کورونا وائرس سے لڑنے والے ڈاکٹر کی ڈائری: ایک مرتے ہوئے مریض کے بچ جانے کا معجزانہ سفر

پروفیسر جان رائٹ - سربراہ، بریڈفورڈ انسٹٹیوٹ فار ہیلتھ ریسرچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کے مریض

JOHN WRIGHT

جب محمد عظیم بریڈفورڈ کے رائل انفرمری ہسپتال میں پہنچے تو ان کی طبیعت انتہائی نازک تھی اور ان کے خون میں آکسیجن کی مقدار خطرناک حد تک کم تھی، اتنی کم کے ان کی دیکھ بھال کرنے والے طبی عملے میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ان کی آکسیجن تو زندہ رہنے کے لیے درکار مقدار سے بھی کم تھی، لیکن معجزانہ طور پر وہ بچ گئے۔

ٹیکسی چلانے والے 35 سالہ محمد عظیم کو ورزش اور تن سازی کا بہت شوق تھا اور انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کووڈ 19 ان کو اتنا متاثر کرے گا۔ جب ان کو سانس لینے میں دشواری شروع ہوئی تو وہ برطانیہ کے ادارہ برائے صحت این ایچ ایس سے رابطہ کرنے میں ہچکچا رہے تھے۔

اس کی وجہ تھی وہ افواہیں جو برطانیہ میں مقیم ایشیائی برادری میں پھیلی ہوئی تھیں کہ اگر وہ این ایچ ایس گئے تو زندہ واپس نہیں لوٹ پائیں گے۔ لیکن عظیم کے دوست حلیم نے ان کو زور دیا کہ ایمبولنس منگوائیں، اور ان کو ہسپتال لے جانے میں مدد بھی کی کیونکہ اس وقت تک تو عظیم کی طبیعت اور بگڑ گئی تھی اور وہ چلنے کے قابل بھی نہیں تھے۔

جب محمد عظیم کو ایمرجنسی میں لایا گیا تو یہ واضح تھا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ ایک نوجوان ہماری آنکھوں کے سامنے مرنے والے تھا۔ ہم اسے فوراً انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں لے گئے اور وہ آئی سی یو میں اگلے 48 دنوں تک کوما میں رہے، اور ہسپتال میں مجموعی طور پر 68 دن۔

عظیم کی نگہداشت پر مامور ڈاکٹر مائیکل میکو کہتے ہیں کہ انھوں نے کسی نوجوان شخص کو اتنا بیمار نہیں دیکھا۔

ایک صحتمند انسان کے جسم میں موجود خون میں آکسیجن کی مقدار کم از کم 95 فیصد ہونی چاہیے۔

محمد عظیم کے خون میں آکسیجن کی مقدار 60 سے 70 فیصد تھی اور وہ بھی اس وقت جب انھیں براہ راست آکسیجن دی جا رہی تھی۔

جب عظیم آئی سی یو میں تھے تو اس وقت بھی ان کی آکسیجن کو 80 فیصد سے اوپر رکھنا دشوار ثابت ہو رہا تھا اور ایک وقت تھا کہ ہم پریشان تھے کہ کہیں اس سے ان کے جسم کے اعضا جیسے دل اور دماغ کو نقصان نہ پہنچنا شروع ہو جائے۔

اگلے چند ہفتوں میں یہ دیکھا کہ عظیم کی زندگی ان کا ساتھ چھوڑ رہی ہے۔ کئی دفعہ ان کا آکسیجن اتنا کم ہو جاتا کہ لگتا کہ بس اب کوئی امید نہیں ہے۔

آئی سی یو میں کام کرنے والے عملے نے کئی بار عظیم کے گھر والوں سے بات کی اور انھیں بری خبر سننے کے لیے تیار کیا لیکن محمد عظیم کے ارادے کچھ اور تھے۔

ان کی انتہائی خراب طبیعت کے باوجود ان کے جسم میں ایک امید کی رمق کسی طرح سے روشن تھی اور جب کبھی ایسا لگتا کہ عظیم ساتھ چھوڑ دیں گے، معجزانہ طور پر وہ پھر زندگی کی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے۔

ڈاکٹر مائیکل کہتے ہیں کہ انھوں نے عظیم کے گھر والوں سے متعدد بار گفتگو کی جہاں اس بارے میں بات ہوتی کہ یہ سب کیوں کیا جا رہا ہے، اس کا کیا فائدہ ہوگا۔

‘ہم یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ ہم ہمت ہار رہے ہیں یا چھوڑ دیں گے، ہم صرف یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ ہمیں کوئی بہت امید نہیں تھی کہ وہ زندہ بچ سکیں۔ لیکن حیران کن طور پر ان کے جسم نے رد عمل ظاہر کرنا شروع کیا اور اس کے بعد سے ان کی طبیعت میں بہتری آنے لگی۔ اور اس کو دیکھ کر ہم سب، ان کی تیمارداری کرنے والے اور باقی لوگ جو کووڈ 19 کے مرض میں مبتلا مریضوں کو دیکھتے ہیں، ان سب کو حوصلہ ملا کہ امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ ان کے خون میں آکیسجن کی مقدار بہتر ہوئی، اور ہم ان کے بٹھانے کے قابل ہوئے۔’

ڈاکٹر مائیکل کہتے ہیں کہ ہمیں یہ پریشانی تھی کہ جب وہ ہوش میں واپس آئیں گے تو وہ کیسے ہوں گے۔

‘ان کے خون میں آکیسجن اتنی کم تھی، اور اتنی مدت سے کم تھی کہ، ہمیں ڈر تھا کہ اس سے ان کے دماغ پر اثر ہوا ہوگا۔ لیکن جب وہ ہوش و حواس میں آئے تو وہ دماغی طور پر بالکل ٹھیک تھے۔ اور جسمانی طور پر بھی، حالانکہ انھوں نے اتنا مشکل وقت دیکھا، اس کے باوجود ان کے جسم میں طاقت اتنی کم نہیں تھی جتنا ہمیں ڈر تھا اور وہ فزیو تھراپسٹ کے ساتھ مصروف ہو گئے اور اس کے بعد تو ان کی صحت میں تیزی سے بہتری نظر آنے لگی۔’

اور جب ہم انھیں وارڈ سے دس ہفتے کے مشکل سفر کے بعد الوداع کہنے لگے تو یہاں پر ایک جشن کا سماں تھا۔

ہم لوگ ڈاکٹر ہیں اور منطق پر یقین رکھتے ہیں لیکن جب ایسے معجزے دیکھنے کو ملتے ہیں تو حیران ہوئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ کووڈ 19 کی وجہ سے ہم نے بہت تکلیف دیکھی ہے لیکن بسا اوقات ہم نے ایسی بہادری اور ہمت کی مثالیں بھی دیکھی ہیں۔

لیکن ہمیں عظیم کو ایک افسوس ناک خبر دینی پڑی اور یہ بتانا پڑا کہ ان کے ہسپتال آنے کے تین دن بعد ان کی والدہ کو بھی داخل کرنا پڑا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

محمد عظیم کہتے ہیں کہ میں بس یہ سوچ رہا تھا کہ یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔

‘میں نے ہوش میں آنے کے بعد فوراً اپنے والد کو فون کیا اور ان سے دریافت کیا تو انھوں نے تصدیق کی کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ اب میری صحتیابی کا دورانیہ دس گنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ میں نے تو اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔’

اس موقعے پر عظیم نے اپنی بیوی اور تین بچوں سے سات ہفتوں سے بات نہیں کی تھی۔

اپنی والدہ کی موت کی خبر کے باوجود ان کے پاس کم از کم یہ ایک خوشی کی بات تھی کہ وہ ان سے بہت جلد ملنے والے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ اپنے دوست حلیم سے، جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ طبی عملے کے ساتھ اپنے دوست کے قرض دار ہیں جن کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی۔

حلیم اور عظیم پرانے ساتھی ہیں اور ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔

حلیم بتاتے ہیں کہ جب انھیں اپنے دوست کی صحتیابی کی خبر ملی تو وہ ان کے لیے بہت جذباتی لمحہ تھا۔

‘ایک جسمانی طور پر اتنا مضبوط انسان، ہمیں تو یقین ہیں نہیں آیا کہ وہ اس قدر بیمار ہو سکتا ہے۔ اس دن جب ہمیں فون آیا کہ عظیم کے پاس صرف ایک گھنٹہ ہے زندہ رہنے کا تو ہم اس کے لیے صرف دعا کر رہے تھے۔ ہر دوسرے ہفتے خبر ملتی کہ اسے مشین سے ہٹا رہے ہیں، وہ زندہ نہیں بچ سکے گا، لیکن وہ اتنا طاقتور اور مضبوط تھا، اس کے جسم نے ساری قوت صرف کر کے عظیم کو زندہ رکھا۔’

فرنٹ لائن ڈائری

وبائی امراض کے ماہر اور ڈاکٹر پروفیسر جان رائٹ بریڈفورڈ انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ ریسرچ کے سربراہ ہیں اور وہ جنوبی افریقی ممالک میں ہیضے، ایچ آئی وی اور ایبولا جیسے وبائی مرض کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ بی بی سی نیوز کے لیے یہ ڈائری لکھ رہے ہیں اور بی بی سی ریڈیو کے لیے اسے اپنے ہسپتال کے وارڈوں سے ریکارڈ کرا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14211 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp