معصوف اور ہمارا معاشرہ

پانچویں صدی قبل مسیح انسانی تہذیب کے ارتقاء میں ایک اہم حیثیت کی حامل ہے جب دنیا کی تین بڑی تہذیبوں، یونان، بھارت اور چین میں ایسی عظیم الشان شخصیات نے جنم لیا جن کے افکار آج بھی مہذب دنیا کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ایتھنز میں سقراط، بھارت میں سدھار تھا اور چین میں کنفیوشس نے انسانی سوچ کو مادی الائشوں سے ذہنی اور روحانی سکون اور اطمینان کی طرف منتقل کیا اور معاشرہ میں امن و سکون، ہمدردی

Read more

بکرا منڈی

بکرا منڈی میں بہت گہما گہمی تھی۔ ہزاروں بکرے قصاب ایسوسی ایشن کے رخصت ہوتے ہوئے صدر کا خطاب سننے کے لیے جمع تھے۔ قصاب ایسوسی ایشن کا صدر عارضی طور پر اپنا کام چھوڑ رہا تھا۔ تاکہ دوبارہ اس عہدے پر فائز ہو سکے۔ اس نے بکروں سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کی بہبود کے لیے ہونے والی اپنی خدمات کی ایک فہرست ان کے سامنے رکھی کہ کس طرح نامساعد حالات کے باوجود اور گزشتہ صدر کی نااہلیوں

Read more

گریٹ والی آف سندھ

ہمارا ملک پاکستان آثار قدیمہ کا گڑھ ہے اور ہر صوبہ میں آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے بے شمار ایسی جگہیں ہیں جن کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک جگہ رنی کوٹ قلعہ ہے جس کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ یہ غالباً دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے۔ اس کی دیوار کا گھیر بیس میل یا اکتیس کلو میٹرز ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ قلعہ تالپوروں

Read more

ٹیڑھی دیوار

کسی ملک میں ایک سرکاری ملازم رشوت خوری کے نت نئے طریق اختیار کرنے کا ماہر تھا۔ اسے مختلف شعبوں میں تبدیل کیا جاتا رہا، جہاں بظاہر رشوت خوری کے امکان نہ ہونے کے برابر تھے۔ ﴿ان دنوں رشوت خوری آج کل کی طرح قابل عزت اور قابل فخر کام نہیں سمجھا جاتا تھا﴾ مگر ہر جگہ وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتا۔ بالآخر اس کی ڈیوٹی ساحل سمندر پر لگادی گئی کہ یہاں بیٹھ کر لہریں گنو۔ چند

Read more

امید کی شہزادی

گوادر جانے کی خواہش بہت دیر سے تھی۔ بالآخر اس ماہ موقع مل گیا اور ہم کراچی سے گوادر کے لیے روانہ ہوئے۔ حب چوکی سے گزرتے ہوئے ایک صد کلومیٹر کے بعد زیر و پوائنٹ پہنچے۔ جہاں سے کوئٹہ جانے والا راستہ اور گوادر جانے کے لیے کوسٹل ہائی وے علیحدہ ہوتی ہیں۔ ہم کوسٹل ہائی وے پر روانہ ہوئے۔ اس پوائنٹ سے گوادر تقریباً پانچ صد کلو میٹرز ہے۔ سڑک اچھی پختہ حالت میں ہے اور ٹریفک بلکہ

Read more

مغالطے یا فیلسیز

سادھ گرو سوشل میڈیا کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں جو اپنی بات بڑی آسانی سے بیان کرتے ہیں۔ ایک پروگرام میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ لوگ کسی چائے کی دکان پر چائے پینے جائیں تو چائے بنانے والا آپ کو بین الاقوامی کرکٹ کے اسرار و رموز پر اپنی ماہرانہ رائے پیش کرے گا۔ وہ کسی میچ میں ٹنڈولکر کی غلطیوں کا ذکر کرے گا۔ گواسکر کو وہ شاٹ ویسے نہیں کھیلنی چاہیے تھی جس بنا پر

Read more

معاشرے کی اخلاق باختگی: روون نہ آوے گر

یونان کی ایک اداکارہ نے معاشرے کی نفسیات جاننے کے لیے ایک دلچسپ تجربہ کیا۔ شہر کے ایک چوک میں وہ بے لباس کھڑی ہو گئیں اور اعلان کیا گیا کہ وہ چھ گھنٹے تک اسی طرح بغیر ہلے جلے کھڑی رہیں گی اور لوگوں کا ردعمل دیکھیں گی۔ پہلے تو لوگ ہجوم کی صورت میں وہاں اکٹھے ہو گئے۔ پھر ایک شخص نے ہمت کر کے انہیں ہاتھ لگایا، کسی بھی ردعمل کو نہ پا کر ہجوم میں قریب

Read more

چھوٹے قد لمبے سائے

سکولوں کے اساتذہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک جگہ احتجاج کر رہے ہیں۔ بعض نے اپنی قمیضیں اتار دی ہیں، بعض پیٹ پر ہاتھ مار مار کر ہائے ہائے کر رہے ہیں اور بعض اسی قسم کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے اپنے حق مانگ رہے ہیں۔ یہ وہ پیشہ ہے جسے پیغمبرانہ پیشہ کہا جاتا ہے اور یہ وہ اساتذہ ہیں جو آئندہ نسلوں کی تعلیم اور کردار سازی کے ذمہ دار ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی آمد

Read more

کھڑے بھی ہونا تو دلدلوں میں

گزشتہ چند دنوں سے ملک کا سب سے بڑا ادارہ جو ملک میں قوانین بنانے کا ذمہ دار ہے شدید بحرانی کیفیت سے دوچار رہا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ عدالت عظمیٰ کو اس حوالے سے نوٹس لینا پڑا بالا آخر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد ہی پارلیمنٹ کا یہ بحران ختم ہوا اور اس طرح جمہوریت ایک بار پھر اپنے راستے پر گامزن ہو گئی۔ عدالت عظمی کے اس جرات مندانہ فیصلہ پر داد و تحسین کے

Read more

اولاد تو آپ ہی کی ہے

میں اس مضمون کے آغاز میں یہ گزارش کرنا چاہوں گا کہ مضمون نگار کا قارئین سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

آج سے سینکڑوں برس قبل جزیرہ نما عرب میں دستور تھا کہ جب کسی کے یہاں لڑکی کی پیدائش ہوتی تو والدین اسے اپنی ذلت کا سبب جانتے ہوئے شرم سے پانی پانی ہو جاتے اور اس کوشش میں لگ جاتے کہ اس مزعومہ داغ کو کس طرح دھویا جائے۔ بعض ظالم والدین اپنی اس چھوٹی سے معصوم بچی کو غیرت کے نام پر زندہ زمین میں گاڑ کر چھٹکارا حاصل کر کے بظاہر اس نام نہاد ذلت کا داغ دھو ڈالتے۔

Read more

وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

غالب نے تو خبر نہیں کس خیال میں یہ شعر کہا تھا کہ : میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا مگر آج کل اپنے معاشرے میں اس شعر کی صحیح تشریح اس وقت سمجھ آتی ہے جب احمدی کمیونٹی کی قبروں پر حملہ کر کے کبھی ان قبروں پر نصب کتبوں کو توڑ پھوڑ دیا جاتا ہے ۔ کبھی رات کی تاریکی میں قبروں کو مسمار کر

Read more

جنات اور دیو مالائی مخلوق ریاست نہیں چلاتے

گزشتہ دنوں یو ٹیوب پر پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان جناب پرویز ہود بھائی کا جنات کے حوالہ سے ایک تبصرہ سننے کا اتفاق ہوا۔ ہود بھائی نے اس میں یہ واضح کیا کہ جنات کا ابھی تک سائنسی یا تجرباتی ثبوت تو موجود نہیں لیکن اگر لوگ اس وہم کو ماننا چاہیں تو کوئی انہیں روک نہیں سکتا جیسے انسان بہت سی مافوق الفطرت چیزوں پر اندھا یقین رکھتا ہے اسی طرح جنات پر یقین رکھ سکتا ہے۔

یو ٹیوب پر کچھ مزید پروگراموں میں بعض ایسے لوگوں کے انٹرویو بھی سنے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ جنات کے اسرار سے واقف ہیں۔ بلکہ جنات ان کے قبضے میں ہیں اور وہ جو چاہیں ان سے کروا سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ جنات کے قبرستان بھی ہیں۔ مثلاً ماکلی ٹھٹھہ کا قبرستان جنات کا ہے۔

Read more

آئی اے رحمان: کرو کج جبیں پہ

آئی اے رحمان صاحب بھی رخصت ہوئے تقریباً نوے سال کی عمر پائی اور اس عمر کا ایک ایک لمحہ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے میں گزارا۔

عجیب انسان تھے نہ اپنا کوئی مفاد دیکھتے اور نہ کسی سے خوفزدہ۔ سچی بات منہ پر کہنے والے۔ درست کو درست اور غلط کو غلط کہنے والے انسان۔ مظلوموں کی تائید کرنے والے اور خود کو بڑا سمجھنے والے چھوٹے قد کے بونوں کو ناراض کردینے والی شخصیت۔

Read more

گلی سرجن سنگھ: لاہور اور اہل لاہور کی خوبصورتی

گزشتہ دنوں انٹرنیٹ پر اندرون لاہور کی بعض گلیوں کی تصاویر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی جنہیں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے صاف ستھرا اور سجایا بنایا ہے اور اس کے ساتھ درج تھا کہ یہ یورپ نہیں ہمارا پیارا پاکستان ہے۔ دوسری خوشی کی بات یہ تھی کہ اس گلی کا نام گلی سرجن سنگھ ہی رہا اور بدل کر کسی اپنی پسند کی شخصیت کا نام نہیں دے دیا۔ مجھے یورپ کے کئی ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا

Read more

ربا سے متعلق ناظم چوہدری صاحب کے مضمون پر تبصرہ

گزشتہ دنوں ”ہم سب“ میں ناظم چوہدری صاحب کا ایک مضمون بنک انٹرسٹ کے حوالے سے شائع ہوا کہ آیا وہ اس سود جسے ربوا کہتے ہیں کہ زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ ناظم صاحب نے ایک اچھا سوال اٹھایا ہے جو غور طلب ہے اور اسے کسی منطق اور دلیل سے حل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ محض کسی دلیل کے بغیر زور دیا جائے کہ انٹرسٹ دراصل ربوا کہ ہی ایک قسم ہے۔ ربوا کی حرمت

Read more

جو بچ گیا وہ بھینسا ہے

گزشتہ دنوں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے گیارہ افراد کو نہایت بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ ہمارے ملک میں بدامنی اور خوف کی یہ کیفیت گزشتہ کئی سال سے جاری ہے اور خصوصاً اقلیتیں اس کا ہر کچھ عرصہ کے بعد شکار ہوتی جاتی ہیں۔ پتہ نہیں مارنے والوں کا کیا ایجنڈا ہے اور چند غریب مزدور لوگوں کو بہیمانہ قتل کر کے ان کا کون سا ایجنڈا پورا ہوتا ہے۔

Read more

گندم کی سرکاری قیمت اور کسان کی مصیبت

گندم ہمارے معاشرے کی بنیادی خوراک ہے اور ملک میں تقریباً تمام آبادی روزانہ تین وقت اسے خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ گندم کی فصل اپریل/مئی میں برداشت ہوتی ہے اور اکتوبر/نومبر میں جب اس کی بوائی شروع ہو تو حکومت اس کی سپورٹ پرائس مقرر کرتی ہے جس سے کسان کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کی گندم آنے والے وقت میں کس بھاوٴ بکے گی۔ لیکن قیمت کا اصل تعین مارکیٹ ہی کرتی ہے۔ مثلاً اگر گندم ضرورت سے کم ہو تو مارکیٹ میں اس کی قیمت خرید بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ آج کل ہوا ہے اور گندم ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو مارکیٹ میں قیمت خرید گر جاتی ہے۔ لیکن سپورٹ پرائس مقرر کرنے سے زمیندار ایک حد تک نقصان سے بچا رہتا ہے۔

Read more

گندم کی سرکاری قیمت

گندم ہمارے معاشرے کی بنیادی خوراک ہے اور ملک میں تقریباً تمام آبادی روزانہ تین وقت اسے خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ گندم کی فصل اپریل /مئی میں برداشت ہوتی ہے اور اکتوبر/نومبر میں جب اس کی بوائی شروع ہو تو حکومت اس کی سپورٹ پرائس مقرر کرتی ہے جس سے کسان کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کی گندم آنے والے وقت میں کس بھاوٴ بکے گی۔ لیکن قیمت کا اصل تعین مارکیٹ ہی کرتی ہے۔ مثلاً

Read more

کرسی نشین جنریشن

”نانا۔ آپ کے انٹرنیٹ کا پاس ورڈ کیا ہے۔“ میرا بارہ سالہ نواسہ ہاتھ میں اپنا آئی پکڑے مجھ سے پوچھ رہا تھا۔
ہمارے یہاں کوئی پاس ورڈ نہیں ہے۔ اوپن ہے۔ میرے جواب سے وہ بہت خوش ہوا اور کوئی کھیل کھیلنے لگا۔

”نانا۔ آپ یہ کھیل کھیلیں۔ سپر ماریو کے طرح کی ہے۔“ میں نے پیڈ پکڑا اور کوشش کی تو میرا سپر ماریو ہر دفعہ سمندر میں جا گرا۔
”نانا آپ کو کھیلنا ہی نہیں آتا۔“ اس نے مایوس ہو کر پیڈ میرے ہاتھ سے لے لیا۔

”بچے تم نے کبھی پٹھو گرم کا نام سنا ہے؟
”نہیں“
اور کوٹلہ چھپاکی
”نہیں“
اور میروڈبہ

Read more

ہیرو ورشپ

ایک فرد کی اوسط عمر تقریباً 80 / 70 سال ہوتی ہے۔ جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ تو بچپن اور نوجوانی کی عمر ہے جو تقریباً 25 / 20 سال پر محیط ہوتی ہے۔ اس حصہ میں بچپن کے 12 / 10 سال تو انسان اپنے والدین پرہی انحصار کرتاہے اور وہی اس کی ضرروتوں اور خواہشوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ پھر انسان بلوغت میں قدم رکھتاہے تو اس کے بہت سے

Read more

جمہوریت کا پتلی تماشا

آج کے دور میں سب سے پسندیدہ طرز حکومت جمہوریت ہے اور جن ممالک میں یہ طرز حکومت ہے وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اس سے بہتر کوئی نظام حکومت نہیں ہو سکتا اور واقعی اگر یہ طرز حکومت درست طریق سے لاگو ہو تو بہترین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ جمہوریت کی اصل روح دراصل ایک مہذب اور متمدن معاشرے کا قیام اور انسانی ہمدردی سے عبارت ہے اور اس صورت میں واقعی اس سے

Read more

بحث میں دعویٰ کرنے کی بجائے دلیل دیں

انسان کی نفسیات میں ایک خواہش یہ بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذات کو دوسروں سے ممتاز اور اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اوردوسروں سے آگے بڑھنے کا خواہشمند رہتا ہے۔ جسے انانیت کہتے ہیں۔ علامہ اقبال نے بھی اپنے فلسفہ خودی میں اسے بلند کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص معاشرے میں خود کو دوسروں سے بہتر کرنے کی تگ ودو کرے اور اس طرح ایک بہتر مقام

Read more

پاکستان میں جاگیرداری واقعی مسئلہ ہے یا خیالی کہانی؟

ہمارے یہاں اکثر پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاگیردارانہ نظام کی مخالفت میں تبصرے کیے جاتے ہیں اور جاگیردار کو ایک ظالم، جابر، شرابی، کبابی، زانی اور متکبر شخص کے طور پر پیش کیا جاتا ہے بلکہ جاگیردار اور ابلیس تقریباً ہم معنی الفاظ سمجھے جاتے ہیں اور دیہاتی علاقے کے ہر مسئلہ کا ذمہ دار اسے قرار دیا جاتا ہے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ نظام ہے کیا؟ اورکیا اب بھی موجود ہے یا ختم ہوچکا ہے؟

Read more

تعلیم کی ترویج میں انگریزوں کا کردار

ہمارے معاشرے کے بہت سے تضادات میں سے ایک تضاد یہ بھی ہے کہ ہم حقائق سے صرف نظر کر کے جذبات کو اہمیت دیتے ہیں۔ خواہ حقائق کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں ہم انہیں محض اس بنیاد پر ماننے سے انکار کردیتے ہیں کہ اس سے ہماری غیرت پر حرف آتا ہے اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے ہم نظریں چرا لیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ روز بروز سیدھے راستہ پر آگے بڑھنے کی بجائے ایک دائرے میں چکر کھا رہا ہے اور اس بھنور سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔

Read more

ہمارا ”میار تلیم“۔

پنجاب میں گورنمنٹ سکولوں کے گیٹ پر ایک بورڈ آویزاں کیا گیا ہے کہ ”آئیے دیکھیے ہم معیار تعلیم کے حصول کے لیے کیسے کوشاں ہیں“

کچھ عرصہ قبل مجھے ایک گورنمنٹ سکول کسی کام سے جانے کا اتفاق ہوا۔ سردیوں کی نرم دھوپ میں صحن میں ایک استاد کرسی پر بیٹھے تھے اور طلبا کا ہجوم ان کے اردگرد جمع تھا۔ اور وہ انہیں کچھ نوٹ کروا رہے تھے۔ طلبا میں سے کچھ باتوں میں مصروف تھے اور چند محنتی طلبا استاد کے بتائے ہوئے سوالات نوٹ کر رہے تھے۔ پتہ چلا کہ سالانہ امتحان قریب ہیں اور استاد صاحب اپنے شاگردوں کو وہ سوالات نوٹ کروا رہے ہیں جو انہوں نے پرچے میں پوچھے ہیں۔ ’محنتی طلبا‘ تو یہ سوالات خود نوٹ کر رہے تھے مگر کھلنڈرے طلبا کو یہ تسلی تھی کہ وہ بعد میں اپنے کلاس فیلوز سے یہ پرچہ حاصل کر کے یاد کر لیں گے۔

Read more

آئین کے غدار؟

پاکستان کے آئین میں غیر مسلم کی تعریف آرٹیکل 260 بی (II) کے تحت درج ذیل ہے۔ ”غیر مسلم سے مراد ایسا شخص ہے جو مسلمان نہیں اور ایسا شخص عیسائی۔ ہندو۔ سکھ۔ بدھسٹ یا پارسی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو۔ قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھنے والا شخص ﴿جو خود کو احمدی یا کسی بھی نام سے پکارتے ہیں ﴾ یا بہائی اور کوئی شخص جو شیڈولڈ کاسٹ کا فرد ہو۔“ اس تعریف کے مطابق مذہب کا تعلق

Read more

65 کی پاک بھارت جنگ اور مفروضہ غداران وطن کا من گھڑت قصہ

ستمبر 1965 کی ایک تاریک رات تھی۔ امرتسر سے بھارتی بمبار طیاروں کا ایک سکواڈرن پاکستان پر حملہ کے لیے تیار کھڑا تھا۔ ابھی روانگی کا حکم نہیں ملا تھا۔ اچانک ہوا بازوں کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کے لیے کہا گیا۔ جیسے ہی ہوا باز وہاں پہنچے تو ایک سینئر افسر نے انہیں ٹریفک پولیس کے زیر انتظام استعمال ہونے والی سیٹیاں تقسیم کی اور سمجھایا کہ جیسے ہی وہ سرگودہا ائیر بیس کی طرف روانہ ہوں تو انہیں

Read more

وائرس اور انسان

کورونا وائرس نے دنیا میں ایک ہلکم ڈال رکھی ہے۔ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی اس بیماری نے دنیا کو ایک عجیب معاشرتی اور معاشی دباؤ کا شکار کر دیا ہے اور ہر ملک اس کوشش میں ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر کے اس بیماری پر قابو پایا جائے لیکن انسان بہر حال انسان ہے اور ایک معاشرتی جانور ہے۔ مکمل علیحدگی نہ صرف ممکن نہیں بلکہ اس کے نتیجہ میں معاشی مسائل بھی

Read more