قید – افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چار میلی دیواریں جن پہ کھرنڈ جمی تھی اور جگہ جگہ سے رنگ اترا ہوا تھا۔ اور فرش پر سے بھی کہیں کہیں سے سیمنٹ اکھڑا ہوا تھا جس میں سے عجیب و غریب حشرات نکل کر باہر آتے اور دیواروں پہ چڑھنے لگتے۔ چھت پہ پرانا سا پنکھا لگا تھا جس کا زنگ آلود لوہا اتنی خوفناک آواز پیدا کرتا کہ دماغ کی نس پھٹنے لگتی اور یوں بھی مجھے پنکھے کی ہوا سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ میں بس اس قبر نما ویران اور چھوٹے سے کمرے سے جلد از جلد نکلنا چاہتی تھی۔ اس کمرے میں نہ تو کوئی کھڑکی تھی نہ ہی کوئی روشن دان۔ اور روشنی کی صورت میں ایک چھوٹا سا بلب تھا جس کی زرد، مدھم روشنی سے دن بہ دن میری بینائی جواب دے رہی تھی۔ اور دل میں ویرانیاں ڈیرے ڈال رہی تھیں۔ مجھے یہاں پڑے کتنے دن کتنی راتیں ہو گئی تھیں، کوئی اندازہ نہ تھا کیونکہ کمرے میں کوئی وال کلاک نہ تھی۔ اور کلاک تو کیا اس کمرے میں ضرورت کی کوئی بھی چیز نہ تھی۔ یہ کمرہ ہر قسم کی انسانی ضرورت فرنیچر، الیکٹرانک اشیاء، بستر اور پردوں سے خالی تھا۔ نہ شیلف تھی، نہ کتابیں، نہ قلم، نہ گھڑا، نہ پانی۔

ایک دیوار پہ انتہائی میلے رنگ کا ایک سوئچ بورڈ تھا جس پہ ایک ہی سوئچ لگا تھا۔ کچھ اور نہیں تو میں کبھی کبھار اس سوئچ کو آن آف کرتی رہتی۔ یہ میری کل تفریح تھی۔

میں روز یہاں سے نکلنے کی کوشش کرتی تھی اور آج پھر میں نے گھات لگانا شروع کر دی کہ چپکے سے یہاں سے بھاگ نکلوں۔ جب ذرا باہر نکلی تو پھر سے سفید کپڑوں میں ملبوس اس سائے نے مجھے پوری طاقت سے واپس کمرے میں پھینک دیا۔ ایسا پہلے بھی کئی بار ہوا۔ جب سے میں یہاں قید ہوئی تھی، نہیں معلوم کر سکی کہ یہ سایہ کون ہے بس یہ انسانی عکس معلوم ہوتا تھا۔

جب میں ذرا سنبھلی تو کتنی دیر ایک ہی جگہ بے سدھ پڑی رہی۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔ اور میرا جسم بے حد کمزور ہو رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ مجھے بھوکا رکھا گیا تھا بلکہ ہر روز دو وقت کھانا اس کمرے کے دروازے پہ میرے لئے رکھ دیا جاتا۔ اور اسی دو وقت کی روٹی سے میں صبح شام کا اندازہ لگا پاتی تھی۔

میں نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی اور جب میری نظر سامنے ایک کونے پر گئی تو وہاں شیشے کا ایک بڑا سا باکس رکھا ہوا تھا۔ میں نے سوچا یہ پہلے تو یہاں نہیں تھا اب کیسے آیا۔ پھر سوچا ہو سکتا ہے میری نظر ہی یہاں نہ گئی ہو اور یا پھر ہو سکتا کوئی رکھ گیا ہو اور مجھے ہی پتا نہیں چلا۔

”اس میں کیا ہے!“ میں نے سوچا اور آہستہ آہستہ اس کے قریب جا کر ذرا غور کیا تو کیا دیکھتی ہوں۔ ۔ ۔ کہ اس میں کچھ سانپ تھے جو رسی کی طرح ایک دوسرے میں گتھم گتھا تھے۔ اتنے سارے سانپ دیکھ میری حالت غیر ہونے لگی کہ پتا نہیں کتنے زہریلے ہوں گے۔ ان میں سے ایک سانپ الگ تھلگ بیٹھا تھا اور مجھے ہی گھور رہا تھا۔ اتنے میں اچانک اڑ کر آگے آیا اور شیشے سے ٹکڑا کر پھر سے اسی کونے میں بیٹھ گیا اور سستانے لگا۔

میں تیزی سے اچھل کر پیچھے جا گری۔ ۔ ۔

میرا ہاتھ دیوار میں زور سے لگا اور میری آنکھ کھل گئی اور میں اٹھ کر بے چینی اور خوف سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ جب میری نظر اسی کونے میں پڑی تو وہاں کچھ نہیں تھا۔

میں بے حد خوفزدہ تھی۔ اب میں اٹھی اور کمرے کے دروازے تک پہنچی تو وہی سایہ دور سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ مزید خوفزدہ میں اندر آ گئی۔

کمرے میں آ کر زار و قطار رونے لگی۔ ذہن میں کچھ کچھ گزرے وقت کی یادیں تازہ ہونے لگی۔ اب کتنی دیر رو چکنے کے بعد میں اٹھی اور پاگلوں کی طرح کمرے کے چکر کاٹنے لگی۔ میں کچھ کام کرنا چاہتی تھی مگر کرنے کو کچھ نہ تھا۔ پھر ایک دیوار پہ تیزی سے ہاتھ کی انگلیوں سے کچھ لکھنے لگی۔ لکھتی گئی، لکھتی گئی اور پھر کمرے کے چکر کاٹنے لگی اور پھر لکھنے لگی۔ محبت، نفرت، محرومی، اکیلا پن، گزری جوانی، اداسی، بے وفائی، ٹھوکریں، ناکام کوششیں، ظلم، بغض، حسد، دکھ، بیتے دن، غرض یہ کہ زندگی اور موت کے درمیاں کا اک طویل اور رنج و الم سے بھرپور سلسلہ میں لکھ دینا چاہتی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ کوشش بھی تھی کہ میں بس یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔

کتنا ہی وقت بیت گیا۔ دروازے پہ کھانا رکھ دیا گیا مگر میں لکھتی چلی گئی، لکھتی گئی۔ ۔ ۔ لکھتی گئی۔ اور پھر سے وہ سایہ دروازے پہ آ گیا۔

لیکن اس بار میں نے محسوس کیا کہ اب کھانا رکھنے کی بجائے وہ سایہ نما انسان دروازے پہ ہی کھڑا ہے۔ میں اس کے قریب گئی کہ اسے شاید مجھ سے کچھ کہنا تھا۔ اور وہی ہوا۔ اس نے اشارے سے مجھے کہہ دیا۔

میں اس کمرے سے باہر دیکھنے لگی۔ کوریڈور سے پار، دور ایک دیوار کے روشن دان سے سورج کی شعاع اندر آ رہی تھی۔ ایک عرصے کے بعد آنکھوں نے یہ منظر دیکھا تھا۔ مجھے آزادی مل رہی تھی۔ میں نے اس سائے کی طرف متشکرانہ نظر ڈالی تو وہ دور جا چکا تھا یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ ۔ ۔

میں تیزی سے اس کمرے سے نکلی اور کوریڈور کو تقریباً بھاگنے کے انداز میں عبور کرنے لگی۔ یہ کوریڈور بھی عجیب سا تھا۔ ختم ہو کے نہیں دیتا تھا۔ اس میں روشنی کا واحد ذریعہ وہ روشن دان تھا اور راستے میں میرے پیروں سے جانے کیسی کیسی چیزیں ٹکرا رہی تھیں۔ بالآخر میں اب خارجی دروازے تک پہنچ گئی اور تیز تیز قدم اٹھاتی اس عمارت سے باہر نکل گئی۔ ۔ ۔

باہر نکل کر مجھے محسوس ہوا کہ مجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ میں زور زور سے آنکھیں ملنے لگی۔ مگر مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا۔ میں نے سوچا یہ رات تو نہیں تھی لیکن میری آنکھوں کے آگے اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ میں بے چینی سے ادھر ادھر بھاگنے لگی۔ بھاگ کر دو قدم آگے جاتی اور واپس وہی آ جاتی کہ آگے کا راستہ مجھے معلوم نہیں تھا۔ اور پیچھے فقط وہ عمارت تھی۔

میں گرتے پڑتے اسی عمارت کے اندر واپس آ گئی جہاں سے نکل کر گئی تھی۔ اندر جاتے ہی میری آنکھوں کی بینائی واپس آ گئی اور میں پھر سے سب دیکھنے لگی تھی۔

اس عمارت کی وہی مدھم سی روشنی، یاسیت بھرا ماحول اور روتے ہوئے در و دیوار جوں کے توں تھے۔ میں آہستہ آہستہ تھکے ہوئے قدموں سے چلنے لگی۔ کوریڈور سے گزرتے ہوئے میری نظر دیوار کے ساتھ رکھے ایک میز پہ پڑی جس پر ایک گلدان رکھا تھا اور اس گلدان میں کچھ پھول رکھے ہوئے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے ابھی ابھی کوئی یہ تازہ پھول رکھ کر گیا ہے۔

میں چلتے چلتے پھر سے اسی کمرے تک پہنچ گئی۔ اس کمرے کے دروازے پر وہی انسان نما سایہ کھڑا تھا جسے میں اب تک ٹھیک سے پہچان بھی نہیں پائی تھی۔ میں اس کے قریب جا کر اسے دیکھنے لگی۔ اب مجھے اس سائے کے وجود سے تھوڑی شناسائی محسوس ہونے لگی۔ اور میں مسکراتے ہوئے اسی کمرے میں واپس چلی گئی اور وہ سایہ بھی میرے ساتھ اس کمرے میں آ گیا۔ کتنی دیر ہم ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ ۔ ۔

میں اب آزاد قیدی تھی۔ آزادی سے محبت اب ختم ہو گئی تھی۔ دل میں کوئی آرزو بھی نہ رہی تھی۔ کاوشوں کی سمت بدل گئی تھی۔ وہ کمرہ موت کی ایک وادی تھا۔ آزادی کا جنون ختم ہو گیا تھا۔ الفاظ جو پہلے ہچکیاں لے کر روتے تھے اب ایک گہرا سکوت تھا۔ اور دیواروں پہ کہانیاں رقم ہونے لگیں۔

Latest posts by تنزیلہ مغل (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
تنزیلہ مغل کی دیگر تحریریں

One thought on “قید – افسانہ

  • 24/07/2020 at 11:14 am
    Permalink

    Mein ab apni azaad Qaidi hun, perfectly paradoxed reality penned.

Leave a Reply