تین مساجد تین کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چلئے سب سے پہلے مسجد قرطبہ سے شروع کرتے ہیں۔ سپین کے شہر اندلس میں ایستادہ اس کیتھیڈرل چرچ کی تعمیر کا سہرا سینٹ ونسنٹ سوئم کے سر باندھا جاتا ہے۔ اموی دور میں اندلس کی فتح کے بعد اموی دور حکومت میں اسے عیسائی اور مسلم عبادت خانوں میں تقسیم کیا گیا اور یہ سلسلہ 784 میں اس وقت ختم ہوا جب خلیفہ عبدالرحمان اموی، جس نے جلا وطنی کے بعد اندلس کے گورنر کو شکست دی تھی، نے اپنی حکومت کی عوامی مقبولیت کے لئے اس کو مسجد میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ چرچ کا حصہ خریدا گیا اور مسجد کو وسعت دیتے ہوئے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی عیسائی کمیونٹی کے دل میں جگہ بنانے کے لئے مختلف جگہوں پر چھوٹے چرچ اور کیتھیڈرل بنانے کی اجازت دے دی جو اس سے پہلے اموی حکمرانوں نے تباہ کر دیے تھے۔ 1236 میں بادشاہ فرڈینینڈ سوئم نے اندلس فتح کرنے کے بعد اس مسجد کو پھر سے کیتھیڈرل میں بدل دیا جس کی حیثیت آج تک قائم یے۔ یہ کیتھیڈرل اب یونیسکو کا ثقافتی ورثہ ہے۔

ہندوستان کے شہر ایودھیا میں 1528 میں بنی بابری مسجد شروع ہی سے متنازع حیثیت اختیار کر گئی تھی مگر مسلمان حکومت کے ہوتے ہندووں نے اکثریت کے باوجود اس کے خلاف کچھ کرنے کی ہمت نہیں کی۔ ہندووں پروہتوں اور لوک داستانوں کے مطابق یہاں رام مندر تھا جس کو گرا کر مسجد تعمیر ہوئی۔ انیسویں صدی میں مغلوں کا سورج غروب ہوتے ہی ہندووں کی دیرینہ خواہش بیدار ہوئی اور یہ دبی ہوئی چنگاری پھر سے بھڑک اٹھی۔ کورٹ میں مقدمے آنے لگے حتی کہ 1949 میں ہندوستان کی آزادی کے بعد ہندو مہاسبھا نے وہاں رام کی مورتیاں رکھ کر پوجا شروع کر دی۔ 1992 میں وشوا ہندو پریشد نے حملہ کر کے مسجد کو مسمار کر دیا جس سے فسادات پھوٹ پڑے اور 2000 لوگ مارے گئے۔ کیس عدالت میں گیا اور بابری مسجد زیریں عدالتوں سے ہوتی ہوئی، 2010 میں ہائی کورٹ اور آخر کار 2019 میں سپریم کورٹ میں بھی اپنا مقدمہ ہار گئی۔ عدالت نے عوامی جذبات کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

آیا صوفیہ ایک کیتھولک چرچ تھا جسے 537 عیسوی میں قسطنطنیہ پر رومن قبضے کے بعد شہنشاہ جسٹینین نے تعمیر کروایا۔ ساڑھے نو سو سال بعد 1453 میں عثمانی خلیفہ محمد دوم نے اس کو مسجد میں تبدیل کروا دیا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں کمزور سلطنت عثمانیہ مصطفی کمال اتا ترک کی سیکولر قیادت کے آگے جب ڈھیر ہوئی تو اتا ترک نے اس مسجد کو ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا تاکہ اس کی سیکولر سیاسی سوچ کو تقویت ملے اور ہر مذہب کے ماننے والے اس کا دیدار کر سکیں۔ اردگان کی خلافت عثمانیہ کے احیاء کی سوچ بالکل ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ دس سال استنبول کے مئیر رہے مگر میوزیم کو مسجد میں بدلنے کا خیال ان کو پچھلے سال تب آیا جب ان کی پارٹی کو استنبول کے بلدیاتی انتخابات میں شکست ہوئی۔ انھوں نے میوزیم کی مسجد میں تبدیلی کے لئے عدالت سے رجوع کیا اور توقع کے عین مطابق عدالت نے عوامی جذبات کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ یہ میوزیم بھی یونیسکو کے ثقافتی ورثے میں شامل ہے

تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے کہ جب جب جس کے ہاتھ میں لاٹھی رہی، بھینس اسی کی تھی۔ ہو سکتا ہے دوبارہ کبھی یورپ پر مسلمانوں کا قبضہ ہو تو ہمارے بعد آنے والی نسلیں اندلس کے کیتھیڈرل چرچ کو دوبارہ مسجد بنتے دیکھیں اور شاید ”غزوہ ہند“ کے بعد مسلمانوں کا غلبہ آئے تو بابری مسجد بھی دوبارہ تعمیر ہو جائے۔ تب تک سب عدالتیں پاپولر فیصلے ہی کرتی رہیں گی اور حکمران بھی اپنی سیاسی بساط کے مہرے مذہب کی آڑ میں آگے کھسکاتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *