سحر انگیز اشبیلیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ چیزیں، لوگ اور مقامات بن بلائے مہمانوں کی طرح ہماری زندگی میں داخل ہوتے ہیں اور پھر یہ زندگی ان کے نام ہوجاتی ہے۔ اشبیلیہ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

یہ نومبر 2017 کے دن تھے جب میں، امجد اسلام امجد، خالد مسعود خان اور طیب میاں کے ہمراہ جنوبی اسپین کے ساحلی شہر مالاگا پہنچا تھا۔ ہماری منزل قرطبہ تھی۔ قرطبہ پہنچنے میں ابھی تین دن تھے۔ مالاگا، غرناتا، اور قرطبہ۔ یہ تھے ہمارے آنے والے دنوں کے پڑاؤ۔

عرب مسلمانوں نے اندلس کی سرزمین پر 711 ء سن عیسوی میں قدم رکھا اور اس پر 800 سال حکومت کی۔ آج کل یہ اسپین کا اندلوسیہ ریجن کہلاتا ہے۔ مالاگا ائرپورٹ سے باہر آتے ہی یہاں کی فضا اور ماحول سے خصوصی نسبت کی وجہ سے انسیت سی پیدا ہو گئی تھی۔ مالاگا ائرپورٹ سے بڑی گاڑی کرایہ پرلے لی تھی۔ طیب میاں کا یورپ میں رہنے کا تجربہ اور ڈرائیونگ لائسنس ہمارے کام آیا۔ جی پی آر ایس ساتھ لے آئے تھے۔ ڈیڑھ دن ہم نے مالاگا اور اس کے اطراف گھوم پھر کر گزارا۔

مالاگا خوبصورت، تاریخی ساحلی شہر ہے۔ مسلمانوں نے طویل عرصہ اس پر حکومت کی ہے۔ اس دور میں یہ مالقہ کہلاتا تھا۔ مالاگا کے ساحل کے ساتھ ساتھ میلوں تک ہوٹل، ریزورٹ اور دیگر تفریحییٰ مقامات بنادیے گئے ہیں۔ معتدل آب و ہوا اور سورج کی بھرپور تمازت سے فائدہ اٹھانے کے لئے پورے یورپ سے لوگ گرمیوں کی تعطیلات گزارنے اس علاقے (Costa del Sol) کے ان Beaches پر آتے ہیں۔ سمندر کے ساتھ ہی شہر کی بلند پہاڑی پر مسلمانوں کا بنایا ہوا قلعہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس قلعہ سے شہر اور سمندر کا نظارہ بے حد دلکش ہے۔

خالد مسعود خان نے کہ جنہیں اندلس کی تاریخ ازبر ہے۔ ہمیں بتایا کہ قرطبہ جاتے ہوئے اگر ہم مالاگا سے تھوڑا جلدی نکل پڑیں تو ہم سیویا بھی جا سکتے ہیں۔ ہم سفروں میں سے کسے نے بھی اس تجویز پر کوی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ خالد صاحب نے مزید اصرار کرتے ہوئے کہا کہ سیویا یعنی اشبیلیہ میں جیرالڈا دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اشبیلیہ۔ اب سب کے کان کھڑے ہو گئے۔ اشبیلیہ کا نام سنتے ہی نسیم حجازی کے ناول شاہین نے حافظہ پر دستک دی۔

پھر پی ٹی وی کی مشہور ڈرامہ سیریل شاہین اور اشبیلیہ پر حکمران ملکہ ازابیلا اور فرڈی نینڈ کے کردار یادداشت سے نکل کر سامنے آنے لگے۔ اشبیلیہ میں مسلمانوں نے طویل عرصہ حکمرانی کی ہے۔ تاہم میری یادداشت میں یہ ایک کرسچن شہر کے طور پر نقش ہے۔ جہاں عیسائی حکمران فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا غرناتا کے آخری حکمران ابو عبداللہ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

اگلے دن ناشتہ سے فارغ ہو کر اشبیلیہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مالاگا سے باہر نکلتے ہی سڑک کے دائیں بائیں زیتون کے درخت نظر آنے شروع ہو گئے۔ اسپین کا یہ علاقہ زیتون کی کاشت کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ زیتون کے درخت جھاڑی نما ہوتے ہیں اور دیکھنے میں اتنے خوشنما نہیں لگتے۔ تمام علاقہ ایک وسیع وادی کی مانند ہے جس میں اونچے نیچے پہاڑ مسلسل ہمارے ہمراہ تھے۔ ماضی میں یہ علاقہ بل فائٹنگ کے لئے خاصا معروف رہا ہے۔ تاہم اب بل فائٹنگ پر پابندی ہے۔ مالاگا میں بھی قدیم بل رنگ (Bullring) دیکھنے لائق ہے۔

ھم مالاگا سے نکل کر غرناتا جانے والی سڑک پر ہولئے۔ مالاگا سے اشبیلیہ تک کا سفر تقریباً ڈھائی سے تین گھنٹے میں طے ہوا۔ اشبیلیہ میں ہماری منزل جیرالڈا ہے۔ جیرالڈا بنیادی طور پر جامع مسجد اشبیلیہ کا مینار تھا۔ عیسائیت کے اس پر قبضہ کے بعد تمام مسجد کیتھیڈرل میں تبدیل ہوتی گئی۔ تاہم یہ مینار باقی رہا۔ یہ مینار اب اس کیتھیڈرل کے بیل ٹاور کے طور پر کام کر رہا ہے۔ آج یہ مینار اشبیلیہ میں مسلمانوں کے شاندار ماضی کا سب سے مضبوط حوالہ بھی ہے اور موجودہ سیویا (Seville) کی پہچان بھی۔

اشبیلیہ وادیٔ الکبیر کے کنارے آباد ایک انتہائی قدیم شہر ہے۔ جی پی آر ایس کی مدد سے سیویا کی صدیوں پرانی تنگ گلیوں اور بازاروں سے ہوتے ہوئے جیرالڈا کے قریب پہنچ گئے۔ یہاں 40 منٹ تک پارکنگ تلاش کرتے رہے لیکن بے سود۔ طیب صاحب سے درخواست کی کہ ہم سب کو سیویا کے کیتھیڈرل کے پاس اتار کر کہیں دور مناسب جگہ پر گاڑی پارک کر آئیں۔ یورپ کے تمام اہم شہروں میں پارکنگ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان شہروں کے لوگ آمدورفت کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس میں وقت، پیسے اور دیگر وسائل کی بچت ہے۔ ہماری بہ نسبت ترقی یافتہ ممالک میں رہینے والے لوگ زیادہ عملی ہیں۔

سیویا کے کیتھیڈرل کے سامنے چوک کے درمیان دیدہ زیب فوارہ ہے۔ چوک کے مختلف اکناف پر مالٹوں کے درخت ہیں۔ ان درختوں پر لگے نارنجی مالٹے بہت بھلے لگ رہے تھے۔ ہم سب اس کے قریب ہی اتر گئے۔ سامنے ہی جیرالڈا ہے۔ دنیا میں روم کے سینٹ پیڑ اور لندن کے سینٹ پال کے بعد سیویا کے اس تاریخی گوتھک طرز تعمیر کے حامل کیتھیڈرل کا نمبر آتاہے۔ کرسٹوفر کولمبس کی آخری آرام گاہ بھی اسی کیتھیڈرل میں ہے۔ اس کیتھیڈرل میں آج بھی ہم بہت آسانی سے تاریخی جامع مسجد اشبیلیہ کی محرابیں دیکھ سکتے ہیں۔ کیتھیڈرل کے ساتھ سانتا کروز محلہ کی تنگ گلیاں ہیں۔ ان گلیوں کے ساتھ ملا ہواصدیوں پرانا مسلمانوں کا بنایا حکمرانوں کا محل القصر (Alcazar) ہے۔ وقت کی کمی کے باعث اس قصر کی فصیل کے گرد ہی چکر لگایا جاسکا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ گیم آف تھرون سیزن 5 کا کچھ حصہ Alcazar میں فلم بند کیا گیا ہے۔

جیرالڈا کے آس پاس کا تمام علاقہ قدیم بودوباش کا حامل ہے۔ گول پتھر کی تنگ گلیاں ہیں۔ ان گلیوں میں بہت قدیم قہوہ خانے، سرامکس اور سوونیر کی دکانیں ہیں۔ خوشنماحویلیوں کی شکستہ دیواریں، ان دیواروں پر جھانکتی انگور اور بوگن ویلیا کی بیلیں، ان بیلیوں کے نیچے چھوٹی چھوٹی خوبصورت دکانیں اور دکانوں پر بیٹھے خوش شکل ہسپانوی مردوزن۔ چاھیں تو صبح سے شام یہیں کردیں۔ کافی شاپ پر مالٹے کے درختوں کے نیچے بچھی کرسیوں پر کافی پینے کے لئے بیٹھ گئے۔ ہم ان سنہری دنوں کو یاد کرتے رہے جب مسلمان یہاں کے فرماں روا تھے۔

کیتھیڈرل کی دیوار کے ساتھ بگھی نما ٹانگوں کا اڈا ہے۔ کم وقت میں شہر دیکھنے کا اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ نہیں ہو سکتا تھا۔ پینتالیس یورو میں یہ رائڈ بک کرائی گئی۔ اشبیلیہ کا پورا شہر ہی ایک آؤٹ ڈور اسٹوڈیو کی طرح ہے۔ صدیوں پرانی گول پتھر کی بنی گلیوں میں گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنتے اس شہر کے سب سے خوبصورت چوک (Plaza de Espana) تک گئے۔ واپسی پر دریائے کبیر کے کنارے بنائے گئے پرانے شہر کے دل آویز تالابوں، ہسپانوی عمارتوں، باغات اور محلات کو دیکھتے، خوبصورت گول سنہری مینار کے پاس سے گزرتے جیرالڈا کے پاس آکر دم لیا۔ میں نے یادگار کے طور پر یہاں سے جیرالڈا کا ماڈل لیا جبکہ خالد مسعود صاحب نے ایک دھانسو قسم کا بل پسند کیا۔

مسلمان سیاح کی جہاں گردی الحمراء کے محلات اور مسجد قرطبہ کو دیکھے بغیر نامکمل رہیتی ہے۔ اس کی خواھش، کوشش اور دعا ہوتی ہے کہ ایک دن وہ یہاں پہنچے۔ دو دن قبل جب میں مالاگا ائرپورٹ پر اترا تھا تو میرے ذہن میں خیال اور آنکھوں میں خواب صرف غرناتا کے الحمراء اور مسجد قرطبہ کے تھے۔ خیال اور خواب کے اس سنہری طلسم کدہ میں اشبیلیہ نام کا شہر بھی آباد ہوگیا ہے۔ اب میری آنکھ میں ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں سارے شہر کا منظر ہے۔ اس منظر میں رنگ بدلتا روشن مینار ہے اور اس مینار میں میرا دل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *