آؤ جے آئی ٹی، جے آئی ٹی کھیلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سمجھ سے بالاتر ہے کہ جے آئی ٹیز پر سیاست کیوں ہو رہی ہے۔ اس سے قبل 2011 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں کراچی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ جسٹس انورظہیرجمالی، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیرہانی اورجسٹس غلام ربانی کے سامنے 23 جے آئی ٹیز پیش کی گئیں تو پورے ملک میں ہلچل مچ گئی تھی۔ جے آئی ٹیز معزز عدالت میں دوران سماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کے وکیل ماہرقانون افتخار گیلانی نے پیش کی۔

ان جے آئی ٹیز کو کتابی شکل میں بک بائنڈنگ کرکے صحافیوں میں بھی تقسیم کیا گیا۔ یہ 23 جے آئی ٹیز ایم کیو ایم کے کارکنان بشمول اجمل پہاڑی کے مبینہ اعترافی بیانات پر مشتمل تھی۔ اجمل پہاڑی پر کراچی میں سو سے زائد قتل، بھتہ خوری وغیرہ کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزامات تھے، 2013 میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جواد خواجہ نے کہا تھا ’کہ ہم کہتے ہیں کہ اگر اجمل پہاڑی پر 100 کیسز ہیں تو 100 ثبوت لائیں ہم 100 سول جج بٹھائیں گے۔ آپ نے 100 کیس اس پر ڈالے، ثابت کرنا آپ کی ذمہ داری ہے ”۔ پھران مقدمات کا کیا ہوا، ہم بخوبی جانتے ہیں۔

ایم کیو ایم اپنے جوبن پر تھی لیکن 2011 میں سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے اپنی جماعت کے ساتھ بھی تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے تھے۔ جس باعث ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پاکستان پیپلز پارٹی سے دور ہوتے جا رہے تھے۔ سابق صوبائی وزیرداخلہ نے 28 اگست 2011 کو قرآن پاک سر پر رکھ کر شعلہ بیاں پریس کانفرنس کی، لیکن ایم کیو ایم اپنی میڈیا منجمنٹ کی وجہ سے حریف جماعتوں پر حاوی رہی تاہم اب سب قصہ پارنیہ بن چکا۔ پی پی پی اور اے این پی کا اتحاد ایم کیو ایم کے خلاف رہا، حکومت میں آنیاں جانیاں سے ایم کیو ایم تماشا بن چکی تھی۔

رحمن ملک ایم کیو ایم اور پی پی پی کے اتحاد کو بار ہا جوڑنے کے لئے بلاول ہاؤس و نائن زیرو کی پچ پر دوڑتے نظر آتے، اس دوران ان کے مردان ہاؤس کے بھی چکر لگ جاتے اور کراچی امن کے نام پر تینوں جماعتوں کا آپس میں سیز فائر کا معاہدہ ہوجاتا تو کبھی معاہدہ کسی نہ کسی وجہ سے ٹوٹ جاتا، بد امنی کا سوئچ آن آف ہونا معمول بن چکا تھا۔ خیبر پختونخوا سے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سینئر رہنما افراسیاب خٹک سہ فریقی معاہدے میں ضامن بنے کیونکہ ایم کیو ایم اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سید کو تسلیم ہی نہیں کرتی تھی۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک سیکورٹی فورسز نے چار فیز میں کراچی آپریشن کو مکمل کرکے امن قائم کر دیا۔ دوسری جانب پی پی پی نے پاکستان مسلم لیگ ق کو اپنے ساتھ شامل کرکے ایم کیو ایم کی کنگ میکر کی حیثیت ختم کردی۔

کراچی میں امن اور بے امنی کی کہانی چند سطروں میں نہیں لکھی جاسکتی، یہ ایک طویل طلسم ہوش الرباہے، جس کا تصور کرکے آج بھی اہل کراچی دہل جاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم کی بدترین حریف رہی، عمران خان نے ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف بڑے بلند بانگ دعوے کیے تھے، جس طرح ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تین بریف کیسوں میں ثبوت لے کر برطانیہ گئے تھے، عمران خان بھی لندن پہنچے تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ وہاں کیس کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ تحریک انصاف برداشت نہیں کرسکتی۔

جب کہ ایم کیو ایم کے بانی برطانوی شہری ہونے کے باعث اخراجات سے مستثنیٰ تھے۔ کراچی کے تاریک ترین دور میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی کارکنوں کے خلاف بھی جے آئی ٹیز بنی لیکن وقت کے ساتھ جے آئی ٹیز ’بلیک‘ کیٹیگری سے ’وائٹ‘ ہوجاتے، ۔ جے آئی ٹیز کے بلیک یا وائٹ درجات پر کسی سیر حاصل بحث کی ضرورت نہیں، اس کو مختصراً اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ وذرات داخلہ کسی تنظیم کو واچ لسٹ میں رکھتی ہے اور کچھ عرصے بعد اس پر فیصلہ کرتی ہے کہ اس تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا جائے یا واچ لسٹ میں رہنا دیا جائے۔

اگر کالعدم قرار دے دی جاتی تو وہ نئے نام کے ساتھ مارکیٹ میں آجاتی ہے اور پھر پرانے چہرے کسی نئی تنظیم کے ساتھ جڑے نظر آتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ سیاسی بھی ہے کہ جب تک ملزمان کسی مقدمے میں ملوث ہوتے ہیں، تو سیاسی جماعت انہیں اپنا کارکن تسلیم نہیں کرتی۔ لیکن جب کیس ختم ہوجاتا ہے تو وہی عہدے دار جلسے جلوس کی مرکزی نشستوں پر براجمان نظر آتاہے۔

تحریک انصاف کا اتحادیوں کے ساتھ تیسرے پارلیمانی دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے عوام سے کیے کتنے وعدے پورے کیے ، اس پر بھی کوئی بحث اس لئے نہیں، کیونکہ عوام سب جانتے ہیں، اسی طرح حزب اختلاف کی سیاست کا محور صرف اپنے قائدین کو مقدمات سے بچانے یا ضمانتیں کرانے تک ہی محدود رہا، ایشوز پر حکومت یا سیاست قریبا ختم ہوگئی۔ ایک مسئلے کے بعد دوسری سرخ بتی جلا دی جاتی ہے اور میڈیا سمیت عوام اس کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں۔

سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز بھی ایک سرخ بتی ہے، جس وقت عزیر بلوچ، نثار مورائی 2016 میں گرفتار کیا گیا تو ان کے اعترافی بیانات و کم بیش تمام تفصیلات چار برس قبل ہی سامنے آچکی تھیں کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ اسی طرح سانحہ بلدیہ ٹاؤن 2012 میں ایم کیو ایم کے حماد صدیقی و رحمان بھولا کے کردار بھی سامنے آچکے تھے، جیسے جیسے کیس چلتا جا رہا تھا، کیس سے جڑے حقائق بھی عوام کے سامنے آتے جا رہے تھے، اس لئے جے آئی ٹیز کے عدالتی حکم پر سامنے آنے کے باوجود اس میں کوئی نئی حیران کن بات نہیں۔

تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زاردری کو مورد الزام ٹھہرا کر پنڈورا بکس دوبارہ کھول دیا، وفاق و صوبے میں محاذ آرائی مزید شدت اختیار کرگئی۔ قابل غور امر یہ ہے کہ جے آئی ٹیز میں شریک تفیتشی ادارے اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کے زیر انتظام ہیں۔ جے آئی ٹیز میں عموماً ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) ، آئی ایس آئی، رینجرز، ایف آئی اے، آئی بی، پولیس اسپیشل برانچ کے افسران شامل ہوتے ہیں، وفاق جوڈیشنل کمیشن بنا کرجے آئی ٹیز کی سفارشات پر عمل کراسکتا ہے، خصوصی عدالتوں میں مقدمات چلاسکتا ہے، وفاق کے لئے چنداں مشکل نہیں کہ اصل حقائق عوام کے سامنے نہ لاسکے۔ تاہم جے آئی ٹیز بن جاتی ہے تو اس پر عمل درآمد دیکھنے کو نہیں ملتا تو پھر یہ راز افشانیاں کیوں؟ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے کا کبھی مستقل فائدہ نہیں ہوتا، لیکن تاریخ میں فیصلے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، حکومت عوام کو خلفشار میں مبتلا کرنے کے بجائے عملی اقدامات کر سکتی ہے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply