مادی ترقی اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت کے ساتھ ہم ایک ایسے دوراہے پر آ کھڑے ہوئے ہیں کہ ایک عجیب اور مہیب صورت حال کا سامنا ہے۔ ہم متوحش ہیں اور اس عقدہ کو حل نہیں کر پاتے کہ اقوام عالم کیسے دن بہ دن ترقی کر رہی ہیں اور ہم نے ریورس گیئر کیوں لگا رکھا ہے؟

ایک طرف ہم اپنا قومی انحطاط، بے بسی، زبوں حالی اور کبھی نہ ختم ہونے والی تنگدستی کو دیکھتے ہیں تو دوسری طرف اقوام عالم کی روز افزوں مادی ترقی نظر آتی ہے۔ ہماری آنکھیں پھیل جاتی ہیں۔ ایمان ڈگمگانے لگتا ہے۔ یعنی ایک طرف وہ اقوام ہیں جن کا خدا سے نام کا ہی تعلق ہے مگر ان کے ممالک میں ہن برس رہا ہے۔ وہ اپنے ممالک کو جنت نظیر بنانے میں لگے ہیں۔ جبکہ ہمارے حکمران، جن کا اوڑھنا بچھونا خدا خدا کرنا ہے، 70 برسوں میں بھی عوام کو بے فکری اور خوشحالی نہیں دے سکے۔

چلتے پھرتے فون کی صورت میں اب ہر کس ناکس کے پاس جام جہاں نما موجود ہے جس کے ذریعے دنیا سے واقفیت حاصل کرنا اور پھر موازنہ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسانوں کو چار چار آنکھیں لگ چکی ہیں دماغ گو ابھی تک ایک ہی ہے۔

ویسے تو عمومی طور پہ تیسری دنیا کے میں بسنے والے تمام باسیوں کی یہی حالت ہے۔ لیکن جان کی امان چاہتے ہوئے اس وقت روئے سخن اپنے وطن عزیز پاکستان اور پاکستانیوں کی طرف ہے۔ پاکستان میں رہنے والے عمومی طور پے تشویشناک شش و پنج اور ذہنی دباؤ میں ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ ترقی یافتہ مما لک میں لوگ ہم سے کہیں خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔ وہاں انسانی زندگی کی اہمیت ہے۔ جانوروں کے بھی حقوق ہیں۔ افسوس کہ ہمارے یہاں تو انسانی زندگی کی اہمیت ہی نہیں ہے۔ اور صد افسوس اکیسویں صدی میں بھی ہمارے یہاں نصف صدی پرانا نعرہ ”روٹی کپڑا اور مکان“ شرمندہ ء تعبیر نہیں ہو سکا۔ نہایت مایوس کن حالت دیکھ کر عوام الناس سخت فرسٹریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو نعمتیں اور آسائشیں ان کو جدید دنیا میں نظر آتی ہیں وہ ان کی پہنچ سے بہت باہر ہیں۔ ان کی وہ حالت ہوتی ہے جو پانی کو دیکھ کر کسی پیاسے کی ہوجاتی ہے۔ تب ان کو اپنے اسلاف اور ان کے افکار باطل لگنے لگتے ہیں۔ تب وہ اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتے اور الٹا اللہ تعالیٰ سے شاکی ہونے لگتے ہیں، کہ وہ اقوام جن کا خدا سے کوئی خاص تعلق نہیں وہ تو پھول پھل رہی ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں تمام تر ذکر خدا کے باوجود آخر یہ کیسی زبوں حالی ہے۔ کہیں یہ

بہت ہے جس قدر ذکر خدا خوف خدا کم ہے

والی صورت حال نہ ہو۔ ہمارے حاکم خدا خدا کرتے رہنے کے باوجود ابھی تک ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کرسکے۔ رہا خدا کا نام تو زیادہ تر اپنی نہیں، دوسروں کی اصلاح کے لیے اور حق مارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ ہمارے پیش نظر بلکہ کافی حد تک شامل حال اپنے اسلاف کے سنہری اصول اور طرز زندگی تھا۔ ہم بڑے فخر سے آنکھیں بند کر کے ان کی تقلید کرتے تھے۔ ان کا اسلوب ہمیں رحم اور عفو و درگزر کا درس دیتا تھا۔ جس میں بلا رنگ و نسل اور مذہبی امتیاز کے ہر انسان کو بنیادی حقوق دیے جانے کی بات ہوتی تھی۔ ہم اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے تھے کہ ہمارے پاس ایک ایسی خوبصورت عالمگیر تعلیم ہے۔ پھر ہم نے ہیرے موتیوں جیسی تعلیم بھلا دی اور تفاخر میں بڑھتے ہوئے تکبر کی حد سے بھی گزر گئے۔ قول و فعل میں اتنا تضاد ہوا کہ دین کا اشتہار دکھا کر اپنا الو سیدھا کرنے لگے۔ غلط استعمال نے دین کو شکوک و شبہات کی نذر کر دیا۔ طرح طرح کے غیر ضروری مباحث میں پڑ کر وقت ضائع ہونے لگا۔ مادی ترقی پر توجہ مرکوزکرنا ایک کار غیر ضروری سمجھ لیا گیا۔ مادی ترقی کے لیے تحقیق اور کوشش سے ہاتھ کھینچ لیا۔ حکومتی سطح پر اس کا ذکر تو تھا مگر عمل نہیں کیونکہ اس مد کے فنڈز کھا لیے جاتے ہیں۔ رہی سہی کسر متنازعہ فتووں نے پوری کردی۔ کئی مذہبی نکتہ ء فکر کے لوگوں نے دنیاوی علوم کا حصول گناہ قرار دے دیا۔ جبکہ وہی رہنما خود اغیار کی مادی ترقی اور ایجادوں سے استفادہ کرنا عین حق سمجھتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی تھی کہ دین کے محاسن کا ذکر کر کے لوگوں کی زندگیاں آسان کی جاتیں۔ حکم ہے کہ لوگوں کو خوشخبری دو اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرو۔ لیکن وائے افسوس کہ مذہب کو ہوا بنا دیا گیا۔ خوفناک بنا کر لوگوں کا جینا مشکل کیا جانے لگا۔ ماراماری اور اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے فریق مخالف کو لوٹنے اور ماورائے عدالت مار دینے کو بھی جائز سمجھا جانے لگا۔ جس سے امن و امان کی حالت مخدوش سے مخدوش تر ہو تی گئی۔ نئی نسل میں مذہبی لسانی اور علاقائی طبقاتی اور ذات پات کی اتنی منافرت بھر دی گئی کہ وہ شعلہ فشاں نسل بن گئی۔ اب کوئی بھی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتا اور محفوظ نہیں رہا۔ انسان وحشی ہو گئے ہیں۔ وحشت گلی گلی محلے محلے ناچ رہی ہے۔ ایسے ایسے جرائم نظر آتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے یہاں کہا جاتا تھا کہ کسی جاندار کو آگ کا عذاب دینے کا حق صرف خدا کا ہے لیکن آج انسان بھی خدا بن گئے ہیں اور زندہ انسانوں کو جلا دیتے ہیں۔

انسانی تاریخ گواہ ہے جہاں جہاں نسلی اور مذہبی تعصب کی کھیتی اگائی جاتی ہے وہاں کی زمین بانجھ ہوجاتی ہے۔ امن کی فاختہ اور برکت کا پرندہ وہاں سے کوچ کر جاتا ہے۔

آج ہمارے یہاں سوال کرنے کو جرم بنا دیا گیا۔ اور مان لیا گیا ہے کہ جو علم ایک خاص طبقہ کو ہے کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ وہی جہالت کے زمانے کی قدیم سوچ ہے۔ جس میں بندے کا براہ راست خدا سے تعلق توڑ دیا جاتا تھا۔ تاکہ مذہبیوں کی اجارہ داری قائم رہے۔

آج کے نوجوان سوال کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ وہ قومیں جنہیں ہم خدا سے دور بے عقل اور کافر کہتے تھے وہ تو ہم سے بہتر سنبھال کر بیٹھے ہیں۔ بلکہ ان کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں بھی مادی آسانیاں آ رہی ہیں۔

وہ سوال کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے کہ نہ تو یہ لوگ دعائیں کرتے ہیں نہ ہی والدین کے فرمانبردار ہیں پھر بھی دنیا کی تمام آسائشیں سہولتیں اور خوشحالیاں ان کو میسرہیں۔ ( مگراس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اس کا آگے ذکر ہو گا۔ ) ان کا سوال بے جا نہیں بلکہ عین بجا ہے۔ اور اس کا تشفی جواب بھی موجود ہے۔ مغربی ترقی کوئی نہ سمجھ آنے و الی چیز نہیں۔ ان قوموں نے صرف دو کام کیے ہیں۔

ایک۔ مذہب کے جنونی طرز فشار کو بند کیا۔
دوسرا۔ قانون کی بالادستی کو اپنا شعار بنایا ہے۔

یہ دو باتیں ان کی دنیاوی ترقی کی ضامن ہو گئی ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کی فتنہ قتل سے بھی بدترین ہے اور جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ نیز فرمایا کہ جس نے تعصب سے کام لیا وہ ہم میں سے نہیں۔ کتنی پر حکمت اور گہری بات ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ اچھی چیز مومن کی گمشدہ میراث ہے اس کو جہاں پاؤ اپنا لو۔ مگر ہم جب بھی کوئی بات سنتے ہیں تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کہہ کون رہا ہے۔ یہ نہیں دیکھتے کہ کیا کہہ رہا ہے۔

تو۔ ترقی یافتہ ممالک نے بھی دو کلیدی قوانین اپنا لیے ہیں۔ ایک نسلی اور مذہبی منافرت کی جڑ کاٹ دی۔ دوسرے قانون کی بالادستی۔ اس وجہ سے نقص امن کی تباہی سے سے بڑی حد تک بچے ہوئے ہیں۔ قانون کی بالا دستی کی وجہ سے ان کے یہاں حکومتی فنڈز ایمانداری سے استعمال ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں خوشحالی ہے۔ کئی ترقی پذیر مغربی ممالک میں کورونا کی وبا میں چھ ماہ تک عوام کو ماہانہ وظائف لگا دیے گئے ہیں۔ دکانوں اور مکانوں کے کرائے، گھروں کی مارٹگیج اور گاڑیوں کی اقساط کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب حکومتوں کے پاس ریزرو فنڈز میں خاطر خواہ رقم موجود ہو۔ یہ رقم اسی وقت موجود ہو سکتی جب سرکاری افسران بد عنوانی نہیں کریں گے۔

ایسا نہیں کہ مغرب میں تعصب کے واقعات یا مالی بدعنوانیاں نہیں ہوتیں۔ ہوتی ہیں مگر بہت جلد ایسے عناصر کیفر کردار تک پہنچتے ہیں۔ ان کو حکومتی سرپرستی حاصل نہیں ہو سکتی۔ کسی احتساب سے ماورا ہستی کی سرپرستی ان کو حاصل نہیں ہوتی۔ حاکم بالا ایسے لوگوں کا ساتھ دینا بھی چاہیں تو نہیں دے سکتے۔ سب کچھ شفاف ہوتا ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔

جہاں تک تعصب کا تعلق ہے تو اگر کہیں الا ماشاء اللہ حکمرانوں میں کسی کو تعصب کا کیڑا کاٹ لے اور وہ کوئی متعصب قانون بنانے کی کوشش کرے بھی تو اکثر عوام ہی اس کو رد کردیتے ہیں۔ یعنی تعصب، جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی فراڈ اور بدعنوانی کے سب راستے اہالیان مغرب نے بند کر دیے ہیں۔ ایسے سخت قوانین بنائے ہیں کہ کوئی بھی کرپشن اور فراڈ کر کے بچ نہیں سکتا۔ اس کے بعد راوی وہاں پر معاشی چین ہی چین دیکھتا اور لکھتا چلا آ رہا ہے۔ یہ ممالک دن بہ دن مادی ترقی کی طرف گامزن ہیں۔

اب اسی تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ مادی ترقی بے شک ایک بڑی کامیابی ہے لیکن یہ انسانی زندگی کے مقصد کا منتہا نہیں۔ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی نہیں۔ اس کامیابی کو دائمی اور بابرکت بنانے کے لیے لازمی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہم ساتھ ساتھ لے کر چلیں تب ہی یہ مادی ترقی بابرکت ہو سکے گی۔ ہر وہ کام جس میں اللہ کی رضا کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے وہ عارضی فائدہ تو دیتا ہے دائمی نہیں۔ بے شک دنیا کے مشرق و مغرب کے کئی ممالک نے قابل رشک مادی ترقی کی ہے۔ مگر روحانی طور پر شدید افلاس کا شکار ہیں۔ جس سے خوفناک صورتحال بن رہی ہے۔ لوگ ربوٹک ہو کر انسانی رشتوں کی پہچان بھول رہے ہیں۔ اعلیٰ اقدار بھول رہے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ شکار خاندانی نظام ہے۔

خود غرضی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ فلاحی ادارے نظر تو آتے ہیں مگر وہ ایک طرح کے تجارتی ادارے بن گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر دس روپے فنڈ دیا جائے تو اخراجات نکال کر مستحقین تک بمشکل تیسرا حصہ ہی پہنچتا ہے۔ الا ماشاء اللہ ایسے ادارے ہیں جو بے لوث کام کرتے ہیں۔

انسانی معاشروں کو بہرحال روحانی اور مادی دونوں طرح کی کوتاہیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ بلاشبہ دنیا کے بہت سے ممالک نے مادی ترقی کر لی ہے مگر آج کے انسان میں کردار کی پاکیزگی سخت مجروح ہو چکی ہے۔ اس کا قد پست سے پست ہوتا چلا جا رہا ہے۔ روحانی بصارت سے محروم ہوچکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم مغرب کی مادی ترقی سے تو متاثر ہو کر اس کو سیکھ لیتے ہیں، کیا ہم ان کی اچھی حکمت عملی کی تقلید نہیں کر سکتے؟ جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہی اصل منشاء ہے۔ تعصب نہ کرو، اچھی بات جہاں سے ملے اپنا لو۔ فتنے نہ پھیلاؤ۔ حق نہ مارو، جھوٹ نہ بولو۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ ترقی یافتہ قوموں نے بھی مسلمانوں سے بہت کچھ سیکھ کر اپنا لیا ہے۔ اور آفرین ہے کہ ایسے قرینے سے اپنایا ہے کہ جیسے کہ ان کا اپنا ہو۔ تو پھر بھلا ہم اپنی ہی چیز ان سے لے کر کیوں نہیں اپنا سکتے؟ انہوں نے وہ کلیدی باتیں اپنائی ہیں جن سے یقینی طور پر ایک پر امن خوشحال معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہم بھی ایسا کر لیں تو ہمارا اپنا ملک بھی اسی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

لیکن ہم؟ کیا بات ہے ہماری۔ بادشاہ قوم ہیں ہم۔ ۔ ۔ ہم نے ان سے الٹی سکھشا لی ہے۔ ۔ ۔ ہم ان کی دیکھا دیکھی خدا سے دور ہو رہے ہیں کہ شاید ہم بھی یہی طور طریقے اپنا کر امیر ہو جائیں گے۔ کسی کے گال سرخ دیکھ کر اپنے منہ پر تھپڑ مار لینے سے گال لال نہیں ہو جایا کرتے۔ یہ سمجھنا کہ شاید یہی راز ہے مادی ترقی کا۔ ماڈرن بن جاؤ۔ ان کا رہن سہن اپنا لو۔ اس سے کچھ نہیں بدلتا صرف معاملات مضحکہ خیز اور دردناک ہو جاتے ہیں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا کر کے بھی ہم ترقی نہیں کر پائے۔ ۔ ۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر بن چکے ہیں۔ ۔ ۔ نقل را عقل۔ ۔ اس غلط حکمت عملی سے ہم دنیاوی ہی نہیں روحانی خسارے میں بھی جا رہے ہیں۔ اگلی ہاتھ نہ آئی اور پچھلی کتا لے گیا۔ اگر ہم خدا کو اپنی زندگیوں میں شامل رکھتے ہوئے صحیح سمت قدم اٹھائیں گے تو منزل خود چل کر سامنے آئے گی۔ ورنہ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا یہ نقال معاشرہ دن بہ دن انحطاط پذیر ہے۔ اگر ان کی نقل کرنی ہے تو وہاں سے شروع کریں جہاں سے ترقی اور خود انحصاری کا دور شروع ہوتا ہے۔ تب جو تبدیلی آئے گی وہ دائمی ہو گی۔ انشاء اللہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply