1985 کا چین: دانشور کی بحالی اور معیشت کی نمو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسے حسن اتفاق ہی کہنا چاہیے کہ ادھر میں نے چین کے بارے میں اپنی یادداشتیں قلم بند کرنا شروع کیں، ادھر مجھے محمد کریم احمد کا سفر نامہ ”چین سے چین تک“ موصول ہوا۔ وہ 2015ء سے 2018ء تک چین میں رہے اور چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس میں کام کیا۔ ہمارے باہمی رابطے کا ذریعہ چانگ شی شوان (انتخاب عالم) بنے جو ہمارے بہترین فیملی فرینڈ ہیں۔ گزشتہ قسط میں پاکستان ایمبیسی اسکول اور کالج میں ملازمت کے بارے میں آپ کو بتا چکے ہیں۔ محمد کریم احمد کی کتاب کے ذریعے ہمیں علم ہوا کہ 2019 ء میں اس اسکول اور کالج کی گولڈن جوبلی منائی گئی۔ یہ کالج 1969ء میں قائم ہوا۔ یہ چین کا پہلا انٹر نیشنل کالج ہے جو کہ چینی حکومت کی درخواست پر کھولا گیا تھا۔ محمد کریم احمدصاحب کے قیام کے دوران باسٹھ مختلف قومیتوں کے بچے وہاں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ وہاں فیڈرل بورڈ کے سلیبس کے مطابق میٹرک اور ایف ایس سی جب کہ کیمبرج یونیورسٹی کے تحت اے اور او لیول کے امتحانات ہوتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں صرف انٹرتک کے امتحانات ہوتے تھے۔ ہماری بیٹی فیفے کے وہاں سے انٹر اور رمیز کے آٹھویں پاس کرنے کے بعد ہم پاکستان واپس آ گئے تھے۔

1985 میں چین کے ماہرین اقتصادیات اس سوال پر غور کر رہے تھے کہ چین 2000 ء میں کیسا ہو گا؟ اس کے بارے میں اخبارات میں چار سو ماہرین اقتصادیات کی پیشگوئیاں شائع ہوئی تھیں۔ جن کے مطابق اس وقت چین کی آبادی ایک اعشاریہ پچیس بلین ہو گی۔ معیار زندگی کہیں زیادہ بلند ہو چکا ہو گا اور چین اقتصادی لحاظ سے دنیا کی پانچویں یا چھٹی بڑی طاقت بن چکا ہو گا۔ 1985 میں چین آٹھویں پوزیشن پر تھا اور انہیں امید تھی کہ تب تک چین اور ترقی یافتہ دنیا میں پائے جانے والا سائنسی اور تکنیکی تفاوت بہت حد تک کم ہو چکا ہو گا۔ قومی معیشت کے دروازے باقی دنیا کے لئے کھول دیے جائیں گے۔ ماہرین کے نزدیک اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا اور ہر ایک کو روزگار مہیا کرنا اور تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کو معیشت کی ترقی کی رفتار کے ہم پلہ کرنا ہو گا۔

آج دنیا چین کی اقتصادی ترقی کا لوہا مانتی ہے لیکن کوئی چالیس برس پہلے جب اقتصادی اصلاحات نہیں ہوئی تھیں تو چین کی حالت اس سگھڑاور کفایت شعار بیوی کی سی تھی جو شوہر کی کم آمدنی کی وجہ سے سال میں صرف دو جوڑے سلواتی ہے اور روکھی سوکھی کھا کے ضروری اخراجات پورے کرتی ہے۔ ”چین عالمی معیشت سے کٹا ہوا تھا۔ اس کی معیشت غریب، جامد اور حکومت کے کنٹرول میں تھی“ ۔ اسی چین کو جب غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارت کے لئے 1979 میں کھول دیا گیا تو معیشت نے اس تیزی سے ترقی کی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ 2018 میں اس کی سالانہ مجموعی داخلی پیداوار کی شرح نمونو اعشاریہ پانچ فی صد تھی۔ ورلڈ بینک نے اسے تاریخ میں کسی اہم معیشت کا تیز ترین پائیدار پھیلاؤ قرار دیا تھا۔ چینی حکومت نے اپنی اقتصادی منصوبہ بندی میں ’اختراع‘ کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔

بہر حال 1985 میں داخلی مارکیٹ میں ترقی کے ثمرات نظر آنا شروع نہیں ہوئے تھے۔ سڑکوں پر بہت کم کاریں نظر آتی تھیں جب کہ سائیکلیں بہت زیادہ نظر آتی تھیں۔ اکثر چوڑی شاہراہوں اور پلوں پر سائیکل سواروں کے لئے الگ سے راستہ بنا ہوتا تھا۔ نہ بھی بنا ہو تو سائیکل سوار سڑک کے کنارے پر ہی رہتے تھے اور درمیان میں بھاری ٹریفک چلتا رہتا تھا۔ اکثر سائیکلوں کے ڈنڈوں پر بید کی ایک چھوٹی سی کرسی لگی ہوتی تھی جس پر کوئی منے میاں یا منی صاحبہ مزے سے براجمان ہوتے تھے لیکن خاص چیز وہ بچہ گاڑی تھی جو سائیکل کے ساتھ منسلک کردی جاتی تھی۔ یہ لکڑی کا ایک ڈبہ ہوتا تھاجس کے اوپر شیشے کا ہڈ لگا ہوتا تھا۔ اس کے اندر بیٹھا ہوا بچہ ہوا کے تھپیڑوں سے محفوظ رہتا تھا اور مزے سے باہر کا نظارہ بھی کر سکتا تھا۔

چینی کھانے تو پاکستان میں بے حد مقبول ہیں لیکن بیجنگ کے چینی کھانے ان کھانوں سے جو ہم پاکستان کے چینی ہوٹلوں میں کھاتے ہیں سے خاصے مختلف تھے اور چکن کارن سوپ سے تو وہ لوگ واقف ہی نہیں تھے۔ وہاں کھانوں میں بھنی ہوئی بطخ جسے وہ لوگ ”پیکنگ ڈک“ کہتے ہیں کو خاص ڈش کا درجہ حاصل ہے اور اسے اہم تقریبات کے موقع پر آرڈر پر تیا کیا جاتا ہے۔ آج کل تو ہمارے ہاں فون پر آرڈر کر کے گھر کھانا منگوانا ایک عام بات ہے لیکن 1985 میں جب بیجنگ کے ایک ریستوران نے آرڈر پر گھروں میں پیکنگ ڈک بھجوانے کا انتظام کیا اور اس کے لئے ایک لڑکی کو ملازم رکھاتو اخبارات نے اس کے انٹرویو شائع کیے کیونکہ وہ پہلی لڑکی تھی جو یہ کام کر رہی تھی۔ شروع میں وہ بہت خوفزدہ تھی کہ پتا نہیں کیسے لوگوں سے واسطہ پڑے، اس لئے چند روز تک ریستوران کا ’ہٹا کٹا‘ خانساماں اس کی حفاظت کے خیال سے ساتھ جاتا رہا لیکن جب اس نے گاہکوں کو بہت خوش اخلاق اور با مروت پایا تو تنہا جانے لگی۔

ہم ستمبر میں بیجنگ پہنچے تھے، جلد ہی سردی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ پہلی مرتبہ ہم نے صفر سے نیچے درجۂ حرارت کا مشاہدہ کیا۔ گھر سے باہر نکلتے تو یوں لگتا کہ کسی وسیع و عریض کولڈ اسٹوریج میں چل رہے ہیں، 4 دسمبر کو وہاں موسم کی پہلی برفباری ہوئی۔ ہم اسکول کے اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک کسی نے آکر اطلاع دی کہ باہر برف باری ہو رہی ہے۔ ”ہائے واقعی؟ ہم سب کھڑکیوں کی طرف لپکے۔ ۔ ۔ باہر روئی کے چھوٹے چھوٹے گالوں کی شکل میں برف گر رہی تھی۔ بچوں نے بھی اپنی زندگی میں پہلی بار برف باری دیکھی تھی۔ گھر پہنچ کر انہوں نے سامنے والے میدان میں سنو مین بھی بنایاجس میں احفاظ نے بھی ان کا ہاتھ بٹایا۔

ہم جب سے چین پہنچے تھے۔ اخبارات میں دانشوروں کی بحالی کی خبریں پڑھتے رہتے تھے۔ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ثقافتی انقلاب کے دوران دانشوروں سے اچھا سلوک نہیں کیا گیا تھالیکن دینگ حکومت ان زیادتیوں کی تلافی کر رہی تھی۔ ذیل میں ہم قارئین کی دلچسپی کے لئے نومبر 1985 میں چائنا ڈیلی کی ایک خبر کا تراشا پیش کر رہے ہیں۔ یہ خبر پیپلز ڈیلی میں بھی شائع ہوئی تھی: ”وہ مقام جو ثقافتی انقلاب کے آشوب میں ختم ہو گیا تھا، اب پارٹی کی پالیسی کے ذریعے چیانگسو صوبے کے دانشوروں کو بڑی حد تک دوبارہ حاصل ہو گیا ہے۔

اس صوبے میں ریٹائرڈ کیڈروں کے بارہ گروپ منظم کیے گئے تھے جنہیں دانشوروں کی آرا معلوم کرنے کے لئے بھیجا گیا اور پتا چلا کہ ثقافتی انقلاب کے دوران ہونے والی نا انصافیوں کی۔ کافی حد تک بلکہ پورے طور پر اصلاح ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ثقافتی انقلاب کے دوران جن نجی مکانوں پر قبضہ کیا گیا تھا، ان میں سے چھیانوے فی صد واپس کر دیے گئے ہیں۔ صوبے کے سرکاری اداروں میں 74 فی صد اہم عہدوں پر دانشور فائز ہیں۔

پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے دانشوروں کی تعداد میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال چودہ ہزار دانشوروں کا پارٹی میں اندراج ہوا تھاجو نئی مجموعی رکنیت کا 29 فی صد تھا۔“ تحقیقاتی گروپس نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ثانوی اور پرائمری اسکولز کے اساتذہ کی رہائشی ضروریات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے لئے طبی سہولتوں کی فراہمی کو آسان بنانے پر بھی زور دیا گیا تھا۔ (جاری ہے )

اس سیریز کے دیگر حصےچین 1985 میںچینی من بھاتا نہیں صحت بھاتا کھاتے ہیں
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply