حسن مہ گر چہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
انسانی شخصیت کا راز اس کے حسن کے تاثر میں مضمر ہے اور یہ تاثر جتنا منظم اور گہرا ہو سحر انگیزی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ نفسیات کے اساتذہ اس وحدت تاثر کو انسان کے پرسنلٹی سٹائل سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگرچہ انسانی یہ تاثر اس کے بدن، عقل و دانش، کردار اور مخصوص استعداد و لیاقت کے بغیر ممکن نہیں لیکن ہم یہاں یہ افسانہ بیان کرتے ہیں کہ انسان کو اشرف ومکرم اور سب سے حسین بنا کے وہ کون سی جزیات ہیں جن کا امتزاج شخصییت کے بنا ہیں۔ اس حوالے سے انسانی شخصیت میں اخلاقی، طبعی اور نفسیاتی پہلو بھی کار فرما ہیں۔
اگر ہم اخلاق کی بات کریں تو یہ مجموعہ ہے اعلیٰ معیار کے رویوں کا جس کو ہم تین کیٹیگریز میں بیان کرتے ہیں۔
اخلاق حسنہ: اس کے مطابق انسان کے ساتھ کی گئی اچھائی یا برائی کا اسی طرح بدلہ دینا ہے، نہ کم نہ زیادہ۔
اخلاق احسن: اس میں انسان اپنے ساتھ کی گئی اچھائی کا بدلہ دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ کی گئی تمام تر زیادتی اور برائی معاف کر دیتا ہے۔
خلق عظیم: اس سے مراد ایسے اخلاق ہیں جس میں انسان نہ صرف اس کے ساتھ کی گئی ظلم و زیادتی معاف کر دیتا ہے بلکہ اس ظالم کے ساتھ ہر قسم کی بھلائی اور اچھائی کرنے لگتا ہے، جیسا کہ اخلاق محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
جیسا کہ ہم نے کہا کہ اخلاق رویوں سے منسوب ہیں، تو رویے کیسے بنتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ انسان میں بے شمار جبلتیں پیدا کرتا ہے اوریہ جبلتیں ماحول سے اکٹیویٹ ہوتی ہیں۔ ان کو تحریک دینے کے لئے محرکات کی ضرورت ہوتی ہے اور ان محرکات کو کنٹرول کرنے کے لئے انسان جو کردار ردعمل کے طور پہ ظا ہر کرتا ہے اس کو رسپانس یا جواب دھی کہا جا تا ہے۔ ان رسپانسز میں کچھ انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں جن کو Voluntary Responses کہا جاتا ہے اور کچھ انسانی اختیار میں نہیں ہوتے جن کو Non۔ Voluntary Response کہا جاتا ہے۔ انسان کے رویے انہی Voluntary Responses سے بنتے ہیں جن میں ماحول کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے۔
ان Responses میں کچھ عارضی ہوتے ہیں جن کو دوبارہ نہیں دہرایا جاتا اور کچھ Permanent ہوتے جن کو بار بار دہرایا جاتا ہے اور اسی کا نام عا دت یعنی Habit ہے۔ اسی طرح بہت سارے یکساں Habits مل کر انسانی رویہ بناتے ہیں۔ اور رویوں کے امتزاج سے انسانی شخصیت کی خصائل بنتے ہیں اورانہی Traits کی انفراد یت کو پرسنلٹی سٹائل کہا جاتا ہے۔
انسانی رویوں کے درجذیل چار اقسام ہیں۔
مثبت رویہ Positive Attitude
مثبت رویہ والے افراد پر امید، خوش طبع، مخلص، پر اعتماد، جفاکش اور اپنے نصب العین کے دلداداے ہوتے ہیں۔
منفی رویہ Negative Attitude
منفی رویہ والے افراد دوسروں کی شخصیت اور کاموں میں عیب اور خامیاں نکالنے، ان کی اچھائیاں نظر انداز کرنے اور بے جا الزام تراشی اور دوسروں کو بد نام کرنے میں ہر وقت مصروف ہوتے ہیں اور ایسے افراد حسد اور یاسیئت کا شکار ہو تے ہیں۔
غیر جانبدارانہ رویہ Indifferent Attitude
ایسے افراد متوازن سوچ اور غیر جذباتی طرز زندگی کے عاشق ہوتے ہیں اور مسائل کے حل نکالنے میں دوسروں کی مداخلت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
منفی رویہ Sick Attitude
یہ منفی انتہا پسندی کا رویہ ہے جس میں انسان میں ہر چیز کو نقصان پہنچانے اور تباہ کرنے کا Urge پیدا ہو جائے جو بہت خطرناک رویہ ہے۔
اب آتے ہیں اس افسانے کی طرف جس کے بارے میں غالب نے کہا ہے کہ:
حسن مہ گر چہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
اور ہم نے اوپر جو قصہ چھیڑا ہے اس کو شاید آپ کہیں گے کہ؛
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو مگر ناگوار گزری ہے
لیکن ہمارا جواب یہ ہے کہ:
جو بات آپ کو ناگوار خاطر گزری ہے وہ ایک تمہید تھی اور آپ نے سنا ہوگا کہ جب ہم حسن اور خوبصورتی کی بات کرتے ہیں تو ہم کو ایسے جملے کتنے اچھے لگتے ہیں کہ:
وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
نہ جانے کون ہے جس ک تلاش میں بسمل
ھر ایک سانس مرا اب سفر میں رہتا ہے
انسانی حسن کی کہانی بڑی لازوال ہے اور اقبال کے حسن کا گلہ بجا ہے کہ:
خدا سے حسن نے اک روز یہ سوال کیا
جہاں میں کیون نہ مجھے تو نے لازول کیا
اور جواب ملا کہ:
وھی حسیں ہے حقیقت میں زوال جس کی
اور یہی حسن ہی تو ہے جس نے فراز کو گنگنا نے پر مجبور کیا اور بے اختیار کہا:
کروں نہ یاد اگر کس طرح بھلاؤں اسے
غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے
وھی جو دولت دل ہے وھی جو راحت جاں
تمھاری بات پہ اے ناصحو گنواؤں اسے
حسن اگرچہ لازوال نہیں ہے لیکن انسان کا کردار لازوال ہوتا ہے اور یہی کردار اس کا حسن بھی مرنے نہیں دیتا۔
انسان کے یہ کردار مختلف ہوتے ہیں جیسے کہ خاندانی کردار، معاشرتی کردار، معاشی کردار، اخلاقی کردار اور ڈرامائی، افسانوی اور فلمی کردار۔ الغرض انسان زندگی میں مختلف کردار ادا کر کے اس دنیا سے چلا جاتا ہے لیکن اس کا لازوال کردار اس کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے۔ یہ لازوال کردار ہے کیا؟
وھی کردار لازوال کردار کہلائیں گے جو دوسروں کے کام آتے ہیں اور دوسروں کی خوشیوں میں اپنی خوشی تلاش کرتے ہیں۔
ھماری شخصیت کے حسن کا افسانہ ہمارے اردگرد لوگوں کی دلوں اور نگاہوں میں موجود ہے اگر ہم اپنے حسن اور خوب صورتی کو پرکھنا چاھیں تو اپنے ارد گرد لوگوں مییں یہ تلاش کرنا ہے کہ ہم ان کو کتنے عزیز، محترم اور محبوب ہیں۔ اور اسی کی خاطر انسان ہیرو کی تلاش میں کسی رول ماڈل سے محبت کر کے اس کو فالو کرتا ہے اور اس کو سکون ملتا ہے۔ یہی رول ماڈل وھی حسن ہوتا جو اپنے کردار کی وجہ سے لازوال اور امر بن جانتا ہے جوکہ ہم کو کبھی کسی اللہ کے برگزیدہ بندے یا شہید یا غازی یا مجاہد یا دوست یا محبوب یا کسی اور شکل میں ملتا ہے جس سے لوگوں کو عشق اور عقیدت ہو جاتا ہے جس کی ایک زندہ مثال غازی ارطغرل ہے۔
اگر ہم چاھیں کہ ہمارا حسن لازوال ہو جائے اور ہم سے بھی لوگ والہانا عشق کریں تو اس کے لئے کردار کا سہارا لینا ہوگا۔ جیسا کہ ندا فاضلی کی نظم ہے :
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو توچلو
کسی کے واسطے راھیں کہاں بدلتی ہیں
تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو
کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا
خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو


