عورت ہی مکان کو گھر بناتی ہے


\"husnainلکھنے والے کی کامیابی یہ ہے کہ کوئی ایک بات ایسی اچھوتی کر جائے جو پڑھنے والے پر اثر کرے۔ بھلے اس کے نظریات سے مطابقت رکھے، یا نہ رکھے۔ آپ لکھیں گے تو آپ کو اپنی ایک واضح شناخت بنانی ہو گی۔ ہومیو پیتھک تحریریں لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے زہر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ تحریر جسے پڑھ کر آپ کچھ سوچنے پر مجبور نہ ہوں، نہ وہ آپ کو یاد رہے، نہ کوئی سوال دماغ پر نازل ہو، اس کا پڑھنا کیا اور اس کا لکھنا کیا۔

کشور ناہید نے بہت شاعری کی، نثر کہی، کالم لکھے، پڑھنے والوں نے پڑھے۔ کچھ یاد رکھا کچھ بھلا دیا۔ ایک جگہ انہوں نے لکھا کہ مردوں کو یہ جو گرم گرم روٹی کھانے کا شوق ہے، سب سے پہلے ہمیں اسے ختم کرانا ہو گا۔ یعنی عورتیں اگر مردوں کے ظالمانہ تسلط سے نکلنا چاہتی ہیں تو پہلی ضرب اس روٹی پر لگائی جائے جو وہ توے سے اتار کر سیدھے حلق میں لے جانے کے خواہاں ہوتے ہیں۔

دس پندرہ برس پہلے فقیر نے یہ بات کہیں پڑھی اور باقاعدہ خفا ہوا۔ یار یہ کوئی بات ہے، مطلب یہ خواتین چاہتی کیا ہیں، مرد کو گرم کھانا بھی نہ ملے تو لعنت ایسی زندگی پر۔ ایسے گھر کا فائدہ کیا جہاں مرد ایک روٹی تک گرم نہیں کھا سکتا۔ اس وقت گرم روٹی امی بنا کر دیتی تھیں۔ کھانے پر باقاعدہ لڑائی ہوتی تھی کہ امی ایسا کیوں پکا دیا، آلو گوشت روز کیوں پکتا ہے، کباب میں کالی مرچ کیوں آتی ہے، دال میں لہسن کا بگھار کیوں لگتا ہے اور یہ ٹماٹر کیوں ہر سالن میں نظر آتے ہیں۔

شادی ہوئی، بیٹی ہوئی، ٹرانسفر ہوا، لاہور آئے، زندگی نئے سرے سے شروع کی۔ یہاں گھر والی نے بیٹی بھی پالنی ہوتی تھی اور گھر بھی چلانا ہوتا تھا۔ بہت کامیابی سے چلایا۔ بیٹی ذرا بڑی ہوئی تو سکول میں ڈالنے کا خیال آیا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ سکول ہو گا تو بہترین سکول ہو گا ورنہ پڑھائی کا فائدہ نہیں۔ یا گھر چلے یا سکول کی فیس جائے، اس سوال کا جواب گھر والی کی نوکری تھا۔ اب وہ صبح بیٹی کو لے کر جاتی، سارا دن سکول میں پڑھا کر تھکی ہاری لوٹتی، سہ پہر کو سالن بنتا، انتظار کرتی، صاحب دفتر سے آئیں گے تو گرم روٹی دوں گی، خود بھی ساتھ بیٹھ کر کھا لوں گی۔

وہ دور بھی گزر گیا۔ صاحب کی مصروفیت مزید بڑھ گئی۔ گھر والی کی بھی ترقی ہو گئی۔ پہلے بیٹی کی خاطر اس نے مشکل راستہ چنا، اب بیٹی اس کی خاطر سکول میں \"husnain-family\"چھٹی کے بعد بھی رہتی۔ ترقی اس چیز کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ شام کو واپس لوٹے۔ بیٹی بھی ساتھ آتی، یعنی اس کا سکول دن ڈھلے ختم ہوتا۔

واپس آنے کے بعد ایک آدھ ٹیوشن بھی ہوتی، اس ٹیوشن کے بعد رات ہو جاتی۔ اب بھی ایسا ہی ہے۔ یہ ایک گھر کی کہانی ہے۔ اس گھر میں مرد اگر تقاضا کرے کہ گرم روٹی کھانی ہے، تو سوال یہ ہے کہ وہ اندھا ہے یا بے حس ہے یا بہت ہی بڑا پیٹ پجاری ہے جسے بھوک سے اور چسکے سے زیادہ عزیز کچھ نہیں۔ یہی حال ان گھروں میں ہوتا ہے جہاں تین چار بچے بھی پالنے ہوتے ہیں اور گھر کے دوسرے کام بھی کرنے ہوتے ہیں۔

گرم روٹی کی عادت چھوڑے چار پانچ برس ہو گئے۔ زندگی بہت مزے میں ہے۔ اتنے مزے میں کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ کئی سفر کرنے پڑتے ہیں، کچھ ملک سے باہر کا بھی اتفاق ہوتا ہے۔ ہر جگہ یہ دیکھا کہ بھئی لوگ تو دن کی شروعات ٹھنڈے سینڈوچ سے بھی کر لیتے ہیں اور انہیں کچھ نہیں ہوتا، معدہ بھی خراب نہیں ہوتا، مرتے تک نہیں کم بخت۔ خود بھی کر کے دیکھا کچھ نہیں ہوا۔ پھر چائے بنانا سیکھی، اور یہ سیکھا کہ ڈبل روٹی کے دو توس اگر چائے کے ساتھ نگل لیے جائیں تو وہ کب تک کام دیتے ہیں۔ پھر ایک وقت کا کھانا چھوڑنے کا رسک لیا کہ کھائیں گے تو نیند آئے گی، نیند آئے گی تو کام مشکل ہو گا۔ رات کے کھانے میں ایک ڈیڑھ روٹی کسی بھی قسم کے سالن کے ساتھ بغیر اعتراض کے کھانے کی کوشش شروع کی، وہ بھی کافی حد تک کامیاب ہو گئی۔

جب یہ سب ہو گیا تو معلوم ہوا کہ زندگی بہت آسان ہے۔ اپنی بھی اور گھر والی کی بھی۔ پھر کشور آپا کی بات بھی سمجھ میں آ گئی۔ ماں سے بھی غائبانہ شرمندگی محسوس کی، پھر دوسری باتوں کی بھی سمجھ آتی گئی، احساس ہوتا چلا گیا کہ عورت کھانے بنانے کی مشین نہیں ہے، کپڑے دھونے یا استری کرنا اس کی ذمہ داری نہیں ہے، جوتے پالش کرنا اس پر کوئی مذہب فرض نہیں کرتا، نہ ہی سر کی چمپی کرنا ازدواجی رشتے کے لوازمات میں سے ہے۔ اپنی مرضی سے، اگر وہ چاہے اور اگر اس کے پاس وقت ہو تو وہ کر دے، وہ مجبور نہیں ہے، پابند نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک فرد کی کہانی ہے۔ ایک گھر کی کہانی ہے۔

اب گھر سے نکلیے باہر آئیے۔ خاتون نوکری نہیں کرتیں، گھر پر رہتی ہیں، تو بھی یہ تمام چیزیں ان کے فرائض میں شامل نہیں ہیں، مردانہ معاشرے کے طور طریقے اسے مجبور کرتے ہیں کہ عورت باہر جائے یا گھر رہے، گھر سنبھالنا اسی کا کام ہے۔ انگارے فیم رشیدہ جہاں نے سبطے صاحب اور ترقی پسند دوستوں کو پیغام دیا کہ بھئی ہمارے گھر پر مجلسیں بے شک برپا کریں، کھانے کروائیں لیکن اتنے بڑے ترقی پسند ہو کر بھی اگر آپ یہ امید رکھیں کہ میں بحیثیت عورت آپ کے جانے کے بعد جھاڑو بہارو بھی کروں گی تو صاحب یہ زیادتی ہے۔ جو شرکا ہوں گے، صفائی وہ خود کر کے جائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بعد میں یہ امر معمولات میں شامل تھا۔

یہ تمام بھاشن وہاں کام آ سکتا ہے جہاں گول روٹی نہ بنانے پر قتل کرنا جائز نہ ہو، جہاں غیرت کے نام پر روز جنازے نہ اٹھائے جاتے ہوں، جہاں معمولی باتوں پر تیزاب گردی نہ ہوتی ہو۔ جو اقدار مذاق مذاق میں یا جھگڑے کی صورت میں ماں بہن کی گالی دینے کے لیے تو اجازت دیں لیکن سنجیدگی سے ان کے بارے میں بات کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہو وہاں عورت کے فرائض یا حقوق پر بات ہی کیا ہو سکتی ہے۔

علامہ اقبال یونیورسٹی کا وہ پرچہ سامنے آیا۔ یقین کیجیے بہت خوشی محسوس ہوئی۔ فی الحال باقی کے سوال دیکھیے۔ غور کیجیے تو اندازہ ہو گا کہ ایک سرکاری ادارہ \"husnain-jamal-family\"میٹرک کے طالب علموں کا معیار اپنے طور پر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اچھی بات ہے، ہونا چاہئیے۔ اسلام آباد دا بیوٹی فل ایک نیا سا ٹاپک تھا، اس پر مضمون لکھنے کی دعوت دینا کم از کم ہمارے زمانے میں نہیں ہوتا تھا۔ وہی مائے بیسٹ فرینڈ اور اس قسم کے دوسرے عام مضمون ہوتے تھے جو رٹ لیے جاتے اور کمرہ امتحان میں اگلنے ہوتے تھے۔ پھر دوسرا سوال بھی ایسے ہی ہے۔ صحت مند زندگی گزارنے کی لیے دس اہم نکات بتائیں، یہ بھی میٹرک کے لیول پر نئی بات لگی، کم از کم کچھ اچھا پوچھا گیا، نئے طریقے سے پوچھا گیا۔ تیسرے سوال میں سیدھے سادے مارننگ واک کے مضمون کو ٹوئیسٹ دیا گیا، اسے ایک مکالمے کی صورت لکھنے کو کہا گیا ہے، یہ بھی جدت نظر آئی۔ اگر کسی نے رٹا بھی لگایا ہو گا تو اسے کچھ نہ کچھ زحمت کرنا پڑے گی کہ اسے مکالمے میں تبدیل کرے، اور یہی سیکھنے کا عمل ہو گا۔ چوتھا سوال ایک دوست کو خط لکھ کر اسلام آباد مدعو کرنے کا تھا۔ اس میں اور پہلے سوال میں بہرحال ایک مسئلہ موجود ہے۔ وہ یہ کہ ایک بچہ جو راجن پور یا چمن یا وزیرستان میں بیٹھے پڑھ رہا ہے، وہ اسلام بارے میں کیا لکھ سکتا ہے، اسلام آباد وفاق کی علامت تو ہے لیکن ایک وجود رکھنے والا شہر ہے۔ مریخ کی دعوت دینے کا کہا جائے تو سب دیں گے کہ کسی نے دیکھا نہیں بس دعوت دے دینی ہے، اسلام آباد جس نے دیکھا نہیں وہ کیا دعوت دے گا؟ یہی غلطی پہلے سوال میں تھی، اسلام آباد دا بیوٹی فل سمجھ میں آتا ہے، نیا موضوع ہے، اچھی بات ہے، لیکن جو غریب آیا نہیں وہ کیا خوب صورتی دکھا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ فاصلاتی نظام تعلیم ہے اور اس کا فائدہ اٹھانے والے زیادہ تر وہی ہوتے ہیں جو اسلام آباد نہیں دیکھ پاتے۔

اب آئیے آخری سوال کی طرف جو سب کو بہت غیر اخلاقی نظر آ رہا ہے۔ یہ ایک عام سا سوال تھا جس میں اپنی ہمشیر پر مضمون لکھنے کا کہا گیا۔ جیسی ذہانت یا کچھ نیا کرنے کا جذبہ باقی پیپر میں تھا، وہی ادھر بھی موجود تھا۔ اپنی طرف سے پرچہ بنانے والے نے تخلیقی اپچ دکھائی، بات مزید واضح کرنے کو سوال کھول کر بیان کر دیا کہ بھئی عمر، جسامت، قد، مجموعی تاثر اور عمومی رویے کو سامنے رکھ کر جواب لکھ دیجیے۔ اسے یار لوگوں نے عزت و حرمت کا معاملہ بنا لیا۔ دیکھیے سیدھی سی بات ہے۔ بہن ایک عورت ہے۔ عورت ایک مکمل وجود رکھتی ہے۔ اگر اس وجود کو مانتے ہوں گے، اسے کسی قابل سمجھتے ہوں گے، اگر اس کا وجود ایک انسانی وجود سمجھا جائے گا، اسے برابری کی سطح پر دیکھا جائے گا، اسے گرم اور گول روٹی بنانے، کپڑے دھونے، صفائیاں کرنے یا ایسے دیگر کاموں کا سزاوار (دونوں معنوں میں) نہیں مانا جائے گا اس کی تعلیم کی بات ہوگی، اس کے معیار زندگی کی بات ہو گی، اس کی ترجیحات کی بات ہو گی، اس کی آزادی کی بات ہو گی، اس کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھیں گے، اس کی پریشانیوں پر پریشان ہوں گے تو اس پر لکھنے لکھانے کے بارے میں سوچا بھی جا سکتا ہے، سوچ کر مضمون بھی لکھا جا سکتا ہے۔ اگر عورت کا وجود بحیثیت انسان ہے ہی نہیں، اس قدر بھی نہیں کہ وہ اپنا چہرہ اپنی شناخت بنا سکے یا اسے اپنا وجود تک شرم کی پوٹلی بنا کر رکھنا پڑے تو پھر مضمون کیا لکھا جائے اور کون لکھے۔ پھر تو ہم بلاگ لکھنے والوں کی شان میں قصیدے ہی لکھے جائیں گے۔ بسم اللہ کیجیے۔

 

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “عورت ہی مکان کو گھر بناتی ہے

Comments are closed.