سگمنڈ فرائڈ کے تیسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

خواتین و حضرات! جب ہم نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ مریضہ کے لاشعور میں دو متضاد طاقتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں ایک طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو لاشعور میں دبی اور چھپی یادوں اور باتوں کو شعور میں لانے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی ہے اور لاشعور میں چھپی اور دبی یادوں اور باتوں کو

Read more

ورکرز: جماعت کی روح، لیڈرشپ کی ذمہ داری

سیاست کا میدان ہو یا سماجی خدمت کا، ورکرز کسی بھی تحریک یا جماعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ وہ اپنی محنت، لگن، اور قربانیوں سے لیڈرز کو عروج تک پہنچاتے ہیں۔ میں، ایک سیاسی کارکن کے طور پر، 1994 سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مختلف ذیلی تنظیموں میں صوبائی سطح پر اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دیتا رہا ہوں۔ مشرف کے دور میں، میں نے جنرل (ر) حمید گل مرحوم، محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم، سابق

Read more

خیبرپختونخوا میں تبدیلی کی سرگوشیاں!

مخصوص نشستوں کا حتمی فیصلہ آ جانے کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاست کی راہداریوں میں سرگوشیوں کا آغاز ہو چکا ہے، سیاست شطرنج کی وہ بساط ہے جس میں ہر فریق ہمہ وقت اس تاک میں رہتا ہے کہ وہ مخالف فریق کو کب پچھاڑ دے، وہ اس کی سیاسی کمزوریوں پر نظر رکھتا ہے اور اس کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی غلطی کا انتظار کرتا ہے، بھٹو جیسے ذہین و فطین مانے جانے والے سیاستدان نے

Read more

معاشرتی مردانگی: جب میں خود سے دور ہوا

میں نے اپنے بچپن کا ایک اہم حصہ ہسپتال کے اِک کمرے میں لیٹے پردوں میں پڑی سلوٹوں کو گنتے بِتایا۔ اس عرصے میں، میں نے مرد کے نام پر صرف اپنے باپ کو دیکھا جو کہ ایک نہایت شریف آدمی تھے اور میرا مردوں کے بارے میں یہ نظریہ قائم ہو گیا کہ شاید تمام مرد ایسے ہی بھلے ہوتے ہیں۔ اسی نظریہ کو ساتھ لیتے ہوئے میں نے اپنا بچپن گزارا۔ شاید میرا نظریہ اب تک اس لیے

Read more

پوٹھوہاری زبان کے لئے نجی ٹی وی چینلز کی خدمات

پرویز مشرف کے دور حکومت میں جب نجی ٹی وی چینلز کو لائسنس ملنا شروع ہوئے تو پشتو، سرائیکی، پنجابی سمیت مختلف علاقائی زبانوں کے فروغ کے لئے بھی ٹی وی چینلز کا قیام عمل میں لایا گیا، پوٹھوہاری زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں بھی نجی ٹی وی چینلز نے مقدور بھر حصہ ڈالا ہے اور ابھی تک ڈال رہے ہیں، انگلینڈ میں مقیم پوٹھوہاری اور پہاڑی کمیونٹی کے لئے برطانیہ سے بھی نجی چینلز نے اپنی

Read more

احمد ندیم قاسمی۔ حیات و خدمات

  احمد ندیم قاسمی کے نام سے شہرت پانے والے احمد شاہ اعوان وادی سون سکیسر کے ضلع خوشاب کے گاؤں انگہ میں 20 نومبر 1916 کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق اعوان قبیلے سے تھا۔ ان کے والد گرامی کا نام پیر غلام نبی تھا اور ان کی والدہ کا نام غلام بی بی تھا۔ شاعری کے لیے اپنا تخلص ندیم رکھا اور اپنے پردادا کے نام محمد قاسم کی رعایت سے قاسمی کا اضافہ کیا، یوں ان کا

Read more

اناطولیہ کہانی: یشار کمال کا مزاحمتی استعارہ اور دیہی انسان کی ازلی تڑپ

اناطولیہ کہانی کو ترکی کے جنوبی علاقے چکروا کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس ناول کو نہ صرف ترکی کے ادب کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ظلم کے خلاف مزاحمت اور کسانوں کی جدوجہد کی ایک علامتی داستان ہے۔ پہلی بار یہ ناول 1955 میں ترکیہ زبان میں شائع ہوا۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ 1961 میں ایڈوارد رودیتی نے کیا جب کہ اسے اردو میں ڈھالنے کے فرائض نسرین

Read more

دسترخوان: تہذیب، روایت اور رشتوں کی زنجیر

دسترخوان ایک قدیم روایت جو صرف کھانے کے لیے بچھائے جانے والے کپڑے تک محدود نہیں، بلکہ مشرقی تہذیب کی جڑوں میں پیوست ایک علامت سمجھی جاتی تھی۔ وہ وقت تیزی سے رخصت ہو رہا ہے جب دستر خوان محبت، سلیقے اور خاندان کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا کرتے تھے۔ اس پر صرف کھانا نہیں بلکہ تعلقات، جذبات، قربتیں اور نسلوں کی تربیت رکھی جاتی تھی۔ جب دسترخوان بچھایا جاتا تھا تو اس کے گرد صرف خاندان کے افراد

Read more

فیمنسٹ عورتو، عقل کے ناخن لو!

اپنے جیسی کا حشر دیکھ کر ہوش ٹھکانے آئے کہ نہیں؟ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، وقت ہے بگڑی تگڑی عورتو، توبہ تلا کرو اور پدرسری کے راستے کو فوراً اختیار کرو۔ تمہیں توبہ کرنے کا ایک موقع دیا گیا ہے ، تاکہ تم اس انجام سے بچ سکو جو حال ہی میں ایک فنکارہ کا ہوا۔ کیا تم نہیں جانتیں کہ ہمارے سائے میں رہنے والیوں کو ایک پورا پیکج ملتا ہے جس میں باعزت ٹھہرائے جانے سے لے

Read more

یہ ہم نے کس کو کھو دیا لوگو!

(مشہور عالم، محقق اور استاد سی ایم نعیم کی یاد میں) ابھی ابھی فیس بک پہ رضا رومی کی ایک بہت افسوسناک پوسٹ، شکاگو کی اہم ادبی علمی شخصیت پروفیسر سی ایم نعیم کے انتقال کے حوالے سے پڑھی۔ موت برحق ہے لیکن یقین سا نہیں آ رہا۔ ابھی جولائی کی چھ تاریخ کو ہی تو ان کی مختصر مگر بہت حوصلہ افزا میل موصول ہوئی جو انہوں نے میری بیٹی کی ہارورڈ سے گریجویشن کے وقت فلسطین کے حق

Read more

سگمنڈ فرائڈ کے دوسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

خواتین و حضرات! جب آسٹریا کے شہر ویانا میں ڈاکٹر جوزف برائر گفتگو سے نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے تھے اور TALKING CURE متعارف کروا رہے تھے ان ہی دنوں فرانس کے شہر پیرس میں ایک ڈاکٹر شارکو بھی اسی طرح کی مریضاؤں کے علاج میں تحقیق کر رہے تھے۔ میں نے جب ڈاکٹر برائر کے ساتھ مل کر ہسٹیریا کے بارے میں مقالہ لکھا تو ہم نے شارکو کے تجربات و مشاہدات سے استفادہ کیا۔ اس مقالے میں

Read more

حمیرا اصغر: کمرے میں فقط ان کہی باتوں کا دکھ رچا ہے!

(حمیرا اصغر کی مثال کے تناظر میں ایک سماجی و نفسیاتی جائزہ) عورت کی ذہانت، تعلیم اور تخلیقی صلاحیتیں کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہیں۔ ذہین عورت نہ صرف اپنے لیے بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی مثبت انداز میں متاثر کرتی ہے۔ جب تعلیم اس کی سوچ کو وسعت دیتی ہے تو تخلیقی قوتیں اظہار کے نئے راستے تلاش کرتی ہیں، چاہے وہ ادب

Read more

خواب، محبت اور زندگی 45

راجا پاکستانی کی انٹری رسم و رواج کے مطابق رشتہ مانگنے کے لئے احفاظ نے اپنے دوست حسن امام کی اہلیہ کو میرے والدین کے پاس بھیجا۔ اور اس کے بعد امی اور خالہ احفاظ کا گھر دیکھنے گئیں۔ اس ملاقات نے سب کچھ بدل دیا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ملاقات قیامت ڈھا گئی۔ راجا ہندوستانی طرز کی نہیں بلکہ راجا پاکستانی طرز کی قیامت۔ احفاظ کا چھوٹا سا گھر محنت کش طبقے کے محلے میں واقع تھا۔

Read more

نیم حکیم، کامل شاعر

حلقہ اربابِ ذوق فیصل آباد کے تنقیدی اجلاس میں اشرف یوسفی کی غزل پر تند و تیز گفتگو ہو رہی تھی۔ قواعد کے مطابق صاحب تخلیق کو خاموش رہنا پڑتا ہے۔ اشرف یوسفی پہلو بدلتے رہے۔ کسی نے کہا کہ فلاں شاعر کا رنگ جھلکتا ہے، ایک اور صاحب بولے ”فلاں شاعر کو بھی شامل تصور کیا جائے“ اجلاس ختم ہوا تو کہنے لگے ”جن دو شعرا کا رنگ دکھایا جا رہا ہے ان کا اپنا کوئی رنگ نہیں ہے،

Read more

جس کا کوئی نہیں

صبح کی ورزش کا اپنا ہی مزہ ہے۔ ، مگر میN اپنی غیر مستقل مزاجی کے باعث یہ لطف کبھی کبھار ہی اٹھا پاتا ہوں۔ ورزش کیا اسے صبح کی سیر کہہ لیں گھر سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر کرکٹ کے میدان تک جانا اور پھر ٹہلتے ہوئے واپس آنا راستے میں فٹ پاتھوں پر بے گھر لوگ سوتے جاگتے نظر آتے۔ کوئی بیٹھا کنگھی کر رہا ہوتا کوئی کہیں جانے کی تیاری میں ہے تو کوئی خواب

Read more

محب اور حسینہ

پریشان چوک کے بنچ پر بیٹھے وہ اپنے خیالات میں گم تھا کہ اچانک اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی جو اتنی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی۔ دونوں کی آنکھیں چار ہوتے ہی لڑکی شرما گئی اور جلدی جلدی اوپر کی جانب بڑھنے لگی۔ وہ عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گیا اس کا دل کہہ رہا تھا کہ لڑکی اسے ہی دیکھ رہی تھی جبکہ دماغ خوش فہمی میں مبتلا ہونے سے گریز کر رہا تھا۔ اسی کشمکش

Read more

پروفیسر محمد اکرم: ایک باوقار استاد، مثالی والد اور سچے خادمِ علم

میرے والدِ محترم، پروفیسر محمد اکرم (مرحوم) ، اپنی ذات میں ایک مکمل اور باوقار شخصیت تھے۔ علم، خلوص، قربانی، دیانت اور انسانیت کی جیتی جاگتی مثال۔ مصر کے عظیم اور آفاقی شاعر، احمد شوقی نے کیا خوب فرمایا ہے قم للمعلم وفّہ التبجیلا کاد المعلم ان یکون رسولا ”اُٹھ، استاد کے احترام میں کھڑا ہو جا، اور اسے بھرپور تکریم دے، کیونکہ معلم ایسا عظیم منصب رکھتا ہے کہ گویا وہ ایک رسول ہی ہوتا ہے۔“ یہ عظمتِ استاد

Read more

سفر نامہ جاپان (10)

”پاکستان ہیروئن کی جنت“ ”لرزے ہے موج مَے تری رفتار دیکھ کر“ پروفیسر راجرز بتا رہے تھے : ”انسانی تاریخ کی طرح منشیات کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ افیون، حشیش، ماری جوانا، کوکین، ہیروئن، ایل ایس ڈی۔ اس میں شراب کا ذکر نہیں ہو گا۔“ ” کیوں نہیں؟“ میں نے دل میں کہا یہی ایک نشہ ہے جس کے، جب زور سنبھالا ہے، ہم عادی ہو چکے ہیں۔ اس کا ذکر آتے ہی بن پیئے ہم پر نشہ چڑھ

Read more

ناگہانی تا ناگہانی: طاہرہ کاظمی کی زبانی وجود، وبا اور کہانی

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی میری پسندیدہ ادیب ہیں۔ اس سے پیشتر میں ان کی کتابوں، ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ ، ”مجھے فیمینسٹ نہ کہیو“ اور ”جتی“ پر اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ ”ناگہانی تا ناگہانی“ ایک ناولٹ، دو خطوط اور کچھ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ادب، محض الفاظ کی آرائش نہیں، ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی ان دیکھی صورتوں، انجانی کیفیات اور غیر فہم ناگہانی سچائیوں کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا

Read more

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

ادارے عمارتوں کا نام نہیں بلکہ ان کا نام افرادی قوت سے ہوتا ہے ؛ یہ وہی قوت ہے جو گمنام جگہوں کو ارفع مقام تک پہنچا دیتی ہے ؛ افرادی قوت کی تیاری کے لیے اعلیٰ ادب، عظیم اقدار اور معیاری نظامِ تعلیم ضروری ہوتا ہے۔ علم و ادب کے سکے کو کون نہیں جانتا ہے؟ اور یہ کہاں نہیں چلتا ہے؟ مشہور عربی مقولہ ہے : ”الادب یرفع الخامل“ ترجمہ: ”ادب (علم) گم نام کو بلند مقام پر

Read more

پاکستان کا انقلابی ضمیر کون؟

یہ مردِ آہن سنہ 1928 ء میں ہوشیار پور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان میں آباد ہوئے۔ ان کی شاعری نے ان کو جنوبی ایشیا کے بے باک عوامی شاعر طور پر منوا لیا۔ ان کے الفاظ محض شعر نہیں بلکہ مزاحمتی نعرے تھے جو ملک بھر کے اسکولوں، عدالتوں، جیلوں، اور احتجاجی اجتماعات میں گونجتے تھے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک طاقتور سیاسی آواز تھے۔ انہوں نے پاکستان کے عام شہریوں

Read more

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

ممتاز شاعر اسرار الحق مجاز نے کہا تھا ”کلیجہ پُھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری“ بس کچھ ایسا ہی وقت مجھ پر بھی آن پڑا ہے کہ یہ حقیقت کس طرح سے تحریر کروں کہ میرے بڑے بھائی، جانی دوست، استاد اور عظیم صحافی جناب نعیم اللہ خان صاحب، اب ہم میں نہیں رہے، انا اللہ و انا الیہ راجعون۔ عاشورہ ( 10 محرم الحرام ) بتاریخ 6 جولائی 2025 کی صبح مجھے جناب نعیم اللہ خان صاحب

Read more

سوال کیسے پوچھیں؟

اس مضمون کی تحریک میرے فکری رفیق اور محقق، نور شمس الدین صاحب سے ملی، انھوں نے میرا ایک مضمون ’سوال اور سیکھنے کا رشتہ‘  پڑھنے کے بعد اپنے تہنیتی پیغام کے ساتھ یہ فرمایا کہ سوال کی اہمیت اپنی جگہ مگر سوال پوچھنا بھی ایک طرزِ خاص ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ میرا اگلا مضمون ’سوال کیسے پوچھیں‘ پر ہو تو کیا خوب ہو۔ موصوف اِن دنوں نذربایوف یونیورسٹی قازقستان سے پی ایچ ڈی

Read more

تخلیقی اقلیت کا فکری جائزہ

تصنیف: ڈاکٹر خالد سہیل ترجمہ: نعیم اشرف تبصرہ : محمد آصف رانا دنیا میں ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوتے آئے ہیں جو معمول کی زندگی جینے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ ان راستوں پر نہیں چلتے جو سماج، مذہب، ریاست یا روایت ان کے لیے متعین کرتی ہے۔ یہ لوگ وہی کرتے ہیں جو ان کا ضمیر، فہم اور تخیل انہیں کرنے پر مائل کرتا ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ’تخلیقی اقلیت‘ ان ہی فکری باغیوں کی

Read more

خواب، محبت اور زندگی 44

محبت کے رنگوں کی برکھا نئے اخبار کا پہلے سے مارکیٹ میں قدم جمائے ہوئے مقبول اخباروں سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ احفاظ بے حد ذہنی دباؤ میں رہتے تھے۔ چین کی خالص غذاؤں اور آلودگی سے پاک ہواؤں سے چہرے پر آنے والی سرخی کراچی کی آلودگی، ملاوٹ والی غذا اور کام کے دباؤ کی وجہ سے غائب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ ان کا پارہ چڑھنے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ وہ اپنے غصے کے

Read more

عصمت فروشی: دیوداسی سے بازارِ حسن تک

کہا جاتا ہے کہ عصمت فروشی انسانی تاریخ کا قدیم ترین پیشہ ہے۔ معاشی مجبوریوں، سماجی ڈھانچے اور جنسی تسکین کی خواہش کے ملاپ نے اسے ایک منظم کاروبار کی شکل دے دی جو ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے آج بھی دنیا کے ہر معاشرے میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ برصغیر میں عصمت فروشی کی تاریخ مذہبی رسوم، سماجی درجہ بندی، معاشی مجبوری، پدرانہ کنٹرول اور نو آبادیاتی مداخلت کے دھاگوں سے بُنی ایک پیچیدہ قالین سے مشابہ ہے۔

Read more

ادب اور ادیبوں سے جڑے طنزیہ و مزاحیہ قصے

عطاء الحق قاسمی جی کہتے ہیں کہ ایک صاحب میرے پاس اپنی کتاب کا نیا ایڈیشن لائے اور بولے ”لیں جی قاسمی صاحب! میری کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی آ گیا ہے، قاسمی صاحب نے کتاب لیتے ہوئے رسان سے کہا ”پہلا کہاں گیا؟ کہتے ہیں کہ اس پر وہ صاحب جانے کیوں ناراض ہو گئے اور دوبارہ کبھی ان کے پاس نہیں آئے۔ فیصل آباد میں ایک شاعری کی کتاب کی تقریب پذیرائی ہوئی تو سٹیج سیکرٹری نے صاحب

Read more

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ

کوئی بھی معاشرہ کامل اور پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اسے بہتر کرنے، سنوارنے اور قابل رشک بنانے کے لئے محنت درکار ہوتی ہے اور سماج کے سارے طبقات مل کر اپنی حیثیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سی رکاوٹوں کے باوجود بہتری اور ترقی کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔ مگر نہ جانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جس سماج کا ہم حصہ رہے ہیں وہاں یہ سفر کسی جگہ آ کر رک سا گیا ہے۔ کسی

Read more

سمندر، جزیرے اور جدائیاں

پچاس کی دہائی میں سمندر کے ذریعے پاکستان سے برطانیہ جانے کا سفر شروع ہو گیا تھا بلکہ اس سے بھی قبل برصغیر پاک و ہند کے افراد بحری جہازوں میں ملازم ہو کر برطانیہ پہنچتے۔ ان میں سے کچھ واپس لوٹ آتے اور کچھ وہیں آباد ہو جاتے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو اپنے ملک کی تعمیر نو کے لیے سستی افرادی قوت کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے اپنی نو آبادیوں سے رابطہ کیا۔

Read more

کہاں گئے وہ لوگ“ اور عباس اطہر”

”کہاں گئے وہ لوگ؟“ عباس اطہر کے کچھ کالموں کا مجموعہ ہے۔ اگر ان کالموں کو بغور اور صاف دل سے پڑھا جائے تو یہ مکمل طور پر بلھے شاہ کے اس مصرع کی تفسیر ہیں کہ ”کیہہ جاناں میں کون؟“ ۔ یادِ رفتگاں پر مشتمل یہ تمام تحریریں ایسی ہیں کہ ان کی خواندگی کے دوران بار بار احمد مشتاق کا مندرجہ ذیل شعر جیسے یاد آ کر رک سا جاتا ہے۔ رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ

Read more

عورت، شراب اور شاعری

” جب تک دنیا میں عورت، شراب اور پھول موجود ہیں انسان ضرور بہکیں گے اور بہکا ہوا انسان عورت، شراب اور پھول سے بھی زیادہ خوب صورت ہوتاہے“ ۔ (سعادت حسن منٹو) صبح جب میں اُٹھتا ہوں تو عموماً ایسا ہوتا ہے کہ کوئی خیال، کوئی بات، کوئی شعر یا مصرع یا کسی گیت کی لائن بہت دیر تک ذہن میں گھومتی رہے گی، بسا اوقات دوپہر یا سہ پہر تک پھر فکرِ روزگار میں محو ہونے سے یہ

Read more

مال گاڑی میں امانتیں

  ہماری تاریخ بالعموم تلوار، تاج اور تخت کے گرد گھومتی رہی ہے اور بڑے بڑے نام، فتوحات، معاہدے اور اِنقلابات ہمارے حافظے کا حصّہ ہیں، جبکہ اصل تاریخ اکثر اُن گمنام کرداروں کے اردگرد پروان چڑھتی ہے جو زمین کی خاموش رگوں میں خون کی طرح رواں دواں رہتے ہیں۔ اُنہی خاموش کرداروں میں سے ایک نام چودھری محمد اسمٰعیل کا ہے جن کی بے مثال قربانی، فرض شناسی اور دِیانت داری کو محمد حنیف بندھانی نے اپنی کتاب

Read more

موت اور قیامت کے عمومی تصورات

اپنے گزشتہ مضمون میں ہم نے زندگی اور حیات ابدی پر طبع آزمائی کی مقدور بھر کوشش کی تھی۔ قارئین اور دوست احباب نے اس بارے بہت اچھا فیڈ بیک یا رائے سے بھی نوازا جو کہ ایک خاص یا علمی محبت کی علامت ہے۔ اپنی اس خاص محبت کی وجہ سے ہمارے بہت سے قارئین اور احباب نے ناچیز کو ایک عالم یا دانشور ٹائپ کی کوئی چیز سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ ہماری تمام احباب سے دست بستہ

Read more

سنہرا پاکستان: 1960 سے 1975 کا خواب نما دور

پاکستان کی تاریخ میں 1960 سے 1975 کا دور ایک ایسا سنہرا باب ہے جو آج بھی بزرگوں کی باتوں، پرانی فلموں، ریڈیو کی گونجتی آوازوں اور پرانی تصویروں میں زندہ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک ترقی کی جانب بڑھ رہا تھا، جب ثقافت، فن اور معاشرتی رشتے اپنی بہترین صورت میں موجود تھے۔ پاکستان نہ صرف ایک ابھرتی ہوئی معیشت تھا بلکہ ایک زندہ دل قوم کا آئینہ بھی۔ اس دور میں صدر ایوب خان کے پانچ

Read more

بڑھاپے کی تنہائی اور ہمارے مشاغل

عرصہ قبل جب میری شادی بھی نہیں ہوئی تھی، میں مانچسٹر اپنے بھائی کے گھر پاکستان سے گھومنے کی غرض سے آئی تھی۔ ایک دن کسی اسٹور میں میرے برابر میں کھڑی ایک بہت بزرگ خاتون، غالباً اسی پچاسی سال عمر ہوگی، شیشے کے اندر رکھی جیولری دیکھ رہی تھیں۔ بڑھاپے سے کمزور اور کمر خمیدہ۔ وہ سرخ لباس میں ملبوس تھیں اور ان کے رخسار گلابی اور لبوں پہ لال رنگ کی لپ اسٹک تھی۔ اس وقت بحیثیت پاکستانی

Read more

ہمارے اساتذہ کی تذلیل اور ہائی پیشیا آف اسکندریہ کا قتل

چند واقعات ایسے بھی نظروں سے گزرے اور سماعتوں سے ٹکرائے، کہ کسی جامعہ میں شرپسند طلبہ نے پروفیسر حضرات کو زد و کوب کیا مارا پیٹا یا تشدد پر آمادہ ہوئے یا کبھی انفرادی طور پر کسی طالب علم نے طاقت کے نشے میں اپنے استاد کی تذلیل کی۔ مگر اب تو یہ عفریت جامعات اور کالجوں سے نکل کر اسکولوں کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ یعنی اساتذہ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کے ہاتھوں تذلیل

Read more

رخشندہ نوید اپنی شاعری کے آئینے میں

میرے لیے آج سے کوئی پچیس سال قبل فلیٹیز ہوٹل کے ہال میں فخر زمان کی زیرصدارت منعقد ہو نے والی ایک شاعری کے مجموعے ”پھر وصال کیسے ہو“ کی تقریب رونمائی میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ نئے لہجے اور تازگی کی خوشبو میں مہکتی شاعری کو سراہوں یا اس کی خالق جو ایک پر کشش موہ لینے والی شخصیت نام جس کا رخشندہ نوید تھا کو اس کے اس نئے فکری احساس پر خراج پیش

Read more

ہان کانگ اور انسانی اعمال

2024 ء میں اپنے ناول ”دی ویجیٹیرین“ کے سبب بلا شرکتِ غیرے ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی خاتون اور جنوبی کوریا کی معروف مصنفہ ہان کانگ کو ان کے منفرد اندازِ تحریر، انوکھے موضوعات، انسانی نفسیات کی داخلی پیچیدگیوں، شاعرانہ اسلوب اور انسانی درد و کرب کو حساس کو لفظوں میں سمو لینے کی حیرت انگیز صلاحیت کے سبب ایک خاص عالمی شہرت حاصل ہے۔ ان کے لکھنے کی ابتداء کہانی ’اسکارلٹ اینکر‘ ( 1993 ء

Read more

جنم دن۔ روحانی و فکری تجدید کا دن

زندگی کا ہر لمحہ ایک تحفہ ہے، اور ہر سالگرہ یا جنم دن اس تحفے کی تجدید کا ایک حسین موقع۔ عام طور پر ہم جنم دن کو کیک، تحفوں، مبارکبادوں اور جشن کے دن کے طور پر مناتے ہیں، مگر اگر اس دن کی معنویت کو ایک فکری اور روحانی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ دن صرف خوشی یا جشن کا موقع نہیں، بلکہ خود شناسی، تجزیہ نفس اور ازسر نو جینے کی تمنا کا دن بھی ہو

Read more

اقلیتوں کی مدد یا مذہبی دباؤ

چین ایک متحد کثیر القومی ملک ہے، تمام قومیتیں خاندان کے برابر رکن ہیں۔ چینی حکومت تمام قومیتوں کی مساوات، یکجہتی اور باہمی مدد کی پالیسی پر ہمیشہ عمل کرتی ہے، اور قومی علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشش کرتی ہے۔ چین میں اقلیتوں کے حقوق قانونی طور پر مکمل طور پر محفوظ ہیں، تمام قومیتیں قومی نمائندہ اسمبلیوں اور سیاسی مشاورتی کانفرنسوں میں اپنے حقوق اور مفادات کا استعمال کر سکتی ہیں۔ چینی

Read more

سندھ میں اجرک نمبر پلیٹس: چند معروضات

اس وقت جب کہ ملک متعدد سیاسی و معاشی مسائل بلکہ بحرانوں میں مبتلا ہے اس دوران میں پولیس کی وردی کی تبدیلی، نوٹوں کے نئے ڈیزائن کا اجراء اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی جیسے اقدام وقت اور وسائل کا یقینی زیاں ہیں۔ تاہم اس قسم کے اقدامات حکومتوں کی طرف سے گاہے بہ گاہے بلکہ وقت بے وقت جاری رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک حکومت سندھ کی طرف سے نئی نمبر پلیٹس کے اجراء کا حکم

Read more

ن لیگ کے جدِ امجد کا فرمان

کہتے ہیں کہ جاتی عمرہ میں دنیا کی ہر نعمت موجود ہے سوائے کتاب کے۔ نون لیگ کے حامی نامور صحافی مجیب الرحمان شامی بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کتاب سوچنا سکھاتی ہے۔ مرد و زن کے مادی وجود کو انسان کا اخلاقی وجود عطا کر دیتی ہے۔ معاشرے میں کتاب سے دوری اور فتوے سے قربت پیدا کرنے والے نون لیگ کے جد امجد ضیاءالحق فرماتے تھے کہ میں استادوں اور شاعروں سے بہت تنگ ہوں۔ یہ بہت

Read more

ہماری سچائیاں فرنگی زباں میں : بکر پرائز بانو مشتاق کی تخلیق ”دل کا چراغ“ کے نام

بُکر پرائز دنیا کا ایک انتہائی معتبر ادبی انعام ہے جو ہر سال فکشن کی صنف میں شاندار ادبی خدمات انجام دینے والے مصنفین کو دیا جاتا ہے۔ اس انعام کا مقصد اعلیٰ تخلیقی تحریر کو عالمی سطح پر تسلیم کرنا ہے، اور یہ انتخاب ان مصنفین کے لیے غیر معمولی شہرت، قارئین تک رسائی اور ادبی مقام کا تعین کرتا ہے۔ بُکر پرائز دو سطحوں پر دیا جاتا ہے۔ ایک بُکر پرائز جو انگریزی زبان میں اصل تحریر پر

Read more

میر ولی اللہ : زندگی نامہ اور کاس الکرام

چالیس سے زائد کتب کے مصنف، فارسی ادبیات کے استاد ِکامل اور جامعہ کراچی شعبہ فارسی کے صدر مرحوم پروفیسر ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی ( 1941۔ 2 ستمبر 2020 ) شارحِ رومی، حافظ و خیام میر ولی اللہ ایبٹ آبادی ( 10 جون 1887۔ 13 دسمبر 1964 ) کی کتاب ’کاس الکرام‘ کے مقدمہ میں میر صاحب کی حیات مستعار سے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ: ’میر ولی اللہ کے اسلاف ترکستان کے مغلیہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ہجرت

Read more

شیر دریا :ایک تجزیاتی مطالعہ

”سفرنامہ“ ہر ادب کی مقبول صنف رہی ہے، ابن بطوطہ جیسے افراد نے تو اپنی زندگیاں سفر میں ہی گزار دیں ؛ نت نئے تجربات سے اپنی تخلیقات کو چمکایا اور قارئین کے لیے نئی دنیا کے در وا کیے، زمین کی سیر کے متعلق تو قرآن پاک بھی لب کشا ہوتا دکھائی دیتا ہے : ”آپ فرما دیجئے کہ زمیں کی سیر کرو اور غور و فکر کرو۔“ اردو ادب نے بھی اس صنف کو اپنے دامن میں سمویا۔

Read more

“سید کاشف رضا کی شاعری کا تیسرا پڑاؤ: ”گلِ دوگانہ

شاعری کے ساتھ سید کاشف رضا کا تعلق تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے اور اس تعلق کی نوعیت نے نہ صرف انتہائی سنجیدہ ہے بلکہ پیچیدگی اور گہرائی کی حامل بھی ہے۔ شاعری اس کے لیے محض لفظوں کے انبار، کھوکھلی نرگسیت کے اظہار اور داخلی جذبات و احساسات کی بھرمار نہیں ہے بلکہ ایک منفرد اسلوب ِ حیات ہے۔ اسی لیے وہ قلم سے قرطاس پر محض مصرعے سیدھے نہیں کرتا بلکہ شاعری کے ساتھ ایک

Read more

چوری پکڑی گئی

آفس میں داخل ہوا تو دھواں دھار بحث جاری تھی۔ جس طرح صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے اسی طرح خبروں کے دفتر میں خبروں پر حاشیہ آرائی لازم و ملزوم ہے۔ خبر گرم تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیٹیں چوری ہو گئی ہیں۔ ہر ایک اسی پر طبع آزمائی کر رہا تھا۔ کوئی سچ تو کوئی جھوٹ ثابت کرنے میں اپنے اپنے دلائل کے انبار لگا رہا تھا۔ لازم تھا کہ سیاسی معرکہ آرائی میں،

Read more

علمی و ادبی اداروں پر یلغار اور وزیراعظم شہباز شریف!

یہ دسمبر 2015 کا ذکر ہے۔ علم دوست صدرِ پاکستان، ممنون حسین (مرحوم) نے مجھے یاد کیا۔ دِل سوزی اور دَرد مندی سے اردو کے بطور سرکاری زبان نفاذ اور علمی و ادبی اداروں کی عدمِ فعالیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا۔ ”کیوں نہ جگہ جگہ بکھرے پڑے، بے حس اور نااہل وزارتوں کی چکّی میں پستے، علمی، ادبی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے تمام اداروں کو یک جا کر کے ایک الگ وزارت کی چھتری تلے دے دیا

Read more

اینٹی ایجنگ ادویات و سرجریز: باعث حسن یا زندگی کا سودا

انسان نے ہمیشہ شباب کی دائمی بقا اور بڑھاپے کی شکست کو اپنا خواب بنایا ہے۔ وقت کے ساتھ جب چہرے پر جھریوں کی لکیر پڑتی ہے، بال چاندی کے رنگ میں ڈھلنے لگتے ہیں، اور جسم کی توانائی ماند پڑتی ہے تو یہ تمام مظاہر صرف ظاہری تبدیلی نہیں ہوتے بلکہ انسان کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ انہی خدشات نے اینٹی ایجنگ ادویات، کریموں اور جمالیاتی سرجریوں کی ایک وسیع صنعت کو جنم دیا

Read more

اپنی دوست سکوگاگ جھیل سے سگمنڈ فرائڈ کی باتیں

آج کینیڈا میں موسم گرما کا پہلا دن ہے۔ سورج کی روشنی میں کسی مہربان کے جذبات کی گرمی موجود ہے۔ میں سکوگاگ جھیل سے ملنے آیا ہوں۔ یہ جھیل میری دیرینہ دوست ہے جو میرے گھر سے تیس میل شمال میں رہتی اور بہتی ہے۔ میں ہر سال گرمیوں کے موسم میں اس سے ملنے آتا ہوں اور اس کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اس کے ساتھ ایک سہ پہر گزارتا ہوں۔ میں نے پچھلے چالیس

Read more

غنی خان اور اپنا ادبی فلسفہ ( 2 )

غنی خان کی شاعری کا سب سے متاثرکن پہلو ان کا جمالیاتی نقطہ نظر ہے جو انسانی وجدان اور فلسفے کے درمیان ہونے والے مابعدالطبیعیاتی تعلقات پیش کرتا ہے۔ یہاں، غنی بابا کی نظم ”خیال او رنګ“ ان کی ادبی جمالیات کی علامت ہے اور اس میں غنی بابا کا مقصد یہ ہے کہ چند حسی عناصر سے بھری ہوئی دنیا کو پیش کر کے قارئین کے فلسفیانہ شعور کو بیدار کیا جائے۔ غنی بابا کی نظم کا جمالیاتی مقصد

Read more

ریڈیو پاکستان لاہور کے پروگرام منیجر سلیم بزمی صاحب سے ایک بات چیت (3)

  ” شعبہ موسیقی کی طرح ڈرامہ کے شعبے میں بھی کوئی اسٹاف آرٹسٹ نہیں، اناؤنسر جز وقتی آتے ہیں، ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ کے سامنے ایک ہی مقصد ہے کہ پیسے بچائیں“ سلیم بزمی صاحب نے کہا۔ ” اب ایسا کیا کیا جائے کہ ریڈیو پاکستان پھر سے پورے زور و شور سے پروگرام کرے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔ ” میرا میدان موسیقی ہے تو ہمارے نئے ڈی جی جب ریڈیو پاکستان لاہور کے دورے پر آئے تو

Read more

جام صاحب کا ناکستان: ایک ادبی حماقت نامہ

جام صاحب کی ایک کوالٹی ہے، وہ یہ کہ آپ کی ناک ایسی نایاب چیز ہے جو شاید نیشنل جیوگرافک والوں کی ڈاکیومنٹری کی فہرست میں بھی آپ کو نہ ملے۔ آپ ارد گرد کی خوشبو ایسے سونگھ لیتے ہیں جیسے پاکستانی الیکشن سے پہلے نتائج۔ اگر کوئی چیز کہیں سو کلومیٹر دور بھی کیوں نہ ہو رہی ہو، تو جام صاحب کی ناک کو فوراً وائی فائی کے سگنلز موصول ہو جاتے ہیں۔ اگر مختلف موبائل نیٹ ورکس والے

Read more

الہامی شاعر۔ اقتدار جاوید

اقتدار جاوید کسبی نہیں بلکہ الہامی شاعر ہیں۔ ان پر دیومالائیں اترتی ہیں۔ ان کی شاعری ایک نقطے سے شروع ہوتی ہے اور پھر اس نقطے کے گرد کئی چھوٹے چھوٹے تخلیقی دائرے بناتی ہوئی کائناتی وسعتوں کو سمیٹتی چلی جاتی ہے۔ ان کی شاعری کے تمام دائرے ایک مخصوص مقام پر پہنچ کر ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں اور ایک نئے نقطے کو تشکیل دیتے ہیں۔ یہ نیا نقطہ ہی ان کی شاعری کا نقطہ عروج ہے

Read more

میاں شمس الحق، مالاکنڈ کا ابھرتا ہوا لکھاری

میں مئی 2024 ء میں پاکستان سے واپس برطانیہ آ رہا تھا۔ دبئی میں میرا دو ڈھائی گھنٹے کا سٹے تھا۔ وہاں پہ میں ائرپورٹ میں موجود میکڈونلڈ میں امریکانا کافی سے چسکے لے رہا تھا کہ وٹس اپ پر ایک پیغام ملا ”کہ میں آپ کے گھر کے باہر کھڑا ہوں اور آپ کو اپنی لکھی ہوئی کتاب دینا چاہتا ہوں۔“ اس نے جب دوسرے پیغام میں اپنا تعارف کیا تو یہ جان کر مجھے بے حد خوشی ہوئی

Read more

اردو ادب کا ارتقا، نئے زاویے

اردو ادب کے ارتقا پہ بات کریں اور اس میں اکیسویں صدی تک کے ادب کی بات کریں تو ہمیں اس کو قیام پاکستان کے وقت سے دیکھنا ہو گا کیونکہ تقسیم ہند ہوتے ہی جو سب سے پہلے ہوا، وہ یہ تھا کہ دونوں طرف کہانی و شاعری کے موضوعات بدل گئے۔ کچھ لاشعوری طور پہ ایسا ہوا تو شعوری طور پہ وہی تحریر پڑھی جا رہی تھی جو حالات ہو گئے تھے۔ دونوں طرف تاریخ کی بڑی ہجرت

Read more

فیض کی ’نقش فریادی‘ کے پشتو نقوش

ڈاکٹر محمد اقبال کے مطابق ’خون جگر کے بغیر تمام نقش ناتمام ہیں مگر بعض نقوش رنگِ ثبات رکھنے کے باعث مداومت کے خوگر ہو جاتے ہیں۔ اردو شعری روایت میں فیض احمد فیض کا اسلوب اور موضوعاتی امتیاز و تخصص اتنا مسحورکن اور متنوع ہے کہ مرورِ ایام کے ساتھ ساتھ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔ آپ کا حلقہ اثر جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہے۔ آپ کے خاص لفظیاتی نظام اور اسلوب نے ایک عہد کو متاثر کیا

Read more

خواب، محبت اور زندگی (39)

A Practical Marriage Pledge یونیورسٹی کی تعطیلات میں ممتاز اور میں ٹرین کے ذریعے سکھر اور شکارپور اپنے گھروں کو جایا کرتے تھے۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد جب ہم چھٹیوں میں گھر جا رہے تھے تو ہمارا ایک کلاس فیلو بھی اسی کمپارٹمنٹ میں سفر کر رہا تھا۔ وہ سکھر اپنے دادا سے ملنے جا رہا تھا۔ سارا راستہ وہ ہمارے ایک لیفٹسٹ کامریڈ دوست کی سفارش کرتا رہا جو بقول اس کے سر تا پا میری محبت میں

Read more

بچوں کا ادب اور جان کے دشمن

ایک زمانہ تھا جب ہمارے گھر میں بچوں کا اخبار ’پھول اور کلیاں‘ ، ماہنامہ پھول، تعلیم و تربیت اور بچوں کی دنیا جیسے ادبی رسائل باقاعدگی سے آیا کرتے تھے۔ جس دن اس اخبار یا رسالے نے آنا ہوتا، ہماری نظر اور ہمارے قدم صبح سے ہی گھر کے مرکزی دروازے کا طواف شروع کر دیتے۔ آج ہمہ وقت موبائل فون کی دنیا میں گم رہنے والے اس ڈیجٹل عہد کے بچے اس خوشی کی سرشاری کو کبھی محسوس

Read more

منٹو کو پڑھنا ضروری، کیوں؟

میں سوال نہیں پوچھ رہی بلکہ میں طنز کر رہی ہوں۔ جی ہاں ایک ایسا معاشرہ جہاں آئے دن غیرت کے نام پر عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کی جاتی ہیں۔ ان سے محبت کا مطلب ان کی جان کا مالک بننا ہے، جب چاہا ختم کر دی، وہاں منٹو کو پڑھ کر فضول میں اپنا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال اٹھانے کا خیال مجھے اس لیے آیا کہ آج کل سوشل میڈیائی کھاتوں پر ایک

Read more

مصنوعی ذہانت سے لکھا گیا کالم

آج میں نے سوچا کہ اگر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تقریر لکھی جا سکتی ہے تو کالم کیوں نہیں لکھا جا سکتا؟ یہی بات ذہن میں رکھ کر چیٹ جی پی ٹی کو حکم دیا کہ ایک عدد ہلکا پھلکا کالم تو لکھ کر دکھاؤ۔ لیکن وہ جو آتشؔ نے کہا ہے نا کہ ’بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا‘ تو چیٹ جی پی ٹی کا بھی شور کچھ زیادہ ہی ہے، اِس سے کام لینے میں

Read more

اردو کی پہلی خاتون ناول نگار

ناول کی صنف مغرب سے درآمد شدہ ہے ویسے تو ہمارے مشرقی ادب میں زیادہ تر علوم اور اصناف مغرب ہی سے مستعار شدہ ہیں۔ اردو کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد دہلوی جنھوں نے استعماری سر پرستی کے تحت پہلا ناول تحریر کیا اور اس صنف کی بنیاد رکھی مگر اس صنف میں خواتین بھی کسی سے کم نہیں رہیں ہمارے ہاں ڈپٹی صاحب پر تو بہت لکھا گیا مگر کسی نے اردو کی پہلی ناول نگار پر

Read more

کشمیر کی چاندنی، بلبلِ کشمیر، حبہ خاتون

کشمیر صرف خوبصورت قدرتی مناظر، برف پوش سر بہ فلک پہاڑوں، سبزہ زاروں، مرغزاروں، دریاؤں، آبشاروں، اور کشادہ دامن وادیوں ہی کی سرزمین نہیں بلکہ یہ خطہ ادب، اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے بھی نہایت زرخیز رہا ہے۔ کشمیر کئی عظیم شعرا کی جنم بھومی ہے۔ حبہ خاتون، لل دید، محمد غنی، مہجور، رسول میر، اور ارنی مل، جیسے عظیم شاعروں کی، روحانی و رومانوی شاعری، کشمیری ادب کا ایک قابلِ فخر اثاثہ ہے۔ لل دید جنہیں لالیشوری بھی

Read more

مارکسی دانشور اور بابائے صحافت خورشید عالم کی یادیں

  حال ہی میں ترقی پسند خیالات کی ترویج و ترقی کی نامور علم بردار اور سوشلسٹ راہنما نزہت عباس جی کی مرتب کردہ کتاب ”خورشید عالم، یادیں، باتیں اور خطوط“ کی فیصل آباد میں تقریب رونمائی ہوئی، جِس میں نامور مارکسی دانشور اور صحافت کے درخشاں ستارے خورشید عالم کی یادوں، باتوں اور خطوط کو یکجا کر کے کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ نزہت جی کا کہنا ہے کہ ان کے خطوط اور مضامین اردو میں لکھے

Read more

پوسٹ رومینٹک محبت کا منفرد تصور

محبت ایک گہرا، ہمہ گیر اور کثیر پہلو جذبہ ہے جو انسان کے شعور اور لاشعور دونوں میں جڑیں رکھتا ہے۔ یہ محض ایک رومانوی کشش نہیں بلکہ ایک وجودی کیفیت ہے، جس میں قربت، خلوص، ایثار، ہمدردی، اور گہرے جذباتی بندھن شامل ہوتے ہیں۔ محبت فرد کو اپنی حدود سے نکال کر دوسرے کی بھلائی کرنے و جینے کا تحریک عطا ہے، اور فرد اسی میں وہ سکون اور تکمیل محسوس کرتا ہے۔ فلسفہ، صوفیانہ ادب، اور نفسیات تینوں

Read more

زندہ ضمیر کا انجام، مردہ ضمیر کی پذیرائی ایک معاشرتی، اخلاقی المیہ

دریا کا پانی بھی عجیب ہے۔ زندہ انسان کو غرق کر دیتا ہے مردہ انسان کو سطح پر پھینک دیتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک قدرتی حقیقت ہے بلکہ دور حاضر میں معاشرتی، اخلاقی اور فکری المیہ بھی ہے۔ حیرت انگیز سوال یہ ہے کہ یہ قدرتی حقیقت المیہ کیسے ہو سکتی ہے؟ آئیے اس بارے میں غور و فکر کرتے ہیں۔ معاشرے میں بہت سے افراد مل کر رہتے ہیں۔ ان کے نظریات اور تصورات ایک دوسرے سے مختلف

Read more

معلم اخلاق اور اخلاقی ادب

دین اسلام اخلاق اور کردار سازی پر بہت زور دیتا ہے اور تاریخ ِ انسانیت میں صرف سرور کائنات ﷺ کی ذات ہی ایک ایسی منفرد اور ممتاز ذات ہے جن کے جملہ اخلاق حسنہ اس قدر تفصیل سے تاریخی کتابوں میں موجود ہیں کہ ان کی زندگی کا کوئی بھی گوشہ پوشیدہ نہیں۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے قرآن مجید و فرقان حمید میں سرکار دوعالم ﷺ کی زندگی کو پوری انسانیت کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے

Read more

مابعد جدیدیت ایک فلسفیانہ و ادبی تحریک یا کوئی سازشی نظریات کا مرکب

کوئی آپ کے خلاف ادبی، تنقیدی محاذ پر، دنیا میں یا سائنس کی دنیا میں جادو کا چراغ لئے، پتھر کا سرمہ بنائے، اور مردہ جانوروں کی ہڈیاں لئے ٹونہ نہیں کر رہا یا سازشیں کرنے پر توجہ مرکوز نہیں ہے۔ کیا خیال کو، سوچ کو، فکر کو، کسی تعصب سے آزاد کرنے کے عمل کی اجازت نہیں ہونی چاہیے؟ کیا ہر چیز کے لیے ضروری ہے کہ اسے حلق سے آواز نکال کر صیہونی سازش، مغربی یلغار کا نام

Read more

خواب، محبت اور زندگی 37

جب فیض ہم سے ملنے آئے ہوسٹل میں میری نسرین تالپور سے دوستی ہو گئی۔ طارق فتح، شہریار مرزا اور انیس باقر ان دنوں جیل میں تھے۔ میں ایک مرتبہ نسرین کے ساتھ ان سے ملنے جیل بھی گئی۔ ہمارے ساتھ جامعہ ملیہ کا جاوید بھی تھا۔ ایک مرتبہ ہوسٹل میں ہمیں خبر ملی کہ حبیب جالب کراچی آئے ہوئے ہیں۔ میں ان سے ملنا چاہتی تھی۔ میں نے نسرین سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس کے والد رسول

Read more

خون سے کھیلتی جنگ یا سیاست

دنیا کی فضا میں آج بھی بارود کی بو بسی ہوئی ہے۔ ہوا میں گولہ بارود کی سیٹیاں، ماؤں کے آنسو اور بچوں کی معصوم آنکھوں میں خوف کے شعلے یہ سب کچھ ایک ایسی المناک داستان بیان کرتے ہیں جس کا ہر لفظ خون سے لکھا جا رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ نے ایک بار پھر انسانیت کو سب سے بڑے امتحان میں لا کھڑا کیا ہے یہ جنگ نہیں ایک اجتماعی انسانی المیہ ہے جہاں

Read more

جاپان کا تاج محل ”نکو شرائن کی چندھیا دینے والی الوہی روشنی کے سامنے“ (آخری قسط)

سیکوسن میرے کہنے پر رک گئی اور میں قدم روک کر عظیم الشان عمارت کو دیکھنے لگا۔ جو اس قدر شاندار اور عظیم الشان تھی اور اس کا حسن اور جلال اتنا مسحورکن تھا کہ مجھے تیز بارش اور اس کے تند و تیز تھپیڑوں کا کوئی ہوش نہیں رہا۔ میں نہ جانے کتنی دیر تک بارش سے بے پرواہ ہو کر اس کو دیکھتا رہا۔ گیٹ کے باہر دونوں طرف گارڈین دیوا کے مجسمے ایستادہ تھے جو اس کا

Read more

نئی غزل کا نیا موسم

  (ناصرہ زبیری کی شاعری کا نیا مجموعہ ”بے موسمی خواہشیں“ ) شاعری میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو دھیرے دھیرے دلوں میں گھر کرتی ہیں، مگر ایک بار اگر سن لی جائیں تو پھر مدتوں ساتھ نہیں چھوڑتیں۔ ناصرہ زبیری کی آواز بھی ایسی ہی ہے۔ مہذب، شائستہ، دھیما لہجہ، جس میں نہ بلند آہنگی ہے نہ خطابت کی جھلک، بس ایک خاموش مکالمہ ہے جو قاری کے باطن میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ اُن کی تازہ کتاب

Read more

ماں بولی کے ساتھ پنجابیوں کا سوتیلی ماں جیسا سلوک

مجھے نہیں معلوم کہ لغت کو پنجابی زبان میں کیا کہتے ہیں چنانچہ میں نے ایک پنجابی پیارے سے پوچھا اُنہوں نے جواب میں ’پنجابی اُردو لُغات‘ کے مُرتّب جمیل احمد پال کی لُغات کا وہ صفحہ وٹس ایپ کیا جس صفحے میں لفظ ’لغت‘ کے سامنے ’ڈکشنری‘ لکھا ہوا تھا! (ڈکشنری انگریزی زبان کا لفظ ہے نہ کہ پنجابی زبان کا ) ۔ ایک تنظیم جو پنجابی زبان کی ترقی و ترویج کی کوششوں میں مصروفِ پیکار ہے اُن

Read more

کیا اردو کو بحیثیت قومی زبان وہ اہمیت حاصل ہے جس کی وہ مستحق ہے؟

زبان کسی بھی قوم کی شناخت، تہذیب، اور فکری ساخت کا آئینہ ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنے اظہار، خیالات اور روایات کو ایک مخصوص زبان کے ذریعے محفوظ کرتی ہے تو وہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں رہتی، بلکہ اس قوم کی روح کا حصہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اردو کو اس زبان کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا جو مختلف لسانی و ثقافتی پس منظر رکھنے والے عوام کو یکجا کر

Read more

بھروسا رکھیں۔ دروازہ کھلا ہے

یقین، بے یقینی کے اندھیروں میں سب سے روشن چراغ ہے۔ انسان جب زندگی کے الجھاؤ، مسائل اور ناہموار راستوں میں گم ہو جاتا ہے تو اسے اپنا ہر قدم بھاری لگتا ہے۔ ایسے میں وہ پریشان ہونا شروع کرتا ہے، بے چینی اس کی روح میں اترنے لگتی ہے، اور امید کے چراغ مدھم ہونے لگتے ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں، یہ انسانی فطرت ہے جبلت۔ میرے ایک محترم دوست، جنہیں میں ایک باوقار، نرم گفتار اور با

Read more

حیات دُکھ ہے، ممات دُکھ ہے

میں یاسر جواد کو نہیں جانتا۔ اچھی بات شاید یہ ہے کہ وہ بھی مجھے نہیں جانتے۔ میرا ان سے تعارف ان کی آپ بیتی ”کتاب کہانی“ کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے ایک مشکل زندگی گزاری اور اس سفر کے دوران بھانت بھانت کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ کتاب پڑھنے کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان میں بقول مختار مسعود قحط الرجال پڑ چکا ہے۔ ٹھیک آدمی تو نُسخے میں ڈالنے کو بھی نہیں ملتا۔ زندگی

Read more

زندہ رود از جاوید اقبال: علامہ اقبال سے ملنے کا اک بہانہ ہی تو ہے

علامہ اقبال ہماری تاریخ کی وہ بڑی شخصیت ہیں جن سے تعارف اب ہماری تہذیب، تمدن اور ماحول کا حصہ ہے۔ نا چاہ کر بھی ہم اقبال سے واقف رہتے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ اقبال کی شخصیت، فکر، شاعری، فلسفہ، سیاست اور کردار غیر معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار ان چند شخصیات مین ہوتا ہے جن کو اپنی زندگی کے اولین دور میں ہی بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔ وہ مفکر پاکستان اور حکیم الامت

Read more

سلیم سرور: ایک خواب زدہ مسافت

یہ کہانی ایک ایسے چراغ کی ہے جو اندھیروں میں جلا، تیز ہواؤں سے ٹکرایا، ٹمٹمایا، بجھا نہیں۔ محمد سلیم سرور۔ جس کی زندگی کی کتاب میں ہر ورق جدوجہد، استقامت، اور امید کی روشنائی سے لکھا گیا۔ 15 اگست 1993 ء کو بورے والا کے نواحی گاؤں 417 /E۔ B میں پیدا ہوا۔ سلیم کے والد، محمد سرور، اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ زندگی کی گاڑی اکیلے ہی کھینچنی پڑی۔ معاشی حالات ابتدا ہی سے ناموزوں تھے، مگر

Read more

ٹیگور کی نوبل انعام یافتہ کتاب: ”گیتانجلی“ (آفاقی محبت کے گیتوں کی مالا) کا تعارف اور تبصرہ

رابندر ناتھ ٹیگور صرف بنگال کے نہیں بلکہ برصغیر کے فکری، ادبی اور روحانی افق کے ایک درخشاں ستارے تھے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ نویس، فلسفی، موسیقار، تعلیم دان، مصور، اور سب سے بڑھ کر ایک مفکر تھے۔ انہیں ”گرو دیو“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، اور اردو میں اکثر رابندر ناتھ ٹھاکر لکھا جاتا ہے۔ ان کی ادبی زندگی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ شاعری، افسانے، ناول، ڈرامے، سفرنامے، مضامین، اور گیت، انہوں نے

Read more

’سالک‘ کی باتیں

نعیم اشرف کا خالد سہیل کو خط محترم و مکرم ڈاکٹر خالد سہیل تسلیمات! مجھے اُمید ہے کہ میری یہ چٹھی آپ کو ہمیشہ کی طرح ہرا بھرا اور باغ و بہار پائے گی۔ میں نے SEEKER کے نام سے آپ کی سوانح حیات 2018 ء میں پڑھ لی تھی۔ اس کے چھ سال بعد جب یہی کتاب سالک کے نام سے اردو میں شائع ہوئی تو دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا۔ پھر جب اس سال فروری میں کتاب کی

Read more

دو دنیائیں

یوری پاولوف کا کمرہ کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ دیوار پر پرانی تصویریں لٹک رہی تھیں۔ ایک تصویر میں گورکی اپنے کتے کے ساتھ بیٹھا مسکرا رہا تھا، دوسری تصویر چیخوف کی تھی جس میں اس کی آنکھوں میں تھکن اور زندگی دونوں جھلک رہے تھے۔ یوری کی میز پر دھندلے شیشوں کی عینک پڑی رہتی جسے وہ تب پہنتا جب لفظ دھندلانے لگتے۔ زندگی ایک عرصے سے ایک ہی دائرے میں چل رہی تھی۔ صبح چائے، دوپہر کچھ نوٹ

Read more

میری امریکا یاترا

آرزو سیکم سفر نصیب ہوتا ہے، سو جب بھی موقع ملے کوشش ہوتی ہے کہ ضائع نہ ہونے پائے۔ تو بس یوں ہوا کہ کچھ اصحاب اور تنظیموں نے امریکا آنے کی دعوت دی اور ہم نے بنا کسی حیل و حجت کے قبول کر لی۔ امریکا شریف کی زیارت کا شرف تو پہلے بھی کئی بار حاصل ہوا مگر یہ دعوت بہ وجوہ اپنی نوع کی پہلی تھی یعنی ہمیں بہ طور شاعر مختلف تقریبات کیلئے مدعو کیا جا

Read more

سرکاری چوہے اور ہمارے قومی ادارے

میں نہیں جانتا کہ قیام پاکستان کے وقت کن لوگوں نے کب اور کہاں بیٹھ کر طے کیا تھا کہ نومولود ملک اور اس کے عوام کو علم، ادب اور فنون لطیفہ کی آزاد فضاؤں سے محفوظ رکھا جائے اور خالص تحقیق و تخلیق کی بجائے اس طفل نوخیز کے ہاتھ میں جعلی تھیوریوں اور جعلی فنون کے جھنجھنے دے دیے جائیں تاکہ خاکم بدہن عوام نام کا انبوہ کثیر سماجی و تاریخی شعور سے بہرہ ور ہو کر اپنے

Read more

خواب، محبت اور زندگی 35

ابتدائی سیاسی مہم جوئیاں یونیورسٹی میں میرے ابتدائی دنوں میں ایوب خان نے بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ اس وقت تک میرے یونیورسٹی میں کسی سے سیاسی روابط نہیں تھے۔ اور کوئی سیاسی وابستگی بھی نہیں تھی۔ لیکن مجھے یہ خبر سن کر بہت غصہ آیا۔ اور میں نے اپنی ہوسٹل کی چند دوستوں کو احتجاج پر آمادہ کر لیا۔ ہم نے مل کے بھٹو کی رہائی کے مطالبے کے لئے پوسٹرز تیار کیے۔ اگلے دن اتوار کی چھٹی تھی

Read more

توشہ: ایک میٹھی مشرقی روایت

پورا ہفتہ محنت مشقت کے بعد پردیس یعنی کینیڈا میں دیسی یعنی پاکستانی دوست مل بیٹھتے ہیں اور دکھ سکھ سانجھے کرتے ہیں۔ گزشتہ اتوار بھی ایسی ہی ایک محفل برپا ہوئی۔ ہمارے میزبان ادب نواز اور مشرقی روایات کے امین ہیں۔ شام کی پُرتکلف دعوت کے بعد جب تمام دوست رخصت ہونے لگے تو ہر مہمان کو توشہ کے ساتھ وداع کیا گیا۔ گویا یہ کوئی معمولی رخصتی نہ تھی بلکہ اس میں مشرق کی صدیوں پرانی مہمان نوازی

Read more

دروازہ کھلتا ہے از ابدال بیلا

میں نے اردو کے زیادہ تر شاہکار تو پڑھے ہیں مگر سب نہیں، اس لیے مصنف اور ناشر کے اس دعوے پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ”دروازہ کھلتا ہے“ اردو کا سب سے ضخیم ناول ہے۔ اس کے کل اٹھارہ سو صفحات پڑھ کر ضخامت کا، احساس تو ضرور ہوتا ہے مگر ناول کہیں بھی بوجھ نہیں بنتا۔ ابدال بیلا کی کتاب ”بندہ“ پڑھی تو اس کی اور کتابیں بھی پڑھنے کا من کیا، آپ جانتے ہیں کہ یہ

Read more

ہٹی دا ٹائم

’یار چھمے میرا ہٹی دا ٹائم ہو گیا اے، ہن چلیے، (یار چھمے میری دکانداری کا وقت ہو گیا ہے، اب چلیں)۔ ڈاکٹر انور سجاد میرے ٹی وی کے دفتر کوئی اڑھائی تین بجے آتے اور لمبی گپ شپ کرنے کے بعد ٹھیک ساڑھے چار بجے میز پر رکھی ہوئی اپنی گھڑی اور کار کی چابیاں اٹھا کر بغیر کسی علیک سلیک کے باہر نکل جاتے، میں ان کو ان کی نیلی فوکسی میں بیٹھتے دیکھتا جو تیزی سے چونا

Read more

علامہ اقبال کے مکمل اردو کلام کا منظوم فارسی ترجمہ

علامہ اقبالؒ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد جب 1908 ء میں انگلستان سے واپس ہندوستان تشریف لائے تو اس وقت انہیں یورپی ادبیات کی حالت بھی ویسی ہی محسوس ہوئی جیسے مشرقی ادبیات کی تھی جو اپنی تمام تر ظاہری دل فریبیوں اور دلکشیوں کے باوجود روح اور جذبے سے خالی تھیں۔ اقبال مشرقی ادبیات میں روح پیدا کرنے کے لیے کوئی ایسا وسیلہ تلاش کر رہے تھے جس کی مدد سے ادبیات میں اک نئی روح پیدا کی

Read more

شبانہ

 ’مولانا آپ نے شبینے تو بہت دیکھ رکھے ہوں گے، آج شبانہ کو دیکھیے‘ میں نے احترام الحق تھانوی صاحب سے شبانہ اعظمی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا، مولانا جو کراچی کی نصف شب میں سر پر چار کونی کلف لگی ٹوپی، سفید براق لباس مین ناقابل یقین حد تک سیاہ لشکتی ہوئی ڈاڑھی، سرمہ لگی روشن انکھوں اور اپنے بوٹا سے قد کے ساتھ ہماری محفل میں شامل ہوئے تھے۔  ’بھئی یہ تو شبانہ ہیں اور ہم روزانہ ہیں‘

Read more

محبت بھری دوستی کی خوشبو

امیر حسین جعفری کا خط محترم خالد سہیل صاحب میری صحتیابی کے حوالے سے ’ہم سب‘ پر چھپی آپ کی تحریر نہ صرف قارئین کو پسند آئی بلکہ کسی سطح پر ان کی حیرت اور استعجاب کا باعث بھی قرار پائی اس استعجاب کا ایک سبب میرا خدا پرست ہونا بھی ہے۔ یقینآ ہماری دوستی شعر و ادب، انسان دوستی اور بائیں بازو کے نظریات، فلسفہ اور الہٰیات کے مطالعے کی بنیادوں پر استوار ہے۔ میرے والد جناب اختر حسین

Read more

ڈائن کا گھر

”ڈائن دا گھر وی اتھائیں تے بالاں دی کھیڈ وی اتھائیں“ ہمارے سرائیکی وسیب میں بولے جانے والی مشہور کہاوت ہے جس کا مطلب ہے کہ جہاں بچے کھیلتے ہیں وہیں ڈائن کا گھر ہے یعنی ظلم کا ایوان بھی وہیں ہے اور معصوم بچوں کے کھیلنے کی جگہ بھی وہی ہے۔ ظلم اور معصومیت کب ساتھ رہ سکتے ہیں؟ یہ کہاوت آج کے جدید ترین عالمی ظلم پر صادق آتی ہے۔ کہاں ایک دیہی کہاوت اور کہاں ایک جدید،

Read more

ہمیں اپنے سگنی فائر اور سگنی فائڈ بدلنے کی ضرورت ہے

لفظ وہ برتن ہے جس میں ہم اپنے جذبات یا تجربات انڈیل دیتے ہیں۔ اور وہ تجربہ یا تصور جو ہمارے ذہن میں لفظ سن کر ابھرتا ہے، وہ اس برتن کا مواد ہے۔ اگر آپ نے کسی بھی زبان یا ادب میں ماسٹرز کیا ہے تو آپ لسانیات/لنگویسٹکس پڑھتے ہوئے سگنی فائر اور سگنی فائڈ کے تصور تک ضرور پہنچے ہوں گے۔ یہ سیمینٹیکل تصور ہے اور کسی بھی لفظ کو سننے کے بعد ذہن میں اس سے منسلک

Read more

مصوری کی روایت

زمانہ قدیم میں دیواروں اور روز مرہ کے استعمال کی چیزوں پر تصاویر بنائی جاتی تھیں بتوں پر بھی رنگ و روغن کیا جاتا تھا تا کہ وہ اصل کے مطابق ہو سکیں۔ یونانی اپنے گلدانوں وغیرہ پر اپنی روز مرہ کی زندگی کے متعلق تصاویر بناتے تھے۔ چین بھی مصوری میں مشہور رہا ہے۔ ایشیائی ممالک میں مانی اور بہزاد کا نام اس سلسلے میں زندہ جاوید ہے۔ جدید طرز کی مصوری اٹلی میں تیرہویں اور چودھویں صدی میں

Read more

والد مرحوم کے لیے 20 برس بعد لکھا گیا دوسرا مضمون

ہم نے سال 2010 میں ”رفتگان ملتان“ شائع کی تو اس کے لیے پہلا مضمون ”پہلا جنازہ“ کے نام سے تحریر کیا۔ یہ مضمون ہم نے اس کتاب کی اشاعت سے قبل ایک شام اپنے گھر کے ایک کمرے میں تنہا بیٹھ کر لکھا تھا اور جب ہم نے یہ جملہ لکھا: ” کون ہو گا جس نے میرے باپ کی موت کی خبر بنائی ہو گی؟“ تو بے اختیار ہماری آنکھیں چھلک گئیں۔ ہم نے آنکھیں پونچھ کر مضمون

Read more

”نورِ تحقیق کے تیس شمارے“ مرتب ڈاکٹر محمد ارشد اویسی

ادبی مجلّات کسی بھی زبان کی علمی و تحقیقی روایت میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لاہور گیریژن یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے شائع ہونے والا سہ ماہی مجلہ ”نورِ تحقیق“ بھی اسی روایت کی ایک قابلِ قدر اور مضبوط کڑی ہے، جس نے مختصر عرصے میں اردو تحقیق کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ”نورِ تحقیق کے تیس شمارے“ (اجمالی تعارف اور توضیحی اشاریے پر مشتمل کتابِ حوالہ) دراصل اس تحقیقی مجلے کے پہلے تیس شماروں

Read more

سیاسی جماعتیں جمود کی نقیب ہیں

نواز لیگ کی حکومت کی طرف سے سال 2025 / 26 کے وفاقی بجٹ میں ملک کی خطِ غربت سے نیچے جینے والی 47 فیصد آبادی کو ریلیف دینے کی بجائے جس سفاکی کے ساتھ غریب کا خون نچوڑ کر بالادست طبقات کی پُر تعش زندگی کو سنوارنے کے اسباب مہیا کیے گئے اس نے مسلم لیگ نون سے مثبت تبدیلیوں کی توقع رکھنے والے عوام کو مایوس کیا، بلاشبہ ہماری اجتماعی حیات جس گہرے جمود کی گرفت میں ہے

Read more

محکمہ تعلیم میں انٹری

صبح دس بجے کے قریب بس نے گورنمنٹ ہائی سکول روجھان کے گیٹ کے سامنے اتار دیا۔ گیٹ کے ساتھ ہی ایک شخص زمین پر بیٹھا ہوا حقے کے دھوئیں کے مرغولوں میں ہر چہ کہیں ہے کہ نہیں ہے کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ وہاں کا حقہ بھی عجیب سی ساخت کا ہوتا ہے۔ چلم کے ساتھ ہی ایک ڈیڑھ فٹ کی ایک نڑی عموداً لگائی جاتی ہے۔ اس کی چلم میں تمباکو بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔

Read more

اگست تک۔ خاموش بغاوت کی داستان

” اگست تک“ گارسیا مارکیز کا وہ ناولٹ ہے جو اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے شائع کیا۔ اس ناولٹ کی صورت میں گارسیا مارکیز کی قصّہ گوئی کی بے مثال صلاحیت ایک بار پھر جگمگا رہی ہے۔ یہ، گمشدہ گوہر محبت، محرومی اور آرزو کی ایک مسحور کن کہانی کو منظرِ عام پر لاتا ہے، جو قاری کو یاد دلاتا ہے کہ گارسیا مارکیز ایک ادبی دیوتا ہیں۔ آنا میگدالینا باخ گزشتہ ستائیس برسوں سے اپنے

Read more

معروف پنجابی شاعر تجمل کلیم کا سانحہ ارتحال

معروف پنجابی شاعر تجمل کلیم 22 مئی 2025 کو جناح ہسپتال لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 65 برس تھی۔ تقریباً زیادہ تر شاعر، فن کار اور ادا کار زندگی کے آخری برسوں میں معیشت کی تنگی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی زندگی مشکلات میں گزرتی ہے اور موت کسمپرسی کی حالت میں ہوتی ہے۔ ہر ایسے شاعر اور فن کار کی موت پر یہ ہی تعزیتی پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کی موت

Read more

تاریخ سے مکالمہ، خود کفالت کی کہانی اور دخترانِ مشقت

میرے گزشتہ دو نثر پارے کئی رقیق القلب شہری احباب کو اپنے پُرکھوں کی بُھولی یاد دلانے میں مقبول و معاون رہے اور یہ چند دن سُرعت سے معدوم ہوتی گاؤں کی مٹی، خالص گیہوں، دیسی گھی میں پکے کالے حلوے کی سوندھی مہکار کے ہجر کے نوحوں سے بھر گئے۔ نصف صدی عمر کے بھائی لوگوں کو لُو بھرے موسم میں نانی اور دادی ویہڑوں کی ٹھنڈک کے فراق نے تڑپا دیا، گرم راتوں میں صحن میں بچھی چارپائیوں

Read more