کرونا کی عالمی وبائی پھوٹ کے بعد سے لے کر آج تک زندگی کے تقریباً تمام شعبوں کی طرح انسانی نفسیات بھی اس وبا کے زیر تسلط ہیں۔ بھارت میں گائے کا پیشاب پینے سے لے کر پاکستان میں چھتوں پر بے وقت اذانیں دینے تک اور افریقہ میں قبرستانوں کے اندر چیخ چیخ کر رونے سے لے کر امریکی چرچ کے زنگ آلود تالے کو رو رو کر کھولنے تک سب کچھ ہوا لیکن یہ سب کر کے کوئی بھی وائرس سے نمٹنے کے لئے ویکسین نہیں بنا پایا۔ اب چونکہ اس بیماری کا موجب ایک مخصوص وائرس ہے اور وائرس سے جان چھڑانے کے لئے ویکسین بنانے کی ضرورت ہے جس پر ہمارے سائنسدان پوری آب و تاب کے ساتھ لگے ہوئے ہیں لیکن جب تک ویکسین تیار نہیں ہوتی تب تک ہم اپنے اطمینان کے لئے دعا اور احتیاط کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرنے کے باوجود ہم بطور معاشرہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ اس صورتحال سے نکلنا خالص ہمارے احتیاط کے رحم و کرم پر ہے۔
کرونا کی وبا عالمی ہے اور اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ یہ وبا ایک بڑے حد تک انسان کے نفسیات پر سوار ہو چکی ہے۔ ایک لحاظ
Read more