کھلا یا بند؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاک ڈاؤن کردو، اب کھول دو اب پھر بند کرو یہ سارے سلسلے تو چل رہی ہیں نہ ہم کھل کے کچھ کر سکتے ہیں نہ سکوں سے بندھ کر کے بیٹھ سکتے ہیں۔ کنفیوژن اور ادھورا پن انتہائی خوف ناک شکل اختیار کر رہا ہے۔ کہنے کو تو سب چیزیں کھل چکی ہیں مگر کچھ جگہوں پر اسمارٹ لاک ڈاؤن ہے۔ کاروبار سب کھل چکے ہیں مگر صرف پرائیویٹ، سرکاری دفاتر بھی ادھ کھلے آدھے بند ہیں۔

سب سے مشکل یہ سمجھنا ہے کہ کھلا کیا ہے اور بند کیا ہے؟ اگر کھلا ہے تو پورا کیوں نہیں اور بند ہے تو پورا بند کیوں نہیں۔ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کا معاملہ ہمیشہ تذبذب کی وجہ بنتا ہے۔

سمجھ نہیں آتی کے پالیسی بنانے والے کوئی رولر کوسٹر میں بیٹھ کر پالیسی بناتے ہیں جو فیلڈ یا زمینی حقائق کو سمجھے بغیر ہی لوگوں کے لئے فیصلے کر دیے جاتے ہیں۔ اگر غربت کا نام لے کر یا جزوی لاک ڈاؤن کروایا گیا تو غریب کے لئے صرف احساس پروگرام سیاسی دکھاوے کی طرح کیوں؟ کسی کو یہ معلوم ہے کہ اس ملک میں جو غریب لوگ ہیں ان میں شدید غریب کون ہیں یعنی ”غریبوں میں سب سے غریب“ جی ہاں وہ ہیں عورتیں۔

اگر یہ پوچھا جائے کہ مفلوج صحت کے نظام میں سب سے زیادہ کس کی صحت ابتر ہے؟جی ہاں وہ بھی ہیں عورتیں۔ غیر تعلیم یافتہ میں سب سے زیادہ جو ان پڑھ ہیں وہ بھی عورتیں ہی ہیں۔ اگر ہم صرف صحت کے معاملے کو ہی دیکھ لیں اور اس میں بھی صرف تولیدی صحت کو ہمارے ہاں قریب کوئی سولہ ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں ایک دن میں اور ایک گھنٹے میں قریب کوئی سات سو بچے جنم لیتے ہیں جبکہ ہر دوسرے منٹ میں ایک نو مولود بچہ مر جاتا ہے اور زچگی میں ایک لاکھ ماؤں میں ایک سو اٹھتر مائیں مر جاتی ہیں۔ یہ شماریات تو ہیں کورونا سے پہلے کی جب کورونا نہیں تھا مگر کورونا سے خوفناک وائرس بے ایمانی کا جس کی وجہ سے اس قدر بچے اور اس قدر مائیں مر جاتی ہیں۔ جہاں ہسپتالوں میں سیاسی بھرتیاں، انسانی ہمدردی سے عاری ہسپتال ایڈمنسٹریٹر جو ہسپتال کا سارا بجٹ مل باٹھ کر کھا لیتے ہیں اور غریب پھر اسی حال میں سسکتے بلکتے رہ جاتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ادھ کھلے ماحول میں ہسپتال میں ڈاکٹر ہڑتال کر رہے ہوں، پورا عملہ بھی موجود نہ ہو اور بنیادی صحت مرکز اور دیہی صحت مرکز میں کیسز ڈیل کرنے کے بجائے ان کو کورونا کے ڈر سے ضلعی ہسپتالوں میں بھیج دیا جائے، جہاں پہلے ہی مریضوں کی تعداد ہسپتال کی صلاحیت سے بڑھ جائے تو ان سولہ ہزار روزانہ کے نئے آنے والی کمسن جانوں کو کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ اس کے لئے کوئی حکمت عملی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بلقیس رحمان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *