میری بہن


\"lubna-mirza\"یہ کہتے ہوئے نہایت تکلیف ہورہی ہے کہ چھوٹی بہن چالیس سال کی ہوگئی۔ جب ہم لوگ اسکول میں‌ پڑھتے تھے تو آرنلڈ شوازنگر کی مووی کمانڈو نکلی تھی۔ اس کو دیکھ کر بچے ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے، معلوم ہے یہ آدمی چالیس سال کا ہے۔ اچھا دیکھو کتنا ینگ لگتا ہے۔ وقت ٹھہرا نہیں‌ رہتا۔ اس کو کسی کی پروا نہیں‌ ہوتی بس گذرتا چلا جاتا ہے۔

پچھلے ہفتے میری بہن کی چالیسویں‌ سرپرائز برتھ ڈے پارٹی منائی گئی۔ وہ باہر آئی تو کیک دیکھ کر بولی ارے یہ کس کی برتھ ڈے ہے تو سب اس کی طرف دیکھتے ہوئے ہیپی برتھ ڈے گانا شروع ہوگئے تو اس کے چہرے پر ایک کان سے دوسرے کان تک مسکراہٹ پھیل گئی۔ جو بھی حالات ہوں‌ وہ ہمیشہ مسکراتے رہنا جانتی ہے۔ اس کو چالیس کے ہندسے کی موم بتی کو پھونکیں‌مارتے دیکھ کر اس کا تین سالہ وجود میری آنکھوں‌ میں‌ پھر گیا جب وہ کتنی شرارتی بچی ہوتی تھی۔ ہر کسی سے لڑنا، ہر وقت رونا دھونا۔ زرا زرا سی بات پر گھنٹوں‌ چیخیں‌مار مار کر چلانا۔ زمین پر لیٹ جاتی اور دھائیں‌ دھائیں پیر مارتی رہتی۔ ایک دن اس کو اتنا سخت غصہ چڑھا کہ سامان اٹھاتی گئی اور گھر کے باہر پھینکتی گئی۔

کسی نے امی کو مشورہ دیا کہ رنگ و روشنی سے علاج کریں‌ جس کے بعد اس کے لئیے کم نمک والا الگ سے کھانا پکتا اور اس کو نیلے رنگ کی لائٹ دلائی گئی۔ وہ چھوٹے بھائی‌ سے اپنے دونوں‌ بیٹوں‌ کی شکایت کررہی تھی کہ کچھ کہنا نہیں‌ سنتے، سارا دن وڈیو گیم کھیلتے ہیں، ان کو کچھ سمجھاؤ۔ ماموں‌ آہستہ آہستہ سر ہلا رہے ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے ہنسی آرہی تھی کہ یہ ماموں‌ خود صبح‌ منہ میں‌ انگلی ڈال کر الٹی کرتے تھے اور کہتے تھے میں‌ بیمار ہوں‌ اسکول نہیں‌ جاسکتا اور آج یہ سینئر بن گئے ہیں۔

ابو کی لاڈلی تھی، وہ کہتے تھے کہ یہ میری حجن بیٹی ہے کیونکہ وہ پیدا ہوئی تو ابو حج پر گئے تھے۔ جب ابو فوت ہوگئے تو وہ تین سال کی تھی، وہ میت کے نیچے \"img_5665\"گھس گئی کہ ابو کے ساتھ جانا ہے۔

جب امریکہ ٹین ایج میں‌ شفٹ ہوگئے تو وہ سکھر سے ایک نہایت مختلف جگہ تھی۔ وہ کالج جانا چاہتی تھی جس کے لئیے ٹوفل دینا تھا۔ ٹوفل اس کو بہت مشکل لگا لیکن وہ ہر مہینے پھر سے دینے پہنچ جاتی اور اس کو پاس کر کے چھوڑا۔ اس کے بعد جونئر کالج میں‌داخلہ لیا، ویک اینڈ پر کام اور سارا ہفتہ پڑھائی۔ پھر اوکلاہوما اسٹیٹ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں‌ اپلائی کیا۔ پہلے سال انہوں‌ نے ریجکٹ کردیا لیکن اس نے ہمت نہیں‌ ہاری اور اگلے سال پھر اپلائی کیا۔ اس سال اس کو داخلہ مل گیا۔ جب اس کی پرسنل اسٹیٹمنٹ پڑھی تو اس میں‌ امی کے بارے میں‌ اور میرے بارے میں‌ لکھا ہوا تھا۔

ٹلسا میں‌ بھائی گھر آیا۔ وہ بڑا خوش لگ رہا تھا۔ اس نے سب کو اپنا سرٹیفکٹ دکھایا۔ یہ ڈین کا سرٹیفکٹ ہے۔ یہ اس وقت ملتا ہے جب آپ سارے سمسٹر میں‌ ہر سبجکٹ میں‌ 100 فیصد نمبر لیں۔ تو بہن نے کہا کہ ہاں‌ مجھے معلوم ہے کیونکہ میرے پاس ایسے 24 سرٹیفکٹ ہیں۔

ایک مرتبہ ڈاکٹر ایج نے کہا کہ وہ کانفرنس پر گئے تھے جہاں‌ بہن نے اچھا لیکچر دیا۔ یہ سن کر مجھے خوشی ہوئی کہ میری بہن امریکہ میں‌ڈاکٹرز کو پڑھا رہی ہے۔ پچھلے سال روٹ سکسٹی سکس سے ویگاس گئے۔ صبح‌ صبح‌ میں‌ اور میری بہن سب کو سوتا چھوڑ کر اسکائے ڈائیو کرنے گئے۔ چھوٹے سے جہاز میں‌ چھ ہزار فیٹ کی بلندی سے نیچے نیواڈا کی پہاڑیاں‌ دیکھ کر میں‌ سوکھے پتے کی طرح‌ لرزنے لگی۔ اگر وہ میرے ساتھ نہ ہوتی تو شائد میں‌ چلتے جہاز سے کودنے کی ہمت کبھی نہ کر پاتی۔

ایک مرتبہ ایک مشکل مریض‌ سے پالا پڑا۔ اس نے کہا کہ آپ ایسے کریں‌ گی تو وہ ایسے جواب دیں گے۔ اور بالکل ویسا ہی ہوا۔ اپنی سائکائٹری کی ٹریننگ سے اس نے پرسنالٹی ڈس آرڈر کو پہچان لیا تھا اور مریض‌کے اگلے قدم کی پیشن گوئی کی۔

ایک مریضہ آئیں‌، وہ بہت بوڑھی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی دونوں‌ بہنیں‌ بھی تھیں۔ ان تینوں‌ کو اکھٹے دیکھ کر میں‌ نے اپنی بہنوں‌ کے بارے میں‌ سوچا کہ ہم لوگ اپنی اپنی \"lubna\"زندگی میں‌ کتنے زیادہ مصروف ہیں‌ اور ہمیں‌ ایک دوسرے سے ملنے کے لئیے وقت نکالنا چاہئیے کیونکہ زندگی کا کیا پتا ہے۔ میری بہنیں‌ جب بھی ملتی ہیں، میں‌ ان سے کچھ سیکھتی ہوں۔ ٹرمپ جیت گیا تو اس نے اس الیکشن کی سائکالوجی پر روشنی ڈالی کہ کس طرح‌ اگر ایک سوسائٹی اپنے آپ کو خطرے میں‌ محسوس کرے تو اس کا رجحان دائیں‌ بازو کی سیاست کی طرف مڑ جاتا ہے۔

 فون آیا کہ ڈرگ ریپ ایک ہی نام یعنی ڈاکٹر مرزا ہونے کی وجہ سے غلطی سے سمبالٹا کے سیمپل ان کے آفس کے بجائے ہمارے آفس میں‌ چھوڑ گئے ہیں۔ وہ لوگ سمبالٹا ڈپریشن کے علاج میں‌ استعمال کرتے ہیں‌ اور ہم لوگ ذیابیطس کی نیوروپیتھی میں‌۔ آپ کے کلینک سے سیمپل لینے کا کیا پروسیجر ہے؟ کوئی پروسیجر نہیں‌ ہے، ویک اینڈ پر آکر لے جاؤ۔ خود باس ہونے کا بہت فائدہ ہے۔ ‌ دیگر خواتین کو بھی یہی مشورہ دوں‌ گی کہ آپ ہر ڈپارٹمنٹ میں ‌سب سے اوپر جانے کی کوشش کریں‌ تاکہ آسان کام آسانی سے کرسکیں ورنہ ہر چھوٹے کام کے لئیے چار لوگ پریشان کرتے ہیں۔ اپنے پیروں‌پر کھڑی ہوں‌ تاکہ اپنی زندگی میں‌کچھ آٹونومی حاصل ہو۔

بہن اور بہنوئی کالج میں‌ ملے۔ جب اس نے اپنا رشتہ دیا تو میری امی کو یقین نہیں‌ آیا کہ وہ سنجیدہ ہے۔ اصل میں‌ انہوں‌ نے یہ کبھی نہیں‌ سوچا تھا کہ وہ جھگڑالو بچی بڑی ہوکر سلجھی ہوئی، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کامیاب انسان بن جائے گی یا یہ کہ اس کو لوگ پسند کریں‌ گے۔ میرے بھائی نے پوچھا کہ کیا تمہیں‌ میری بہن کے گرین کارڈ‌ میں‌ دلچسپی ہے؟ اگر تم نے ایسی حرکت کی تو میں‌ تمہیں‌ دیکھ لوں‌ گا۔ وہ بھی کچھ کم نہیں‌تھا، تپ کر کہتا ہے میں‌ ایسے غائب ہوجاؤں‌ گا کہ تم ڈھونڈ بھی نہیں‌ پاؤ گے۔ امی پریشانی سے کہتیں، ایسا کیوں‌ کہا اس نے؟ کیا واقعی بھاگ جائے گا؟ بھاگنا کیا تھا، ابھی تک تو نہیں‌ بھاگا، بچے بھی بڑے ہوگئے۔

فزیک میں‌ پہلے تو دبلی پتلی سی ہوتی تھی۔ پھر دوسرے بچے کے بعد اس قدر موٹی ہوگئی کہ امی سے مقابلہ کرنے لگی۔ میری بہن ایک بہترین کک ہے جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب پکاتے ہیں‌ تو کھاتے بھی ہیں۔ ایک دن اپنے لیب ٹیسٹ میرے ہاتھ میں‌ دئیے۔ اس کو دیکھ کر میں‌ پریشان ہوگئی۔ پہلے امی کی ذیابیطس تشخیص کی تھی اور اب چھوٹی بہن کی ہیموگلوبن اے ون سی چھ اعشاریہ پانچ ہوگئی جو کہ ذیابیطس ہے۔ اس کو بتایا کہ جرنل ڈیابیٹولوجیا میں‌ چھپنے والی ریسرچ کے مطابق ذیابیطس کی بالکل ابتدائی سطح میں‌ کھانا کم کرکے، وزن کم کر کے اور ورزش پر دھیان دینے سے یہ ٹھیک ہو سکتی ہے۔ اس نے یہ نتائج دیکھ کر اپنی صحت پر دھیان دینا شروع کیا اور اپنا وزن کم کرلیا۔ اب پھر سے نارمل ہوگئی ہے۔ ذیابیطس بھی ٹھیک ہوگئی۔ اس کو ٹینس کھیلنا پسند ہے۔

جن خواتین کو ذیابیطس اور مٹاپا ہو، ان میں‌ کتنے صحت کے مسائل ہوتے ہیں‌ وہ لکھنے کے لئیے یہاں جگہ کم ہے۔

 یہ حالات دیکھ کر مجھے اپنا مستقبل تاریک دکھائی دینے لگا۔ کچھ دن سائکل چلائی پھر چھوڑ دی۔ یوں‌ ہوا کہ سامنے سے گاڑی آ رہی تھی اورجلدی سے بریک ماری تو سائڈ میں‌ گر گئی، ٹانگ چھل گئی تھی جس کو بھرنے میں‌ بہت ٹائم لگا لیکن اس سے بڑا صدمہ یہ ہوا کہ ہمارے برابر والے پڑوسی میاں‌ بیوی اور ان کے بچے سامنے بیٹھے تھے۔ اس کے بعد باقاعدہ زومبا کلاس ، یوگا اور پلاٹیز میں‌ جانا شروع کیا۔ شروع شروع میں‌ بہت مشکل لگتا تھا لیکن آہستہ آہستہ آسان ہوگیا۔ اپنا وزن نارمل رکھنے سے اور پابندی سے ورزش کرنے سے ابھی تک حالات ٹھیک ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “میری بہن

Comments are closed.