اقتدار کو خطرہ نہیں تو مائنس ون کا قضیہ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے ایک ہفتہ میں تیسری مرتبہ قومی اسمبلی میں قدم رنجہ فرمایا اور دوسری بار تقریر کی۔ اسے قوم کی خوش قسمتی کہیں یا کچھ اور؟ ملک میں بنائے گئے سیاسی دباؤ کے ماحول میں اگر وزیر اعظم یہ سیکھنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ ان کی آخری پناہ گاہ پارلیمنٹ ہی ہے تو یہ اس ملک کی جمہوری روایت کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اگر عمران خان اپنی اس روش کو برقرار رکھ سکیں اور دوسروں کو کم تر اور خود کو غلطیوں سے ’پاک‘ سمجھنے کے فریب سے باہر نکل سکیں تو یہ ملک میں جاری بحران کے حوالے سے ایک نیا نقطہ آغاز بھی ہوسکتا ہے۔

تو کیا عمران خان اور حکومت سے یہ امید باندھی جاسکتی ہے؟ وزیر اعظم کے فرمودات سننے کے بعد یہ بات یقین سے کہنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا دو روز قبل اپوزیشن کی طرف سے بجٹ مسترد کرنے کا بیان ناقابل یقین تھا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کے لتے ہوئے  بجٹ کو عوام دشمن قرار دیا اور اعلان کیا تھا کہ عمران خان اس ناکامی پر استعفیٰ دیں کیوں کہ وہ قوم کے لئے بوجھ بن چکے ہیں۔ پاکستانی ماہرین متفق ہیں کہ پاکستان کی کنٹرولڈ جمہوریت میں بجٹ تجاویز کومسترد کرنے کی روایت موجود نہیں ہے۔ جانے کون سے ماہر بجٹ پر ووٹ کو عمران خان کے بارے میں عدم اعتماد کا ووٹ بنانے پر مصر تھے لیکن گزشتہ روز قومی اسمبلی نے اپنی روایت کے مطابق اسے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

وزیر اعظم نے البتہ آج قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے خلاف سیاسی بے چینی کی باتیں بے بنیاد ہیں اور بجٹ ووٹ کو اس کی ٹھوس دلیل کے طور پر پیش کیا۔ چہار طرف سے دباؤ کا شکار حکومت کے سربراہ ایک لحاظ سے اسے اپنی کامیابی قرار دے سکتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں نوشتہ دیوار بھی پڑھنا ہوگا۔ انہیں صرف ان ٹی وی اینکرز یا ماہرین کی بات نہیں سننا چاہئے جو اس بات مصر تھے کہ بجٹ پر رائے دہی عمران حکومت پر عدم اعتماد کا ووٹ ہوگا۔ بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ بجٹ کے لئے ووٹ دینے والوں کی اصل وفاداریاں دراصل کس کے ساتھ ہیں۔ پارلیمنٹ میں تشریف لا کر وزیر اعظم نے درست سمت پہلا قدم اٹھایا ہے اور اب انہیں اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ کو اہمیت دینے پر تیار ہیں اور حکمران اتحاد میں پڑنے والی دراڑوں کو مصلحت کوشی سے پر کرنے کی کوشش کریں گے۔

قومی اسمبلی میں عمران خان کی آمد اگرچہ خود ان کی سیاست کے لئے خوش آئند ہے لیکن ان کی تقریر ملک کی عمومی سیاسی تصویر کے حوالے سے خوشگوار نہیں ہے۔ وزیر اعظم کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت عمران خان کے اقتدار میں رہنے یا نہ رہنے کا سوال غیر اہم ہوچکا ہے۔ اب یہ فرد واحد کے اقتدار سے زیادہ نظام کی کامیابی اور جمہوریت کے تحفظ کا معاملہ بن چکا ہے۔ اس مقصد کے لئے انہیں پارلیمنٹ کے سب ارکان کا ساتھ درکار ہوگا اور اس کے لئے بلا تخصیص سب منتخب نمائیندوں کو احترام دینا ہوگا۔ اس میں ناکام ہونے کی صورت میں وہ صرف اپنے اقتدار سے ہی محروم نہیں ہوں گے بلکہ ملک میں جمہوری روایت کو بھی کمزور کرنے کا سبب بنیں گے۔

گو اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ عمران خان نے بظاہر جمہوری مقبولیت کا راستہ مطلق العنان رہنما بننے کے لئے اختیار کیا تھا۔ ان کی جمہور ی تفہیم ناقص اور اس پر یقین کمزور ہے۔ ورنہ منتخب اپوزیشن کے بارے میں ان کا رویہ اور لب و لہجہ مختلف ہوتا اور سول فوجی تعلقات یا ایک پیج کی سیاست کو وہ عوامی نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتے۔ عمران خان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اقتدار تک پہنچنے کی تیاری کرتے ہوئے جن حلقوں سے راہ ورسم بڑھائی تھی، ان کے لئے فرد واحد اہم نہیں ہوتا۔ اس فرد کے ذریعے حاصل کئے جانے والے مقاصد اہم ہوتے ہیں۔ نواز شریف بھی عمران خان کے اپنائے گئے راستے سے گزر کر منزل مراد تک پہنچے تھے لیکن جوں ہی انہوں نے اقتدار کو اختیار سے تعبیر کرنے کی کوشش کی،معاملات ان کے ہاتھ سے نکلنا شروع ہوگئے۔ جمہوریت پر غیر منتخب عناصر کی اس بالادستی کو ختم کئے بغیر کسی منتخب لیڈر کو نہ تو حقیقی اختیار حاصل ہوسکتا ہے اور نہ ہی معاملات کی موجودہ چال کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

اسی بے ڈھبی چال کے سبب اس وقت عمران خان دیوار سے لگے ہیں اور قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسے بدعنوان اپوزیشن کی سازش یا خواہش قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ درست علاج کے لئے تشخیص بھی ٹھیک ہونی چاہئے۔ عمران خان اگر اپنے اقتدار کو لاحق خطرہ کا اندازہ کررہے ہیں تو صرف مرض جان لینے سے کام نہیں چلے گا۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کون ان کے اقتدار کے لئے خطرہ بنے گا اور کیوں۔ اس ’کون ‘کو تلاش کرنا اور ’کیوں‘ کا جواب فراہم کرنا ہی وہ واحد حل ہے جو عمران خان کو پانچ سال تک اقتدار پر براجمان رکھ سکتا ہے۔ اس کے لئے انہیں سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ ان کی پارٹی اور اتحادیوں میں سے کس پر نقب لگائی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد یہ سوچنا چاہئے کہ اس بے چینی کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی پس منظر میں یہ سمجھنا سادہ لوحی ہوگی کہ عوام کی ناراضی کسی حکومت کے لئے خطرہ کا سبب بنتی ہے۔ جس طرح صرف عوام کی حمایت کسی لیڈر کو اقتدار نہیں دلوا سکتی اسی طرح کسی بھی منتخب لیڈر کو بے توقیر کرنے کے لئے عوامی پریشانی کو عذر کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اصل تشویش کسی اور کو ہوتی ہے اور اس کی وجوہات بھی مختلف ہوتی ہیں۔

اسی لئے ایک ہفتہ کے دوران دوسری بار قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی تقریر سے یہ توقع ضرور کی جارہی تھی کہ وہ یہ اشارہ دیں گے کہ وہ حالات کے اس رخ کو سمجھ رہے ہیں۔ اس کے برعکس عمران خا ن نے جو خطاب ارزاں کیا ہے وہ اس حد تک قیاس و اندازے پر پورا اترتا ہے کہ وہ فقرہ شروع کریں تو کوئی بھی سامع اسے مکمل کرسکتا ہے۔ بار بار کہی گئی باتوں کو دہرانے سے کوئی لیڈر بڑا اور کسی وزیر اعظم کا اقتدار ’پکا‘ نہیں ہوسکتا۔ یہ کام اپنی غلطیوں کی تفہیم اور ان کی درستی سے ہی ہو سکتا ہے۔ عمران خان کو کامیابی کے لئے جمہوری قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ انتظامی کوتاہیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے اس معاملہ فہمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس تقریر کو سننے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ سیاسی بحران کی افواہوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا اور ملک کی معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔ تفصیل جاننے کے لئے وزیر اعظم کے الفاظ پڑھنا کافی ہوگا۔ اپنی حکومت، وزیروں اور ساتھیوں کی مدح سرائی کے بعد وزیر اعظم نے ارشاد کیا:

’کراچی اسٹاک ایکسچینج کی منصوبہ بندی بھارت میں کی گئی تھی۔ دشمن اس حملہ میں ناکام ہوگا اور ہماری ایجنسیاں چوکس ہیں۔

ملک کے مسائل کی ذمہ دار سابقہ حکومتیں ہیں جنہوں نے قرضے لئے اور ان کی اقساط ادا کرتے تحریک انصاف کی کمر دوہری ہو چکی ہے۔

اپوزیشن کی کوئی حیثیت نہیں، اس لئے مجھ پر ان کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ لوگ صرف بدعنوان ہیں اور انہیں یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ اگر تحریک انصاف نے پانچ سال مکمل کرلئے تو یہ اپنا کالا دھن کیسے چھپائیں گے۔

قومی اداروں میں سیاسی بھرتیاں کر کے ان کا بیڑا غرق کیا گیا ہے۔ لہذا عوام جان لیں کہ اگر اسٹیل مل سے لوگ نکالے گئے یا پی آئی اے پر پابندیاں لگ رہی ہیں اور دنیا بھر میں اس کے پائلٹ گراؤنڈ کئے جارہے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی سابقہ حکومتوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ’آؤ میرے ساتھ مل کر اپوزیشن کا گریبان پکڑو اور اس پاکباز حکومت پر انگشت نمائی سے باز رہو‘۔

معیشت کو تباہ کرنے میں جو کسر باقی رہ گئی تھی اسے ملک کے مافیاز اور کارٹلز نے پورا کردیا۔ یہ لوگ اس ملک سے دولت کماتے ہیں لیکن ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ اب یہ بھی ہماری حکومت کے دشمن ہو چکے ہیں کیوں کہ ہم نے ان کی گرفت کی ہے۔ شوگر مافیا کو ہی دیکھ لیں۔ اس نے 29 ارب روپے کی سبسڈی لی اور صرف 9 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ شکر مہنگی کر کے عوام کو لوٹتے ہیں۔ اس میں بھی زرداری اور شریف خاندان سر فہرست ہیں۔ ان کو نہیں چھوڑوں گا۔

مجھے کوئی خوف نہیں ہے کیوں کہ میں اپنے گھر میں رہتا ہوں، اپنا خرچہ خود برداشت کرتا ہوں۔ اقتدار آنی جانی چیز ہے لیکن میرے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

وزیر اعظم سے دست بستہ یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ تقریریں دہرا کر 20 ماہ تو گزارے جا سکتے ہیں، پانچ سال تک اقتدار میں رہنا مشکل ہو گا۔ سیاست دشمنیاں پالنے اور نباہنے کا نام نہیں ہے۔ سیاست مفاہمت و مصالحت سے مل جل کر مسائل کے حل نکالنے کا نام ہے۔ عمران خان مواصلت کے راستے بند کرکے اور دھمکیاں دے کر خود اپنی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1572 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *