ترک اساتذہ: حماقت نہ کی جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"wisi-baba\"

امریکہ میں ٹریڈ ٹاور تازہ تازہ نشانہ بنے تھے۔ پشاور میں رنگ برنگے صحافی دوڑے پھر رہے تھے۔ ہمیں کسی مذہب بیزار سے قابئلی کا انٹرویو کرنا تھا۔ اپنے ایک دوست کے بڑے بھائی کا خیال آ گیا۔ موصوف نے دنیا دیکھ رکھی تھی۔ ہم وطنوں کی جہالت پر مستقل کڑھتے رہتے تھے۔ لڑائی جھگڑوں سے تنگ تھے۔ افغان لڑائی اور ملا سے خصوصی دشمنی رکھتے تھے۔

ان کا انٹرویو ہوا بڑا اچھا ہوا۔ انٹرویو کرنے والے بھی بڑے خوش تھے۔ فارغ ہو کر جب ہم لوگ چائے پی رہے تھے۔ اچانک گورے صحافی نے پوچھا کہ ملک صاحب تمھارے اسامہ کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔ انہوں نے فصاحت بلاغت کے ساتھ اپنے خیالات بیان کر دیے۔ جو نہ بتائے جا سکتے ہیں نہ لکھے جا سکتے ہیں۔

شیطان نے کان میں بے وقت پھونک ماری، ہم نے اپنی ساری انگریزی اکٹھی کر کے ملک صاحب سے پوچھا کہ اگر اسامہ آج رات آپ کے پاس پناہ کے لئے آ جائے تو پھر۔ ملک صاحب کی آنکھیں اچھی طرح لال ہو گئیں پوری طرح غصے میں آ گئے۔ اس کے بعد بولے کہ اسے پناہ دونگا اور کیا کروں گا۔ گوروں کے لئے یہ جواب انتہائی غیر متوقع تھا۔ جب وہ اس جواب کے صدمے سے باہر نکلے تو انہوں نے پوچھا لیکن ابھی جو اپنے خیالات ظاہر کیے اس کے بعد یہ پناہ دینے والا خیال میچ ہی نہیں کرتا۔

ملک صاحب نے جواب دیا خیالات اصلی ہیں وہی ہیں نہیں بدلے۔ پر کیا کریں ہماری کچھ روایات بھی ہیں۔ دشمن جب چل کر جب دروازے پر آ گیا پناہ کے لئے تو نہ ہمارے لئے ہمارے خیالات کی اہمیت نہ نتائج کی۔ اہمیت بس ایک ہی ہے کہ ہماری روایت ہے کہ پناہ دی جائے گی۔ جواب حتمی تھا سن کر سناٹا چھا گیا۔ وقفے کے بعد گورے صحافی نے پوچھا اگر اسی اسامہ کے پیچھے پیچھے اس کو پکڑنے کے لئے فوج آ گئی تو مارے جاؤ گے۔ ملک صاحب نے اطمینان سے قہوے کی چسکی لی اور کہا پھر مرنا پڑے گا ہمیں۔ اس مرنے کی میں مزے کی بات یہ ہے کہ مریں گے بھی غلط مقصد کے لئے لیکن اپنی روایت کے احترام میں۔ ہم نہیں چاہتے کہ سو سال بعد بھی ہمارے خاندان کو یہ طعنہ ملے کے ہمارے قبیلے میں یہی گھرانا بے غیرت تھا۔

اس سوچ کا بہت بڑا حصہ ہے فاٹا کی تباہی میں، خیر۔\"pak-turk-school\"

پناہ دینے کی یہ روایت پاکستان کے ہر علاقے میں موجود ہے۔ اس کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ ہم پھر ایک ایسی ہی مشکل صورتحال کا شکار ہیں۔ جس کا غلط اندازہ لگایا گیا تو بڑے نقصان کا باعث بنے گی۔

ترک سکولوں کے ترک سٹاف کا کیا معاملہ ہے پوری طرح نہیں معلوم۔ لیکن جس انداز سے ترک سٹاف کو چند دن کا نوٹس دے کر ملک سے رخصت ہونے کو کہا جا رہا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ پاکستانیوں کی دوستی ترک عوام سے ہے۔ ان کے آپس میں کیا سیاسی اختلافات ہیں ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے لئے سب ہی محترم ہیں۔

نوازشریف اگر ترک صدر کو خوش کرنے کے لئے ایسا کر رہے ہیں تو برا کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو مناسب ٹائم دیا جائے اگر وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو رہنے دیا جائے۔ ہمیں ترک صدر کو بتا دینا چاہیے کہ ہم آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن آپ لوگوں کی اندرونی لڑائیوں میں ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں ترک لوگوں کو غلط پیغام نہیں دینا چاہیے کہ ہم وہاں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ پیغام ہم نے افغانستان میں دیا تھا آج تک بھگت رہے ہیں۔

افغانستان میں ہم نے پختونوں کو اپنا بنانے کے چکر میں پختون جہادیوں کو ترجیح دی۔ غیر پختوںون کو تو ناراض کیا ہی سارے پختونوں کو بھی حامی نہ بنا سکے۔ ہم ہمیشہ یہ سنتے رہیں گے کہ ہم نے ملا عبدالسلام ضعیف کو امریکیوں کے حوالے کیا تھا جب کہ وہ ہمارے پاس تب تک کی جائز حکومت کے سفیر تھے۔\"\"

نوازشریف ہمارے وزیراعظم ضرور ہیں لیکن ہمارے سسٹم میں طاقت کا واحد مرکز نہیں ہیں۔ ہماری اپوزیشن رائے عامہ میڈیا عدالت اور ریاستی ادارے بھی اتنے ہی اہم اور موثر طاقت کے مراکز ہیں۔ اس مسلے کو باعزت طریقے سے حل کیا جائے۔

ترکوں کو پتہ لگے کہ ہمارا تعلق ان کے ساتھ ہے جس کا کوئی تعلق وقتی حالات اونچ نیچ کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ دو اقوام کے تعلقات ہیں پاکستان ترکی میں دو اکثریتی گروہوں کے مطلبی اور وقتی تعلقات نہیں ہیںْ۔

تین چار سو ترکوں کو بیک وقت اس طرح سے نکالنا ہمارے گلے پڑے گا۔ طیب اردوان ان کی پارٹی نے ہمیشہ نہیں رہنا۔ پاکستانیوں اور ترکوں نے ہمیشہ رہنا ہے۔ ہم ایک طعنہ کیوں سنیں اور ان کی اندروںی لڑائی میں حصہ دار کیوں بنیں۔ یہ ترک ہمارے مہمان ہیں۔ ترکی میں جاری سیاسی کشمکش سے پہلے کے یہاں موجود ہیں۔ ہماری سرزمین پر کسی قانون شکنی میں ملوث نہیں ہیں۔ نہ ہی پاکستان میں بیٹھ کر ترک حکومت کو ہلا رہے ہیں۔ مہربانی کریں عقل کو ہاتھ ماریں۔ ہم پاکستانیوں کو ہماری اپنی نظروں میں نہ گرائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 354 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “ترک اساتذہ: حماقت نہ کی جائے

  • 18/11/2016 at 1:36 am
    Permalink

    ماشاءاللہ بہت خوب لکھا ہے آپ نے۔ ہمارے ہاں عدلیہ سست روی سے کام لیتی ہے ۔ اور ویسے بھی قاضی اور عدالت شاہ کی باندی ہے۔ کوئی بہتر حل نہیں ہے اس معاملے کا؟

Comments are closed.

––>