آپ خوش ہیں کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ایک کولیگ ہیں وہ جب بھی کسی سے ملتے ہیں تو سلام کے بعد حال پوچھنے کے لئے ان مخصوص الفاظ کا استعمال کرتے ہیں کہ آپ خوش ہیں؟ سننے میں یہ ایک عام سا جملہ لگتا ہے لیکن یہ جملہ سننے والے کے سامنے بہت سے سوال کھڑے کر دیتا ہے جواب دینے سے پہلے انسان کو سوچ میں مبتلا کردیتا ہے کہ کیا وہ واقعی خوش ہے؟

مجھ سے جب انہوں نے یہ سوال کیا توبڑے مختلف سے انداز میں حال پوچھنے پر میں نے بھی مختلف اندازمیں جواب دیا کہ کیا میں آپ کو خوش لگ نہیں رہی؟

کہنے لگے خوش لگ تو رہی ہیں لیکن خوش لگنے میں اور ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ بات تو ٹھیک تھی، میں نے پوچھا کہ آپ سب سے یہ کیوں پوچھتے ہیں کہ وہ خوش ہیں؟

کہنے لگے تا کہ اگلا بندہ یہ ضرورسوچے کہ کیا وہ واقعی خوش ہے؟ اور میں اس کے جواب میں سب کو یہ دعا دے سکوں کہ اللہ آپ کو خوش رکھے، کیا پتا کون سا وقت قبولیت کا ہو۔

ان سے اس سرسری سے ملاقات اور گفتگو کے بعد میں دیر تک اسی سوچ میں مبتلا رہی کہ کیا میں واقعی خوش ہوں اور یہ سوال کتنا اہم ہے جو ہم کسی سے پوچھتے ہی نہیں ہیں۔

ہم دوسروں سے وہی روایتی انداز میں حال پوچھتے ہیں اور لوگ بھی روایتی انداز میں جواب دے دیتے ہیں۔ لیکن چند مختلف الفاظ کا چناؤ کسی کی زندگی میں کتنی مثبت تبدیلی لا سکتا ہے، ہو سکتا کہ کوئی آپ سے اپنی پریشانی یا اپنی کسی مشکل کا ذکر کے کچھ اچھا محسوس کرے اور اگر وہ اظہار نا بھی کرے تو کم سے کم سوچے گا ضرور کہ کیا وہ واقعی خوش ہے اگروہ خوش نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے؟ کیا اس نے اپنی خوشیوں کو زندگی کے نشیب و فراز کی زنجیروں میں قید کر رکھا ہے، اپنی خوشیوں کو وسوسوں کے اندھیروں میں کھو دیا ہے یا ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھی سوچوں کے بھاری پتھر تلے دبا رکھا ہے جو اس کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ ؟

کیا وہ خوش ہونا ہی نہیں چاہتا؟ یا اسے لگتا ہے کہ خوشیاں اس کے مقدر میں نہیں ہیں؟

اگر آپ نا خوش ہیں تو یہ کیفیت آپ کی زندگی کے بیشتر معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے، بعض اوقات کوئی وقتی تکلیف یا پریشانی کی کیفیت آپ کی زندگی کی کسی اہم خوشی میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے یا اس کیفیت کے زیر اثر زندگی میں موجود خوشیا ں بھی نظرانداز ہو جاتی ہیں۔ ماہر نفسیات کے مطابق پچاس فیصد خوشی آپ کے جین میں ہوتی ہے، چالیس فیصد خوشی آپ کی سرگرمیوں پر منحصر ہے اور دس فیصد خوشیوں کا

تعلق ہماری روز مرہ کی زندگی سے ہوتا ہے

سرگرمیوں کی بات کی جائے تو خوش رہنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ وہ کریں جسے کرنے سے آپ کو خوشی ملے، بعض چیزیں بظاہردوسروں کے لئے خوشی کا باعث ہو سکتی ہیں مگر ضروری نہیں کہ ہر کسی کو اسی میں خوشی حاصل ہو اگر کسی کو دوست احباب سے ملنا اچھا لگتا ہے تو کوئی تنہائی پسند کرتا ہے اوراکیلے رہنا اس کے لئے سکون اور مسرت کا باعث ہو سکتا ہے، کوئی کتابیں پڑھ کر خوش ہوتا ہے تو کوئی موسیقی سن کر، کسی کو لانگ ڈرائیو پر جانے سے ڈپریشن سے چھٹکارا ملتا ہے تو کوئی پالتو جانوروں کے ساتھ وقت گزار کر خوشی محسوس کرتا ہے۔

اصل میں انسان کی خوشیوں کا تعلق اس کی زندگی میں موجود نعمتوں سے زیادہ اس کی اپنی سوچ سے ہے اس کے پاس جو ہے اگر وہ اسی سے مطمئن ہے تو وہ خوش رہے گا ورنہ کوئی بھی شے اسے متاثر کرنے سے محروم رہے گی

روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ناگہانی اموات کو دیکھا جائے تو آپ کو احساس ہو گا کہ زندگی کتنی غیر متوقع ہے اگلے ہی پل میں کیا ہونے والا ہے آپ نہیں جانتے اس لئے جو وقت آپ کے پاس ہے اسے آنے والے کل کی فکر میں خراب نا کریں مستقبل کی فکر کریں لیکن اس حد تک نہیں کہ آپ کے حال پر غالب آ جائے اور آپ کی خوشیاں ان ہی فکروں کے درمیان کہیں گم ہو جائیں۔ آپ کے حالات و اقعات آپ کے دل و د ما غ پر اثر انداز ضرور ہوتے ہیں لیکن ان سے مقابلہ کرنے کا بہترین حل یہ کہ آپ خود سے بھی زیادہ پریشانیوں کا شکار لوگوں پر نظر دوڑائیں تو آپ کو اپنی مشکلات یا پریشانیاں چھوٹی لگنے لگیں گی اور جب آپ ان نشیب و فراز کو زندگی کا حصہ سمجھنے لگیں گے تو یہ آپ کی خوشیوں کو زیادہ حد تک متاثر نہیں کریں گے

جو پل آپ کے پاس ہیں انہیں خوشی سے گزاریں۔ خوش رہیں اور دوسروں سے بھی پوچھتے رہیں کہ آپ خوش ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply