خدارا ڈپریشن کو سریئس لیں!


زندگی کبھی کبھی آپ کو اپنے ہی پیاروں کی پہچان کروا دیتی ہے اور کبھی کسی اجنبی سے ملا کر اسے آپ کی زندگی میں ایک خاص مقام دلا دیتی ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ زندگی کسی کے بھی لیے کبھی بھی آسان نہیں رہی۔ ہر انسان زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے کہیں نہ کہیں جتن کر رہا ہوتا ہے لیکن ہم سب کو کہیں نہ کہیں لگ رہا ہوتا ہے کہ ہماری زندگی کہیں نہ کہیں دوسرے کی زندگی سے زیادہ مشکل ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے مترادف ہوتی ہے۔

تمہید کچھ زیادہ لمبی ہو گئی۔ ہم میں سے بہت سے لوگ غم اور تکلیف کو ایسے سوار کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ! لیکن کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے جو لوگ دوسروں کے غم کو توجہ سے سنتے ہیں انھیں اکثر ہی اپنا غم دوسروں کو بتانے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔ روئے زمیں پر شاید ہی کوئی انسان ہو جسے کبھی غم اور ڈپریشن نے نہ گھیرا ہو۔ بد قسمتی سے ہم پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت کو اتنی اہمیت نہیں دیتے۔ جتنی اس کی ضرورت ہے۔ لیکن Mental Health کا ٹھیک ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ آپ کی جسمانی صحت کا۔

اگر آپ کے اردگرد کوئی ڈپریشن سے گزر رہا ہے تو اسے بلا وجہ تنقید اور مذاق کا نشانہ نہ بنائیں اسے یہ نہ کہیں کہ یہ تمھارا وہم ہے، تمھیں آج پھر دورہ پڑ گیا ہے، اپنا عقیدہ ٹھیک کرو، اللہ کا ذکر کروتمھارا تو رونا دھونا ختم نہیں ہوتا، تم ”پاگل“ ہو گئے ہو۔ یقیں جانیں ”پاگل“ لفظ بہت sensitive لفظ ہے۔ شاید ہماری روز مرہ زندگی میں ضرورت سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ ہے۔ اگر کبھی کسی دن ہم پاگل خانے کا چکر لگا کر آئیں اور اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے کسی پاگل کو دیکھ لیں تو ہم اپنے پیاروں کے لیے کبھی بھی یہ لفظ استعمال نہ کریں۔ اور خدا کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں ایک مکمل انسان بنایا ہے

جس طرح ذیابیطس، کینسر، بلڈ پریشر بیماریاں ہیں اس طرح ڈپریشن بھی ایک باقاعدہ بیماری ہے۔ یہ کسی بھی انسان کو ہو سکتاہے۔ آپ اندر سے چاہے کتنے ہی مضبوط ہیں اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں۔

کسی کو دل کا مرض لاحق ہو جائے یا معمولی سا بخار بھی آ جائے تو ہم اسے فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ بھائی اللہ اللہ کرو اور ایک دن تم صحت یاب ہو جاؤ گے۔ بحثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ دعا میں بڑی طاقت ہے۔ لیکن احادث اور قرآن کی روشنی سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ دعا کے ساتھ دوا کی بھی اہمیت ہے۔ اگر کوئی اور مرض اکیلے دعا سے ٹھیک نہیں ہو سکتا تو ڈپرشن کے علاج لیے بھی دوا کا استعمال اور سائیکالوجسٹ سے رابطہ ضروری ہے

سائیکالوجسٹ عام طور پر کونسلنگ یا سائیکلوجیکل سیشن سے علاج کرتے ہیں۔ جبکہ سائیکاٹرسٹ کچھ مخصوص ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے دوائی کی تشخیص کرتے ہیں۔

آخر میں بس اتنا کہوں گی کہ انسانی دماغ میں متعدد کیمیائی مواد موجود ہوتا ہے۔ جو ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک سگنل پہنچاتے ہیں۔ اگر ڈپریشن درمیانے درجے کا ہے تو سائیکو تھراپی کے ذریعے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اور اگر ڈپریشن ایک خاص درجے پر پہنچ گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انسانی دماغ میں دو خاص کیمیکلز کی کمی ہو گئی ہے۔ جنھیں سیروٹونن اور نارایڈرنیلین کہا جاتا ہے۔ پر اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ان کمیکلز کی مقدار کو دماغ میں بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

خدارا اپنے ارد گرد پیاروں کا خیال رکھیں۔ شاید آپ کے قمیتی وقت سے کچھ لمحات دوسرے کی زندگی کو چلانے میں مددگار ثابت ہو جائیں۔ یقیں جانیں ڈپریشن ایک خاموش خطرناک بیماری ہے۔ اسے نظر انداز نہ کریں۔

Facebook Comments HS