گنجلگ اعداد و شمار کا کھیل نہ کھیلیں!


عوام پر پیٹرول بم گرا تو حکومتی ترجمانوں نے حسب روایت دفاع کیا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جائز کہتے خطے کے دیگر ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اب بھی پیٹرول کی قیمت دوسرے ممالک کے مقابلے میں کئی گنا کم ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ منگول جب کسی ملک پر حملہ کرتے تو اسے تباہ و برباد کر دیا کرتے تھے، کسی بھی ملک کے دفاعی لائن کو توڑنے میں منگولوں کو کمال کا ملکہ حاصل تھا، لیکن ان کی ایک بڑی کمزوری بھی تھی کہ ان کا اپنا دفاع کمزور تھا، اگر پوری طاقت سے منگولوں پر حملہ کیا جاتا تو وہ دفاع نہیں کرپاتے اور پسپا ہوجاتے۔ یہاں منگولوں کی تاریخ بیان کرنا مقصود نہیں ہے، لیکن احساس ضرور ہوتا ہے کہ بہت کچھ تباہ و برباد ہورہا ہے اور اس کا دفاع کرنے والوں کو بھی اب پریشانی کا سامنا ہے کہ وہ کن کن اقدامات کو جائز قرار دے کر دفاع کرتے رہیں گے۔

پاکستان میں واقعتاً وہ سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہے، جو اس سے قبل پہلے کبھی نہیں ہوا۔ پیٹرول کی قیمتوں کا موازنہ پیش کرتے وقت ترجمانوں کو دیگر مثالیں بھی عوام کو دینی چاہیے تھی کہ جیسے پاکستان میں ڈالر کا ریٹ 168.33 روپے ہے، بھارت میں 75.55 روپے، بنگلہ دیش میں 85.21 ٹکا، افغانستان میں 77.45 افغانی اور چین میں 7.07 ین ہے۔ اس سے معیشت اور مہنگائی کا اندازہ لگانے میں دشواری نہیں ہوگی۔ گنجلگ اعداد و شمار میں پڑنے کے بجائے دو اور دو چار کی بات کرتے ہیں۔

جی ڈی پی کے دو اقسام ہیں، پہلی برائے نام جی ڈی پی جس کا حساب سہ ماہی بنیاد پر، دوم حقیقی جی ڈی پی جس کا حساب ایک سال سے دوسرے برس تک کیا جاتا ہے، یعنی جی ڈی پی ملک میں تمام لوگوں اور کمپنیوں کے ذریعہ تیارکردہ ہر چیز کی کل قیمت ہے، نجی و عوامی کھپت، سرمایہ کاری، نجی انوینٹریز، ادائیگی میں تعمیراتی اخراجات و تجارت میں غیر ملکی توازن، جسے سیدھے میں دوہرایا جائے تو جی ڈی پی کسی بھی ملک کی معاشی سرگرمی کی ایک وسیع پیمائش کو کہا جاتا ہے۔ جی ڈی پی کا حساب عام طور پر سالانہ بنیادوں پر کیا جاتا ہے، لیکن اس کا حساب سہ ماہی بنیاد پر بھی ہوتا ہے۔ جی ڈی پی فارمولا اجزاء میں ذاتی استعمال کے اخراجات، پلس کاروبار میں سرمایہ کاری کے علاوہ حکومت کے اخراجات جمع (برآمدات مائنس امپورٹس شامل ہیں۔

گروس ڈومیسٹک پراڈکٹ (جی ڈی پی) کسی مخصوص مدت میں کسی ملک کی حدود میں پیدا ہونے والے تمام تیار سامان اور خدمات کی مالیاتی قیمت ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار کے مطابق جی ڈی پی کی حقیقی شرح نمو میں پاکستان کی شرح منفی۔ 1.5 ہے، جبکہ بھارت کی 1.9 فیصد، بنگلہ دیش کی شرح نمو 2 فیصد، افغانستان کی منفی۔ 3 فیصد اور چین 1.2 فیصد ہے۔ ایک طویل ترین فہرست بھی موجود ہے کہ پاکستان میں کن کن اشیا خورد و نوش کی قیمتیں دوسرے ممالک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں، فی کس آمدن سالانہ کی شرح کیا ہے، غربت کی حقیقی شرح کتنی ہے، کتنے کروڑ لوگ بھوکے سوتے ہیں، کتنے کروڑ بچوں کو تعلیم دستیاب نہیں، کتنے کروڑ انسانوں کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ اعداد و شمار کے اس گورکھ دھندے میں پڑیں گے تو کسی کو بھی جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔

دونوں ایوان کے اراکین کے تنخواہو ں اور تمام صوبوں کے ممبران کو دی جانے والی مراعات و تنخواہوں کے اعداد و شمار سامنے آئے، جسے ایک عام پاکستانی پڑھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اخراجات میں اتنے صفر ہیں کہ اسے گننے میں ہی معاشی رگ جواب دے جاتی ہے۔ بلوچستا ن کے 65 رکن اسمبلی میں فی کس تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار، خیبر پختونخوا کے 145 رکنی ایوان میں فی ممبر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے، سندھ کے 168 ایوان میں فی رکن ایک لاکھ 75 ہزار روپے، پنجاب کے 371 ممبران میں فی کس دو لاکھ پچاس ہزار روپے، قومی اسمبلی کے 342 رکنی ایوان کے فی ممبر کی ماہانہ تنخواہ تین لاکھ روپے جبکہ سینیٹ کے 104 رکنی ایوان کے فی رکن کو چار لاکھ روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ اس حساب سے ٹوٹل تنخواہیں فی ماہانہ 29,622,5000 روپے جب کہ سالانہ 3,554,700,0000 بنتی ہے۔ مختلف اجلاسوں کے اخراجات اور بونس ملا کر سالانہ خرچ 85 ار ب کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر اراکین ٹیکس بھی برائے نام دیتے ہیں۔

سینٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی سمیت صدر، وزیراعظم، گورنر و وزیر اعلیٰ ہاؤسز، ہاؤس رینٹ، گاری، تیل گھر کے بل، فری ٹکٹ، بیرون ملک دورے اور رہائش کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ نیز جب اجلاس منعقد ہوتے ہیں اس کے جتنے اخراجات اٹھتے ہیں، اس کا تصور بھی کسی غریب شخص کو عارضہ دل میں مبتلا کر سکتا ہے۔ عوام کے ساتھ اعداد و شمار کا کھیل مت کھیلیں، کیونکہ جس دن عوام نے حساب کتاب شروع کر دیا، تو خدانخواستہ جواب دینا بڑا مشکل ہو جائے گا۔

حضرت ابوبکرؓ جب خلیفہ اول منتخب ہوئے تو ان کے سامنے نظام و انصرام کے ساتھ خلیفہ کی تنخواہ کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ جس کا سادہ ترین حل انہوں نے یہ دیا کہ کہ آپ لوگ میری تنخواہ مدینہ کے ایک مزدور کے برابر مقرر کر دیں، اس پر ساتھیوں نے عرض کہ جناب مزدور کی تنخواہ تو بہت کم ہوتی ہے اس پر آپ کا گزارہ نہیں ہو گا، تب اسلامی تاریخ کے اس سب سے پہلے اور بڑے حکمران نے آنے والے حکمرانوں کے لیے یہ تاریخی جملہ کہا اور ایک اسلامی حکومت کے بجٹ کا فیصلہ بھی کر دیا کہ پھر مزدور کی تنخواہ بڑھا دی جائے اس طرح میری تنخواہ بھی خود بخود بڑھ جائے گی اور میری ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔ یہ بڑا سیدھا سادہ فارمولا ہے، عنان حکومت کے ارباب اختیار جس دن اپنی تنخواہ و مراعات ایک عام مزدور کے برابر کردیں گے تو اس دن ریاست مدینہ کی جانب پہلا بنیادی قدم اٹھا لیا جائے گا۔ جب تک عام محنت کشوں کے مسائل و مشکلات کا ادارک نہیں ہوگا تو اس وقت تک انصاف و فلاح ملنا ممکن نہیں۔

ویسے تو ان گنت مثالیں ہیں، جیسے لکھنے لگوں تو صفحے کم پڑ جائیں۔ قوم سے اعداد و شمار کا کھیل کسی بھی حکومت کو مشکل میں ڈال سکتا ہے، کیونکہ وہ صرف اپنے گھر میں عزت کی دو وقت کی روٹی ہی کھانا چاہتا ہے۔ خالی خزانہ عوام نے نہیں، بلکہ ان لوگوں نے کیا، جنہوں نے ان پر اعتماد کرکے ایوانوں میں بھیجا، ان کے زیر سایہ کرپٹ بیورو کریٹ نے خزانہ لوٹا، کرپشن کی سزا کو باعث عبرت بنا دیں، عوام کو ان کا حق دیں، کیونکہ یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔

Facebook Comments HS