کتاب پر تبصرہ: رجب طیب اردوغان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نام کتاب : رجب طیب اردوغان
مصنف : ڈاکٹر راغب السرجانی
مترجم : ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی
تبصرہ نگار : شیخ زید مشکور احمد ندوی
صفحات : 328 قیمت : 250
ناشر : ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، نئی دہلی، انڈیا۔
ملنے کے پتے : مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، 307۔ D، ابوالفضل انکلیو، اوکھلا، نئی دہلی 110025۔
منشورات پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، 61۔ D جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی 110025۔
پاریکھ بک ڈپو، ٹیگور مارگ، ندوة العلماء روڈ، ڈالی گنج، لکھنؤ۔

زیر نظر کتاب ترکی کے سپوت، عالم اسلام کے مرد قلندر، میخانہ نورسی کے بادہ خوار، معتدل اسلام کے بجائے الاسلام کے امین و پاسباں، بے بسوں و بے کسوں کی بلند آہ و فغاں، مظلوموں کی پرسوز جاں، مہیب تاریکیوں میں ایک قندیل تاباں، اسلامی روایات اور اقدر کے روح رواں، ملت کے دھڑکتے دلوں کی زباں، اپنوں کی سازشوں کے مشق ستم و جائے امتحاں، ہزاروں خاروں کے پیچ مکہتا گل ارمغاں، اسلامی تحریک کے میر کارواں مرد آہن اور محبوب قائد رجب طیب اردگان کی داستاں ہے، جنہوں نے نسبت براہیمی کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر جہاں کا بیڑا اٹھا لیا، اور پھر اپنی خدا داد صلاحیتوں و آہنی عزموں کی بدولت کامیاب و بامراد بھی رہے۔

دراصل یہ کتاب ڈاکٹر راغب السرجانی کی عربی کتاب کا ترجمہ ہے، جسے موجودہ وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے جواں سال قلمکار، بے باک صحافی، اور حوصلہ مند صاحب قلم ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی نے اردو میں منتقل کیا ہے، اور مختلف جگہوں پر اپنے گراں قدر حواشی و تعلقیات سے اس کی اہمیت و افادیت کو دو بالا کر دیا ہے، فاضل مترجم عربی زبان و ادب پر مکمل دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان و بیان کا بہت اعلی ذوق رکھتے ہیں، جس کی بنیاد پر یہ کتاب ترجمہ کے بجائے فی نفسہ ایک کتاب کی شکل اختیار کر چکی ہے، کہ عربی زبان کی اصطلاحات اور جملوں کو بحسن خوبی اردو محاورات میں منتقل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے کتاب کا مجموعی ترجمہ بڑا عمدہ اور نہایت سلیس ہے، جو اشارہ کرتا ہے کہ مترجم اپنے ترجمہ میں کلی طور پر کامیاب ہیں۔

اس کتاب کا مقصد جہاں ایک طرف ترکی کی تاریخ اور موجودہ صورتحال سے لوگوں کو واقف کرانا ہے، ترکی میں اسلام کی بازیافت کے سلسلے میں اردوغان کی بے مثال کوششوں کی جھلکیاں دکھلانا ہے، اپنوں کی شورشوں کو بے نقاب کرنا ہے، اور ان کی رچی گئی سازشوں کے پردوں کو چاک کرنا ہے۔

تو وہیں دوسری طرف ملک عزیز میں ہماری اپنی ان تنظیموں و جماعتوں کے لئے ایک کامیاب حکمت علمی اور ایک بامراد ٹھوس لائحہ عمل پیش کرنا ہے، جو اب تک مستقبل کی مضبوط خاکہ بندی اور ایک متعین ہدف کے بنا منصوبہ بندی اور افراد سازی سے عاری رہیں ہیں۔

کتاب پر بطور اشاریہ سید ابو اعلی سبحانی نے بڑے سلیقہ کے ساتھ ترکی اور عالم اسلام کے حالات کی روشنی میں ایک خوبصورت تحریر پیش کی ہے۔

کتاب کی افادیت میں افاضہ کرنے والا مترجم کا گراں قدر مقدمہ ہے، جس میں علامہ شبلی کی شہرہ آفاق نظم شہر آشوب کے حوالے سے عالم اسلام کے دگرگوں حالات کا ایک ایک کر کے علمی ادبی و تاریخی تجزیہ پیش کیا گیا ہے، اور بڑی بے باکی سے اپنوں کی سازشوں سے پردہ ہٹایا گیا ہے، کہ خوں آشام شام سے لے کر غزہ اور ترکی کی زبوں حالی میں کن کن اپنوں کی عیاری و مکاری شامل حال رہی ہے، صلیب و ہلال کی کشمکش میں ریالی کردار کو بڑی ہمت سے واشگاف کیا گیا ہے، اور پھر ترکی میں اسلام کی سربلندی کی راہ از سر نو ہموار کرنے والے اردوغان کی کوششوں کو پیش کیا گیا ہے، اس سلسلے میں آنے والی رکاوٹوں و ناپاک شورشوں پر ایک شاندار تجزیہ کیا گیا ہے، جس میں ترکی کے دگرگوں سیاسی حالات میں اردوغان کی سیاسی بصیرت کی صاف جھلکیاں دکھلائی گئی ہیں۔

کتاب کے شروعاتی صفحات ترکی کی سیاسی تاریخ پر مشتمل ہیں، جس میں خلافت اسلامیہ کے زوال سے لے کر عدنان میندرس کی سولی کو بطور تمہید پیش کیا گیا ہے، خلافت عثمانیہ کے سقوط کے لئے جو ناپاک کوششیں کی گئی، اور اس کے خاتمے کے لئے جو کارروائیاں کی گئی، ان کارروائیوں کا بڑی عمدگی سے تجزیہ پیش کیا گیا ہے، اور کمال اتاترک نے خلافت ختم کرنے کے لئے جو بھی ناپاک سازشیں کی، ان سازشوں سے مکمل طور پر پردہ اٹھایا گیا ہے، جس نے اسلام کو ترکی سے ختم کرنے کے لئے ہر ایک اسلامی شعار کو اس طرح مٹایا، کہ دشمن دیں بھی ایسی اسلام دشمنی پر انگشت بدنداں رہ جائیں۔

اس کے بعد اردوغان کے استاد جدید ترکی میں تحریک اسلامی کے قافلہ سالار و تجربہ کار قائد پروفیسر نجم الدین اربکان کی سیاسی خدمات سے روشناس کرایا گیا ہے۔ اور پھر اردوغان کا بطور سیاسی قائد کے ظہور دکھایا گیا ہے، ان کی مختلف پارٹیوں میں شمولیت کے ساتھ سیاسی زندگی کے ابتدائی حالات کو پیش کیا گیا، کہ کن ناگفتہ بہ حالات میں اردوغان سیاست کے بالکل نچلے پائدان سے بلندیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، حتی کہ اس راہ میں انہیں جیل تک جانے کی بھی نوبت آئی۔

اس وقت کے ترکی کے اندرونی و بیرونی مشکل حالات پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے، کہ کتنی مشکلات کا سامنا اردوغان نے کیا، اور پھر اپنے استاذ اربکان سے علیحدگی اختیار کر کے کیا خاص سیاسی اسٹریٹجی اپنائی، جس کی بنا پر وہ ترکی کو سیاسی، سماجی، ماحولیاتی اور اقتصادی بحران سے کرشماتی طور پر باہر نکالنے میں کامیاب ہوئے، اور کس حکمت عملی کے ذریعہ ترکی کو لادینی فوج کے استبداد سے نکال کر ظالم سیکولرسٹوں سے آزادی بخشی، اور کس طریقہ سے ترکوں کو اجباری کفر سے اختیاری کفر تک لانے میں کامیاب رہے۔

درمیانی کتاب میں یہ دکھایا گیا ہے، کہ ان کی پارٹی ”حزب العدالہ والتنمیہ“ نے کس طریقے سے ملکی سیاست میں اپنے قدم مضبوط کیے، اس کی کیا پالیسیاں رہیں، جن کی بنیاد پر وہ پہلے الیکشن کے بعد سے مسلسل اپنی مقبولیت کے گراف میں اضافہ کرتی رہی، اور جن کی وجہ سے عوام نے اسے اپنے لئے بہتر اور کارآمد سمجھا۔

ملک کے اندورنی حالات سے نپٹنے کے بعد اردوغان نے عالمی سطح پر خاص طور سے اسلامی ممالک کے لئے کیا خدمات سرانجام دیں، اور عرب ممالک میں برپا ہونے والے انقلابات کے وقت ان کا کیا رول رہا ہے، کس طرح سے انہوں نے وہاں کے دبے کچلے مظلوموں کی مدد کی۔

دنیا کی نظر میں اردوغان کو کیسے مقبولیت میں ملی، انہوں نے ترکی کے وزیر اعظم بنتے ہی ایسا کون سا جادو چلایا، کہ جس سے وہ نہ صرف ترک قوم بلکہ عالم اسلام کے ایک ایک فرد کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔

ترکی کی موجودہ قابل رشک صورتحال کو دیکھتے ہوئے سے مستقبل میں ترکی سی کیا امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں، خاص طور سے عالم اسلام کو ترکی کیا کچھ دے سکتا ہے، ان تمام چیزوں پر اعداد و شمار کے ساتھ بحث کی گئی ہے، کہ کیا اسلام کی سربلندی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا، اور مسلمان ایک بار پھر اپنے ماضی کی شاندار روایت کو دوہراتے ہوئے عزت و عظمت کی فضا میں سانس لے سکیں گے۔

پھر خاتمہ میں مؤلف کتاب کا وہ گراں قدر خط ہے، جس کو انہوں نے اپنے دس نکاتی قیمتی مشوروں کے ساتھ ”تلک عشرة کاملة“ کے عنوان سے اردوغان کو لکھا تھا، چنانچہ انہوں نے بہت اہم نکات کی طرف اشارہ کیا ہے، جس میں ایک سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے شخص کے سامنے مختلف عقدوں کا حل موجود ہے۔

اور پھر اخیر میں مسک الختام کے طور پر دوحصوں پر مشتمل نہایت اہم و قیمتی ضمیمہ شامل ہے، اول حصہ میں اردوغان مثالی قائد کیوں ہیں؟ ان کا کیا پیغام ہے؟ انہوں نے صدارتی نظام کیوں چاہا؟ آنے والے دونوں وہ کہاں تک کامیاب ہوں گے؟ اور ترکی مغرب کے نشانہ پر کیوں ہے؟ اس طرح کے سوالات کے حقائق کی روشنی میں اطمنان بخش جوابات دیے گئے ہیں۔

دوسروں حصہ میں حزب العدالہ والتنمیہ ”جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی“ کا تعارف، دستور، لائحہ عمل اور اس کی تمام تر پالیسیوں و اسٹریٹجیوں کو بالتفصیل پیش کیا گیا ہے، جو اصل کتاب کے سو صفحات کا خلاصہ اور تلخیص ہے۔

اخیر میں ہم یہی کہیں گے، کہ دارصل یہ کتاب ترکی کی مختصر تاریخ خاص طور پر حالیہ تاریخ کے حوالے سے ایک اہم دستاویز ہے، جس کو عالمی سیاست سے دلچسپی اور تاریخ سے ذوق رکھنے والے ہر فرد کو ضرور پڑھنا چاہیے، اور استفادہ کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زید مشکور، ریسرچ اسکالر، لکھنو یونیورسٹی، انڈیا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply