تعلیم کی ترویج میں انگریزوں کا کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے کے بہت سے تضادات میں سے ایک تضاد یہ بھی ہے کہ ہم حقائق سے صرف نظر کر کے جذبات کو اہمیت دیتے ہیں۔ خواہ حقائق کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں ہم انہیں محض اس بنیاد پر ماننے سے انکار کردیتے ہیں کہ اس سے ہماری غیرت پر حرف آتا ہے اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے ہم نظریں چرا لیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ روز بروز سیدھے راستہ پر آگے بڑھنے کی بجائے ایک دائرے میں چکر کھا رہا ہے اور اس بھنور سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔

گزشتہ دنوں ”ہم سب“ میں 1857 ء کی جنگ آزادی کے حوالہ سے ایک مضمون شائع ہوا تھا کہ جس میں مصنف نے تاریخی حقائق سے ثابت کیا تھا کہ یہ جنگ کسی مقصد اور درست راستے کا تعین نہ ہونے کے باعث محض ایک جذباتی کوشش تھی۔ جس کے نتیجہ میں برصغیر کی مغلیہ سلطنت کو بالآخر ختم ہونا پڑا۔

فاضل مصنف نے اس زمانے کے بعض عظیم الشان مسلمان لیڈروں سر سید احمد خان صاحب مرزا غالب اور ڈپٹی نذیر احمد صاحب وغیرہ کی تحریروں سے ثابت کیا کہ جنگ کرنے والے محض لوٹ مار کو اپنا وتیرہ بنائے ہوئے تھے۔ اور بغیر کسی منصوبہ بندی اور مقصد کے محض قتل و غارت گری اور لوٹ مار میں مصروف تھے جس سے اہل دہلی بھی پریشان تھے، شہنشاہ ہند کو دوبارہ تخت پر متمکن کرنے کا نعرہ محض ایک جذباتی نعرہ تھا جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس ضمن میں مسلمانوں کا ذکر تو بہت کیا جاتا ہے مگر مہارانی آف جھانسی اور کانپور کے نانا پیشوا صاحب کا ذکر مفقود ہے جو ہندو تھے اور بے جگری سے انگریز کے خلاف لڑ رہے تھے۔ مہارانی آف جھانسی نے تو یہ جنگ اگلے سال 1858 تک جاری رکھی تھی۔

اس مضمون پر بعض تبصرے حیرت انگیز تھے جن میں تبصرہ نگاروں نے اعتراض کیا کہ یہ مضمون دراصل مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے مصنف اس زمانے کے عالی دماغ مسلمان لیڈروں کے حوالہ سے ہی بات کر رہے تھے۔ خود تو وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ مگر اعتراض کرنے والوں نے تو اعتراض کر دیا نہ کوئی دلیل۔ نہ کوئی حوالہ۔ بقول جان ایلیا صاحب

دلیل تھی نہ حوالہ تھا کوئی پاس ان کے
عجیب لوگ تھے بس اختلاف رکھتے تھے۔

یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ پنجاب کے مسلمان جاگیرداروں نے انگریز کا ساتھ دیا۔ ۔ ۔ آخر کیا وجہ تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ 1849 میں سکھ حکومت کا خاتمہ انگریزوں نے کیا تھا۔ اور آٹھ سال بعد ہی 1857 ء میں یہ سکھ اور پنجاب کے مسلمان انگریز کی تائید میں ہتھیار اٹھائے کھڑے تھے۔

کوئی بات تو تھی جس نے انہیں ان جنگجوٴوں کے خلاف لڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

اس تجزیہ سے صرف یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ ہم تاریخی حقائق سے نظریں چرا کر محض پدرم سلطان بود کے سائے تلے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے آگے بڑھنے کی بجائے وہیں کھڑے ہیں جہاں آج سے ستر سال پہلے کھڑے تھے۔ اور حقائق کی روشنی ہماری آنکھیں چندھیانے کی علاوہ کوئی مفید کام نہیں کرتیں۔

جس موضوع پر میں تحریر کرنا چاہتا ہوں اس حوالہ سے بھی یہی اندیشہ ہے کہ بہت سے پڑھنے والے اسے بیکار مضمون قرار دے دیں گے لیکن اپنے موقف میں دلیل یا حوالہ پیش نہیں کریں گے۔ ۔ ۔ ۔ بیکار ہے۔ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔ ۔ ۔ بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

برصغیر میں انگریزوں کی حکومت 1857 ء تا 1947 قائم رہی۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس سے پہلے عوام الناس کی تعلیم کی کیا صورت تھی اور انگریزوں کے زمانہ میں کیا تبدیلی آئی۔

ہمارے ہاں اکثر محققین انگریزی نظام تعلیم کو میکاولئین فلسفہ کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ جو ایک لاطینی بیوروکریٹ تھا اور جس کا نظریہ یہ تھا کہ حکومت کو طاقت کا استعمال کرنا چاہیے اور عوام میں خوف پیدا کرنا حکومت کے فائدے میں ہے۔

اس ضمن میں یہ انکشاف بھی کیا جاتا ہے کہ انگریزی طرز تعلیم کا مقصد کلرک بادشاہ پیدا کرنا تھا جن کی ان کو وسیع و عریض برصغیر کا انتظام سنبھالنے کے لیے بڑی تعداد میں ضرورت تھی۔

پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ انگریزوں کی حکومت سے پہلے برصغیر میں عوام الناس کی سطح پر کوئی نظام تعلیم تھا بھی یا نہیں؟ اور اگر تھا تو کس قسم کا تھا؟ برصغیر کے شہروں میں ادیب، فاضل، حکیم وغیرہ اپنے اپنے مدرسے چلاتے تھے اور کوئی شخص جو ان مضامین میں مہارت حاصل کرنا چاہتا تھا ان مدرسوں میں حاضر ہوتا تھا یا مساجد میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رہتا اور طالب علم اس سے فائدہ اٹھاتے لیکن یہ طلبا عموماً اس شہر کے ہوتے یا باہر سے بھی آتے مگر محدود تعداد ہوتی۔ کیونکہ تعلیم کی فیس وغیرہ تو کوئی نہیں تھی مگر کھانے پینے کے اخراجات تو بہر حال کرنے پڑتے۔ بعض طلبا کھانے پینے کے لیے تعلیم کے بعد گھروں سے کھانا مانگنے نکل جاتے اور مخیر حضرات انہیں کچھ عطا کر دیتے تو ان کا گزارہ چل نکلتا۔

چنانچہ عوام الناس کے لیے تعلیم کا سکوپ بہت ہی محدود تھا۔ انگریزوں کی برصغیر میں حکومت قائم ہونے کے بعد انہوں نے مدارس کو تمام ملک میں پھیلا دیا۔ کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج اور پھر لاہور میں پنجاب یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج، پشاور میں اسلامیہ کالج، لائل پور میں زرعی کالج، عجائب گھروں کا انتظام، موئنجودڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا پر تحقیقات اور پرانی کتابوں کے ترجمے اور اسی طرح کے بے شمار تحقیقاتی کام انگریزوں کے دور حکومت میں ہی ہوئے۔ اس سے قبل اگر کوئی یونیورسٹی قائم ہوئی ہو تو محققین سے درخواست ہے کہ اس کا حوالہ دیں۔

اکثر احباب اس کے جواب میں کہیں گے کہ جامعة الازہردنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔ یہ بات درست ہے مگر ہم بات برصغیر کی کر رہے ہیں اسلامی دنیا کی نہیں۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ نظام کلرکوں کی تیاری کے لیے متعارف کروایا گیا تھا تو حیرت ہے کہ کلرک تیار کرنے کے لیے تو میڑک تک تعلیم کافی تھی۔ خصوصاً اس زمانہ میں آج کی نسبت میڑک کی تعلیم کا معیار بہت بلند تھا۔ پھر یونیورسٹیاں اور تحقیقاتی ادارے قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ کلرک تیار کرنے والے اس نظام نے برصغیر کو کیسے نابغۂ روزگار عطاکیے۔ ان میں سر سید احمد خان چوہدری ظفراللہ خان۔ علامہ اقبال۔ قائد اعظم۔ گاندھی۔ موتی لال نہرو۔ جواہر لال نہرو۔ ابوالکلام آزاد۔ رابندر ناتھ ٹیگور۔ فیض احمد فیض۔ ڈاکٹر عبدالسلام اور اسی طرح کے بے شمار نام کلرک تیار کرنے والے اسی نظام تعلیم کے نتیجہ میں دنیا میں ابھرے اور آج ہمارے ملک میں کتنی ایسی قدر آور شخصیتیں ہیں جو ان کے ہم پلہ ہیں۔
شترمرغ کی طرح ریت میں سر چھپانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *