زیر زمین شہر مثالی شوہر اور شاہراہ ریشم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیجنگ کے جدید اور تاریخی مقامات کا ذکر تو آپ نے بہت سنا ہو گالیکن زیر زمین شہر کا ذکر شاید آپ نے نہ سنا ہو۔ دسمبر 1985 ء میں فرینڈ شپ ہوٹل میں رہنے والے مختلف ممالک کے ماہرین تین بسوں میں بھر کے بیجنگ کے پرانے بازار میں واقع خواتین کے ملبوسات کی ایک دکان میں گئے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاپنگ کے لئے قافلہ بنا کر جانے کی کیا ضرورت تھی تو اصل بات یہ ہے کہ ہم وہاں شاپنگ کے لئے نہیں گئے تھے بلکہ اس دکان سے بیجنگ کے زیر زمین شہر کو راستہ جاتا ہے۔

یہ ہوائی حملے سے بچاؤ کی پناہ گاہ ہے۔ اس زیر زمین شہر کی تعمیر 1969 ء میں شروع ہوئی اور یہ 1979 ء میں مکمل ہوا۔ یہ شہر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ زمین سے آٹھ میٹر نیچے واقع ہے اور دوسرا حصہ زمین سے پندرہ میٹر نیچے ہے اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یہ شہر اوپر دکانوں میں کام کرنے والے کارکنوں نے اپنے فارغ اوقات میں عام آلات کی مدد سے تعمیر کیا ہے۔ بعد میں پہلے حصے میں ڈپارٹمنٹل اسٹور کھول دیا گیا تا کہ وہاں آنے والے سیاح چین کی روایتی چیزیں خرید سکیں۔ اس حصے میں ابتدائی طبی مدد کا کلینک بھی تھا جسے بعد میں ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا، دوسرا حصہ جہاں لوگوں کی رہائش کا انتظام تھا، اسے گودام کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

ہوائی حملے کی صورت میں شہری پانچ منٹ کے اندر اندر وہاں پناہ لینے کے لئے پہنچ سکتے ہیں۔ اس زیر زمین شہر میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے نوے راستے ہیں۔ بیجنگ کے اسکولوں اور ہسپتالوں کے نیچے بھی ایسی پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں اور ساری پناہ گاہوں کو سرنگوں کے ذریعے آپس میں ملایا گیا ہے۔ اس زیر زمیں شہر میں ہوا کی آمد و رفت اور صفائی، پینے کے پانی کا انتظام اور کمیونیکیشن کی سہولتیں موجود ہیں۔ اس شہر میں دس ہزار افراد سما سکتے ہیں جب کہ بیجنگ کی ساری پناہ گاہوں میں پانچ ملین افراد کی گنجائش ہے۔ بہر حال خدا کرے کبھی جنگ کی نوبت نہ آئے اور یہ زیر زمیں شہر پر امن مقاصد کے لئے استعمال ہوتا رہے۔

قارئین ہمارے ہاں بھی مختلف اداروں میں کارکنوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ہر ماہ یا ہر سال کسی ایک کارکن کومثالی کارکن کا خطاب دیا جاتا ہے۔ لیکن جب ہم بیجنگ پہنچے تو وہاں ایک نئی روایت کی طرح ڈالی جا چکی تھی۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ چین میں عام طور پر خواتین ہی مثالی کارکن کا خطاب حاصل کرتی تھیں۔ چنانچہ ’مثالی کارکن‘ کا خطاب حاصل کرنے والی خاتون کے شوہر کو ”مثالی شوہر“ کا خطاب دینے کا فیصلہ کیا گیاکیونکہ اگر شوہر حضرات گھریلو کاموں میں اپنی بیویوں سے تعاون نہ کرتے تو شاید ان کی بیویاں مثالی کارکن نہ بن پاتیں۔

مثالی شوہر کا خطاب پانے والوں میں لیاؤننگ صوبے کے یونیورسٹی لیکچرریانگ دینز یانگ بھی شامل تھے۔ ان کی بیوی نے پرائمری اسکول کی ہیڈ ٹیچر کا مقامی اور قومی ایوارڈ برائے مثالی کارکن حاصل کیا تھا۔ یانگ صاحب کا کہنا تھا کہ شوہروں کو بیویوں کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ اسی طرح ’مثالی کارکن‘ کا خطاب پانے والے مردوں کی بیویوں کو ’مثالی بیوی‘ کا خطاب دیا جانے لگا تھا۔

میں سمجھتی ہوں کہ یہ پاکستانی شوہروں اور بیویوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ پاکستان میں تو ہوتا یہ ہے کہ شوہر کو اگر اپنے کام کے لئے یکسوئی اور فراغت چاہیے تو بیوی اس سے تعاون نہیں کرتی اور اگر بیوی باہر نکل کے کچھ کام کرنا چاہتی ہے تو شوہر گھریلو ذمہ داریوں میں اس کا ہاتھ بٹانے پر آمادہ نہیں ہوتا اور یوں ساری عمر اعصابی کشیدگی اور تناؤ کے عالم میں گزرتی ہے اور کوئی بھی تخلیقی، تعمیری یا مثبت کام اس طرح نہیں ہو پاتا جس طرح کے ہونا چاہیے۔ تو پھر کیا خیال ہے؟ اپنے شریک حیات کو مثالی کارکن بننے دیں تا کہ ہم آپ کو مثالی شریک حیات قرار دے سکیں۔

ہم ’ثقافتی انقلاب‘ اور ’فی جوڑا ایک بچہ‘ کی پالیسی کے بارے میں آپ کو بتا چکے ہیں۔ اس زمانے کے سخت گیر رہائشی نظام کی بدولت بھی لوگوں نے بہت تکالیف اٹھائیں۔ دسمبر 1979 ء میں اس مسئلے کے بارے میں چینی مصنفہ وائیکنگ کی کہانی شائع ہوئی تو وہ راتوں رات پورے ملک میں مشہور ہو گئی۔ وائی کنگ نے ایک ہفتے میں یہ کہانی مکمل کر کے ایک قومی پرچے کے ایڈیٹر کو بھجوائی تھی۔ کہانی پڑھ کر اخبار میں کام کرنے والی خواتین کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اورانہوں نے اصرار کیا کہ ایڈیٹر صاحب کو یہ کہانی ضرور شائع کرنی چاہیے۔

یہ ایک المیہ کہانی تھی ایک ایسے جوڑے کے بارے میں جو ایک طویل عرصے سے الگ رہ رہا تھا۔ اس کہانی کی اشاعت نے پوری قوم کو جھنجھوڑ ڈالا۔ اور مصنفہ کو چین کے جدید مصنفین میں ممتاز مقام حاصل ہو گیا۔ وائی کا کہنا تھا کہ یہ بات نہیں کہ میری کہانی ادبی شاہکار تھی بلکہ اس میں اس حساس اور قابل توجہ موضوع کو چھیڑا گیا تھاجسے اس سے پہلے کسی نے الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا تھا۔ یہ ان شادی شدہ جوڑوں کے بارے میں تھی جو ایک دوسرے سے علیحدہ رہ رہے تھے۔

اس کا تعلق ان لاکھوں خاندانوں سے تھا جو سخت گیر رہائشی نظام کی بدولت اذیت سے دو چار تھے۔ اس کہانی کی اشاعت کے بعد مصنفہ کو ہزاروں خطوط موصول ہوئے جن میں لوگوں نے اپنی تنہائیوں اور کرب کا ذکر کیا تھا۔ بقول وائی ”تب مجھے احساس ہوا کہ ہمارے لوگ کس قدر تنہا ہو گئے ہیں۔ ۔ ۔ ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ ۔ ۔ ان کی وابستگیاں رائیگاں گئیں اور ان کی تبادلوں کی درخواستوں کو روک لیا گیا۔ ۔ ۔ بنیادی انسانی ضرورتوں کو نظر انداز کیا گیا۔ چنانچہ میں نے اپنے قلم کے ذریعے ان کی ترجمانی کا بیڑا اٹھایا اس امید پر کہ انہیں احساس ہو سکے کہ کسی کو تو ان کے مصائب کا اندازہ ہے“ ۔

دراصل چین دنیا کا سب سے کثیر الآبادی ملک ہے۔ کم آبادی والے ملکوں میں بھی اکثر رہائش کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر جاتا ہے لیکن چین میں اس کی سنگینی کی نوعیت دہری تھی۔ کیونکہ وہاں میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں۔ میاں جہاں کام کرتا تھا اسے وہاں رہائش ملتی تھی، بیوی کسی دوسری جگہ کام کرتی تھی تو وہ وہیں رہتی تھی۔ یوں اکثر میاں بیوی کو ساتھ رہنے کا موقع نہیں ملتا تھا جو تکلیف دہ بات تھی۔ اسی طرح جو نوجوان شادی کے خواہشمند ہوتے تھے، وہ مکان الاٹ نہ ہونے کی وجہ سے شادی نہیں کر سکتے تھے۔ ویسے جب ہم بیجنگ پہنچے تو جگہ جگہ رہائشی عمارتیں بن گئی تھیں اور مزید بہت سی عمارتیں زیر تعمیر تھیں۔ جس سے پتا چلتا تھا کہ حکومت کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس تھا اور وہ اسے حل کرنے کے لئے کوشاں تھی۔

ٓ

پاکستان کے عوام شاہراہ ریشم کے نام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ 1985 ء میں یہ شاہراہ جدید سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی جو قدیم سیاح مارکو پولو کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے وہاں آتے تھے۔ ایک امریکی کی قیادت میں ایسے ہی ایک مہماتی قافلے نے وینس سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور اکیس ہزار کلو میٹر لمبے اس سفر کا اختتام شاہراہ ریشم پر ہوا۔ پچپن سالہ ہیری روئسٹن نے سات سو سال بعد مارکو پولو کے نقش قدم پر چل کر اس کی یاد تازہ کر دی۔

ہیری اس مہم کے دوران 1981 ء میں پاکستان بھی آئے تھے۔ شاہراہ ریشم کا سحر دور دور سے لوگوں کو کھینچ لاتا ہے۔ اس سے پہلے جون میں صافہ باندھے اور گھیر دار شلوار پہنے ہوئے ایک صاحب بیجنگ پہنچے تھے۔ انہوں نے چائنا ڈیلی کو بتایا کہ وہ چودہ ماہ سے شاہراہ ریشم پر سفر کر رہے تھے اور ایران اور افغانستان سے ہوتے ہوئے بیجنگ پہنچے تھے۔

اسی طرح کا سفر برطانیہ کے ایک آرٹسٹ نے جو لیکچرر بھی تھے کیا۔ انہوں نے لندن سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ٹرین کے ذریعے استنبول پہنچے اور پھر وہاں سے پیدل چلتے ہوئے بیجنگ پہنچے۔ اس سے ایک ماہ پہلے دو جرمن باشندے اسلام آباد سے ہوتے ہوئے بیجنگ پہنچے تھے اور اسی راستے سے دو چینی ٹیلی ویژن رپورٹر 3600 میل کا سفر سائیکل پر طے کر کے اسلام آباد گئے تھے۔ وہ عالمی دورے پر نکلے ہوئے تھے۔ اس روٹ پر سفر کرنا چینی اسکالرز اور کالج کے طلبہ کا محبوب مشغلہ بن چکا تھا۔ (جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *