ٹی وی کی امراؤ جان ادا!

ہماری کتاب کا مسودہ پڑھتے پڑھتے جب کشفی صاحب اس مضمون پر پہنچے تو ہمیں بلوا بھیجا۔ ہم کمان سے نکلے تیر کی طرح، ان کے پاس پہنچے۔ جی کشفی صاحب؟ کشفی صاحب کے چہرے پر تشویش اور کشمکش کے گہرے سائے منڈلا رہے تھے، وہ ٹکٹکی باندھے کچھ لمحے ہمیں غور سے دیکھتے رہے۔ ایسا لگتا تھا کہ نظریں ہم پر ہیں لیکن ذہن کہیں اور اور پھر آہستہ آہستہ اپنے خیالات کے بھنور سے باہر نکلے۔ اور ان

Read more

ہمارا نکاح نامہ، وہ تو چوہے کھا گئے!

ہمارے نکاح کے وقت نہ یو ٹیوب تھانہ کمپیوٹر اتنا عام تھا اور نہ ہی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) جیسی کسی چڑیا کا وجود تھا بس موصوف جیسے Super Intelligent Gentleman، وہ بھی خال خال یعنی آٹے میں نمک کے برابر دستیاب تھے، ہماری شادی پندرہ اپریل کی ایک کشمکش زدہ رات کو ہوئی، بارات تیار کھڑی تھی، دوست احباب، اور سارے باراتی (اسٹوڈنٹس) بے قراری سے کرفیو پاس کے منتظر تھے جو بیچارا دولہا بنوانے گیا تھا۔ ادھر کو سموپولیٹن

Read more

طارق جمیل: جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

اب، ہم اور طارق جمیل پی ٹی وی کی کچی آبادی (Extension) کے پکے پڑوسی تھے۔ اس سے پہلے ہم ٹیلیفون بوتھ میں مسز شیروف کے کمرے میں بیٹھتے تھے۔ اس کمرے میں کانا پردہ بھی ممکن نہیں تھا، شیشے کی دیوار سے آر پار سے، آنے جانے والوں کی نظر ہم پر اور ہم، ان پر نظر رکھ سکتے تھے۔ یہ کمرہ ہمارے جثے سے ذرا ہی بڑا تھا کہ ایک دن اقبال حیدر کی قسمت کے ساتھ ساتھ

Read more

یہی تو خاص بات تھی ہمارے مدبر بھائی کی!

” ظفر! مدبر بھائی کا انتقال ہو گیا“ ۔ دوسری طرف ظفر تڑپ کر بولا۔ ”ان کا انتقال تو اسی دن ہو گیا تھا، جس دن انہوں نے پاکستان چھوڑا تھا۔ ان کا جسم کینیڈا میں تھا مگر ان کی روح ہمارے پاس تھی پاکستان میں“ ۔ فون بند کر کے ہم سوچتے رہ گئے۔ مدبر بھائی کو ہم سے بچھڑے ایک دہائی سے اوپر ہو گیا تھا۔ وہ بچوں کے پاس کینیڈا چلے گئے تھے مگر اب بھی وہ

Read more

کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے…

ہماری اماں بڑی فکر مند تھیں کہ ہمارا کیا بنے گا؟ ہم، جس نے جب سے ہوش سنبھالا تو خود کو ’چھٹے‘ کام کرنے والا ’چھوٹا‘ پایا، منے سے تھے تو کبھی بڑی چچی کی چونی لیے خلیل چچا کی دکان سے پان لانے بھاگے جا رہے ہیں تو کبھی ابا کی چلم لیے باورچی خانے کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ جب ذرا سے اور بڑے ہوئے، یعنی جب اس قابل ہو گئے کہ کتا ہمیں زنجیر سمیت

Read more

ہمایوں کبیر امریکہ گئے

جب ہمارے موصوف کو امریکہ نے ’بائی سینٹینئل آف دی بل آف رائٹس‘ (Bicentennial of the Bill of Rights) کے تحت پاکستان سے چنا تو کئی دن تک کلف لگی اکڑی گردن لیے خوش خوش اپنے گمان کے آنگن، خاندان اور کیمپس میں گھومتے رہے۔ ۔ ۔ آنکھوں میں شدید حیرت بھی تھی اور خوشی کے ہلکورے بھی۔ ۔ ۔ جلنے کڑھنے والے اس جلتی، ابلتی روشنی سے نظریں چراتے رہے، مبادا کہیں مبارک باد نہ دینی پڑجائے۔ ۔ ۔

Read more

ہمارے موصوف سے ملیے

”موصوف کے بارے میں رپورٹ آ گئی ہے۔ سنا ہے انتہائی دل پھینک ہیں۔ ایک جگہ رشتہ دیتے ہیں، دوسری پر نظر ہوتی ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ تین منگنیاں توڑ چکے ہیں، گویا منگنیاں نہ ہوئیں ’مٹکیاں‘ ہوگئیں۔ اچھے خاصے ’فلرٹ‘ مشہور ہیں۔ میں نے اسلم کو فون کیا، اسلم نے فوق کو اور فوق نے حمیدی صاحب سے پوچھ کر۔ ۔ ۔ یہ ماموں جان تھے اور ہمارے ’متوقع‘ منگیتر کے بارے میں یہ ان

Read more

ساڈا سارا کھرچہ تہاڈے ہی نال ہے!

”جدوں چن پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکدا ہے تے تسی وڈّی طرح یاد آندے ہو“ (جب چاند پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکتا ہے تو آپ بڑی بری طرح یاد آتے ہو)۔ اس کی نظریں خلاﺅں میں جمی ہوئی تھیں، ہمارا قلم رک رک کر چلنے لگا۔ ”اگے لکھو جی“ … وہ سنبھل کر بیٹھ گیا۔ عطر کی شیشی پتھر پہ پھوڑ دیں گے جے خط دا جواب نیئں آیا تے خط لکھنا چھوڑ دیں گے ”یہ تم کسے خط لکھوا

Read more

سگ لیلیٰ کی ڈور

لندن جانے سے پہلے حشمت صاحب کی بیگم، سرائیکی لہجے میں اردو بولا کرتی تھیں مگر وہاں سے واپس آنے کے بعد وہ سرائیکی لہجے میں انگلش بولنے لگیں اور نیوین سائین جیسی چمکتی ہوئی لپ اسٹک لگانے لگیں۔ سنا ہے اکثر رات کو حشمت صاحب اپنی بیگم کے دہکتے، چمکتے ہونٹ دیکھ کر ڈر گئے اور ان کی چیخ، ان کے پڑوسی کو اپنے بیڈ روم میں سنائی دی۔ لندن جانے سے پہلے حشمت صاحب کی فیملی اچھی خاصی،

Read more

موصوف کی جوم (زوم) کی دھوم

ہم، باورچی خانے میں کھڑے سالن بھون رہے تھے اور موسم ہمیں بھون رہا تھا کہ ایک دم بھنایا ہوا علی اپنے کمرے سے باہر آیا اور بلبلا کر بولا ”امی! ابو سے کہیں، شرافت سے ٹی (T) کا سر کاٹا کریں“ ”کس کا سر، کاٹیں؟“ ”ٹی کا سر، میں نے ابو کا لیکچر کمپیوٹر میں ڈالا کہ وہ ٹائپ کر دے گا مگر اس نے تو پتہ نہیں کیا کیا کیڑے مکوڑے بنا کر واپس کر دیا ہے۔ لیکچر

Read more

آصف فرخی سے چند بھاگتی دوڑتی، پُرتاثیر ملاقاتیں

یہ ضروری نہیں کہ کسی بھی شخص کو جاننے کے لیئے آپ اُس سے بار بار ملیں، بعض دفعہ زندگی بھر کا ساتھ بھی آپ کو اُس کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا اور کبھی کبھی ایک ہی ملاقات میں آپ کے اندر کی تیسری آنکھ اُس میں وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہے جو اُس کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ پتہ نہیں اُن کی ہیزل آنکھیں شربتی مائل سُرمئی تھیں یا سُرمئی مائل شربتی، مگر اُن کی آنکھوں

Read more

بکھری ہوئی بک بک برکھا․․

ہماری اماں (دادی) کہا کرتی تھیں کہ اس کی زبان کے آگے تو ایک نہیں دو، دو خندقیں ہیں۔ اگر کوئی ایک میں گرنے سے بچ جائے تو دوسری میں تو ضرور گر جائے گا۔ وہ اکثر حیران ہو کر امی سے پوچھا کرتی تھیں۔ دلہن! کیا تم نے اسے کوے کی زبان بھون کر کھلائی ہے جو یہ اتنا بولتی ہے؟ سنا ہے کہ ہمارے عرفان بھائی جان بہت کمزور سے پیدا ہوئے تھے۔ دو سال کی عمر تک

Read more

کرونا دور میں ایک شادی کا آنکھوں دیکھا حال

ایک بر دکھوے کا کینڈیڈیٹ یعنی وڈ بی (Would be) دولہا، امریکا سے پاکستان آ کر پھنس گیا کیونکہ کرونا کی وجہ سے فلائٹس اور سرحدیں غیر معینہ مدت کے لیے بند ہو گئی تھیں۔ دولہا کے سارے سگے رشتے دار، کاروبار، گھربار سب امریکہ میں تھے۔ کب تک؟ آخر کب تک ماما، چاچا، دوست، احباب پر بوجھ بنتا۔ آیا تو شادی کے ارادے سے ہی تھا لہٰذا پہلی ہی لڑکی پر اس نے ہاں کر دی۔ لڑکی والے خوشی سے نہال کیا بلکہ نڈھال تھے۔ ان کی وہ بیٹی جس کو اپنے وطن میں رشتہ دستیاب نہیں تھا، اس کے بھاگوں کا چھینکا امریکہ میں جا کر پھوٹا، تو انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاو فوراً ہاں کر دی۔ حالانکہ لڑکا تو کرونا نیگیٹو تھا مگر دلہن کرونا پازیٹو۔ آپ تو جانتے ہی ہے ناں کہ نیگیٹو اور پازیٹو پولز ایک دوسرے کو کتنا اٹریکٹ کرتے ہیں۔

Read more