سوشل میڈیا: گندا ہے پر دھندا ہے

ایک بازار ہے جہاں ہر کوئی اپنی دکان کھولے بیٹھا ہے۔ اس بازار کا اصول ہے یہاں گاہک کو مال ہر روز فریش چاہیے۔ مانو یہی اس بازار کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ گاہکوں کی ڈیمانڈ زیادہ ہے اور فریش مال کی سپلائی کم۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کا یہی گیپ دکانداروں کو ہر وقت پسوڑی میں رکھتا ہے۔ بازار میں ہر دن فریش مال کا آنا ہی اس دھندے کی لائف لائن ہے۔ اس لئے کبھی ہول سیل میں

Read more

شدید مڈل کلاس کے سنبھالے ڈبے اور فالتو سامان

بیٹا: دادو! وہ سب ٹھیک ہے پر یہ فریج، ٹی وی اور واشنگ مشین کے گتے کے کارٹن تہہ کیے کیوں پڑے ہیں؟ انھیں تو پھینکیں۔

ماں جی: پتر! بڑے مضبوط ڈبے ہیں۔ میں نے سوچا اس میں سردیوں کے بعد کمبل اور رضائیاں ڈال کے پیک کرا دوں گی۔ میرے پرانے ٹرنک اور پیٹی اوپر پر چھتی میں پڑے ہیں، پر مجھ سے اب سیڑھیاں نہیں چڑھا جاتا۔ یہ نزدیک ہیں، مجھے آرام رہے گا۔

بیٹا: اچھا اس بڑے شاپر کا کیا کروں جس میں بجلی کا فالتو سامان پڑا ہے؟

اماں جی: فالتو کیوں، سب کام کا ہے۔ جب گھر بنا تھا تو میں نے سب زائد سامان یہاں رکھوا دیا۔ اب بھی جب گھر کا کوئی بلب یا سوئچ خراب ہوتا ہے تو میں الیکٹریشن کو کہتی ہوں، پہلے یہ ڈبہ دیکھے پھر بازار جائے۔ اکثر چیزیں یہیں سے نکل آتی ہیں۔

Read more

ناسٹیلجیا سیریز 1 (ڈائل والا فون)۔

سنہ 80 کی دہائی میں جب گھر میں نیا نیا فون لگا تھا تو سسٹم اتنا آپ گریڈ نہیں تھا، کہیں کی لائن کہیں مل جاتی تھی۔ تب کسی ان چاہے نمبر کو بلاک کرنے کا یہی طریقہ ہوتا کہ رسیور اٹھا کر نیچے رکھ دیا جاتا۔ فون کو سائلنٹ موڈ میں رکھنا ہوتا یا سوئچ آف کرنا ہوتا ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔

لاہور میں شاید 1985 میں، جب ہمارے ہاں فون لگا تو اس میں کئی برس کی تگ و دو ( منت سماجت بعد میں تگڑی سفارش) شامل تھی۔ گھر میں میلے کا سماں تھا۔ رشتہ دار خاص طور پر مبارک دینے آئے اور سب نے کان سے رسیور لگا کر سنا کیسی ٹون آتی ہے۔ کئی ایک تو اپنے ساتھ نمبروں کی پرچیاں لکھ کر لائے تھے جنھوں نے شغل میں ہی صرف اس لئے فون کیے کہ دیکھیں فون میں آواز کیسی آتی ہے۔ مٹھائیاں بانٹی گئیں اور ہمارے گھر کا سٹیٹس یکایک محلے میں اپ گریڈ ہو گیا۔

Read more

مڈل کلاس کا پنچ نامہ

مڈل کلاس کھانا:

اپر مڈل، گھر میں روزانہ کئی ڈشیں بنتی ہیں، جو زیادہ تر نوکر کھاتے ہیں۔ بچے اکثر باہر سے آرڈر کرتے ہیں یا کھا کر آتے ہیں۔

سیمی مڈل کلاس: ہفتے میں ایک بار گوشت اور چکن پکتا ہے اور بوٹیوں پر لڑائی ہوتی ہے۔

لوئر مڈل: روز دال یا سبزی پکتی ہے، پھر بھی مہنگائی پر حکومت کو کوسنے دیے جاتے ہیں۔

مڈل کلاس شاپنگ:

اپر مڈل: جب ضرورت ہو، سٹریس ریلیز کرنا ہو، یا بوریت دور کرنی ہو، شاپنگ کرتے ہیں۔ مگر کرتے برانڈ کے اوریجنل آؤٹ لیٹ سے ہیں۔

Read more

شادی کے کچھ مزید فوائد نیز ذیلی اثرات

شادی کے بعد پہلی بار آپ کو پتہ چلتا ہے کہ جو بیڈ دکھنے میں سات فٹ کا ہے، آپ کے سونے کے لئے اس میں بس دو ہی فٹ جگہ ہے۔ بیڈ کے تھوڑے سے اضافی ایریے پر ٹانگ پھیل جائے تو ایسی فیلنگ آتی ہے جیسے دشمن ملک کی چھاونی پر قبضہ کر کے اپنا جھنڈا لہرایا دیا ہو۔ شادی کے بعد آپ کی اپنی الماری آپ کی نہیں رہتی، پرائی ہو جاتی ہے۔ جہاں آپ کی شرٹس

Read more

شادی کے سائیڈ افیکٹس (پارٹ ون)

شادی والے روز آپ اچانک معزز ہو جاتے ہیں۔ وہ دوست اور رشتہ دار جو پہلے اپنی تصاویر کھنچواتے وقت آپ کو صوفے سے اٹھا دیا کرتے تھے ؛ اب لائن بنا کر آپ کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لئے انتظار کرتے ہیں۔ مووی کیمروں کا رخ پہلی بار صرف آپ ہی کی طرف ہوتا ہے۔ روشنیوں کی چکا چوند اور کیمرے کے کلک کلک کی آوازیں سن کر بلا وجہ فواد خان جیسی ’ریڈ کارپٹ‘ والی فیلنگ آ رہی

Read more

بھاگ ملکھا بھاگ

چکوال سے کوئی 40 کلومیٹر شمال مشرق کی طرف جائیں، تو ایک چھوٹا سا خاموش گاؤں آتا ہے، جس کا نام جنڈ اعوان ہے۔ بہت کم لوگوں کو پتا ہے کہ اس گاؤں کے قبرستان میں ایک ایسی قبر ہے، جس میں لیٹے انسان نے تن تنہا پاکستان کا پرچم بین الاقوامی سطح پر، ایک بار نہیں بار بار بلند کیا۔ عبد الخالق کو بچپن ہی سے بھاگنے کا جنون تھا۔ ایک بار پاکستان آرمی کے برگیڈیر رودھم نے اس کی کبڈی اور ریس کا مقابلہ دیکھا، تو اسے آرمی میں جوانوں کی ٹریننگ پر آمادہ کیا۔ یہ کام اس نے آخر دم تک بخوبی نبھایا اور بے شمار مایہ ناز اتھلیٹ پاک آرمی کو دیے۔ وہ پاک آرمی میں صوبیدار خالق کے نام سے مشہور تھا۔

اس اکیلے اتھلیٹ نے نیشنل گیمز میں 100 سونے کے تمغے اور انٹرنیشنل مقابلوں میں 26 گولڈ، 16 سلور اور بے شمار برونز میڈل جیتے۔ 1954ء منیلا ایشین گیمز میں نا صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ 6۔ 10 سیکنڈ میں 100 میٹر کا نیا ریکارڈ بھی بنایا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ ایک انڈین اتھلیٹ کے پاس تھا۔ اس کی اس شاندار کامیابی پر جواہر لال نہرو نے اسے ”فلائنگ برڈ آف ایشیا“ یعنی ”ایشیا کا پرندہ“ کا خطاب دیا۔ 1958ء ٹوکیو کی ایشین گیمز ہوں، 1956ء کی میلبورن اولمپکس ہوں یا 1960ء کی روم اولمپکس، صوبیدار خالق 100 میٹر میں گولڈ میڈل جیت کر لایا۔

Read more

سلام ان استادوں کو۔ ۔ ۔

سلام ان استادوں کو جو اخبار بھی ہجے کر کے پڑھتے ہیں۔ جنھیں کالم کے مضمون اور سیاق و سباق کا گھنٹہ پتہ نہیں ہوتا، بس اس میں املا کی غلطیاں ڈھونڈھ کر آپ کو گناہ صغیرہ و کبیرہ سے بچانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو ساری قوم کے مسیحا ہوتے ہیں۔ پرانی خارش سے لے کر شوگر تک اور چنبل سے لے کر کینسر تک ہر بیماری کا علاج پوری دیانت داری سے ڈھونڈ کر شیئر کرتے ہیں۔ وہ بھی فی سبیل اللہ بنا کسی لالچ کے۔

سلام ان استادوں کو جو پاپا کی پرنسس اور بے بی ڈول کی معمولی چھینک والی پوسٹ پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ گرمیوں میں دیسی انڈے اور شہد کھانے کا قیمتی مشورہ دینے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتے اور ساری رات جاگ کر ان پر غائبانہ دم کر کر کے پھونکیں مارتے رہتے ہیں۔

Read more

میرا مطلب سمجھ رہے ہیں ناں؟

آپ کا بیٹے کی جاب تو اچھی ہے مگر آج کل ایک تنخواہ میں کہاں گزارہ ہوتا ہے۔ سرکاری نوکری ہوتی تو اچھا تھا۔ پرائیویٹ جاب کا کیا بھروسا آج ہے کل نہیں۔ امریکہ یا کینیڈا کی امیگریشن کیوں نہیں اپلائی کرتے؟ یہاں کے حالات تو آپ کو پتا ہی ہیں۔ میرا مطلب سمجھ رہے ہیں ناں۔

ہماری بیٹی ماشااللہ لاکھوں میں ایک ہے۔ بہت رشتے آ رہے ہیں مگر اس کی ڈیمانڈ ہے فیملی چھوٹی ہونی چاہیے۔ اب دیکھیں نا آپ کی تین بیٹیاں ہیں اور چار بیٹے اور سب ہی چھوٹے۔ لڑکا سب سے بڑا ہے۔ سب کی شادیوں کا بوجھ تو اس پر ہی پڑے گا۔ میرا مطلب سمجھ رہے ہیں ناں۔

Read more

برا تو نہیں مانا آپ نے؟

آپ کی لڑکی گوری ہے، لمبی ہے، مگر ہمارے لڑکے سے تھوڑی زیادہ لمبی ہے۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں لوگ باتیں کرتے ہیں۔ سمجھ گئے نا برا تو نہیں مانا آپ نے؟ ماشا اللہ بہت پڑھی لکھی ہے۔ مگر ہمارا بیٹا کہتا ہے زیادہ زیادہ پڑھی لکھی لڑکیوں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ سمجھ گئے نا برا تو نہیں مانا آپ نے؟ ماشا اللہ بہت اچھا کماتی ہے آپ کی بیٹی۔ مگر ہمارا تجربہ ہے جو لڑکیاں لڑکے سے

Read more

نِکا پیروں پہ نہیں کھڑا ہوتا

تیسرے بچے کی پیدائش پر خوب مٹھائیاں بٹیں۔ خواجہ سرا رات بھر ناچے، اگلے ہفتے اس نے نائی سے مسلمانی کا حلف اٹھایا، تو خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے اور تیسرا بچہ سب کی امیدوں کا محور بن گیا۔ بنتا کیسے نہیں، پہلوٹی کا بچہ گونگا بہرا نکلا تو دوسرے سے امیدیں باندھی گئیں۔ اس کی آنکھیں بھینگی نکلیں۔ ماں سے بات کرتا تو دیکھ باپ کی طرف رہا ہوتا۔ دادا کو بشارت ہوئی کہ تیسرا بچہ قبیلے کا ”بے

Read more

جوائنٹ فیملی سسٹم

ہندوستان کے جوائینٹ فیملی سسٹم کی جڑیں ان کی رامائین، مہا بھارت اور ویدک میتھالوجی سے جڑی ہیں۔ پاکستانی، جو اپنا ہر تعلق عربوں سے جوڑتے ہیں، انہوں نے وہاں سے اوڑھنا بچھونا، کھانا اور نام تو امپورٹ کر لئے، مگر فیملی سسٹم نہیں کیا اور شروع سے ہی یہاں زیادہ تر گھرانوں میں ہندوستانی جوائینٹ فیملی سسٹم ہی رائج ہے۔ ہندو گھرانوں میں عموماً گھر کا سربراہ گھر کا اور اولاد کی زندگی کا ہر فیصلہ کرتا تھا اسی

Read more

تین مساجد تین کہانیاں

چلئے سب سے پہلے مسجد قرطبہ سے شروع کرتے ہیں۔ سپین کے شہر اندلس میں ایستادہ اس کیتھیڈرل چرچ کی تعمیر کا سہرا سینٹ ونسنٹ سوئم کے سر باندھا جاتا ہے۔ اموی دور میں اندلس کی فتح کے بعد اموی دور حکومت میں اسے عیسائی اور مسلم عبادت خانوں میں تقسیم کیا گیا اور یہ سلسلہ 784 میں اس وقت ختم ہوا جب خلیفہ عبدالرحمان اموی، جس نے جلا وطنی کے بعد اندلس کے گورنر کو شکست دی تھی، نے

Read more

دو مکالمے

دیو جانس کلبی 400 قبل مسیح کا ایک بہت بڑا فلسفی تھا۔ سکندر اعظم نے اپنے استاد ارسطو سے اس فلسفی کا بہت نام سنا تھا۔ اس کے اور سکندر کے درمیان دو بار ایسے مکالمات ہوئے جو نا صرف تاریخ کا حصہ بن گئے بلکہ سکندر کی زندگی اور سوچ کا رخ بدل گئے۔ سکندر اکثر اپنے مصاحبین کے ساتھ اس فلسفی کا ذکر کیا کرتا۔ یہ اور بات کہ وہ فتوحات میں اس قدر آگے نکل گیا تھا

Read more

ہیپی فادرز ڈے

رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ دوستوں کے فادرز ڈے کے میسجز پوسٹ ہونا شروع ہو گئے تھے۔ آج کل کے رواج کے مطابق ہر خاص دن کے میسج لوگ رات بارہ بجے ہی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کی سالگرہ ہو یا شادی کی، فادر ڈے ہو یا مدر ڈے، رات بارہ بجے ہی میسج کرنا اور کیک کٹنا فیشن بن گیا ہے۔ میں خاصی دیر سے ابا مرحوم کی تصویریں ڈھونڈ رہا تھا، مگر ایک تو

Read more

کیا چکن کھانے سے کرونا ہو سکتا ہے؟

خدا کا واسطہ ہے خبریں پھیلانے سے پہلے کچھ تو تحقیق کر لیا کریں۔ کرونا کے متعلق آپ کی پھیلائی غلط معلومات کی بدولت لوگوں نے اس کو سیریس نہیں لیا اور آج ہم کرونا کیسز میں چائنہ کو کراس کر چکے ہیں۔ بے شمار لوگوں کی گھروں میں اور بہت سوں کی ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز نہ ملنے سے اموات ہو رہی ہیں۔ مگر آپ کو صبر نہیں آ رہا اور ہر لغو، بے بنیاد پوسٹ کو شیئر پر شیئر کرتے جا رہے ہیں۔

نیا شگوفہ برائلر چکن میں کرونا اور ایپوکلیپٹک وائرس نکال دیا ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کے یہ تمام خبریں کس حد تک درست ہیں۔ سب کے پاس اتنے مہنگے فون ہیں، تھوڑا سا تردد کر کے 1 منٹ کے لئے زیادہ نہیں صرف گوگل کر کے ہی دیکھ لیں کے کسی آفیشل میڈیا پیج سے بھی یہ خبر بریک ہوئی ہے۔ ایپوکلیپٹک وائرس ڈاکٹر گریگر کی اپنے اختراع ہے۔ ڈاکٹر صاحب پیدائشی سبزی خور ہیں اور کسی بھی قسم کا گوشت کھانے کے خلاف ہیں۔

Read more

پولیس اتنی بھی بری نہیں

کہتے ہیں ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے۔ مگر اس تصویر میں تو ایک پوری تاریخ بند ہے۔ وہ تاریخ جس کا آغاز 73 سال پہلے آزادی کے ساتھ، معاف کیجئے گا ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستان میں کاروبار کی اجازت دینے سے ہوا۔

چلیے تھوڑا تاریخ میں چلتے ہیں۔ مغل ہندوستان میں ”زمیندار“ اپنی زمین کی حدود میں کسی بھی گڑبڑ کرنے والے کا ذمہ دار ہوتا۔ گاؤں کی سطح پر ”مکھیا“ جرائم کی بیج کنی کرتا۔ قصبوں اور شہروں میں ”کوتوالی نظام“ تھا۔ کوتوال شہر ایک بڑا منصب تھا جس کی ذمہ داریوں میں مجرموں کو پکڑنے سے لے کر، شہروں کا میونسپلٹی نظام چلانا اور ریونیو اکٹھا کرنا بھی ہوتا۔ اس سے آپ کوتوال کی طاقت کا اندازہ لگائے۔ گاؤں اور قصبوں میں ”گھڑ سوار“ پٹرولنگ کرتے جن کی بہت دہشت ہوتی تھی۔ کرپشن کا لفظ ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا اس لئے امن و امان کافی حد تک مثالی تھا۔ 90 % جرائم پر تو کوتوال شہر ہی قابو پا لیتا۔ ایک تو آبادی بہت کم تھی، دوسرے منظم جرائم کی شرح نا ہونے کے برابر تھی۔ اگر کبھی کوئی بڑا جرم ہو جاتا تو ملٹری کی مدد لی جاتی یوں یہ نظام بخوبی چل رہا تھا۔

Read more

امیونٹی کا کاروبار

ہر بحران اپنے ساتھ کاروبار کے نئے مواقع بھی لے کر آتا ہے۔ 1918 کے سپینش فلو کے دوران ایک اشتہار مشہور زمانہ وکس ویپر رب کا بھی تھا۔ وکس کا دعوی تھا کہ اس کو چھاتی پر اور ناک پر ملنے سے فلو ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کا علاج فروخت کرنے والوں میں وکس کا مقابلہ طرح طرح کے ایسے نسخوں سے تھا جیسے چلغوزے کے درخت کا رس نکال کر پئیں، ملر کمپنی کا جراثیم کش سانپ کا تیل، کونین برومائیڈ، پودینے کی گولیاں اور یہ اشتہارات اخباروں میں آیا کرتے تھے۔

اور تو اور بیل ٹیلیفون والے اس وبا میں اپنی پروڈکٹ مارکیٹ کرتے نظر آئے کے اگر آپ آئسولیشن میں ہیں تو خود کو تنہا مت سمجھیں اور بیل کمپنی کے فون سے اپنے پیاروں سے جڑے رہیں۔ سب سے زیادہ دیسی نسخہ جس کو بہت پذیرائی ملی وہ پیاز کھانے کا تھا۔ لوگ دعوی کرتے تھے کہ اس سے امیونٹی سسٹم مضبوط ہوتا ہے اور ہر بیماری میں شفا ملتی ہے۔ مختلف قسم کی چائے اور قہوے والے بھی میدان میں اتر آئے اور امیونٹی مضبوط کرتے پائے گئے۔

Read more

ایک عمر رسیدہ کرونا سے ملاقات

میں ایک وائرولوجسٹ ہوں۔ وائرسز کے ساتھ کام کر کر کے میں ہر قسم کے وائرس کو ایسے پہچان لیتا ہوں جیسے قصائی بکرے کو دور سے دیکھ کر بتا دیتا ہے یہ دوندا ہے یا چوگا۔ یہ کل کی بات ہے، حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد میری بیوی نے بھی محلے کی باقی عورتوں کی طرح اچھرا بازار پر دوپہر کے تین بجے دھاوا بولنے کا فیصلہ کیا۔ کرونا کے پھیلاؤ اور اس کی ہلاکت خیزی پر میرے تین روزہ لیکچر کا یہ اثر ہوا کے آج میں موٹر سائکل سٹینڈ پر ایک شریف مشرقی شوہر کی طرح، موٹر سائیکل کو ڈبل سٹینڈ پر لگا کر بیٹھا اس کے مشن امپاسبل سے کامیاب واپس آنے کی دعا کر رہا تھا۔ جبکہ وہ نیک بخت مع سارے بچوں کے، انسانوں کے اس سمندر میں ایک مشاق سکوبا ڈائیور کی طرح غوطہ لگا کر غائب ہو چکی تھی۔

Read more

بتی نہیں، ٹرک بدلو: فل ٹائم کامیڈی ہمراہ سائیڈ پروگرام

ہینڈسم بھی ہے، آل راونڈر بھی ہے، کپتان بھی رہا ہے اور تنازعوں میں بھی۔ فلاحی کام بھی کرتا ہے، غریب عوام کا درد بھی دل میں سموئے پھرتا ہے، ایک فاونڈیشن بھی چلاتا ہے (جو غربت کی لکیر سے نیچے انسانوں کو لکیر سے اوپر کھینچتی ہے) عوام اور خواص میں یکساں مقبول بھی ہے، لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کو سٹیڈیم میں امنڈ آتے ہیں اور جیسے ہی آؤٹ ہوتا ہے سٹییڈیم خالی ہو جاتا یے۔ بس

Read more

فیس بکی دانشور بنئے

ویسے کہنے کو تو یہ فیس بک ہے مگر یہاں بہت کم لوگ آپ کو آپ کے چہرے سے جانتے ہیں۔ اس لئے گھبرائیے نہیں، اگر آپ کی شکل سلطان راہی مرحوم جیسی بھی ہے تو فکر نا کریں، بس انٹرنیٹ سے کسی دانشور دکھتے انسان کی پکچر اٹھائیں اور اپنی ڈی پی بنا لیں۔ اس سوشل میڈیائی دنیا میں اس کا چلن عام ہے۔ اور اگر آپ نے ہزاروں لائک سمیٹنے ہیں، اور چاہتے ہیں کے لوگ صبح اٹھ

Read more