تحریک انصاف کون سی جمہوریت چاہتی ہے


\"imran-khan\"سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کے حوالے سے دائر مقدمہ میں پاکستان تحریک انصاف کو ٹھوس شواہد پیش کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور پانچ رکنی بینچ کے ارکان نے واضح کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کی پوری زندگی کا احاطہ کرنے اور ان کے ٹیکس معاملات یا سیاسی بیانات کا جائیزہ لینے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ عدالت البتہ لندن میں شریف خاندان کی املاک کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے تاکہ وزیراعظم پر بدعنوانی کے معاملہ کا جلد از جلد فیصلہ ہو سکے۔ اس دوران تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی خبر کے حوالے سے بھی وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز پر سپریم کورٹ میں مقدمہ قائم کریں گے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان دونوں کی مرضی کے بغیر یہ خبر باہر نہیں نکل سکتی تھی۔

ڈان نے چھ اکتوبر کو جو خبر شائع کی تھی، اس میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کے درمیان اختلاف کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس خبر پر فوج نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملکی سیکورٹی کے خلاف قرار دیا تھا۔ حکومت نے فوج کو مطمئن کرنے کے لئے وزیر اطلاعات پرویز رشید کو خبر کی اشاعت رکوانے میں ناکام ہونے پر کابینہ سے علیحدہ کردیا تھا۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے ریٹائیرڈ جج عامر رضا کی قیادت میں پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ اس کمیٹی میں آئی ایس آئی ، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائیندے بھی شامل کئے گئے ہیں۔ یہ کمیٹی فوج کی اس خواہش کی تکمیل میں قائم ہوئی ہے کہ اس خبر کو اخبار تک پہنچانے والے افراد کا پتہ لگایا جائے۔ تحریک انصاف اس کمیٹی کو یک طرفہ قرا دے کر مسترد کرتی ہے۔

فوج نے خبر کی اشاعت پر جو سخت اور حکومت مخالف مؤقف اختیار کیا ہے، اس سے ملک کی جمہوری حکومت کی کمزوری اور بے بسی عیاں ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں کوئی ایسی نئی بات نہیں تھی جو پہلے سے لوگوں کے علم میں نہ ہو۔ اس کے علاوہ انتہا پسند عناصر کے خلاف حکمت عملی کا اعلان کرنے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے فوج اور سول حکومت اگر ایک دوسرے کے ساتھ اس بات پر دست و گریباں ہوں کہ کون سی خبر کیوں اور کیسے شائع ہوئی اور یہ کس حد تک ملکی سلامتی کے خلاف ہے، تو اس سے ملک کے نظام یا اداروں کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا البتہ انتہا پسند عناصر ضرور مضبوط ہوں گے۔ اور پاکستان کے برسر اقتدار طبقوں کے ارادوں کے بارے میں شبہات میں بھی اضافہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس خبر کی اشاعت سے زیادہ اس خبر پر رد عمل کی وجہ سے یہ سارے معاملات زیر بحث آئے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ رپورٹ کس نے افشا کی تھی اور یہ خبر تھی یا من گھڑت کہانی تھی، فوج کے رد عمل سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ وہ اہم قومی معاملات میں منتخب حکومت کو دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے۔ ملک کا منتخب وزیر اعظم بھی فوج کی بے پناہ سیاسی طاقت کی وجہ سے یہ سوال کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا کہ اگر خبر کی تردید ہو گئی ہے تو اس پر مزید طوفان اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کی اپوزیشن پارٹیاں بہر طور وزیر اعظم کو ہی مورد الزام ٹھہرانے اور کوئی بھی موقع ملنے پر انہیں کمزور کرنے پر کمربستہ رہتی ہیں۔ کوئی اپوزیشن پارٹی اس معاملہ پر فوج کو غلط کہنے اور غیر ضروری جارحانہ رویہ اختیا رنہ کرنے کا مشورہ دینے کا حوصلہ نہیں کرتی۔ کیوں کہ متعدد سیاسی گروپ اور پارٹیاں ملک کے اقتدار میں باری لینے کے لئے فوج ہی کی طرف دیکھتی ہیں۔ اسی سیاسی رویہ کی وجہ سے پاکستان میں فوج ہر زمانے میں طاقتور رہی ہے اور جمہوریت اس کے رحم و کرم پر ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔ ان حالات میں سیاسی قوتیں باہمی اختلافات نمٹانے کے لئے بھی فوج کا تعاون حاصل کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ اور گاہے بگاہے مختلف حلقوں کی جانب سے فوج کے سربراہ کو منتخب حکومت کے خلاف کارروائی کرنے کا مشورہ سامنے آتا رہتا ہے۔

عمران خان ایک عوامی لیڈر ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں انہیں 75 لاکھ لوگوں نے ووٹ دئے تھے۔ وہ مستقبل میں ملک میں برسراقتدار آنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ وہ مسلسل ملک میں جمہوری روایات کو مستحکم کرنے کی بات کرتے ہیں اور حکمرانوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مغربی ممالک کی اعلی جمہوری روایات کی مثالیں بھی دیتے ہیں۔ ان حالات میں انہیں سوچنا چاہئے کہ وہ نواز شریف کی مخالفت کو ذاتی د شمنی بنا کر ملک میں جمہوریت کی کیا خدمت کر رہے ہیں۔

ایک خبر لیک ہونے کے معاملہ پر فوج کے ناقص مؤقف کی تایئد کے علاوہ اب وہ اس معاملہ میں وزیر اعظم اور ان کی بیٹی کو ملوث کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا سہارا لینے کی بات کررہے ہیں۔ اس رویہ کو سیاسی کم ظرفی کے علاوہ جمہوریت کی بنیادی روایات کے برعکس قرار دیا جائے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب فوج مبینہ طور پر ایک خبر کو بنیاد بنا کر ملک کی سیاسی جمہوری حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے، اختلافات سے قطع نظر تمام پارٹیوں کو حکومت کا ہی ساتھ دینا چاہئے۔ ڈان لیکس پر اپوزیشن پارٹیوں اور خاص طور سے تحریک انصاف کا طرز عمل معلومات کے حصول کے لئے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر اب یہ پارٹی اس معاملے پر عدالت جاتی ہے تو اسے جمہوریت کا نعرہ لگانا ترک کردینا چاہئے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali