وزیر اعظم کو وزیر اعظم ہونے کا یقین کیسے دلائیں
پاکستان جناب عمران خان صاحب نے قوم سے کتنا سچ بولا یا قوم سے کیے گئے وعدوں کے مطابق کوئی عملی قدم بھی اٹھایا یا نہیں، ان سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی یہ بات لائق تحسین بھی ہے اور قابل داد بھی کہ انھوں نے اپنی ذات کے متعلق جب بھی کچھ کہا ہمیشہ سچ کہا اس لئے باقی پورے نہ ہونے والے وعدے اور دعوے اپنی جگہ، ان کی حقیقت پسندی کے آگے سارے وعدے اور دعوے معاف کیے جانے کے قابل ہیں۔
وزیر اعظم نے فرمایا ہے کہ ”ملک بھر میں پٹرول کی مصنوعی قلت کسی صورت قابل قبول نہیں لہٰذا متعلقہ ادارے عوام کو ریلیف پہنچانے کے فوری اقدامات کریں“ ۔ یہ بات ایک اٹل حقیقت ہے کہ وہ جب جب ایسی باتیں کرتے ہیں، مہنگائی کا رونا روتے ہیں، غریب عوام کو سہولیات پہنچانے کا عزم باندھتے ہیں، افواج پاکستان کی ”سیاسی“ خدمات کو زیر بحث لاتے ہیں یا پاکستان کی تباہی و بربادی کے اسباب کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں تو وہ اکثر اس بات کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں کہ وہ خود وزیر اعظم پاکستان ہیں۔ ان کا اپنے متعلق خود بھی یہ فرمانا ہے کہ اکثر خاتون اول انھیں یہ ٹوک رہی ہوتی ہیں کہ آپ جس وزیر اعظم کو عوام کی خدمت نہ کرنے پر اور ان کے دکھ درد میں شریک نہ ہونے پر برا بھلا کہہ رہے ہیں وہ وزیر اعظم آپ خود ہی تو ہیں۔
گزشتہ کل، بروز منگل، 16 جون 2020 کو پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت اور اشیائے ضروریہ کی تیزی کے ساتھ بلند ہوتی قیمتوں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت میں ان کا فرمانا تھا کہ ایسے تمام اداروں اور افراد کے خلاف سخت ایکشن لے کر اور انھیں قرار واقعی سزئیں سنا کر پٹرول کی قلت اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ ”غریب“ عوام کی مشکلات کم کی جا سکیں۔
اگر کل کے اجلاس یا اس سے قبل وہ سارے اجلاس جو تقریباً روز کی بنیاد پر ہو رہے ہیں، سامنے رکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے ہوئے قائد ایوان اور حکمران پارٹی پر زور دے رہے ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے عوام کی خدمت کی جانب توجہ دیں اور ان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے سہولیات بہم پہنچانے کا کردار ادا کریں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ نہ تو پٹرول کی قلت کل کا معاملہ ہے اور نہ ہی اشیائے صرف بشمول ادویات جیسی ضروری شے میں اضافہ نیا نیا ہے۔ پٹرول جیسی ضروری شے کی قلت پیدا ہوئے آج 20 روز سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن اب تک اس کے تدارک کے طور پر کسی بھی قسم کا کوئی ٹھوس قدم ایسا نہیں اٹھایا گیا جس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکے کہ یہ قلت جلد دور ہو جائے گی۔ جب حکومت خوب اچھی طرح جانتی ہے کہ قلت سراسر مصنوعی ہے اور پٹرول کو ذخیرہ کرنے کے بعد اسے عوام تک یہپہنچانے کی ذمہ دار کمپنیاں ہاتھ کھینچ کر بیٹھی ہوئی ہیں تو پھر اب تک ایسی قومی دشمن کمپنیوں کے خلاف کسی موثر کارروئی کے نہ ہونے کو کیا نام دیا جا سکتا ہے۔
بالکل اسی طرح ہر قسم کی اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ بھی کوئی نیا نہیں۔ عمران خان کے سامنے ہر شے کی وہ قیمت جو ان کے اقتدار میں آنے سے قبل تھی اور آج ان اشیا کی جو قیمت ہے، روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ جن قیمتوں پر ان کے منھ سے شعلے بلند ہوا کرتے تھے، آج ان سب اشیا کی قیمتیں کئی گناہ اضافے کے ساتھ بازار میں فروخت ہوتے دیکھنے کے باوجود بھی صرف اجلاس بلا کر ہر مرتبہ ان کو کم کرنے کی ہدایات جاری کرنے کا مطلب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ انھیں ہر دم خاتون اول کو اپنے ساتھ رکھنے کی اشد ضرورت ہے جو ہر اجلاس میں انھیں کہنیاں مار مار کر یہ احساس دلاتی رہیں کہ آپ قائد حسب اختلاف نہیں، اس ملک کے وزیر اعظم ہیں۔
یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ اسی اجلاس میں ملک کا وزیر اعظم یہ فرما رہا ہو کہ ”اشیائے ضروریہ میں ملاوٹ بچوں، بوڑھوں اور قوم کی صحت کی خرابی کا باعث بن رہی ہے لہٰذا اس امر پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے“ ۔ اندازہ لگائیں کہ ملک کے سربراہ کو اس بات کا علم بھی ہو کہ بازار میں اشیائے ضروریہ ملاوٹ شدہ فروخت کی جا رہی ہیں پھر بھی براہ راست سزاؤں کا حکم دینے اور مجرموں کو عوام کے سامنے لانے کی بجائے یہ کہہ رہا ہو کہ اس پر ”توجہ“ دی جائے۔
اس ساری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہمیں اس بات پر پورا پورا یقین آ گیا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کو ابھی تک اپنے وزیر اعظم ہونے کا یقین ہی نہیں آیا سکا ہے اور وہ غالب کے اس شعر پر پورا اترتے ہیں کہ
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا


