ملکی اصلاح کا احساس جاگنے تک دیر نہ ہو جائے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیریوں کی خصوصاً گزشتہ تیس سال سے جاری آزادی کی مزاحمتی تحریک کے مطالبات کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جیسے کوئی بچہ کھیلنے کے لئے چاند کو اپنے ہاتھوں میں دیے جانے کی فرمائش کرے، بلکہ یہ تقسیم برصغیر کے بعد ریاست جموں و کشمیر سے متعلق ہندوستان، پاکستان اور اقوام متحدہ کی طرف سے کئی بار کیے گئے عہد ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کشمیریوں کی رائے کے مطابق کیا جائے گا۔ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ اور ہندوستانی حکومت کے درمیان الحاق نامے اور گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی منظور ی میں بھی مشروط طور پر یہ بات شامل تھی کہ حالات معمول پر آتے ہی کشمیریوں کی رائے سے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک سال سے زائد عرصہ جاری رہنے والی جنگ کشمیر کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے متعین کردہ کمیشن کی قرار دادوں میں بھی مسئلے کا حل، ہندوستان اور پاکستان کی پیشگی منظوری کے بعد، رائے شماری ہی قرار دیا۔

1971 کی جنگ کے بعد طے پائے شملہ سمجھوتے میں مسئلہ کشمیر باہمی طور پر مذاکر ات سے حل کرنے کا اقرار کیا گیا اور تقریباً دو، تین سال پہلے تک ہندوستانی حکومت کا عالمی سطح پہ یہی کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے ساتھ باہمی طور پر حل کیا جائے گا۔ 5 اگست 2019 کو ہندوستانی حکومت نے پراسرار اور ڈرامائی طور پر تمام علاقائی اور عالمی سطح پر کیے گئے عہد بالائے طاق رکھتے ہوئے، متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے ہندوستان کا باقاعدہ اور مکمل طور پر حصہ بنا دیا۔

اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں ہندوستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں کو بڑی تعداد میں جموں وکشمیر کے ڈومیسائل کی فراہمی شروع کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں آبادی کی مذہبی بنیادوں پر اکثریت تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ انڈیا کے فوجی کارروائیوں سمیت ایسے جارحانہ اقدامات ہیں جس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کے کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان انتظامیہ کی طرف سے کشمیریوں کو عملی طور پر ہندوستان کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے اور کشمیر کاز کے معاملے کو ”لو پروفائل“ میں لینے کے حکمت عملی ملکی سلامتی اور بقاء کے لئے سنگین خطرات کا موجب ہو سکتی ہے۔

دسمبر 2000 میں لال قلعہ حملہ، دسمبر 2001 کو انڈین پارلیمنٹ پر حملہ اور نومبر 2008 کو ممبئی حملہ۔ ان تینوں واقعات سے کشمیریوں کی آزادی کی مزاحمتی تحریک اور خود پاکستان کو عالمی سطح پر تباہ کن اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حملوں سے انڈیا کو ناقابل تصور فوائد اور پاکستان اور کشمیریوں کو ناقابل تصور نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔ ان تینوں واقعات سے پاکستان کو کشمیر سے متعلق پسپائی اختیار کرتے ہوئے معذرت خواہانہ طرز عمل ا اپنانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ ایسے اقدامات کرانے والے عناصر کون ہیں اور کس کی طرف سے کس کی خدمت میں پاکستان اور کشمیریوں کی تحریک کے لئے مہلک نتائج والے واقعات رونما ہوئے۔

مشرف دور میں آزاد کشمیر سے کشمیری فریڈم فائٹرز کے کیمپ ختم کرنے اور انڈیا کو کشمیر کو جبری طور پر تقسیم کرنے والی سیز فائر لائن ( لائن آف کنٹرول) پر باڑ کی تعمیر کی اجازت دینے اور کشمیر میں اپنی مداخلت نہ ہونے کی صفائیاں دینے کے پسپائی کے طرز عمل سے کمزوری کا کھلا اظہار کیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں انڈیا کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے چار نکاتی فارمولے کا بڑا چرچا کیا گیا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ انڈیا مسئلہ کشمیر کے اتفاق کردہ اس حل پر عملدرآمد نہیں چاہتا تھا۔

انڈیا نے پہلے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کا بہانہ بنایا اور پھر ایسے کسی معاہدے سے ہی دستبردار، لاتعلق ہو گیا۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کی نیت کو اگر بری الذمہ قرار دے بھی دیا جائے، تب بھی یہ بات حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے کہ کشمیر سے متعلق کچھ نہ کرنے کی حکمت عملی کشمیریوں کے خلاف ہندوستان کو پاکستان کی طرف سے سہولت کاری کے طور پر نمایاں ہو رہی ہے۔

اگر پاکستان میں اقتدار کی سیاست کی کشمکش جاری و ساری نہ رہتی، مقدم نہ قرار دی جاتی تو اس سے پاکستان کے حالات اور اعتماد میں بہت بہتری ہو سکتی تھی۔ لیکن ملک میں نامعلوم اہداف کے حصول کے لئے ناگزیر ہے کہ ملک کے اندر چاہے جس شعبے میں بھی محاذ کھولنے پڑیں، وہ کھولنے ضروری ہیں لیکن ہندوستان کی ساتھ صرف امن کی ہی خواہش اور کوشش ہے۔ اسی طرز فکر و عمل کو دیکھتے ہوئے ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی نئی مثالیں قائم کرتے ہوئے آزاد کشمیر و گلگت بلتستان پہ فوجی حملہ کی جارحیت پر آماددہ نظر آتا ہے۔

”کوئی بھی یا تو دوست ہے یا دشمن“ کی پالیسی سرحدوں پر تو کامیابی سے چل سکتی ہے لیکن ملک کے اندر دوست یا دشمن کی محدود اصطلاح کا استعمال ملک کی بنیادوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ ملک کے اندر کے سنگین مسائل سے آزاد عوامی سیاست ہی بخوبی نبر د آزما ہو سکتی ہے۔ طاقت کی بنیاد پر تھونپے گئے فیصلوں کی اخلاقی اہمیت نہیں رہتی اور ناہی طاقت کی بنیاد پر زبردستی تسلیم کرائے گئے فیصلے دیرپا ہو سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ پاکستان میں حاکمیت و اقتدار کا تعین آئین کی روح کے مطابق قائم کیے جانے کا معاملہ ملک کی سلامتی اور بقاء سے مربوط ہو چکا ہے۔ اب بھی اگر ملک کے ہر شعبے کو شدید طور پر متاثرکرنے والے اس معاملے کے اطلاق کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے نہ اپنایا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ جب اصلاح کا احساس پیدا ہو تب اصلاح سے مستفید ہونے کا وقت گزر چکا ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply