موصوف کی جوم (زوم) کی دھوم


ہم، باورچی خانے میں کھڑے سالن بھون رہے تھے اور موسم ہمیں بھون رہا تھا کہ ایک دم بھنایا ہوا علی اپنے کمرے سے باہر آیا اور بلبلا کر بولا ”امی! ابو سے کہیں، شرافت سے ٹی (T) کا سر کاٹا کریں“

”کس کا سر، کاٹیں؟“

”ٹی کا سر، میں نے ابو کا لیکچر کمپیوٹر میں ڈالا کہ وہ ٹائپ کر دے گا مگر اس نے تو پتہ نہیں کیا کیا کیڑے مکوڑے بنا کر واپس کر دیا ہے۔ لیکچر میں تھا ٹٹیولر Titular) ) مگر ابا نے ٹی کا سر نہیں کاٹا تو اس نے ٹائپ کیا للیولرLilular) ) بتائیے ابو کی جناتی رائیٹنگ کو کیسے ٹائپ کروں؟“

ہمارے ہاں تین دن سے موصوف کے جوم (زوم) کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ جس طرح بلی اپنے نومولود بچوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے سات گھر گھماتی ہے، اسی طرح علی، ابا کو گھر کے سات کونے پھرا چکا ہے، ایک دفعہ اس کے سر پر ابا کی فیورٹ کرسی ہوتی ہے تو دوسرے لمحے، ریوالونگ چیئر گھسیٹتا دوسرے کونے کی طرف جا رہا ہوتا ہے۔ پورے گھر میں جیسے زوم کا بگولہ سا ناچ رہا ہے۔ جی میں آئی کہہ دیں زوم نہ جانے آنگن ٹیڑھا مگر موصوف کی گھٹنوں تک لٹکی شکل پر ترس آ گیا۔

آج پتہ چلا کہ بچوں کے ہاتھوں، بڈھے طوطے کیسے پڑھائے اور نچائے جاتے ہیں، مگر اس وقت تو ہمارے معصوم موصوف کے ہاتھوں کے طوطے اڑے ہوئے تھے۔ اب تک گھر کا وہ کونا سلیکٹ نہیں ہو پایا تھا جہاں سے موصوف کی شکل اپنی خوبصورتی کے ساتھ، آواز کا زیروبم اپنی پوری توانائی کے ساتھ ان کے اسٹوڈنٹس تک پہنچ سکے۔ ایسی لائیٹ پڑے کہ موصوف کے چہرے پر کوئی ڈینٹ نہ پڑے۔

کینیڈا سے کمک الگ آ رہی تھی۔ مریم بھی آج کل اپنی کلاسز زوم پر لے رہی ہے، اس نے ابا کو مختلف لنکس بھیجنے شروع کیے ۔ جب وہ موزوں کونا چن لیا گیا تو ہم آگے آئے ”علی! ابو کے چہرے پر لائیٹ پراپر نہیں ہے ایسا کرو، وہ لائیٹ لے آؤ جس کی گردن مروڑی جا سکتی ہے، اس کو یہاں رکھ کر فلر بنا دو یا باؤنس لائیٹ کر کے ایون Even) ) لائیٹ کر دواور یہ بیک گراؤنڈ اتنا خالی کیوں ہے، اسے بھرو یار!“ ”امی! پلیز آپ باورچی خانے میں جائیں یہ آپ کا اسٹوڈیو نہیں ہے“ اتنی ذلت کے بعد وہاں ٹھہر کر کیا کرتے مگر جاتے جاتے پلٹ کر آئے ”سنیں! شرٹ کے نیچے پینٹ کی جگہ لنگی پہن کر مت بیٹھ جائیے گا اور ہاں! جوم نہیں زوم ہوتا ہے“ اب موصوف کے ساتھ ساتھ علی بھی بلبلا گیا۔ ہم نے عافیت جانی اور وہاں سے کھسک لیے

آج 15 جون، 2020 ہے اور اس وقت موصوف جوم (زوم) پر اپنی پہلی کلاس لے رہے ہیں، یہ ان کی زندگی کا پہلا جوم لیکچر ہے، دو دن تو ہمیں ان کا زوم سیدھا کرنے میں لگے۔ جوم سے وہ زوم پر بڑی مشکل سے آئے جیسے چھاجش سے وہ سازش پر آئے تھے۔ علی بے چارہ سائے کی طرح ان کے پیچھے دم سادھے کھڑا ہے، ہم نے بھی اپنے کانوں کا زاویہ، زوم سے جوڑا ہوا ہے۔ علی کی انگلیاں کی بورڈ اور کرسر سے کھیل رہی ہیں اور موصوف بار بار اپنے اسٹوڈنٹس سے پوچھ رہے ہیں کہ انہیں، آواز صاف آ رہی ہے، کوئی پرابلم تو نہیں؟

چالیس منٹ کے لیکچر میں یہ بات کوئی چالیس دفعہ ہی دوہرائی گئی ہو گی۔ کل ہی نیا ہیڈ فون اور کی بورڈ سی ذون (C ZONE) سے آیا ہے۔ گھر کے سارے اے سی خراب پڑے ہیں، سوائے ایک کے، کرونا کے ڈر سے ریپئر کرانے والے کو نہیں بلایا گیا مگر زوم کے خوف نے کرونا کی دہشت کو شکست دے دی ہے اور نیٹ والے کو بلوا کر لائن چیک کروائی گئی ہے۔

جوم کے لیکچر سے پہلے موصوف ہمیشہ کی طرح پورے اہتمام سے تیار ہوئے، شیو کے بعد آفٹر شیو لوشن لگا کر پرفیوم کا چھڑکاؤ کرنے لگے تو ہم نے طنزاً کہا آپ کی آواز جائے گی زوم پر، خوشبو نہیں ”

بلبلائے، نہیں بلکہ غرائے ”اس گرمی میں جوم کے ساتھ پسینے کی بو بھی برداشت کروں؟“

لیکچر ختم ہوا تو موصوف آسودگی سے مسکرائے اور ہم سے بولے ”اچھا ہوا جو ہم نے بارہ سال کی عمر میں ہی بچوں کو کمپیوٹر دلا دیا“

” کیا مطلب؟“
”ورنہ آج میں جوم پر اتنے آرام سے لیکچر نہ دے پاتا“
ہم بلبلا گئے، یعنی کتے کی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی ”ارے بھئی! زوم زوم“
” ہاں ہاں جوم جوم“

تین بجے ایوننگ کی کلاس ہونی تھی کہ لائیٹ چلی گئی تو ہم نے سکھ کا سانس لیا لیکن! اگر ایک دن زوم نہ چلا تو کیا ہوا؟ یہ بے کلی، بے چینی تو پورے مہینے بھر کی ہے۔ اب تو بار بار کسی بھی وقت موصوف کا جوم بڑی دھوم سے چلے گا کیونکہ ان کے اسٹوڈنٹس بلکہ لاڈلے اور دیوانے اسٹوڈنٹس جو چاروں ہاتھ پاؤں سے موصوف پر لٹو ہیں، موصوف انہیں جتنا بھی چکرائیں جتنا بھی گھمائیں، رات کے دو بجے بھی وہ زوم پر الرٹ رہیں گے۔

Facebook Comments HS