قرار دیا۔ اسی سے آپ اس معاشرے کے بے غیرت افراد کے اثر و رسوخ کا اندازہ لگائیں کہ اب ایک غیرت مند شخص اپنے کارنامے کو قبول کرنے سے بھی انکار کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے حالانکہ غیرت کا تقاضا تو یہی ہے کہ ایسا کام نہ بھی کیا ہو تو خود کو غیرت مند کہلانے کے لئے قبول کر لیا جائے۔

ادھر کوہستان سے بھی سنہ 2012 میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں شادی کی ایک تقریب میں چند لڑکے رقص کر رہے تھے جس پر پانچ لڑکیاں تالیاں بجا کر ان کو داد دے رہی تھیں۔ اس بے غیرتی کے سامنے آنے پر غیرت بریگیڈ کا خون کھول اٹھا۔ لڑکے بھاگ نکلے مگر لڑکیوں کو اس بے غیرتی پر قتل کر دیا گیا۔ بعد میں سنا ہے کہ لڑکے بھی اسی انجام کو پہنچے۔ کون غیرت مند شخص اس بات کو برداشت کر سکتا ہے کہ نامحرم رقص کر رہے ہوں اور لڑکیاں تالیاں بجا بجا کر ان کو داد دیں؟ یہ ساری بے غیرتی صرف اور صرف ٹی وی کی وجہ سے ہر گھر میں داخل ہو رہی ہے۔

جون 2013 میں چلاس میں پندرہ اور سولہ سال کی دو لڑکیاں اپنے گھر کے صحن میں بارش میں نہانے لگیں۔ ان کی کسی نے ویڈیو بنا لی جو کہ شہر میں پھیل گئی۔ اس پر ان کے سوتیلے بھائی کو غیرت آئی اور اس نے اپنے چار غیرت مند ساتھیوں کے ساتھ مل کر رات گئے ان کے گھر میں گھس کر ان بے غیرت لڑکیوں اور ان کو جنم دینے والی بے غیرت سوتیلی ماں کو قتل کر دیا۔ اپنے گھر کی چار دیواری میں بارش میں نہانا ایسا فعل ہے جس کی جتنی بھی بڑی سزا دی جائے وہ کم ہے۔

بے غیرت بریگیڈ والے سن لیں کہ ہمارے ملک میں بے غیرت لڑکیوں کو قتل کرنے کا رواج ہے۔ اب جبکہ بے غیرت ٹولے کی وجہ سے قانون میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور غیرت کے نام پر قتل کرنے پر کم از کم عمر قید دی جاتی ہے، تو غیرت مندوں کے لئے کچھ مشکلات پیدا ہو رہی ہیں اور ممکن ہے کہ غیرت کے لیول میں کچھ کمی آ جائے، جس پر ہم پریشان ہیں۔

ہماری غیرت یہی کہتی ہے کہ ہمارے گھر میں کسی عورت کا وجود ہے تو اسے تالیاں بجانے سے لے کر بارش میں نہانے تک ہم کسی معاملے پر بھی قتل کر دیں تو پھر ہی ہم غیرت مند مانے جائیں گے۔ ہماری بیٹی گول روٹی نہ پکا سکے تو اسے قتل کر کے ہی ہم غیرت مند کہلائیں گے۔

ہمیں لیلی مجنوں، شیریں فرہاد، سسی پنوں، حتی کہ ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں وغیرہ کے قصے ضرور پسند ہیں، وہ ہماری درخشاں روایت کا حصہ ہیں، مگر یاد رہے کہ وہ دوسروں کی بہو بیٹیوں کے بارے میں ہیں اور ہماری غیرت کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے گھر والے وقت پر غیرت سے کام لیتے تو ان قصوں کا وجود ہی نہ ہوتا اور ان کی ایسی لازوال بدنامی نہ ہوتی۔

ان بے غیرت افراد کی بات تو سنو۔ جب ہم غیرت مند اپنی کسی بہو بیٹی کو اس کی بے غیرتی پر قتل کرتے ہیں تو وہ ہمیں اسلام سکھانے آ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اسلام نے لڑکی کی مرضی سے شادی کرنے کا حکم دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ قرآن میں لکھا ہے کہ ’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانون کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘۔ کہتے ہیں کہ جان لینے کا اختیار اسلام صرف اور صرف ریاست کو دیتا ہے، افراد کو نہیں۔ کہتے ہیں کہ اسلام میں زنا کی صورت میں بھی سزا اس حد تک مشکل کر دی گئی ہے کہ اسے ناممکن ہی جانیے، کیونکہ اس پر سزا دینے کے لئے چار صالح گواہ عینی شاہد ہونے چاہئیں جنہوں نے کچھ دیر سکون سے کھڑے ہو کر سارا معاملہ بے حد قریب اور تفصیل سے دیکھا ہو۔ کون صالح شخص ایسا ملے گا جو ایسی تفصیل سے دیکھے اور آنکھیں پھیرنے پر مجبور نہ ہو جائے، اور کون سا جوڑا ایسا ہو گا جو کہ چار صالحین کی موجودگی میں اس فعل میں مصروف رہے گا؟

یہ ہمیں اپنے تئیں طعنہ دیتے ہیں کہ جب قندیل بلوچ ہر طرف سے ٹھکرائے جانے کے بعد کئی جوان بھائیوں کی موجودگی میں ان کا اور اپنے بوڑھے والدین کا پیٹ پالنے کی خاطر الٹی سیدھی ویڈیو بنا کر مشہور ہوتی ہے، تو اس وقت اس کی شہرت کے بل پر خود مشہور ہونے کی خاطر اسے اپنے کمرے میں بلا کر مفتی اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اسی پیسے سے اپنے نکھٹو بھائی کو روزی کمانے کی خاطر دکان کھلوا دیتی ہے مگر اس بھائی کو ذرا غیرت نہیں آتی کہ جوان بھائیوں کی موجودگی میں بہن گھر چلا رہی ہے۔ مگر پھر ان بھائیوں کو محلے والوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ غیرت مند ہیں تو اسی بہن کو قتل کر دیتے ہیں۔ بے غیرت بریگیڈ والے پوچھتے ہیں کہ جب وہ بھوکی مر رہی تھی تو یہ سب غیرت مند کہاں تھے جو اس کی ویڈیو بار بار دیکھ کر اس پر تھو تھو کرتے تھے؟ بے غیرت ہمارا جواب بھی سن لیں، لڑکی بے غیرت ہو گی تو نکھٹو بھی غیرت مند ہو جائیں گے۔ قندیل بلوچ عزت سے بھوکی کیوں نہیں مر گئی؟

یہ بے غیرت بریگیڈ ہمیں کہتا ہے کہ جب کسی لڑکی کے قرآن سے شادی کرنے کی خبر آتی ہے، تو اس وقت تم خاموش کیوں رہتے ہو، کیا تم لڑکی کو بے جان اور قرآن کو مخلوق مانتے ہو؟ ہمیں یہ کہتے ہیں کہ جب لڑکی کو ونی یا سوارہ وغیرہ کی رسموں کی بھِینٹ چڑھایا جاتا ہے، تو پھر کیا یہ بے غیرتی کی بات نہیں ہے؟ ہم ان بے غیرتوں کو کہتے ہیں کہ یہ بالکل بے غیرتی نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں پرانی علاقائی رسوم ہیں جن کا احترام ہماری روایت ہے۔ بے غیرتی تو علامہ اقبال یونیورسٹی کا وہ حالیہ پرچہ ہے جس  کے بیہودہ سوال کا جواب سوچ سوچ کر ہی ہمارا خون کھولنے لگتا ہے۔

بیہودہ سوالات کا ذکر چلا ہے تو ایک معاملہ اور بھی یاد آتا ہے جس میں ہم بطور تکنیکی ماہر شامل رہے تھے۔ نادرا کا کارڈ بنانے کے لئے مجبور لوگوں سے ایک ایسا سوال پوچھا گیا جو اس خاص علاقے میں گالی کے مترادف سمجھا جاتا تھا اور اس کا جواب دینے والا بے غیرت ترین انسان قرار پاتا تھا۔ نادرا نے کارڈ بنانے کے لئے درخواست دہندہ کی ماں کا نام پوچھ لیا تھا اور مقامی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ایسا سوال پوچھنے پر کوئی غیرت مند انہیں قتل بھی کر سکتا ہے۔ پھر وقت کے ساتھ اس علاقے کے لوگوں کو اس سوال کا جواب دے کر کارڈ بنواتے بھی دیکھا۔ مجبوری بھی غیرت مندوں کو کیسا لاچار کر دیتی ہے۔

بہرحال مجبوری کی بات دوسری ہے، ورنہ یہ بے غیرت بریگیڈ والے سن لیں کہ ہم اپنی روایات کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں، ہمیں اسلام مت سکھاؤ، ہمیں پتہ ہے کہ تم خود اسلام پر کتنا عمل کرتے ہو۔ تم خود عمل نہیں کرتے ہو تو ہمیں اسلام پر عمل کرنے پر کیوں مجبور کرتے ہو؟

بے غیرت بریگیڈ والے ہم سے پوچھتے ہیں کہ غیرت کے نام پر انتہاپسندی کا یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا؟ ہم ان کو واشگاف الفاظ میں بتا دیتے ہیں کہ ہماری غیرت کی کوئی حدود نہیں ہیں۔ ہم تو غالب کی طرح وہ غیرت مند مغل بچے ہیں جو کہ جس پر مرتے ہیں اسے ہی مار ڈالتے ہیں۔

اس پر ان بے غیرتوں کی بے شرمی ملاحظہ کیجیے۔ ہم جیسے غیرت مندوں سے یہ بات پوچھتے ہیں کہ ’اسلام کے احکامات ماننے والا غیرت مند ہوتا ہے یا اللہ کے حکم پر اپنی روایت کو ترجیح دینے والا؟‘

غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں

پہناتی ہے درویش کو تاج سر دارا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply