دین کو مفادات کی دکان بنانا جائز نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوف کے بنیاد پر کھڑی کی گئی عقائد کی عمارت کے دیواروں میں عقل و شعور کے جھٹکوں سے دراڑیں پیدا ہوتے ہیں۔ عقیدے کی استدلال کا تعلق خالص اطمینان قلب سے ہوتا ہے اور واضح بات ہے کہ من گھڑت اور خودساختہ مفہومات سے بنے ہوئے، خوف کی بنیادوں پر کھڑے ڈھانچے کو دیکھ کر کوئی بھی باشعور بندہ اطمینان قلب حاصل نہیں کر سکتا۔ خوف اپنی ذات میں لامتناہی قوتیں رکھنے والی کیفیت ہے۔ تاریخ ایسے شواہد سے بھری پڑی ہے کہ اب تک کس کس نے خوف کے مارے کیا کیا کیا ہے اور کس کس نے خوف کے سہارے کیا کیا کروایا ہے۔ اسی بنیاد کی جڑیں عمومی ذہنوں میں سرایت کرانے کے لئے پورے عمارت کو خوفناک بنانا بھی اپنے اوپر تنقید اور سوال کو روکنے کی ایک بھرپور کوشش ہے۔

مملکت خداد پاکستان، جس کے بانی جناح صاحب نے تقسیم کے فوراً بعد ایک جم غفیر کے سامنے وعدہ کیا تھا آپ کا تعلق چاہے کسی بھی مذہب سے ہو، آپ پاکستان میں آزاد ہو اپنے مندروں میں جانے کے لئے، اپنے کلیساؤں میں جانے کے لئے اور کسی بھی عبادت خانے میں جانے کے لئے۔ مملکت خداد پاکستان، جس کے آئین کے آرٹیکل نمبر 20 میں واضح لکھا ہوا کہ ریاست میں کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کو نئے عبادت خانے بنانے کی مکمل اجازت ہوگی۔ ان باتوں کے باوجود اگر تقسیم کے 73 سال بعد بھی نیا مندر بنانے کے اعلان پر اس مملکت میں ایسا ردعمل سامنے آئے جو خالص نفرت اور جہالت کی عکاسی کرتا ہو، تو اس مملکت کے باسیوں کی اس اجتماعی ذہیت کا ذمہ دار کون ہے؟

ہمارے معاشرے کی ایک اجتماعی بیماری یہ بھی ہے کہ کوئی بھی نہایت آسانی سے ہمارے نظروں کے سامنے انتہائی مقدس بن جاتا ہے ۔ اور مقدس بن کر پورے معاشرے کو سوچ کے محدود دائروں میں قید کرکے رکھ دیتا ہے۔ دراصل اگر عمارت خوف کی بنیاد پر کھڑی کرنی ہے تو خوف کو مجموعی ذہنیت پر طاری رکھنا پڑے گا۔ اس بات کا خوف طاری رہنا ضروری ہے کہ اگر اسلام آباد میں نیا مندر بنا تو اس سے یہاں کے مسلمانوں کا ایمان خطرے میں پڑ جائے گا۔

یہی خوف طاری رکھنے کے لئے ضروری ہے ایک بچے کو نصاب میں پڑھایا جائے کہ محمود غزنوی صرف اس بات پر مسلمان امت کا اجتماعی ہیروں ہے کہ اس نے سومنات کا مندر توڑ گرایا تھا۔ پروفیسر مہدی حسن صاحب سے ایک لائیو پروگرام میں طالب علم نے سوال پوچھا تھا، سوال سے پہلے حوالہ یوں تھا کہ فلاں جماعت کے فلاں کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ مندر کے اخراجات دیوداسیاں جسم فروشی سے پوری کرتی ہیں۔ اس حوالے کے بعد اس نے اصل سوال پوچھا کہ سکول میں پڑھنے والے ایک معصوم بچے کے ذہن میں یہ پڑھ کر مندر کا کیسا تصور بنے گا؟

یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ہمارے معاشرے نے نئے مندر بنائے جانے کے فیصلے پر اپنے اجتماعی ردعمل سے دے دیا ہے۔ اس ردعمل کا مشاہدہ ہم جیسے لوگوں کے لئے اکیسویں صدی میں بھی کوئی بہت بڑی حیرت والی بات نہیں ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے حافظے میں یہ بات ثبت ہے کہ مندر کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں، اسی تصور کے کرامات سے حافظے کو واضح ہوچکا ہے کہ ایسے جگہوں کو توڑنے والے ہیروز کہلائے جاتے ہیں۔

کل تک اس ملک کی سیاسی تاریخ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے عین اسلامی ہونے کا راگ الاپنے والوں کے لئے آج اس پر عمل کرنے میں خطرہ کیوں محسوس ہو رہا ہے۔ اسی آئین کے خالقوں سے اپنی نسبت فخر سے بیان کرنے والوں کی آنکھوں پر یہ پٹیاں اچانک کہاں سے باندھ دی گئی ہیں؟ دین اسلام نے اگر کسی مسلمان اکثریتی ریاست میں اقلیتوں کے نئے عبادت خانے بنانے سے منع کیا ہے تو کیا آئینی کمیٹی میں موجود اپنے وقت کے ایک جید عالم دین مولانا مفتی محمود صاحب اسلام کے اس حکم سے لاعلم تھے؟

اگر ایسا نہیں تھا تو پھر آج یہ بات کیوں اتنے زور سے کی جاتی ہے؟ اس بات کا جواب یہ ہے کہ خوف کی بنیاد پر کھڑے ڈھانچے میں اگر کوئی مخصوص صورتحال پیدا کرنی ہو تو ایمان کی آڑ لینا ضروری بنا دیا گیا ہے۔ آئین بناتے وقت صحیح مسلمان بننے کے لئے قادیانیوں کو اسلام کے دائرے سے خارج کرا کر اقلیت بھی تسلیم نہ کرنے کا پکا ارادہ اہم تھا، آج اسلام آباد میں مندر کی تعمیر روکنا اہم ہے، کل شاید جو مسلمان نہ ہو اس کے لئے زمین تنگ کرنا اہم بن جائے گا۔ یعنی صرف نام وہی استعمال کرنا ہے جس سے جذبات جلد بھڑک اٹھ سکتے ہو، باقی مقصد سیاسی ہو یا مالی، پورا ہو ہی جائے گا۔

کیا ہم اپنی اس روش کے ساتھ دنیا کے مہذب اقوام کی قدموں سے قدم ملا کر چلنے کے قابل ہیں؟ کیا ہم برملا اپنے ایمان کی پختگی کا ثبوت یوں دے سکتے ہیں کہ ہم کسی بھی مذہب، عقیدے یا مسلک کو اپنے عقیدے کے لئے خطرہ نہیں سمجھتے، کیونکہ جھوٹ یقین کے احاطے میں سچ کی جگہ کبھی نہیں لے سکتا؟ نہیں! ہم مجموعی طور پر ایسا نہیں کر سکتے اور ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب کھوجنے کے لئے سوچ کے محدود دائروں سے باہر سوچنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *