جید ٹیکنالوجی، فواد چودھری اور چاند کمیٹی
وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی فواد چودھری نے عید الاضحی کی تاریخ کا اعلان کر تے ہو ئے کہا کہ عیدالالضحیٰ 31 جولائی بروز جمعہ ہوگی۔ فواد چودھری نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ 21 جولائی کو ذی الحج کا چاند کراچی اور اس کے ارد گرد علاقوں میں دوربین سے واضح طور پر اور کئی علاقوں میں آنکھ سے بھی دیکھا جا سکے گا۔
فواد چودھری اس سے قبل بھی دو چاندوں کا اعلان بڑی کامیابی کے ساتھ کر چکے ہیں جس میں رمضان المبارک اور عید الفطر کا چاند ہونے کی پیش گوئی شامل ہے۔ سائنس کہا ہی اس علم کو جاتا ہے جس کی ہر بات اٹل ہوا کرتی اور دو اور دو چار کی طرح ہمیشہ ایک ہی نتیجہ دیتی ہے اس لئے جو حساب کتاب بھی لگا لیا گیا ہے اس سے انکار مشکل ہے۔ اس تمام حقیقت کے باوجود بھی ”رویت“ کا ثابت ہونا دین کا ایک بنیادی اصول ہے۔ یہ بات بھی فواد چودھری کو خوب اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ وہ سائنس کی اس کیلکولیشن کو بنیاد بنا کر کئی مرتبہ ”رویت“ کا غیر اہم ہونا ثابت کرتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ رویت ہلال کمیٹی کو متعدد بار غیر ضروری قرار دینے پر زور دیتے رہے ہیں، جو کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں۔
یہ بات تو طے ہے کہ کوئی بھی قمری مہینہ بنا چاند کے ظہور ہوئے شروع ہی نہیں ہو سکتا لیکن فواد چودھری کو یہ بات بھی خوب اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ چاند کا دیکھ لیا جانا بھی شریعت کی ایک بنیادی شرط ہے خواہ افق پر چاند موجود ہی کیوں نہ ہو۔
یہ بات بظاہر بہت عجیب سی محسوس ہوتی ہے کہ چاند آسمان پر موجود بھی ہو اور پھر بھی اگر اس کی رویت کی کوئی معتبر گواہی موجود نہ ہو تو آنے والے دن سے اگلے ماہ کا شروع ہونا شمار نہیں کیا جائے گا۔
چاند آسمان پر موجود بھی ہو لیکن اگر مطلع ابر آلود ہو، آسمان کسی بھی وجہ سے شفاف نہ ہو یا گردو و غبار کے طوفان بپا ہوں جس کی وجہ سے، باوجود ہزار جتن، چاند نہ دیکھا جا سکتا ہو تو اگلا قمری مہینہ شروع ہونے کا اعلان کسی صورت نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں کسی دوسرے علاقوں کے معتبر افراد اگر رویت کی گواہی دیں تو درست لیکن کسی بھی سبب ایسی کوئی گواہی نہ مل سکے تو آنے والے مہینے کے آغاز کا شمار نہیں کیا جائے گا لہٰذا سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی کے حساب کتاب کو درست مان لینے کے باوجود بھی یہ بات اچھی طرح جان لینا ضروری ہے کہ سائنسی حساب کتاب اپنی جگہ لیکن ہر آئین و قانون اپنے طے شدہ منشور و دستور کے مطابق ہی فیصلے دینے اور سنانے کا پابند ہوا کرتا ہے سو فواد چودھری کو ”رویت“ کی مخالفت یا اس کو غیر اہم قرار دینے کے متعلق اپنی رائے کا از سر نو جائزہ لینا اور علما کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش سے رجوع کر لینا چاہیے۔
مختلف مکاتب فکر پر مشتمل علما کی یہ کمیٹی الحمد اللہ نہ صرف دین کا علم بہت گہرائی کے ساتھ رکھتی ہے بلکہ اسے جدید علوم کی حقانیت اور اہمیت پر بھی پختہ یقین ہے۔ رویت ہلال کی اس کمیٹی نے کبھی جدید ٹیکنالوجی کی حقانیت کو ماننے سے انکار نہیں کیا۔ یہ علما کی نہ تو پرانی روایات پر چلنے اور اڑجانے والی کمیٹی ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کسی فیصلے میں ضد اور اڑ سے کام لیا ہے۔ یہ کمیٹی جدید آلات اور اس کے استعمال کرنے کو کبھی ناپسند نہیں کرتی بلکہ وہ ان کا سہارا لے کر بھی اس بات کی کوشش کر رہی ہوتی ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے وہ انسانی آنکھ کے علاوہ دوربینوں کی مدد سے بھی چاند کی رویت کی تصدیق کر سکے تو کر لے لیکن اکثر اوقات تمام تر مطلع صاف شفاف ہونے کے باوجود بھی جدید ٹیکنالوجی چاند دکھانے میں ناکام ہی ثابت ہوئی ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کے بہت سارے شہروں میں بیٹھی ان کی سب کمیٹیاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد لینے کے باوجود بھی 29 کا چاند دیکھنے میں 90 فیصد ناکام ہی رہی ہیں۔ ایسی صورت میں بھی کمیٹی کے ارکان نے اسے انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے معتبر گواہیوں کا انتظار کیا ہے اور اگر پاکستان کے کسی بھی علاقے سے کسی نے حلفاً چاند کی رویت کی خبر دی ہے تو اسے مان بھی لیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کمیٹی اپنی مرضی کی نہیں شریعت کے اصولوں کی پابند ہے۔
فواد چودھری جہاں جدید ٹیکنالوجی پر پتھر کی لکیر کی طرح یقین رکھتے ہیں وہاں ان کو جدید ٹیکنالوجی کے نقائص پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ تمامتر جدید آلات رکھنے کے باوجود بھی پاکستان بھر میں میں بیٹھی کمیٹوں کو 29 کا چاند ہونے کا اعلان شہادتوں کی بنیاد پر ہی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں ابھی بہت سے ایسے سقم ہیں جن کو دور کرنا ضروری ہے ورنہ درجنوں ممبران میں سے کوئی تو چاند کی تصدیق ضرور کر دیا کرتا۔ امید ہے کہ فواد چودھری اس جانب بھی ضرور غور و فکر کریں گے اور مخالفت برائے مخالفت سے اجتناب کریں گے۔


