پاکستانی نظام تعلیم کا پوسٹ مارٹم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پڑھنے سے پہلے یہ جان لیں کے یہ خالصتاً میری ذاتی رائے ہے جو میں نے پندرہ سال اس نظام میں بطور طالب علم رہ کر اخذ کی ہے۔ آپ میری رائے سے اختلاف کا حق تو رکھتے ہیں مگر اسے یکسر مسترد نہیں کر سکتے۔

ایک وہ وقت تھا جب انیسویں صدی میں سر سید احمد خان نے برطانیہ کا دورہ کر کے وہاں کے نظام تعلیم کا بغور مشاہدہ کر کے برصغیر کے مسلمانوں کو جدید نظام تعلیم مہیا کیا اور وہی علی گڑھ یونیورسٹی آج بھی ہندوستان میں اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔

اور دوسری طرف پاکستان کا موجودہ تعلیمی نظام ہے جس کا نہ سر ہے نہ پیر۔ چلئے اس کو ایک کہانی کے ذریعے سمجھاتا ہوں۔

ساڑھے تین سال کا بچہ جب اس نظام کے ہتھے چڑھتا ہے تو سب سے پہلے اس کے اندر سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو نکال پھینکنے کی جد و جہد شروع کر دی جاتی ہے۔ اور جماعت اول تک پہنچنے سے پہلے یہ کام بڑے ہی احسن طریقے سے مکمل کر دیا جاتا ہے۔ پھر اس بچے میں سوچنے سمجھنے کے بجائے یاد کرنے کے جرثومے داخل کیے جاتے ہیں اور ہر سبق کو من و عن یاد کرنے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔ بچے کو بچہ کم اور جانور زیادہ سمجھ کر ڈنڈے کے زور پر دھکیلنے کی کوشش کی جانے لگتی ہے۔

یہاں تک کے ریاضی کے استاد بھی فرمانے لگتے ہیں کہ سوال کا طریقۂ کار بھی وہی ہونا چاہیے جو میں لکھواؤں یعنی کہ ریاضی کو بھی رٹا لگانے کا حکم۔ پانچ چھ سالوں میں بھی جو بچہ یاد کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے اور سوچنے سمجھنے کو ہی ترجیح دے تو اسے ”فیل“ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اور باقی طلبا رٹا لگا کر جماعت نہم تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور یہاں ایک نیا مسئلہ جنم لیتا ہے۔

وفاق اور تمام صوبوں اور پھر صوبوں کے تمام بڑے شہروں کے الگ الگ تعلیمی بورڈز، الگ نصاب، الگ مطالعہ کی سکیم، الگ طریقۂ امتحانات، اور الگ الگ نتائج۔ ۔ ۔ مگر ایک چیز مشترک، کہ یہاں بھی سوچنے سمجھنے کے بجائے یاد کرنے کی صلاحیت کو ماپا جاتا ہے۔ جو طالب علم اچھے طریقے سے یاد کر سکتا ہے، وہ امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس ہو جاتا ہے اور جو زیادہ غور و فکر اور سوچنے سمجھنے پر دھیان دے، وہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔

بچے کو بس پڑھایا جاتا ہے، انسان کے بجائے مشین سمجھ کر اس میں چیزیں فیڈ کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ اسے یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے اس کو کہاں استعمال کرنا ہے۔ اصل زندگی میں اس کی کہاں اور کیا ضرورت پیش آ سکتی ہے، بلکہ اس کے لئے تو اصل مقصد ہی نمبروں کا حصول ہے۔ جو پڑھایا، بلکہ فیڈ کیا جاتا ہے، اس کو رٹا لگا کر من و عن اسی صورت میں پرچے پر اتار کر نمبر حاصل کر لئے جاتے ہیں اور خدا نخواستہ اگر کوئی بین الکتاب سوال امتحان میں رونما ہو جائے تو گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ جو برائے نام پریکٹیکل امتحان لئے جاتے ہیں، ان میں بیشتر طلبا نقل لگا کر گزارہ کر لیتے ہے اور یہ نمبر مفت کے تصور کیے جاتے ہیں۔

مگر پھر منظر یکسر بدل جاتا ہے، میٹرک اور انٹر کے چار سالوں میں رٹا لگانے والے طلبا کی اصل آزمائش اب شروع ہوتی ہے۔ جامعات کے داخلے کے لئے انہیں نہ تو اپنی فیلڈ کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے اشتیاق کا۔ سکوپ اور پیسے کی تلاش میں ایک شعبہ کا انتخاب کر لیا جاتا ہے اور اب جامعات کے داخلہ ٹیسٹ کا مرحلہ آن پہنچتا ہے جہاں پہلے ہی مرحلے پر اس رٹا لگانے والی مشین کو کمزور کانسیپٹس کی بنا پر فیل قرار دے دیا جاتا ہے اور اگر کسی بھی طریقے سے یہ وہاں سے کامیاب ہو نکلے تو ڈگری کے چار سال خواری کاٹتا ہے کیونکہ وہاں پر اس کی رٹے کی عادت اس کو دھوکہ دے جاتی ہے اور کانسیپٹس کام آتے ہیں۔ اساتذہ اکرام جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے لیکچر دے کر روانہ ہو جاتے ہیں اور باقی کام طالب علم کا۔ ایسے میں وہ لکیر کا فقیر کیا کرے۔ اور اسی طرح ”جی پی اے“ اور مجموعی طور پر ”سی جی پی اے“ کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔

اور پھر وہی ڈگری ہاتھوں میں لئے نوکری کہ تلاش شروع کر دی جاتی ہے مگر بے سود۔ ۔ ۔ ہر سال لاکھوں لوگ اس تعلیمی نظام سے باہر نکلتے ہیں مگر نوکری کے قابل ہزاروں بھی نہیں ہوتے۔ اور اس کے بعد گھر والوں کے طعنے، زمانے کے تھپڑ، در در کی ٹھوکریں، لمبا اور شدید ڈپریشن اور بالآخر خودکشی انجام ٹھہرتی ہے۔

لکھنے کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ یہاں آوے کا آوا ہی خراب ہے۔ ہمیں سب سے چھوٹے درجے سے شروع کرنا ہوگا اور تعلیمی نظام میں جدت لانے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف جدید نظام تعلیم کے ذریعے ہی ہم مندرجہ بالا مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں۔ یقیناً سو فیصد ایسا نہیں ہوتا مگر بیشتر حالات میں طلبا کو ان میں سے بہت کچھ جھیلنا پڑتا ہے۔ اس کی درستی کے لیے حکومت سے لے کر عام آدمی، تمام کو جد و جہد کرنا ہو گی۔ اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے اور ہماری قوم کو عروج۔ آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *