اتنی اہم خبریں، اتنی کم عمر کیوں ہوتی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ ابھی اپنے ذہن پر زور دیں کہ پچھلے ہفتے یا ہفتوں میں جو خبر صبح شام آپ کے حواس پہ سوار تھی، اور آپ متاثرہ فرد یا افراد کو اس کا حق دلانے یا اس کو حق ملتا دیکھنے کے لئے نہایت مضطرب تھے، اب اس کا کہیں ذکر کیوں نہیں، حالانکہ ابھی وہ تمام خبریں، اپنے منطقی انجام کو تو نہیں پہنچیں تھیں۔ اس طرح آپ فلیش بیک کرتے ہوئے، سوچتے جائیں اور حیران ہوتے جائیں۔ آپ کو بہت سے چہرے، بہت سے جملے اور بہت سے منظر، آنکھوں میں گھومتے دکھائی دیں گے اور آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ آخر، ہمارے معاشرے کی حقیقی عکاس، اتنی اہم خبریں، اتنی کم عمر کیوں ہوتی ہیں۔

فی زمانہ یہ بات اس لئے بھی حیران کن لگتی ہے کہ ٹکنالوجی کہیں سے کہیں پہنچ چکی ہے۔ خبر رسانی کبھی اس قدر سہل نہ تھی جتنا کہ اب ہے۔ نہ فولو اپ کے لئے جوئے شیر لانا ہے، نہ تفصیلات کی تلاش میں پہاڑ توڑنا ہے۔ ، کاغذوں کی فائلز میں مغز ماری کا زمانہ، کبھی کا خواب ہوا۔ خبر سے متعلق کوئی پہلو، کوئی جز، کوئی زاویہ، تجسس ہو تو صحیح معنوں میں، اب کچھ دسترس سے باہر نہیں، پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ یہ اہم خبریں، یکسر نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں یا انھیں، ان کی اہمیت کے باوجود، آہستگی سے سمیٹ لیا جاتا ہے۔

پڑھنے / سننے / دیکھنے اور جاننے والے کو تو شاید یہ رعایت دی جا سکتی ہے کہ اطلاعات کی موجودہ یلغار میں وہ کسی اور طرف نکل گیا ہو اور پھر اس کی توجہ کہیں اور مبذول ہوگئی ہو، یہ دلیل بھی دی جا سکتی ہے کہ نفسیاتی طور پر، سماجی معاملات اور حالات سے دلچسپی کی بھی، انسانوں کے لئے کوئی حد ہوتی ہو گی، تاہم اس منطق کے باوجود یہاں، سب کی توجہ کا منتشر ہونا بھی بعید از قیاس ہے اگر ان کی شعوری سطح، معاشرے کے ایک حساس آدمی کے مطابق فرض کر لی جائے۔

مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ خبر کا تعاقب کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے والے ہنرمندوں کی پوری ٹیم سے، کیوں کر ممکن ہے کہ یہ صرف نظر ہو، جبکہ ان خبروں میں معاشرے کے اصلی چہرے کی عکاسی ہوتی ہے، عام انسانوں کی بے بسی اور محرومیوں سے پردہ اٹھتا ہے۔ حقیقی مسائل اور مصنوعی اعلانات کے درمیان موجود تفاوت نمایاں ہوتا ہے۔

زندگی کے نام پر، محض وقت کاٹنے والے، کہاں کہاں، کیسے کیسے امتحان سے گزرتے ہیں، اور ان بھول بھلیوں میں انھیں امید اور نا امیدی، کس طرح انگلیوں پر نچائے رکھتی ہے، یہیی اور اس سے ملتا جلتا سبب ان خبروں کا پس منظر ہوتا ہے ( اور المیہ یہ کہ یہ پس منظر، پھر پس منظرمیں ہی رہ جاتا ہے ) ۔

کیا اس طرح واقعات سے نظریں چرا کر یا انھیں ڈھیر میں دبا کر بھول جانے سے، ان عوامل کے ہونے سے انکار کیا جا سکتا ہے جو اس کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ بنے۔ کیا حقائق پر، پردہ ڈالنے سے، یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وہ حقائق اپنا وجود کھو دیتے ہیں۔ کیا ان خبروں پر وقت کی گرد ڈال دینے سے، ان کی دھندلا ہٹ، ان کی واقعیت کو مٹا دینے کی اہل ہو سکتی ہے۔

ان خبروں کی وجہ بننے والے اور ان خبروں میں کم یا زیادہ دلچسپی لینے والے، یا انھیں نظرانداز کر دینے والے، خبروں کے یہ فریق، اس چشم پوشی سے اپنے اپنے حوالے سے متاثر ہوسکتے ہیں اور ہوتے ہیں، مگر اس بات سے بھی انکار، ممکن نہیں کہ ان خبروں سے پیدا ہونے والے اثرات اور ان اثرات سے جنم لینے والے نتائج، جلد یا بہ دیر، تیز یا سست روی سے، نمایاں یا غیر محسوس طریقے سے اپنی جگہ بنا رہے ہوتے ہیں۔

ادھوری خبروں کا یہ ڈھیر، اپنی تکمیل کے لئے، کب کیا شکل اختیار کرے یہ پیش گوئی شاید کسی کے بس میں نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *