پاکستان میں مذہبی اقلیتیں: سیکولرازم وقت کی ضرورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” میرا مذہب میرے لیے، تمہارا مذہب تمہارے لیے۔“
” ریاست سب کی اور مذہب اپنا اپنا“

یعنی مذہب کسی بھی فرد کا ذاتی معاملہ ہے دوسرے شخص اور ریاست کو اس سے ہمدردی مذہبی بنیاد پر نہیں ہونی چائیے بلکہ یہ ہمدردی صرف اور صرف انسانی بنیادوں پر ہونی چائیے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان میں سیکولرازم کیوں ضروری ہے۔ ؟

کیا پاکستان میں موجود اقلیتیں بشمول ہندو، عیسائی، پارسی، سکھ اسلامی قوانین کو مانتی ہیں جواب ہوگا ہرگز نہیں۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا ان اقلیتوں کے ساتھ انصاف ہورہا ہے تو جواب پھر ہوگا ہرگز نہیں۔ یاد رکھیں پاکستان میں مذہب سے بالاتر ہوکر ایک نیا طبقہ فری تھنکرز / ہیومنسٹ کا بھی ہے جن کی تعداد پینسٹھ سے ستر لاکھ کے درمیان ہے اور یہی تعداد آنے والے چند برسوں میں ایک کروڑ سے تجاوز کر جائے گی

پاکستانی لوگوں کی اکثریت اپنا بیانیہ سوشل میڈیا پیجز سے ڈیلوپ کرتی ہے۔ انھیں سیکورلزم کی تعریف بھی معلوم نہیں ہوتی۔ بس جو سنا وہی سچ ہوگیا۔ ملکی میڈیا نے بتا دیا وہاں سے اپنا بیانیہ بنا لیا۔ پاکستان میں اقلیتیں ہرگز محفوظ نہیں۔ انھیں ان کے مذہب کے مطابق انصاف نہیں ملتا۔ آپ اس کی مثال سندھ میں ہندو لڑکیوں کی لے سکتے ہیں۔ پنجاب میں عیسائیوں کی حالت ابتر ہے۔ یا نارووال میں سکھوں کے مقدس مقامات بری حالت میں ہیں۔ کہنے کو تو پاکستانی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کا ہے لیکن اس پرچم کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے۔

ہم سیکولر سوچ والے ہمیشہ کہتے ہیں کہ شدت پسند اقلیت کو ملکی املاک کو نقصان پہنچانے کی کھلی اجازت ہے۔ یہ اقلیت اتنی آزاد ہے کہ اس کے نظریات کے خلاف کوئی بات کر دیجئیے ، آپ پر توہین مذہب سے لے کر غداری تک، کوئی بھی الزام لگ سکتا ہے۔ غیر مسلم تو دور، پاکستان میں روشن خیال اور یہاں تک کہ مجھ جیسے مسلمان بھی ان کے ان فتوی جات سے محفوظ نہیں۔

ابھی حال ہی میں سندھ میں ہندوؤں کے مندروں میں ان شدت پسندوں اور ان کے بہکائے عوام نے گھس کر مقدس ہستیوں کی توہین کی۔ مورتیاں توڑی گئی۔ ردعمل میں ہندو کیا کرتے۔ ملکی قوانین کے مطابق اگر وہ حق مانگتے تو مجرم بھی وہی قرار پاتے۔ خون کے گھونٹ پی کر چپ رہے۔ وجہ سادہ تھی کہ ان کو پاکستانی قوانین پر یقین نہیں تھا۔ اگر وہاں سیکولرازم ہوتا تو شاید وہ بھی پرسکون ہوکر انصاف کی امید رکھتے۔

حال ہی میں ہیومن رائٹس انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ نظر سے گزری جو پاکستان کے متعلق تھی جس میں واضح طور پر اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر موجود تھا۔ پاکستان میں نچلے طبقہ کے عیسائیوں کا برا حال ہے۔ ان کی ڈیوٹیاں وہی ہیں جو ایک مجھ جیسا انسان شاید سوچ بھی نا سکتا ہو۔ اگر سوچ سکتے ہیں تو خود کو کسی گٹر میں لت پت دیکھیں جہاں پورے محلے یا علاقے کا پاخانہ آپ کے گرد ہو۔ لیکن یہ سارے کام انھوں نے کرنے ہوتے ہیں۔ پنجاب کے گاؤں کی نالیوں، شہروں کے گٹر اور اس طرح کے سب کام جو مشینوں سے ہو سکتے ہیں، وہ عیسائیوں سے کروائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ریاست ان کی مالی معاونت عام لوگوں (مسلمانوں ) کی طرع نہیں کرتی۔

ستمبر 2014 میں ہی قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن میں ایک انسانیت سوز واقعہ پیش آیا۔ دو میاں بیوی کو اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ یہ وہی بھٹہ تھا جہاں یہ میاں بیوی کام کرکے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے قرآن کے کچھ صفحے جلا دیے ہیں۔ یہ دونوں نہ تو پٹھے لکھے تھے اور نہ مسلمان کہ قرآن کی آیات پہچان سکتے۔ ایک غلط فہمی کی بنیاد پر ان دونوں کی جان لے لی گئی۔ یہاں جان کر میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی کہ شما نامی یہ عورت پریگننٹ تھی جس کے پیٹ میں چار ماہ کا بچہ تھا۔

ہندوؤں کی حالت اس سے بھی خراب ہے۔ آل پاکستان ہندو رائٹس ایسوسی ایشن کی 2014 میں شائع ہوئی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہندوؤں کے اب تک دو سو تیس کے قریب مندر برباد کیے گئے ہیں۔ ان مندروؤں کی زمینوں پر قبضے کے پیچھے مسلمان جاگیردار شامل ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف بیس سے پچیس کے قریب مندر ہی بچ گئے ہیں جہاں ہندو اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکتے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ہر سال پاکستان میں تقریباً ایک ہزارسے گیارہ سو اقلیتی لڑکیوں کو زبردستی مذہب بدلوا کر ان سے شادی کر لی جاتی ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کی معاشی حالت خراب ہے اس لیے یہ لوگ تھانوں اور کچہریوں کے اخراجات بھی برداشت نہیں کر سکتے۔

سیکولر ازم ہیومن ازم اور انسانی حقوق کی بنیاد پر ایک وسیع اور جامع نظام ہے جسے کسی شدت پسند نے نہیں بلکہ خود انسانوں کی سوچ نے اپنے لیے ایجاد کیا ہے۔ سیکولرازم میں تمام اقلیتوں کو اکثریت جتنے ہی حقوق حاصل ہوتے ہیں اور ریاست ہر مذہب کے ماننے والوں کی یکساں حفاظت کرتی ہے۔ مجھے امید تو نہیں کہ پاکستان میں کوئی حکمران جماعت سیکولرازم لا سکے گی لیکن لوگوں کا شعور اس نظام کو لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ضرغام خاور وڑائچ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply