فنا کا خوف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے لگتا ہے کہ انسان کے فناء ہو جانے کے خوف کا مسئلہ اس دن حل ہو جائے گا جس دن انسان کو آسانی سے یہ سہولت مل جائے گی کہ وہ کسی بایونک روپ میں یا سائنسی آب حیات کے ذریعے جب تک زندہ رہنا چاہے زندہ رہ سکے۔ اور پھر کسی لیول پہ بوریت کا شکار ہو کر خود ہی اپنا خاتمہ کر لے۔ ویسے بھی یہ دنیا، اس کے وسائل اور حیاتیات انسان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے وزن سے بوجھل ہوئے جا رہی ہے اور انسان کی ملٹی پلیکشن ہے کہ رکنے میں ہی نہیں آ رہی۔

کیا معلوم کہ تضادات سے بھری مذاہب کی موجودہ شکل کا اثر مندمل ہونے پر بنی نوع انسان کو کبھی خدا یا ڈیزائنر کی معنویت اور اس کی مشیئت کا کوئی ایسا سرا مل جائے جس پر سب اکٹھے ہو کر مطمئن ہو جائیں۔ اور اگر یہ سب، جو مجھ میں، آپ میں، ہمارے آس پاس میں، ساری کائنات میں خودبخود یا بے وجہ ہے تو ہم آگے چل کر اسے بھی ویسا ہی سمجھ کر مان لیں جو اس کی حقیقت ہے۔ اور حیات بعد از موت کی خواہش کے ساتھ ساتھ اپنی معنویت کی ہر تلاش تیاگ دیں۔

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ انسان کو خدا اور اس کی مشیئت کا کچھ نہ کچھ سراغ اور بقاء کا راستہ تب ملتا ہے جب وہ اپنے نفس یا مٹیریلسٹک ایسپکٹ کو بھلا کر، جنت کی طلب یا دوزخ کے خوف سے آگے بڑھ کر خدا اور اس کی خدائی کے ساتھ اپنے تعلق کو کسی عبدالستار ایدھی، کسی ڈاکٹر ادیب رضوی، کسی ڈاکٹر شیر شاہ، یا کسی بے خوف نواسہ رسول کے لیول پر استوار کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ بقاء کا اور خداشناسی کا ممکنہ سفر خود فراموشی اور خدا و خدائی کے لیے مٹنے سے شروع ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply