ایک دوسرے پر کیک پھینکنے کا نیا رجحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو یہ آپ کی نجی زندگی ہے، سالگرہ بھی آپ کی ہوتی ہے، پیسے بھی آپ کے ہیں، ایسا کرنا شاید آپ کے لیے باعث مسرت اور خوشی بھی ہو لیکن مجھے یہ بات عجیب سی لگتی ہے۔

آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ اس کے پیچھے محنت کتنی ہے۔ ایک کسان کتنی محنت کرتا ہے، بھینسوں کی دیکھ بھال ہوتی ہے، چارہ تیار ہوتا ہے، صبح سویرے کوئی اٹھتا ہے، آپ کے لیے دودھ نکالتا ہے اور پھر حفاظت کے ساتھ آپ تک پہنچایا جاتا ہے۔ کئی خوش قسمت کوئی کلو دو کلو خریدتے ہیں اور لاکھوں پاکستانی ایک کلو بھی خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

پھر آپ اندازہ لگائیں چینی کی تیاری کے لیے کس قدر محنت درکار ہوتی ہے، گندم کی تیاری میں کتنے سورس لگ رہے ہیں، پانی خرچ ہوتا ہے، ٹریکٹروں پر پٹرول لگ رہا ہے، ایک کسان دن رات لگا کر فصل تیار کرتا ہے، تپتی دھوپ اور پسینے سے شرابور مزدور کٹائی کرتے ہیں، یہ منڈیوں تک پہنچتی ہے، ریڑھی والا اٹھاتا ہے، آٹا پیسنے پر توانائی خرچ ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اتنے لوگوں کی محنت مشقت کے بعد کہیں جا کر تیار ہونے والے آٹے یا میدے سے ایک کیک تیار ہوتا ہے اور آپ ہنسی مذاق میں، اپنی شرارتوں میں، ایک ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو کیک مارنا شروع کر دیتے ہیں، ایک دوسرے پر پھینکنا شروع کر دیتے ہیں اور پورے کے پورے کیک کو ضائع کر دیتے ہیں۔

میرے کئی جاننے والوں نے حال ہی میں ایسی سالگرہ منائی ہے۔ منہ پر کیک کی کریم ملی جا رہی ہے، بالوں میں، کپڑوں پر، ہر طرف کیک ہی کیک بکھرا ہوا ہے اور سیلفیاں بنائی جا رہی ہیں۔ صوفہ گندا ہو چکا ہے، زمین پر کیک بکھرا ہوا ہے اور پاؤں اوپر رکھے جا رہے ہیں۔

یہ ٹرینڈ انہوں نے شروع کیا تھا، جن کے فریج انواع و اقسام کے کھانوں اور بینک اکاؤنٹ نوٹوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اور اب یہ ٹرینڈ ان تک پہنچ رہا ہے، جن کے والدین کی کل تنخواہ سولہ ہزار ہے۔

براہ مہربانی کھانے کھائیں، اپنے دوستوں کو بلائیں، انجوائے کریں، قہقہے لگائیں، سالگرہ منائیں لیکن اس طرح کھانے کو اور کیک کو ضائع کرنا مناسب نہیں لگتا۔
یہ کھانا، یہ دودھ، یہ گندم، یہ چینی، یہ پیداوار سب کا مشترکہ حق ہے، اسے بے دریغی سے ضائع مت کریں۔

یہ میری اپنے سب دوستوں سے گزارش ہے۔ اور اگر اس کے باوجود بھی آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو پلیز تصاویر دوسروں کو نہ بھیجیں، سوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہ کریں، خوراک ضائع کرنے کے اس رجحان کو مزید تقویت نہ دیں۔

مجھے علم ہے یہ آپ کی نجی زندگی میں مداخلت ہے لیکن یہ رجحان معاشرے پر منفی اثرات چھوڑ رہا ہے۔ ویسے تو میں ذاتی طور پر اچھے اچھے انواع و اقسام کے بیس بیس کھانوں کی تصاویر بنانے اور پھر انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے بھی خلاف ہوں۔ سوچتا ہوں کہ کوئی میرا غریب دوست دیکھے گا تو کیا سوچے گا؟

میں نے گزشتہ دس برسوں میں ایک پیزے کے علاوہ شاید ہی کھانے کی کوئی تصویر اپ لوڈ کی ہو۔ لیکن اس چھ یورو کے پیزے کی تصویر اپ لوڈ کرنے کے بعد بھی احساس ندامت ہوتا رہا کہ کیا یہ سب کو دکھانا لازمی تھا؟

اس احساس کا احساس بھی مجھے اس وقت ہوا تھا، جب میں نے کئی برس پہلے اپنی ٹیبل پر رکھے کچھ کھانوں کی تصاویر اپنے رشتہ داروں کو دکھائیں تو ان میں سے کچھ ذرا پریشان ہو گئے تھے کیوں کہ وہ یہ سب افورڈ کرنے یا خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔

خیر میری نظر میں یہ پھر بھی کوئی اتنی بڑی یا بہت بری بات نہیں ہے، آپ کا ذاتی عمل اور ذاتی زندگی ہے، ہنسی خوشی گزاریے، جو افورڈ کر سکتے ہیں کھائیے اور دوستوں کے ساتھ تجربات شیئر بھی کیجیے لیکن خوراک اور کیک وغیرہ ایک دوسرے پر پھینکتے ہوئے ضائع مت کیجیے!

مجھے امید ہے، میرے دوست ناراض نہیں ہوں گے، میری اس چھوٹی سی آبزرویشن کا برا نہیں منائیں گے۔ میری اپنی ذاتی زندگی نقائص سے بھرپور ہے لیکن میں مسلسل سیکھنے کے عمل سے گزر رہا ہوں۔ جن دوستوں کو میری بات ناگوار گزری ہو، ان سے پیشگی معذرت!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *