قیصر عباس: جن سے نہ ملنے کے باوجود، ملنے کی خواہش برقرار رہی

بزرگوں کا یہ قول نہ جانے کتنی بار نظروں سے گزرا ہو گا کہ آدمی اپنی محفل سے پہچانا جاتا ہے۔ آج اتفاق سے ایک ایسی ہی شخصیت مقابل تھی جس سے، اس سے قبل کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر وہ جس محفل سے متعلق رہے تھے، اُس سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ضرور شناسائی رہی تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ اس وقت اُن سے ملتے ہوئے اجنبیت کا احساس قطعی نہیں تھا۔ ہاں! شعوری اور لاشعوری طور

Read more

دیانتداری، فرض شناسی اور خوش کلامی کی روایت کے علم بردار: اصغر عابد

ادارے کے سارے دفاتر تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ صرف ایک کمرہ ایسا ہے جہاں تاریکی نے تا حال اپنا ڈیرہ نہیں ڈالا، باہر سے گزرنے والا کوئی بھی شخص پورے اعتماد سے یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ یہ کمرہ کس کا ہے۔ اس کمرے میں ایک ایسا سادہ لوح شخص بیٹھتا ہے جسے شاید خود اس بات کا اندازہ نہیں کہ وہ فرض شناسی میں جنون کی کس بلند سطح پر آ چکا ہے۔ کام، کام اور صرف

Read more

‎اپنی لِکھت میں بولتا تخلیق کار۔ مظہر عباس رضوی

دُکھ یا غم کی کیفیت میں غیر تخلیقی یا نیم تخلیقی شخص کے ہاں چیخ کی شدت فضا میں ارتعاش پیدا کر کے اِس کا حصہ بن جاتی ہے، جو ماحول کو سوگوار تو کرتی ہے لیکن اس کا تاثر تا دیر نہیں رہتا اور وہ ہوا کی لہروں کا حصہ بن کر جلد ختم ہو جاتی ہے اس کے برعکس تخلیق کار کے ہاں ایسی کیفیت میں دُکھ کا بیج فکر، جذبے اور احساس کے زیر اثر رہ کر

Read more

(WOW) سے وحید مراد

فلم سازی اور فلموں کی تقسیم کاری میں شغف رکھنے والے نے اگر کیمرے کے سامنے آنے کا فیصلہ کیا تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے، اس بارے میں عام طور پر فلم انڈسٹری کا کوئی فرد بھی کسی قسم کا قیاس کرنے سے قاصر تھا (اور شاید خود وہ شخصیت بھی) وگرنہ، اتنے وسائل کی موجودگی میں، اتنی سی پیش قدمی میں، بہ ظاہر کیا قباحت تھی۔ اسے مزاج کی احتیاط پسندی کہیے کہ پیشہ ورانہ سوجھ

Read more

امتیازی سلوک کی واحد مثبت مثال!

سکرین پر نظر پڑی تو یاد دہانی ضروری سمجھی اور یہ آگاہ کرنا مناسب تھا کہ یہ پروگرام سیریز، گزشتہ چھ سات برسوں سے مسلسل ایک مخصوص موقع پر آن ائر کی جاتی رہی ہے گویا ہر اعتبار سے کلیر ہے، اس لئے اسے پری ویو یا سینسر کے مراحل سے ( مزید ) گزارنا، کہیں وقت کا ضیاع نہ ہو۔ یہ مشاورت اس لئے تھی کہ شاید یہ وقت کسی اور زیر نظر پروگرام پر صرف کیا جاسکتا ہو

Read more

تھری چیئرز فار وحید مراد : ہپ ہپ ہرے!

نوٹ : ( 23 نومبر، وحید مراد کی برسی ) مشہور کامیڈین اور میزبان عمر شریف سے وحید مراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے ہم عصر، پاکستان کے سدابہار ہیرو ندیم نے، اور دوسری باتوں کے، انھیں کچھ یوں خراج تحسین پیش کہا : ” اور جس انداز سے وحید گانوں کو پکچرائز کراتے تھے اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ میں جہاں تک تھوڑا بہت اس کام کو سمجھتا ہوں اور کیا ہے تھوڑا۔

Read more

رضوانہ ، ثومیہ اور ایک فرانسیسی عورت!

رضوانہ کے حوالے سے کی گئی ہر بات کو جھوٹ سمجھا جا سکتا تھا اگر اس کی تصاویر منظر عام پر نہ آتیں۔ اگر اس کی گھائل آنکھیں، زخمی ہونٹ، مسخ چہرہ اور مجروح جسم چیخ چیخ کر سچ نہ بتا رہا ہوتا۔ ثومیہ کی ہر بات کو سچ مانا جا سکتا تھا اگر وہ اس ماحول اور معاشرے کی پر وردہ نہ ہوتی جہاں اپنی غلطی تسلیم کرنا، بزدلی، اپنی لغزش، مان لینا، ہار اور کسی بھول چوک کا

Read more

اپنا انداز جنوں ‎سب سے جدا رکھتا ہوں میں ( حصہ سوم )

منظر نمبر 1 خطرات میں کودنے اور ( ہر قسم کے ) چیلنج کے لئے ہمہ وقت تیار رہنے والے کے لئے، یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ کسی بھی کام کے لئے اُسے کتنے وسائل میسر ہیں۔ جب بیڑہ اٹھا لیا تو ڈر کاہے کا۔ پاکستان ٹیلی وژن کی اپنی نوعیت کی پہلی ٹرانسمیشن کا آغاز ہونا ہے اور بے سروسامانی کی فضا ہے مگر کسی مایوسی کے بغیر، پوری دل جمعی اور انہماک سے ہر محاذ پر

Read more

خالد محمود زیدی: اپنا انداز جنوں ‎سب سے جدا رکھتا ہوں میں (2)

صورت حال واقعی عجیب تھی۔ ریکارڈنگ کے لئے آئے ہوئے یونٹ کے افراد کے علاوہ وہاں موجود دوسری شخصیات بھی کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی تھیں۔ دراصل کسی بھی ریکارڈنگ میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کیمرے کے لئے کون سی جگہ منتخب کی گئی ہے۔ یہ انتخاب اس وقت اور اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب کسی کا انٹرویو درکار ہو۔ آؤٹ ڈور ہو یا ان ڈور، یہ طے کرنا ہوتا

Read more

خالد محمود زیدی: اپنا انداز جنوں سب سے جدا رکھتا ہوں میں

”یہ ریکارڈنگ تم نے رکوائی ہے“ فون کی دوسری طرف سے پوچھا گیا۔ سوال میں چھپے غصے کا، لہجے سے بہ خوبی اندازہ کیا جاسکتا تھا اور بات ہی ایسی تھی کہ جو بھی سنتا وہ غالباً اسی ردعمل کا اظہار کرتا۔ سیکریٹری داخلہ کو بھی جب اس بات سے مطلع کیا گیا کہ پاکستان ٹیلی وژن کے ایک کوارڈینیٹنگ پروڈیوسر نے لاہور میں بی بی سی کی آج کی مجوزہ ریکارڈنگ پر عمل درآمد روک دیا ہے تو یہ

Read more

وحید مراد سے جڑی پانچ شہروں کی کہانی!

کوئٹہ ٹیلی پرنٹر، تب صحافتی ادارے کی بنیادی ضرورت ہوتی تھی کہ اسی کے توسط سے خبروں کا بڑا ذخیرہ ملک بھر سے اخبارات کو میسر آتا تھا۔ اس کی مخصوص آواز اس بات کی گواہی دیتی تھی کہ کہیں کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے جو خبر کے زمرے میں آتا ہے۔ ہاں، یہ الگ بات کہ یہ آواز یہ بتانے سے قاصر ہوتی کہ اس کے تعاقب میں آنے والے الفاظ، کس نوعیت کا پیغام لے کر آرہے ہیں۔

Read more

وحید مراد اور زیبا : پاکستانی پردہ سکرین، پھر ایسی جوڑی نہ دیکھ سکا!

پاکستان کی فلمی تاریخ میں وحید مراد کا نام، ان کی شخصیت اور ان کی فلمیں، گزرتے وقت کے ساتھ، وہ حوالے بن چکے ہیں جن سے کترا کر گزرنا اب کسی مورخ اور نقاد کے لئے ممکن نہیں رہا۔ ان کا فلمی انڈسٹری میں آنا، کم عرصے میں چھا جا نا اور فلم ساز، اداکار اور مصنف کی ہمہ صفت شخصیت کی حیثیت سے اپنا لوہا منوانا اور پھر یکے بعد دیگرے ایک سے بڑھ کر ایک چیلنج سے

Read more

چین سے آئی چینی گڑیا!

دینا کے مختلف ملکوں اور ثقافتی پس منظر رکھنے والوں نے اپنے اپنے انداز اور الفاظ سے، برلن ( جرمنی ) کے ایک اجنبی ماحول میں، اجنبیت کے خاتمے کے لئے اپنی اپنی شناخت ظاہر کی۔ ان سب کا تعارف روایتی جملوں اور عام سے سادہ خیالات پر مبنی کہا جاسکتا تھا، شاید اسی لئے چین سے آئی ہوئی ( WU HUI ) وو ہوئی کی بیان کی گئی انفرادیت پر نہ صرف یہ کہ بعد میں ہونے والے تعارف سے فرق نہ آیا بلکہ گزرتے دن کے ساتھ اس کی شخصیت کے پہلو در پہلو کھلتے چلے گئے، جیسے ایک اچھی کتاب کا ہر نیا باب، پڑھنے والے کی کتاب سے دلچسپی میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے، یا کوئی اچھی اور شائستہ شخصیت اپنے جوہر، غیر محسوس طریقے سے دوسروں پر ظاہر کرتی چلی جاتی ہے۔

Read more

آخری پرواز سے پہلے

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ وہ کسی ہسپتال میں داخل ہوا ہو۔ اس سے پہلے بھی زندگی میں ایسے کئی مواقع آئے جب اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ہسپتال داخل ہونا پڑا۔ جانے کیوں اسے ہسپتال آنا، ہمیشہ کمزوری کی علامت دکھائی دیتا۔ شاید اس لئے کہ آپ یہاں دوسروں کے رحم وکرم پر آ جاتے ہیں۔ ایک عقلی اپروچ رکھنے والے فرد کی حیثیت سے، اس بات پر وہ کئی بار تنہائی میں خود سے بھی الجھتا کہ

Read more

گم شدہ دس روپے اور حاصل شدہ چار کتابیں!

پہلے تو یقین ہی نہ آیا کہ جو دکھائی دے ریا ہے، وہ وہی ہے یا اس کا شائبہ۔ ہچکچاہٹ اور تذبذب نے کچھ ساعت سوچنے میں لگایا کہ یہ عمل مناسب ہو گا کہ نہیں، یہ امانت میں خیانت تو نہیں۔ پھر نہ جانے کس خیال اور ارادے سے یہ فیصلہ ہوا کہ اسے اٹھا لیا جائے۔ ہوا سے اڑ کر کہیں اور چلے جانے کا جواز بھی اس دوران خود کو مطمئن کرنے کے لئے بھلا محسوس ہوا۔

Read more

کوئی ہے جو افضال احمد کو جانتا ہو

نامور اداکار سہیل احمد ( المعروف عزیزی ) نے نہایت اپنائیت اور پورے اعتماد سے کہا انشا اللہ یہ ذمہ داری میں ادا کروں گا۔ یہ انھوں نے کیوں اور کب کہا، آئیں اس کا پس نظر جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ مرحلہ کب درپیش ہوا۔ وہ ایک پروفائل ڈوکومنٹری تھی جو پی ٹی وی کی سالگرہ کے حوالے سے خصوصی طور پر تیار کی گئی اور اسے، اس اہم موقع پر آن ائر کیا گیا۔ اس دستاویزی

Read more

پچھتر سال پر پچھتر منٹ کی خاموشی!

وقت کا تحرک رکتا نہیں اور اس کی روانی سے حالات، واقعات اور معاملات مسلسل اپنی جگہ بناتے یا اپنی جگہ بدل رہے ہوتے ہیں۔ خیالات، نظریات اور تصورات غیر محسوس طریقے سے نئی اور عصری سچائیوں کے قالب میں پناہ لے رہے ہوتے ہیں۔ اسی لئے مورخ اور ماہرین عمرانیات کی رائے میں کیلنڈر کے سینے پر متحرک ہندسے ایک مخصوص وقت کے بعد تاریخ کا حصہ ہو جاتے ہیں اور اس سے آگے، صرف اور صرف، عمل، اختیار

Read more

بچوں کے لئے ناروے سے لکھی گئی دلچسپ کتاب کی دلچسپ روداد!

تب ایک ادبی پروگرام کی ذمہ داری سپرد تھی۔ امجد اسلام امجد صاحب نے ایک رابطے میں بچوں کے لئے لکھی گئی ایک کتاب کا ذکر کیا جو ناروے کے ایک لکھاری کی تخلیق تھی اور اس کی مقبولیت اور پسندیدگی یوں تیزی سے زبان زد عام ہوئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کی ان گنت زبانوں میں اس کے ترجمے ہونے لگے۔ امجد صاحب ان دنوں اردو سائنس بورڈ کے سربراہ تھے اور یہ کس طرح ممکن تھا

Read more

تحریر نہ لکھ پانے کی تصویر کشی !

یہ اوکاڑہ کا ریلوے اسٹیشن ہے۔ الفاظ کی محبت یہاں بار بار لے آتی ہے کہ یہاں موجود بک شاپ اپنے اندر، نہ جانے کیوں بے حد کشش رکھتی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ گھر اور اس کے درمیان کا کم فاصلہ بھی ہو۔ آج بھی الفاظ کے حوالے سے مختلف سوالات اور ان سے پیدا ہونے والا تجسس یہاں لے آیا ہے۔ یہ سوالات کیا ہیں اور کیوں ہیں، آئیں اسے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ خالی کاغذ

Read more

مسکراہٹ بکھیرنے کی مہم پر مامور

اس وقت ہال میں حاضرین کے علاوہ، وہ دس نوجواں لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں جنہوں نے یہاں ہونے والے ٹیلی وژن کے ایک ذہنی آزمائش کے مقابلے میں حصہ لینا ہے۔ ابھی ریکارڈنگ میں کچھ وقت رہتا ہے۔ یہ دس نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ملک بھر سے منتخب ہو کے مختلف شہروں سے آئے ہیں۔ بہ ظاہر یہ سب اس وقت بہت سنجیدہ اور ذہنی دباؤ کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ اپنی شگفتگی میں شہرت رکھنے والے میزبان

Read more

جن کا آٹو گراف سب کے دلوں پر نقش ہے

نہ جانے وہ کون صاف دل، صاف نیت اور صاف ذہن تھا جس نے انسان دوستی، رواداری اور زمانے بھر کے دکھیوں کی دل جوئی سے ہمکنار ہونے کی دعا مانگی، اس دعا، کو قبولیت نصیب ہوئی اور اسی دعا کے بطن سے آسمان نے 1928 میں اس خطہ ارض کے لئے ایک ایسا فرشتہ اتارا جو اس زمین پر، وہ سب کچھ دیکھنے کا روادار نہیں تھا جس کے یہ سب عادی ہو چکے تھے۔ وہ معاشرے میں رواں

Read more

کوئی ہے جو اداکار افضال احمد کو جانتا ہو؟

کوئی ہے جو اداکار افضال احمد کو جانتا ہو؟ فلم، ٹیلی وژن اور فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے یقیناً یہ جانتے ہیں کہ ستر کی دہائی میں پاکستان کی چھوٹی اور بڑی سکرین پر ایک چہرہ نمودار ہوا، جس نے اپنی خوبصورت پرفارمنس، عمدہ ڈائیلاگ ڈیلیوری اور دل کش آواز کے ذریعے ناظرین اور فلم بینوں کے دلوں میں نہ صرف جگہ بنا لی، بلکہ سکرین پر موجود ایسی قابل اعتماد شناخت کی صورت اختیار کر لی، جس کی موجودگی،

Read more

وطن سے وابستگی کی ایک تخلیقی رُوداد

اجنبی ملک میں سب ہی اجنبی محسوس ہوتے ہیں مگر جب کسی مخصوص ماحول اور مخصوص موضوعات کے حوالے سے کوئی شخصیت اپنے کسی بھی پہلو سے متاثر کرے تو وہ اجنبی، پھر اجنبی نہیں رہتا۔ دوران گفتگو کہیں کسی کا اختصار بھی تنگ کرتا ہے اور کہیں متاثر کن کی باتوں کی طوالت میں بھی بوریت جگہ نہیں بنا پاتی۔ ایسی شخصیت کی موجودگی ایک ہی سطح پر ہمیشہ اچھی لگتی ہے اور اس کا محفل میں نہ ہونا،

Read more

شائستگی کی ایک منفرد روایت

اپنی پروفائل سے متعلق دستاویزی پروگرام پر ان کا یہ فیڈ بیک اس قدر فوری اور غیر متوقع تھا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ یہ کیوں کر ممکن ہوا۔ اس میں یہ پہلو مزید حیران کن تھا کہ انھیں گھر کا پتہ کیوں کر معلوم ہوا ( کہ اس کی وصولی اسی پتے پر ہوئی ) ۔ وقت کی پابندی خواہ وہ فیڈ بیک کے حوالے سے ہی کیوں نہ ہو، وہ تو بعد میں ان

Read more

عامر لیاقت حسین کا بچھڑنا اور معاشرے کا پوسٹ مارٹم

سب ہی حیران تھے کہ یہ اچانک ہوا کیا۔ پی ٹی وی کی تاریخ میں شاید اس سے پہلے ایسا کبھی نہ ہوا ہو گا ( اور نہ شاید آئندہ ہو ) ۔ یہ 2019 کی بات ہے۔  رمضان کی افطار ٹرانسمیشن کا دوسرا یا تیسرا روز تھا کہ افطار سے دس پندرہ منٹ پہلے میزبان کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ میں ٹرانسمیشن چھوڑ کر جا رہا ہوں اور سکرین پر باقی معاملات ایک نامور نعت خواں کے

Read more

جمشید فرشوری: جوۓ شیر لانے کے لۓ ہمہ وقت تیار

عام طور پر یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ جب کوئی کسی بھی میدان میں کچھ کر کے دکھانا چاہتا ہے تو وہ، وہاں موجود باقی افراد سے مختلف، متحرک اور ممتاز نظر آتا ہے۔ اس مشاہدے سے اختلاف کی بہ ظاہر کوئی وجہ نہیں لہٰذا اس کی تائید کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یقیناً ایسا ہی ہوتا ہو گا! اب یہاں سوال یہ ہے کہ جب کوئی اس سے بھی آگے جاکر، کسی بھی میدان میں اگر کچھ

Read more

پاکستان میں، جاپان کا ٹیکسی ڈرائیور!

ان دنوں ہماری سڑکوں پر کریم اور اوبر، معاشرتی زندگی کا حصہ نہیں بنی تھیں اور تمام تر انحصار میٹر سے عاری ٹیکسیوں پر تھا جنہیں عرف عام میں پیلی اور کالی پیلی ٹیکسی کا نام دیا جاتا تھا۔ ان سے مالی معاملات طے کرنے میں جہاں عام مقامات پر سر کھپانا پڑتا تھا، وہاں اگر بات بیرون شہر آنے جانے والی جگہوں مثلاً ریلوے اسٹیشن، بس اڈے یا ائرپورٹ پر ہو رہی ہو تو بالآخر مسافروں کو تمام تر

Read more

حادثاتی رفاقت، خضدار سے کراچی: حادثوں کا سبب نیند یا نشہ؟

فلائنگ کوچ اپنی رفتار سے رواں دواں ہے۔ بس کے مین اسٹاپ سے یہاں تک پہنچتے پہنچتے کافی وقت گزر چکا ہے۔ رات بھی گہری ہو چکی ہے۔ زیادہ تر مسافر، پہیوں کی مسلسل حرکت کے سبب لگنے والے جھٹکوں کے نتیجے میں کافی حد تک تھک چکے ہیں۔ بیشتر غنودگی یا نیند کی کسی نہ کسی نوعیت سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔ ڈرائیور نے خود کو اس کیفیت سے بچانے اور چاق و چو بند رکھنے کے لئے ٹیپ

Read more

غیر نمایاں جگہ پر، نمایاں کارکردگی دکھانے والا !

معمول کے مطابق، مقررہ وقت پر، پی ٹی وی کی مارننگ ٹرانسمیشن کا آغاز ہو چکا ہے۔ شیڈول میں جس ترتیب سے پروگرام شامل ہیں، وہ ایک کے بعد ایک دکھاۓ جا رہے ہیں۔ سٹوڈیو میں موجود مہمان سے میزبان کی وقتاً فوقتاً گفتگو بھی جاری ہے۔ اچانک پی ٹی وی نیوز پر افسوس ناک اطلاع کے ساتھ، ایک ٹکر چلتا دکھائی دیتا ہے ” مشہور گلوکار مجیب عالم حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گۓ "۔ ایک اچھے

Read more

اقبال احمد: عالمی مقام کی حامل ایک باکمال علمی شخصیت

وہ پی ٹی وی کا حالات حاضرہ کا ایک پروگرام تھا اور اس میں اس وقت مہاتما گاندھی کے پوتے، ممتاز مورخ، راج موہن گاندھی کا انٹرویو کیا جا رہا تھا جو ان دنوں پاکستان آئے ہوئے تھے۔ عام طور پر ایسے پروگراموں میں دیکھنے والوں کے لئے مہمان شخصیت ہی توجہ کا مرکز ہوتی ہے کہ ساری گفتگو، اس کی شخصیت اور کار ہائے نمایاں کے گرد بنی جاتی ہے مگر یہاں معاملہ کچھ الٹ دکھائی دے رہا تھا۔

Read more

محمد اکرم ڈوگر : شخصیت ایسی کہ ڈھونڈے نہ ملے!

معصومیت ایسی : کراچی یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے پہلے دن کی پہلی کلاس۔ موضوع ایڈورٹائزنگ۔ ابھی تو، نوواردوں کا آپس میں تعارف کا مرحلہ بھی مکمل نہیں ہوا اور بیچ میں یہ کلاس کہاں سے آ گئی، مگر سب، خوش دلی یا بے دلی کے بغیر، اجنبی ماحول کا سامنا کرنے، کلاس روم میں سما گئے ہیں۔ ایک خوبصورت خاتون ٹیچر اپنے ابتدائی لیکچر کے لئے تیار نظر آتی ہیں۔ نئے چہرے ان کے لئے بھی شاید فوری دلچسپی

Read more

اپنے پیشے سے وابستگی کی غیر معمولی کہانی

یہ ان سے پہلا رابطہ تھا۔ فون پر جب مریضہ کی حالت بتائی گئی تو انھوں نے جواب میں سوموار کو آنے کو کہا۔ جب یہ وضاحت کی گئی ”ڈاکٹر صاحب دانتوں کی تکلیف کا آپ سے زیادہ کون اندازہ لگا سکتا ہے۔ آج ہفتہ ہے اور درد کی شدت دیکھے ہوئے یہ کہنا واقعی مشکل ہے کہ سوموار تک نہ جانے مریضہ کی کیا حالت ہو“ ۔ اس وضاحت پر، صورت حال بھانپتے ہوئے انھوں نے نہایت شائستگی سے

Read more

تین فرشتے اور شہد کی شریر مکھیاں

پہلا حصہ: تین فرشتے اور شہد کی شریر مکھیاں اس تمام عرصے میں ڈاکٹر صاحب کی یہ حیرانی مستقل برقرار رہی کہ شہد کی مکھیوں کی اس قدر تعداد اور ان کے حملے کی ایسی شدت کے باوجود، بے ہوشی کیوں نہیں طاری ہوئی۔ شاید اس تجسس کے پیچھے ان کا پیشہ وارانہ پس نظر، اس ناقابل یقین عمل کو غیر منطقی سمجھتے ہوئے قائل نہیں ہو پا رہا تھا۔ پھر انھوں نے اپنی گفتگو میں لاہور میں پڑھے گئے

Read more

تین فرشتے اور شہد کی شریر مکھیاں

تب اسلام آباد کا ایچ 9 سیکٹر کافی حد تک غیر آباد تھا اور یہ لوکیشن بھی جہاں ہم موجود تھے، ایسی تھی جہاں عام پبلک ٹرانسپورٹ کا گزر نہیں ہوتا تھا اور ایک مخصوص وقت کے بعد پرائیویٹ گاڑیاں بھی خال خال دکھائی دیتی تھیں۔ اس دن بھی سماں کچھ اسی طرح کا تھا اور سڑکوں کی ویرانی اس لئے اور زیادہ تھی کہ رمضان کے مختصر دفتری اوقات نے بہت پہلے ہی سے لوگوں کا اس ویرانے سے

Read more

صلائے خاص ہے یاران نکتہ داں کے لئے

سفر کسی سطح اور کسی نوعیت کا ہو، اس کے مختلف مدارج اور مراحل ہوتے ہیں اور اس عمل کو شعوری اور غیر شعوری طور پر طے ہونا ہوتا ہے خواہ اس سے دوچار اس سے کتنے ہی بے خبر اور لاتعلق ہوں۔ ارتقا اپنی رفتار سے اپنے تمام تر اثرات کے ساتھ جاری و ساری رہتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اس سفر کے شریک، اگر اس صورت حال کو سمجھنے، جاننے اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنے

Read more

احمد رشدی اور وحید مراد کا پاس عہد ” تمہارے بنا ہم، بھلا کیا جئیں گے“

روایت کے مطابق پانچوں دوستوں کی یہ انتھک کوشش مسلسل جاری و ساری رہی کہ ان کی یہ نغماتی تخلیق، ایسی ہو کہ اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے۔ اس تخلیق کا سب سے پہلے خیال، سازوں اور سروں سے دوستی رکھنے والے نوجوان ذہن میں بیدار ہوا۔ پھر اسے نوجوان فلم ساز اور اداکار کو سنایا گیا جس نے اسے نہ صرف پسند کیا بلکہ اسے فوری طور پر الفاظ کے قالب میں ڈھالنے کا کہا۔ یوں ایک اور نوجوان

Read more

ہماری تاریخ کا بے رحم منصف

کم لوگ ہوں گے جو نوشتہ دیوار دیکھ سکیں! اس سے بھی کم لوگ ہوں گے جو نوشتہ دیوار پڑھ سکیں! اور اس سے بھی کم لوگ ہوں گے کہ جو نوشتہ دیوار پڑھ کر اس کا برملا، بر جستہ، اور بے خوف اظہار کر سکیں! جرات، بہادری اور ثابت قدمی کی اس داستان کا ہیرو بھی درحقیقت ایک ایسا سرفروش تھا جس نے دیوار پر لکھا ہوا نہ صرف پڑھا، اسے محسوس کیا اور پھر پوری قوت اور دیانت

Read more

وحید مراد کی شناخت

ہماری فلمی تاریخ میں، کسی ہیرو یا اداکار کے حوالے سے، یہ کسی قدر ناقابل یقین داستان لگتی ہے کہ اس کے بچھڑنے کے بعد ، گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ، اس کے پرستاروں میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہو اور روایتی اور سوشل میڈیا دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ یہ سلسلہ تقریباً ”چار دہائی گزرنے کے بعد بھی تاحال ٹوٹنے کی بجائے، اسی پختگی سے قائم و دائم ہے۔ یہ اعزاز بجا طور پر ہماری

Read more

ایک ناقابل یقین خواب اور اُس کی ناقابل یقین تعبیر

اس کہانی میں بنیادی کردار ایک خواب نے ادا کیا اور اس کی ابتدا، سہولتوں اور وسائل سے محروم، کرائے پر حاصل کی گئی، شہر سے دور ایک غیر اہم اور نام کی ڈسپنسری سے ہوئی۔ بے سروسامانی سے دوچار، ارادوں کو یقین تھا کہ تہی دستی اپنی جگہ، آنکھوں سے چسپاں اس خواب کو ایک نہ ایک دن حقیقت کا نقش بننا ہو گا۔ خواب پالنے والے، پر خار، راستوں سے کب گھبرائے ہیں، ان کے تلووں پر ابل آنے والے

Read more

محمد اکرم ڈوگر : اپنی مثال آپ

کمال کا مزاج کہ اگر ایک دفعہ بھی کسی سے مکالمہ ہو جائے تو ملنے والا یہ تاثر لیے بغیر نہ رہ سکے کہ ”بات تو ٹھیک ہے“ یہ الگ بات کہ دیے گئے دلائل، مخالف کے خیالات اور تصورات سے یکسر مختلف ہوں۔ ایسا شاید اس لئے ممکن ہوتا کہ جب بات کی، پوری سچائی سے، ریاکاری کے بغیر، خلوص دل سے اور اس جذبے کے ساتھ کہ مقابل مجھ سے متاثر ہو نہ ہو، اپنا شعور استعمال کرتے

Read more

شطرنج کے کھلاڑی اور تاریخ کا سیاہ و سفید

کیا یہ ممکن ہے کہ قوت سماعت ہوتے ہوئے بھی، سنا نہ جا سکے؟ کیا یہ بھی ممکن ہے کہ بصارت ہوتے ہوئے بھی، دکھائی نہ دے؟ اور کیا یہ بھی ممکن ہے کہ فہم و فراست ہوتے ہوئے بھی (کچھ) سجھائی نہ دے۔ ان سوالات کے حوالے سے، یہ بخوبی فرض کیا جا سکتا ہے کہ ایک عام ( سادہ ) آدمی کا جواب، عام طور پر نفی میں ہو کہ یہ باتیں سننے، سمجھنے اور جاننے میں اس

Read more

ایک خط ، ایک نظم اور احمد سلیم

یہ جنوری کے ہی دن تھے جب میں ان سے ملنے ایم اے جناح روڈ پر واقع ان کے دفتر گیا۔ ان دنوں وہ اس رسالے کے ایڈیٹر تھے جو ایک خاص کمیونٹی کا نمائندہ تھا اور روایتی طور پر اسی کمیونٹی کے حوالے سے مواد چھاپنے کا پابند تھا۔ مگر اس روایت کو بھی انھوں نے نہایت خوش اسلوبی، مہارت اور دیانتداری سے تبدیل کیا۔ روایت پسندی کے ماحول میں رہتے ہوئے، یہ روایت شکنی انھوں نے کیسے کی، یہ

Read more

ابن انشا کے تعاقب میں ، مسٹر مناف سے ملاقات !

یہ کہنا ذرا مشکل ہے کہ ادب ( اور خصوصاً شاعری ) سے شغف رکھنے والوں میں، اس بات کا کتنے لوگوں کو علم ہے کہ ایک تھے شخص مناف میاں۔ البتہ جو یہ جانتے ہیں کہ ایک تھے شخص مناف میاں، ان کے حوالے سے یہ دعوی کرنا بہت آسان ہے کہ جب وہ یہ جانتے ہیں، تو یقیناً یہ مانتے بھی ہوں گے کہ کتنے کمال کے شخص تھے مناف میاں! اب سوال یہ ہے کہ مناف میاں،

Read more

بارش اور اکلوتی حاضری !

اب، یہ ذہن میں اچھی طرح سے واضح نہیں کہ بارش کتنی تیز تھی مگر کراچی کی ہلکی بار ش بھی ہمیشہ سے تیز ہی کہلاتی ہے کہ جہاں برستی ہے وہاں دنوں تک چھوٹے بڑے تالاب کی صورت، موجود رہتی ہے۔ پھر اس عمر میں، جب یہ قصہ پیش آیا تب شاید چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی پہاڑ دکھائی دیتی ہیں سو یوں سمجھیں کہ بارش زوروں پر تھی۔ محلے کی سڑک پر معمول سے کم لوگ دکھائی دے رہے

Read more

پہلے میں کا چلن

تاریخ و ادب میں لکھنؤ کی تہذیب کے حوالے سے شائستگی، مروت، نرم خوئی اور ادب آداب کے اظہار کے لئے ”پہلے آپ“ کی اصطلاح اور اس کا تذکرہ تو شاید سبھی نے سن رکھا ہے، ہمارے ہاں اس کے برعکس غیر علانیہ اور غیر محسوس طریقے سے ایک رویہ عام دیکھنے کو ملتا ہے جسے ”پہلے میں“ کا عنوان دینا شاید غلط نہ ہو۔ یہ بلا جانے کب، کیسے ( اور کہاں سے ) ہمارے معاشرے میں در آئی، اس

Read more

پروفیسر نصراللہ ملک: ایک منفرد، مقبول اور مختلف استاد

میں اُن کے جواب پر واقعی بے حد حیران تھا کہ یہ جواب بلاشبہ عمومی ردعمل سے یکسر مختلف تھا۔ عام طور پر، اگر اسکرین پر آنے کا معاملہ ہو تو ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دیر وہاں دکھائی دے (بلکہ حقیقت یہ کہ وہ اس بات کا طالب ہوتا ہے کہ صرف وہ ہی دکھائی دے) مگر ان کا مشورہ اس رجحان سے بالکل مختلف تھا۔ دراصل میں نے جب اُن سے یہ جاننا

Read more

دسمبر سے آگے ، دسمبر کے پیچھے

ایک سوال اور اسی سوال سے جڑے اور سوالات : کیا یہ ممکن ہے کہ ہمیں صرف وہی دکھائی دے، جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور کیا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جو ( موجود) ہے وہ ہمیں اس لۓ دکھائی نہ دے کہ ہم اسے نہیں دیکھنا چاہتے۔ بلفرض، اگر یہ ممکن ہو بھی جاۓ کہ صرف من چاہا ( اور من مانا ) ہی دکھائی دے، تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا، وہ جو ( موجود

Read more

بیتے ہوۓ کچھ دن ایسے ہیں، ہم راہی جنہیں دہراتے ہیں !

اسکول میں گزارے گئے دن، ہمارے ہاں عام طور پر، ہمیشہ یاد رہ جانے والے اور زندگی کے بہترین ایام تصور کیے جاتے ہیں، شاید ایسا اس لئے ہے کہ یہ لمحات تعلیمی سلسلے کے ابتدائی اور بنیادی شب و روز سے سجے ہوتے ہیں اور بلاشبہ، یہی وہ مرحلہ ہے جو غیر محسوس طریقے سے سماجی رابطے کی پہلی ( با ضابطہ ) سیڑھی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یوں وقت کے ساتھ ساتھ، دنوں، ہفتوں اور مہینوں

Read more

نامور مصور غلام رسول نے کہا، یہ پینٹنگ آپ کی ہوئی !

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ عام طور پر اپنے تصورات اور خیالات کو کینوس پر منتقل کرنے کے لئے کس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں تو انھوں نے اس کام کے لئے اسلام آباد میں اپنے دو پسندیدہ مقامات کی نشان دہی کی، ایک مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع، سید پور اور دوسرا اسلام آباد سے ذرا ہٹ کے، بنی گالہ! ۔ بنی گالہ تب بہت حد تک غیر آباد اور شور شرابے سے دور خاموش

Read more

اوکاڑا، فن صحافت اور ریلوے اسٹیشن

لڑکپن کی خواہشات اتنی سادہ، معصوم اور بھولی کیوں ہوتی ہیں۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لئے لڑکپن کے معنی تلاش کیے تو جواب بہت آسانی سے بلکہ یوں سمجھیں، خود بہ خود واضح ہوتا چلا گیا۔ ترکیب کارگر تھی، کہ دیکھا جائے کہ یہ لفظ اپنے اندر، کیا مفہوم چھپائے پھرتا ہے۔ جب لفظ کے معنی ہی، کم فہمی، نا سمجھی اور نادانی ہو، تو بھلا اس سے دوچار، عقل و فہم، سمجھ داری اور دانائی کے دائرے

Read more

وحید مراد کو بچھڑے 38 سال ہوۓ ہیں یا 38 دن؟

1983 کا سال تھا اور نومبر کا مہینہ, جب فلم بینوں کے دل کی دھڑکن جیسے رکنے لگی ہو، اُنھیں یہ افسوسناک خبر ملی کہ اُن کے دل کی دھڑکن، اُن کا من پسند چاکلیٹ ہیرو، اب پردہ سکرین پر، کبھی بھی، کسی نئی تخلیق، کسی نۓ کردار یا کسی نۓ انداز کے ساتھ اُن کے دلوں میں ہلچل برپا کرنے، جلوہ گر نہیں ہو سکے گا۔ آج اس بات کو تقریباً” 38 سال ہونے کو آۓ ہیں ( یعنی

Read more

ہدایت کار پرویز ملک: کامیابی ہمیشہ جن کی تلاش میں رہی

میزبان نے ان سے پانچواں یا چھٹا سوال ہی کیا تھا جب یہ محسوس ہونے لگا کہ اس انٹرویو کے لئے سوالات کم پڑ جائیں گے۔ ان کی گفتگو میں اس قدر، روانی، شستگی اور جواب دہی میں اتنی جامعیت اور سلاست تھی کہ اچھے مکالمے کی تمام تر خصوصیات، جیسے ظاہر ہونے لگی ہوں۔ ہر سوال کا برجستگی کے ساتھ برملا جواب، اور وہ بھی نہایت شائستگی اور ٹھہراؤ میں لپٹا ہوا۔ ( ان سے قبل آنے والے مہمانوں

Read more

ہم سا ہو تو سامنے آئے!

یہ مرض، دنیا کے ان عجیب امراض میں سے ہے جس کا مریض، دیگر امراض سے برعکس، کبھی صحتیاب نہیں ہونا چاہتا۔ یہ کہنا اور زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ اس مرض کو بڑھتا دیکھ کر، مزید طمانیت محسوس کرتا ہے۔ وہ ایسی باتیں سننے کے لئے ہمہ تن گوش اور سنانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے اور ایسے مواقع ڈھونڈتا ہے اور ایسے موضوعات چھیڑنا ہے جو انجام کار، اس مرض کو زیادہ سے زیادہ اجاگر

Read more

پائلو کوئلو کی پینسل اور زندگی کی تحریر !

الکیمسٹ سے، ساری دنیا میں نام کمانے والے پائلو کوئلو، جنہیں اپنے فکر انگیز خیالات اور دلچسپ مشاہدات کے لئے ادبی حلقوں میں عموماً بہت سراہا جاتا ہے، اپنی ایک مختصر تحریر میں پینسل کی کہانی کی ابتدا کچھ یوں بیان کرتے ہیں : ایک بچہ اپنی نانی کو کچھ لکھتے ہوئے دیکھ کر پوچھتا ہے، ہم نے جو کچھ کیا ہے، کیا آپ اس بارے میں لکھ رہی ہیں۔ اس کہانی کا کیا مجھ سے تعلق ہے۔ نانی نے

Read more

یہ روزنامچہ نہیں، تاریخ لکھی جارہی ہے !

آج اور کل کا فاصلہ ناپنا ایسا ہی ہے جیسے بہتے پانی پر ہاتھ رکھنا۔ ابھی نظروں میں ہے اور ابھی نظروں سے اوجھل۔ یہ مسافت اس تیزی سے طے ہوتی ہے کہ آج کا، کل میں ڈھلنا، اور ڈھلتے رہنا، غیر محسوس طریقے سے، گھڑی کی مصروف سوئی کی طرح بلا توقف متحرک اور رواں رہتا ہے۔ یہ زندگی کا وہ دائرہ ہے جس کی حرکت کبھی ساکت نہیں ہوتی اور اسی دائرے میں نقش مسلسل بنتے، بگڑتے، ڈوبتے

Read more

کنویں کے باسی ہمیشہ پراعتماد اور پرامید ہوتے ہیں!

منطقی طور ہر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مخصوص ماحول، مخصوص سوچ کو جنم دیتا ہے اور مخصوص ماحول میں مخصوص گروہ کے ساتھ مخصوص عرصے تک قیام، اس طرز فکر کو، اور پروان چڑھاتا ہے جو پہلے ہی سے اپنی جڑیں مضبوطی سے پکڑ چکی ہوتی ہے۔ یوں غیر محسوس طریقے سے یہ تہہ در تہہ گہری ہوتی ہوئی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، بالآخر حد نگاہ بن جاتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ وہ نادیدہ

Read more

نیوٹن اور آئن سٹائن کے 24 گھنٹے!

کلاس میں پروفیسر صاحب کی آواز، ہر روز کی طرح آج بھی گونج رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ بلیک بورڈ پر ہندسے لکھے اور مٹائے جا رہے تھے۔ طالب علم پوری دلچسپی سے گنجلک فارمولوں سے حل کیے جانے والے معموں کے پیچ و خم میں کھوئے ہوئے تھے۔ انہماک کسے کہتے ہیں وہ یونیورسٹی بھر میں اس کلاس کا خاصہ بن چکا تھا کہ پڑھانے والا، اپنے اس فریضے کو آج تک ملازمت ماننے کا روادار نہ تھا۔

Read more

آج چاکلیٹ ہیرو کی سالگرہ ہے

وحید مراد کے سالگرہ کی تاریخ 2 اکتوبر ہے۔ اس شخصیت کی مقبولیت، پذیرائی، پسندیدگی، کی کیا وضاحت کی جائے جس کے حصے میں زندگی بھر میں صرف پینتالیس سالگرائیں ہی آئی ہوں، مگر اس کے لئے اس کی 82 ویں سالگرہ پر بھی لوگوں کے دل اسی طرح دھڑکتے ہوں اور ان کے لبوں پر محبت اور چاہت کے دعائیہ بول اسی طرح مچل رہے ہوں جیسے وہ ان کے درمیان آج بھی موجود ہو اور اس نے اپنے

Read more

ابلاغ کی سرحد پر ، پیغام سے مسلح، معاشرے کی بہتری کے لئے بر سر پیکار عظیم مجاہد : ریاض شاہد!

نہیں معلوم وہ عہد ہی ایسا تھا یا یہ کہ ان کا اپنے ساتھ، عہد (ایسا) تھا کہ بغیر سوچے سمجھے، بغیر قائل ہوئے، کچھ تخلیق نہیں کروں گا۔ لکیر کا فقیر نہیں بنوں گا، ڈگر سے ہٹ کر ، اپنی راہ خود وضع کروں گا۔ اس دنیا کو جیسا دیکھتا ہوں اور ( اسے ) جیسا دیکھنا چاہتا ہوں، اس مشاہدے ( اور تجربے ) میں اپنے فلم بینوں کو بھی شریک کروں گا۔ خود سوچنے کا عادی ہوں،

Read more

شیخ چلی کی ثابت قدمی، اور اُن کے شکستہ خواب

شیخ چلی کے ( جاگتی آنکھوں ) خواب، ( بغیر دیگ کے ) خیالی پلاؤ اور ان کی ( بنا وسیلے ) خیالی پرواز، ہمارے ادب کا ایسا حصہ ہے جس کی اہمیت اور حیثیت بدلتے ادوار اور ان میں جنم لینے والے بدلتے رجحانات کے باوجود ابھی بھی قائم ہے اور یہ کردار نئے اور پرانے پڑھنے والوں کے لیے بہ دستور دلچسپی کا باعث ہے۔ مختلف عالمی اور مقامی ادب میں شامل کی جانے والی کہاوتیں، ضرب المثل،

Read more

ڈاکٹر قدیر خان : جانی پہچانی شخصیت کے غیر نمایاں ، پہلو !

ان دنوں، ان کی مصروفیت ( اور اس کی حساسیت ) کا جو عالم تھا، اس میں یہ اصرار کرنا واقعتاً دخل در معقولات سا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ریکارڈنگ کے لئے وقت نکالیں، مگر سائنس لکچر سیریز میں ان کی عدم شمولیت بھی سیریز میں تشنگی چھوڑ دینے کے مترادف تھا، اس لئے ان کی غیر معمولی مصروفیات کے سبب یہ مجوزہ ریکارڈنگ مسلسل ملتوی ہوتی رہی۔ ادھر سے اصرار اور ادھر سے التوا کا سلسلہ، جاری و ساری رہا۔

Read more

ڈاکٹر قاسم مہدی : شرافت، لیاقت اور دیانت جب یکجا ہو جاۓ!

ان کا ردعمل سب کے لئے حیران کن تھا کیوں کہ ہماری یاداشت میں اس سے قبل کسی مہمان شخصیت کی طرف سے کبھی اس طرزعمل کا مظاہرہ نہیں ہوا تھا۔ پی ٹی وی کی طرف سے، پی ٹی وی کی روایت کے مطابق انھیں ان کی پہلی ریکارڈنگ کے حوالے سے، جب چیک پیش کیا گیا تو انھوں نے بغیر کسی سوچ بچار کے، برملا کہا کہ ”اس چیک کو ابھی کہیں رکھ لیا جائے۔ جب ڈاکٹر صاحب ریکارڈنگ

Read more

احمد فراز : برسوں کے بعد دیکھا ، اک شخص دلربا سا !

” یہ ممکن نہیں ہو گا۔“ یہ جواب کسی قدر حوصلہ شکن تھا جب میں نے 1990 کی دہائی میں، ان سے ان کے بارے میں ایک دستاویزی پروگرام کی رکارڈنگ کے لئے وقت مانگا۔ ٹیلی وژن اور ایسے دوسرے نشریاتی اداروں میں مقررہ وقت پر کسی بھی کام کی خوش اسلوبی سے تکمیل پہلی ترجیح بن جاتی ہے اور پروڈیوسر اپنی غرض میں اتنا لالچی ہو جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اپنی ساری مصروفیات چھوڑ

Read more

یہ واویلہ، سر پھروں کا شور ہے، مینار پاکستان پر کچھ نہیں ہوا!

پھر ہمارے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا، میں ایک شور اٹھا ہے۔ پھر کسی انہونی ( یا ہونی ) پر، کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ پھر کسے قصے کے پیچھے، خیال آرائی زوروں پر ہے۔ پھر، ہر کوئی، ہر جگہ، اپنی رائے کے اظہار کو بے تاب ہے۔ پھر کسی بات پر، باتیں بنانے والے، باتیں بنانے پہ مصر ہیں۔ حیرت ہے کہ آخر یہ سب کس لئے اور کس موضوع پر اس قدر الجھے ہوئے ہیں؟ ایسا

Read more

گیلیلیو، بریخت اور اسلم اظہر

( یہ 1980 کی دہائی کی بات ہے جب، ٹیلی وژن سے علیحدگی کے بعد ، اسلم اظہر نے دلوں اور ذہنوں پر دستک دینے کے لئے، تھیٹر کو اپنا مورچہ بنایا اور بدل دینے اور بدل جانے کی خواہش کو بیدار کرنے کے لئے کئی شاہکار پیش کیے، ان ہی میں جرمن ڈرامہ نگار برتولت بریخت کی تحریر کے توسط سے گیلیلیو کی داستان بھی ہے جسے منصور سعید کے قلم نے، پوری مہارت سے اردو کا روپ دیا)

Read more

ہماری برداشت ختم ہو گئی ہے، یا ہم میں بہت برداشت آگئی ہے

اسلام آباد اور حیدرآباد کے شرمناک اور روحوں کو جھنجھوڑ دینے والے عبرت ناک واقعات اور ان کی شدت اور اس شدت کے حوالے سے جنم لینے والے سوالات ابھی بھی منطقی جواب کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

رحیم یار خان سے انسان دوستی، رواداری اور بھائی چارے کی دھجیاں اڑاتی خبر، اپنی پوری المناکی اور دل سوزی کے ساتھ سوچنے والے ذہنوں کو حصار میں لئے ہوئے ہے۔

Read more

بصارت زیادہ اہم ہے یا بصیرت؟

یہ عنوان تجویز کرنے کے بعد، میں خود، جی بھر کے کنفیوز ہوں کہ واقعی اگر ان دونوں کی ترتیب اور اہمیت مقرر کی جائے تو کس کو کہاں رکھا جائے گا (یا رکھا جانا چاہیے)۔ منظر کو دیکھنے، سمجھنے اور جانچنے کے لئے، عملاً بصارت درکار ہے یا بصیرت؟ کبھی یوں لگتا ہے، جیسے بصارت بنا کیا منظر اور کیا اس منظر کی تشخیص، پھر یہ خیال آتا ہے کہ بصیرت سے بالا ہو کر بصارت جو دکھائے، اس

Read more

کامیابی، کامیابی اور کامیابی : نذیر بیگ سے ندیم بننے کا واحد پاس ورڈ!

مقام ہے ڈھاکہ
( سابق مشرقی پاکستان )
سال ہے 1967
اور تہوار ہے عید الاضحی

یہاں ایک فلم، نئے ہیرو ہیروئن کے ساتھ تکمیل کے مراحل سے گزر کر پردہ سکرین کی زینت بننے کو ہے۔ بہ ظاہر یہ ایک نامور ہدایت کار کی طرف سے معمول کی ایک فلم بنانے کا پروجیکٹ ہے اور فلم کے ابتدا میں ہی اسے ایک بڑے فیصلے سے دوچار ہونا پڑا۔ فلم کے ہیرو کے انتخاب میں اچانک تبدیلی کر دی گئی، ایک نئے اداکار کو، ایک مشہور اداکار کا متبادل بنایا گیا ہے لہٰذا، فلم سرکٹ میں، اس سے کوئی ایسی خاص امیدیں بھی وابستہ نہیں کی جا رہیں۔

Read more

فوزیہ سعید: ایک معنی خیز نام

شاید اس سے پہلے ضرورت نہ تھی یا یوں کہیے کہ کبھی یہ جاننے کا سوچا نہیں اور سوچتے بھی کیوں، جب طلب نہ ہو تو تجسس کاہے کی اور تجسس بنا، جستجو کیسی! سو اب، جب غور کیا تو جڑے ہوئے پانچ حرفوں سے تشکیل پانے والے لفظ نے وہ معنی آشکار کیے، جو اس لفظ کے بارہا دیکھنے، سننے اور پڑھنے کے دوران میں، (شاید عدم توجہی کے سبب ) ، کبھی اپنی طرف توجہ نہ حاصل کر

Read more

عبدالستار ایدھی سے اظہار عقیدت : محبت اور رواداری کی رواں کاریز

بلوچستان کی سرزمین کا ہماری کتابوں میں جب ذکر ہوتا ہے تو جغرافیہ کے حوالے سے، اسے عموماً ”کم زرخیز اور غیر آباد دکھایا جاتا ہے مگر آج بلوچستان کے ایک آرٹسٹ نے انسانیت کے عظیم ہیرو اور بھائی چارے اور رواداری کے علم بردار عبدالستار ایدھی کو اپنی تمام تر تخلیقی صلاحیتوں ( اور ممکنہ اور ناممکنہ وسائل ) کو بروئے کار لا کر جس طرح خراج تحسین پیش کیا ہے، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان

Read more

شگوفے کھلانے والے، فاروق قیصر اور انکل سرگم نے پہلی بار اداس کیا ہے!

یہ تحریر لکھتے ہوئے میں نہ جانے کیوں اس الجھن کا شکار ہو گیا ہوں کہ میں کس شخصیت کو زیادہ جانتا تھا، فاروق قیصر یا انکل سرگم! یقین جانیئے تاحال یہ طے کرنے سے قاصر ہوں کہ میرا درست جواب کیا ہونا چاہیے۔ اصل میں ہماری بیشتر ملاقات ایسی ہی تھیں جس میں وہ دونوں ساتھ ہی ہوتے۔ اگر نہ بھی ہوں تو ہر دو کا تذکرہ نہ ہو، یہ ممکن نہ تھا۔

Read more

لوح جہاں پر حرف مکرر نہیں ہوں میں – اکرم ڈوگر کی یاد میں

خواب دیکھنا شاید کوئی ایسا غیر معمولی عمل نہیں کہ اس پر حیرت ہو یا اس پہ رشک کیا جائے۔ ہاں آنکھوں ( اور خیالوں ) میں بسے خواب کے لئے، مسلسل تعاقب کرنے اور اس کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے سرگرداں جنونی ( اور سودائی ) ، ہمارے معاشرے میں عموماً ”کم دیکھنے میں آتے ہیں اور ان میں، وہ دیوانے اور بھی نایاب ہیں جن کے خواب اپنی ذات سے بالا ہوں ( مگر وہ اس کی دھن میں ہمہ وقت، یوں مضطرب ہوں جیسے، تھوڑی سی کوتاہی یا صرف نظر، اس خواب کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کر دے۔ )

Read more

معین اختر: عظیم اداکار یا عظیم تر انسان؟

اور یوں یہ دونوں فنکار طے شدہ ریکارڈنگ میں حصہ لینے پر رضامند ہو گئے۔ شو کی ریکارڈنگ میں ابھی کافی دن باقی تھے تاہم دو اہم شخصیات کی مقررہ تاریخ پر دستیابی اور رضامندی سے انتظامات حتمی مرحلے میں داخل ہونے لگے۔ پروگرام کی نوعیت کے مطابق ایک ہی میدان کے سینئر اور جونیر کے درمیان مکالمہ درکار تھا اور یہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ، اپنی مثال آپ تھے۔ اطمینان کے یہ لمحے، اس وقت پریشانی کی شکل

Read more

جاوید جبار: تخلیق، تشہیر اور ترغیب کی دنیا کا باکمال مسافر

( کچھ پرانے کیلنڈرز کی تاریخوں میں ڈھکے، اوراق پلٹتے ہوئے : ) یہ دفتر کا استقبالیہ ہے۔ یہاں بہت ساری تصاویر اور فریم آویزاں ہیں مگر آپ کی توجہ دیوار پر لگے ایک سلو گن سے کسی طرح اوجھل نہیں ہوپاتی۔ اس کی وجہ سلوگن کے طویل اور نمایاں نقش سے زیادہ، سلوگن میں موجود دلچسپ اور معنی خیز تحریر ہے۔ سلوگن کے الفاظ یوں مخاطب ہیں ”ایک ایسا ملک جہاں 90 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی

Read more

ساگر سرحدی کی رہنمائی کا شکریہ

نہیں معلوم وہ کون مہربان تھا جس نے یہ مشورہ دیا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ کہاں سے اور کتنی آسانی سے، اس کی دستیابی ہوئی کہ یہ 80 کی دہائی تھی اور وی سی آر کا ہی چلن عام تھا۔ تب یہ بھی خوش نصیبی میں شامل تھا کہ جو دیکھنے کی خواہش ہو وہ میسر آ جائے۔ ان دنوں ایسا ہو جانا، ایسا ہی تھا جیسے لکی ڈرا میں پرائز کا نکل جانا یا پرائز بانڈ کے نمبر کا، اخبار میں چھپے نمبروں سے میچ کر جانا۔

Read more

جب پروفیسر متین الرحمان مرتضیٰ نےانوکھی بات ممکن بنا دی

میں نے جب اپنی گزارشات پروفیسر متین الرحمان مرتضیٰ کے سامنے پیش کیں تو پہلے ان کے چہرے پر حیرانی کے تاثرات ابھرے، پھر اس کی جگہ مسکراہٹ نے لے لی اور آخر میں، وہ نہایت نرمی سے گویا ہوئے ”چلو دیکھتے ہیں“۔ میں خود بھی حیران تھا کہ میں نے اتنی بڑی بات اور ایسی عجیب خواہش، کیسے ان کے گوش گزار کر دی اور یہ کیوں کر سوچا، کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ کلاس میں طلبہ و طالبات

Read more

یہ سب میری ماں کی دعا ہے

ہر معاشرے میں، مختلف دور میں مختلف رجحانات، کسی نہ کسی وجہ سے جنم لیتے ہیں اور کسی نہ کسی وجہ سے جلد یا بہ دیر، غیر محسوس طریقے سے یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان دنوں ہمارے ہاں، ہر قسم کی گاڑیوں پر ہر قسم کے جملے (یا عبارت) لکھنے کا چلن عام ہے۔ یوں تو بہت سارے دلچسپ اور غیر دلچسپ، معنی خیز اور بے معنی، ذاتی اور خاندانی اوصاف پر مبنی جملے، بہت ساری گاڑیوں پر

Read more

پی ٹی وی کے ممتاز پروڈیوسر ضیاءالرحمان کی یاد میں

ابھی اس ادبی تقریب کے شروع ہونے میں کچھ وقت باقی ہے اور لوگوں کی آمد جاری ہے۔ میں جوں ہی ہال میں داخل ہوا تو حاضرین کے درمیان موجود ان پر نظر پڑی اور میں نے یہی مناسب جانا کہ اس تقریب کو اعلیٰ ذوق کے حامل، ایک سینئر کی قربت میں دیکھا اور سنا جائے۔ یوں ان کی ساتھ خالی نشست میرے حصے میں آئی اور ہم، دوسرے شرکاء کے ساتھ تقریب کی طرف متوجہ ہوئے۔ شعروشاعری کی محفل میں پیش کیے جانے والی تخلیقات شاید اس اعتبار سے زیادہ توجہ طلب ہوتی ہیں کہ ان کا فوری ردعمل اور اس کا اظہار روایت کا حصہ بن چکا ہے۔

مختلف مہمان اپنی تخلیقات پیش کر چکے ہیں اور ابھی محفل جاری ہے۔

Read more

کمالیہ کا مہم جو اور صادقین کا پاکستان

ہم جب اس بڑے سے ہال میں داخل ہوئے تو میرے لیے ، حیرت کا عجب سامان مقابل تھا۔ کم از کم میں نے، اپنی زندگی میں اتنی ساری پینٹنگز ایک جگہ موجود، نہیں دیکھی تھیں۔ ہال میں چلنے کی جگہ کم تھی اور پینٹنگز کی تعداد زیادہ تھی۔ طرح طرح کے سائز اور طرح طرح کے قسم کی پینٹنگز پورے ہال میں نہایت سلیقے اور ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں۔ جب میں پینٹنگز کے سحر سے نکلا، تو اب

Read more

پروفیسر لئیق احمد خان: ذہانت، خطابت اور متانت کا سنگم

دنیا بھر کے موضوعات میں ان کی دلچسپی اور تجسس دیکھ کر، مجھے خود یہ جاننے کی خواہش ہوئی کہ یہ پتہ کر سکوں کہ پروفیسر لیئق احمد اپنے علمی ذوق کی تسکین اور بڑھاوے کے لئے کیا کرتے ہیں۔ آخر ایک دن، میں، ان سے پوچھ ہی بیٹھا کہ لیئق صاحب، آپ کو کسی بھی موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دی جائے، ( شارٹ نوٹس بھی ہو ) آپ کسی پس و پیش کے، رضامند ہو جاتے ہیں۔

Read more

تجسس ، تحقیق اور تخلیق کے لئے ہمہ وقت سرگرداں: ہمہ جہت، ہمہ صفت، پروفیسر لئیق احمد خان

پاکستان ٹیلی وژن کا ایک پروگرام آن ائر ہے۔ اس وقت اس میں کچھ افراد کو ڈائنگ ٹیبل پر کھانا کھاتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔ اب کھانے کے بعد ، اس دوران میں بچ جانے والی ہڈیوں کو پھینکے جا نے کا منظر ہے۔ اس منظر کو سمجھنے کے لئے، آئیں کچھ اور مناظر دیکھتے ہیں، جس سے بات شاید تھوڑی واضح ہو سکے۔ یہ ایک بچہ ہے جس کا معمول ہے کہ یہ تقریباً ”روز کوڑے کے ڈھیر

Read more

طارق حسین کی یاد میں

اپنے ہر کام میں اعلیٰ نتائج کے خواہاں، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی ایک دفعہ اپنی آڈیو ریکارڈنگ کے لیے تشریف لائے، ایک آدھ گھنٹے کی ریکارڈنگ کے بعد ، وہ ہونے والی اس بے نقص ریکارڈنگ پر ( خوش سے زیادہ ) حیران تھے۔ وہ طارق حسین کی اس شاندار کارکردگی کی وجہ جاننا چاہتے تھے کہ اس سے قبل کسی اور جگہ کی گئی ریکارڈنگز میں اس قدر آڈیو میں بلاسٹ کیوں تھا اور یہاں ایسا ایک دفعہ بھی کیوں نہ ہوا۔

Read more

مشینوں کے درمیاں انسانوں کا ترجمان

ان کے اس شوق اور تڑپ میں ان کے گھر اور ان کے جاننے والوں میں، کوئی بھی شریک نہیں۔ سوائے ہمارے اس کردار کے، جو محض ان کی اس دلچسپی کے سبب ان سے قربت اور تعلق کا دعویدار ہے۔ لیجیے ان کی دل جوئی کے لئے، نرگس کی فلموں کے دلدداہ کے گھر، اپنی تمام تر ذمہ داری کے ساتھ، ڈش انٹینا لگانے کا فیصلہ ہوا ہے جو اس وقت آڈیو اور وڈیو کی سب سے بڑی سہولت ہے۔ اس اہتمام کے پس پردہ صرف اور صرف یہ خواہش کار فرما ہے کہ کسی طرح، پسندیدہ ہیروئن کی آواز کی دستیابی، ان کے لئے باعث سکون ہو جس کی تصویر کبھی ان کی بصارت کی تسکین کا ساماں تھی۔

Read more

سماجی دوری کے زمانے میں سماجی قربت کے قیامت نامے

اکیسویں صدی میں، شاید اس قدر شہرت، پسندیدگی اور وسعت کسی اور چیز کے حصے میں نہیں آئی جو سوشل میڈیا نے بہت خاموشی اور بہت تیزی سے ہتھیا لی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ماضی کی انگریز سرکار کی طرح سوشل میڈیا کی سلطنت میں بھی سورج غروب نہیں ہوتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طلوع آفتاب سے شروع ہونے والا صارف اور سوشل میڈیا کا یہ سلسلہ یوں گردش میں آتا ہے کہ اگر سات دنوں پر صارف کے ساتھ، اس کی رفاقت کا تناسب لگایا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ٹوئنٹی فور سیون ( 24 / 7 ) فارمولے کا اطلاق اگر آج کہیں صحیح معنوں میں ہوتا ہے تو وہ سوشل میڈیا ہی ہے، جو بلاشبہ، بلا تھکن رابطے کی رتھ دوڑائے چلا جاتا ہے اور ہانپتا بھی نہیں۔

Read more

سرور سکھیرا : ایسا تخلیق کار کہاں ملے گا!

عموماً جب کسی کامیابی یا کارنامے کو سراہا جاتا ہے اور اس حوالے سے داد دی جاتی ہے، تو دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ سب کی نگاہ دکھائی دینے والے منظر پر ہی ہوتی ہے، اس پس منظر میں جانے کی اور اسے جاننے کی کسی کو خاطر خواہ دلچسپی نہیں ہوتی جو درحقیقت اس سرخروئی کا ماخذ ہوتا ہے۔ سرور سکھیرا صاحب کا ماہنامہ ”دھنک“ پاکستانی صحافت کی تاریخ کا وہ سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے

Read more

سرور سکھیرا: ایسا ایڈمنسٹریٹر کہاں ملے گا!

یہ، میرے لئے ان کی پہلی کال نہیں تھی مگر میری روایتی سستی میں لپٹا جواب، وہ ہی تھا جو میں پہلے بھی ان سے مودبانہ عرض کر چکا تھا ( یہ جانتے ہوئے کہ اس پر عمل شاید اب بھی نہ ہو ) ۔ میں نے اس مرتبہ پھر ان سے وعدہ کیا کہ میں ضرور حاضر ہو جاؤں گا اور میں اپنے مخصوص مزاج کے مطابق، عہد شکنی کا مرتکب ہوتے ہوئے، ایک بار پھر اپنے وعدے پر

Read more

عہد سال نو اور عہد ہائے گزشتہ

پھر ہماری دیواروں پر آویزاں، میزوں پر سجے اور الیکٹرانکس میں نمایاں، ہندسے اپنی ترتیب بدلنے کو ہیں اور ایسا ہونے میں نہ ہی ہماری ذہانت اور حکمت کا کوئی دخل ہے اور نہ ہی یہ ہماری کسی جستجو اور ہنر کا شاخسانہ ہے۔

وقت کی رفتار، اپنی گردش، ہمہ وقت جاری رکھتی ہے، یہ جانے بغیر کہ کون شریک سفر ہے اور کون غبار راہ کا شکار ہوا۔ منزل پر پہنچنے والے اور منزل سے دور رہ جانے والے، سبھی، وقت کے پائدان پر موجود ہوتے ہیں مگر سرخرو ہونے کا احساس صرف ان ہی کو ہوتا ہے جو اپنے ہدف، منزل اور طے شدہ راستے سے باخبر اور یکسوئی سے، اس پر گامزن ہوتے ہیں۔

Read more

آج کے فیصلے کل کی صورت گری کریں گے

ہمارے روزمرہ کے استعمال میں آنے والے، یہ محاورے اور ضرب الامثل، بہ ظاہر، چند جملے اور کچھ الفاظ کا مجموعہ دکھائی دیتے ہیں(اور بلاشبہ ان کی ظاہری صورت بھی یہی ہے) مگر باطنی طور پر یہ صدیوں کے تجربے، مشاہدے اور مطالعے کا وہ نچوڑ ہیں جس میں چھپی حکمت اور دانش، کسی معاشرے میں یکجا افراد کو بار بار یہ صدا دے رہی ہوتی ہے کہ پیش قدمی سے پہلے سارے امکانات، خدشات، اثرات اور خطرات کو حقائق

Read more

فلم بینوں کے دل وحید مراد کے لئے کب دھڑکنا بند ہوئے

1983 کے گیارہویں مہینے کی تیئس تاریخ کو جب یہ افسوسناک خبر منظر عام پر آئی، تو فلم سے دلچسپی رکھنے والے اور دلچسپی نہ رکھنے والے سبھی، یک دم افسردگی کی حالت میں آ گئے۔ ایسے جیسے، پاکستان کے پہلے اور سدا بہار پوپ سونگ ”کو کو کورینہ“ کی آڈیو ہمیشہ کی لیے خاموش ہو گئی ہو یا جیسے اس کی رنگارنگ متحرک بلیک اینڈ وائٹ وڈیو کو، ساکت کر دیا گیا ہو! اس موقع پر نامور ادیب مستنصر

Read more

وحید مراد اور پرویز ملک: پاکستان فلم انڈسٹری کے عظیم تخلیق کار

یہ نومبر ہی کا مہینہ تھا جب 1964 میں ایک ایسی فلم ریلیز ہوئی جس میں شامل دو چہروں نے اپنے اپنے میدان میں پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے عظیم خدمات انجام دیں۔ ان کی رفاقت میں بننے والی مشترکہ کوششوں کو عوامی سطح پر بے حد سراہا گیا اور فلمی ناقدین میں بھی ان کی اتنی ہی پذیرائی کی گئی۔ ہر چند کہ یہ ملاپ، بد قسمتی سے، تسلسل کے ساتھ زیادہ عرصے قائم نہ رہ سکا اور وہ

Read more

اصرار اور مزید اصرار کے باوجود یہ ریکارڈنگ نہیں ہو سکی

( شفیق الرحمان سے ملاقات کا احوال دگر )

تب مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری لاٹری نکل آئی ہو جب مجھے بتایا گیا کہ جن شخصیات کے حوالے سے پروفائل ڈوکو منٹریز بننی ہیں، ان میں شفیق الرحمان کا نام بھی شامل ہے۔

اردو ادب سے ذرا سی دلچسپی رکھنے والا اور طنز و مزاح کی طرف زیادہ راغب، شفیق الرحمان کی محبت میں مبتلا ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا۔ خصوصاً جب وہ زمانہ طالب علمی کے مراحل سے دوچار ہو تو ان کے موضوعات، اسے اپنی طرف متوجہ کرنے اور مائل رہنے کا پورا گر جانتے ہیں۔ اس حوالے سے خود شفیق الرحمان نے اپنی حماقتیں کے پیش لفظ میں، ابراہم لنکن کا یہ شہرہ آفاق، دلچسپ تبصرہ نقل کیا تھا کہ ”وہ جو اس قسم کی کتابوں کو پسند کرتے ہیں، اس کتاب کو بالکل ویسا ہی پائیں گے، جیسی کتابوں کو وہ پسند کرتے ہیں

Read more

اصرار اور مزید اصرار کے باوجود یہ ریکارڈنگ نہیں ہو سکتی

میں نے ہمت سے جب اپنے آنے کا مدعا بیان کیا تو ان کی ساری شفقت یک دم غائب ہو گئی اور انھوں نے بے ساختہ اور برملا میری گزارش ( اور خواہش ) کو رد کرتے ہوئے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنا ڈالا جو میرے لئے، تمام ارادوں اورخوابو ں کے چکنا چور ہونے کے مترادف تھا۔ میرے پاس اب کہنے کو کچھ نہ بچا تھا کہ ساری کوششیں پہلے ہی رائیگاں جا چکی تھیں اور اب اس کے

Read more

تاریخ کا پرچہ ہمیشہ آؤٹ ہوتا ہے پھر بھی سب پاس نہیں ہوتے

تاریخ کا یہ ایک دلچسپ پہلو ہے کہ یہ انسانی زندگی میں کیے گئے مطالعے، مشاہدے اور تجربے سے حاصل شدہ نتائج اور اس سے ملحقہ پس منظر، حالات اور واقعات کا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ( اولا ”) مخزن ہو جاتی ہے اور ثانیا“ یہی تاریخ آگے چل کر انسانی مطالعے، مشاہدے اور تجربے کے لئے ماخذ کا کام بھی انجام دیتی ہے۔

آنے والے کل کو سمجھنے کے لئے اور آج کی صورت حال کو پرکھنے کے لئے، گزرے ہوئے کل کو جاننا اتنا ہی ضروری ہو جاتا ہے جتنا کسی سفر میں متعلقہ راستوں سے با خبر ہونا۔ یہ وہ نشان دہی ہے جو فیصلوں میں غلطی کے امکانات کو محدود اور بہتری کے اسباب کو ہموار کرنے میں کار گر ہو سکتی ہے (اور ہوتی ہے ) ۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ کے مختصر، غیر تحریری سفر نامے

”مجھے پک کرنے کے لئے ٹی وی کی گاڑی نہ بھیجیں، میں پیدل آ جاؤں گا۔“ یہ پیغام، صبح کی نشریات کے ایگزیکٹو پروڈیوسر، کو ایک دفعہ نہیں، بارہا وصول پایا جو مختلف حوالوں سے سب کے لئے حیرت کا باعث ہوتا۔ ان کے پڑاؤ (پرانے ایم این اے ہوسٹل) اور سیکٹر ایف سکس میں واقع پی ٹی وی مرکز کے درمیان اتنا کم فاصلہ نہ تھا کہ کوئی صبح صبح یہ ارادہ باندھے۔

یہ تجسس، وضاحت چاہنے پر، ایک خوش گوار حیرت ہر تمام ہوا کہ ایسی خواہش کی وجہ، محض اس لئے کی گئی ہے کہ تنہا چہل قدمی میں میسر آنے والی یکسوئی نئے خیالات کو بڑھاوا اور موجودہ خیالات کو نکھار دیتی ہے۔

Read more

ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں سب

جب کسی معاشرے میں کسی بھی حوالے سے کوئی خاص صورت حال جنم لیتی ہے تو اس صورت حال میں حصہ لینے والے تمام بنیادی شرکا اسے اپنے خیالات اور تصورات کے مطابق مخصوص سمت میں لے جا کر مخصوص نتائج کے حصول کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا فطری اور منطقی بھی ہے اور سماجی روایات کے اعتبار سے، جائز بھی۔ یہاں یہ وضاحت (اور اس کی تفہیم) نہایت ضروری ہے کہ اختلاف رائے انسانی مزاج میں موجود

Read more

بیسیویں صدی کا ہیرو وحید مراد اور اکیسویں صدی کے پرستار

پاکستان کو بنے تقریباً ”پندرہ سال ہوئے تھے جب پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور ہدایت کار ایس ایم یوسف نے فلم اولاد کا آغاز کیا ہوگا اور ڈسٹری بیوٹرز، ناقدین اور فلم بین اسے بھی ایس ایم یوسف کی ایک اور سماجی اور گھریلو فلم کے طور پر دیکھ رہے ہوں گے ( اور ہوا بھی یہی کہ یہ سرکٹ پر خواتین کی پسندیدہ، سپر ہٹ موضوعاتی فلم ثابت ہوئی ) مگر یہ فلم اولاد کا محض معاشرتی اور تجارتی پہلو تھا، اس کا تاریخی پہلو، اس فلم تک محدود نہ تھا۔ ہاں اس حوالے سے، اس فلم کی کنٹری بیوشن یہ تھی کہ یہ فلم، اداکاری کی دنیا کے ایک روشن باب کی بنیاد رکھنے جا رہی تھی۔

Read more

سب سے بڑی غلطی پرانی غلطیوں کو غلط نہ ماننا ہے

تاریخ، انسانی تجربات کا نہ ختم ہونے والا وہ سلسلہ ہے جسے ہم جاننا چاہیں یا اس سے صرف نظر کریں، اس کا پہیہ مسلسل چلتا رہتا ہے اور اس عمل سے جنم لینے والے اثرات، محرکات، واقعات، اختلافات، نظریات، مشاہدات اور امکانات، محسوس اور غیر محسوس طریقے سے اپنی جگہ بنا رہے ہوتے ہیں اور یوں یہ عناصر، انسانی زندگی کی ڈگر میں آہستگی یا تیز رفتاری سے، منفی یا مثبت تبدیلیاں لا رہے ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے

Read more

کون وسعت اللہ خان!

ابھی کچھ مہینے پہلے کی بات ہے کہ وسعت اللہ خان کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وہ خبر خوب نمایاں تھی جس کے وجہ سے سوچنے والے، سمجھنے والے اور سمجھانے والے سبھی، یکساں سطح پر شدید تشویش سے دو چار تھے اور یک زبان، ان کی صحت و تندرستی اور طویل عمری کے لئے ہم آواز تھے کیوں کہ معاملہ دل کا تھا۔ آج پھر وسعت اللہ خان خبروں میں زیر بحث ہیں اور مختلف پلیٹ فارم پر

Read more

نیند کے ماتوں کو جگانے کے لئے صور قیامت بھی ناکافی ہے

ہمارے معاشرے میں، ان دنوں اکثر یہ تذکرہ سننے کو ملتا ہے کہ اب وقت زیادہ تیزی سے گزر رہا ہے۔ اس تیزرفتاری کی، اپنے اپنے حساب سے تشریح بھی کی جاتی ہے۔ نہیں معلوم یہ احساسات، واقعی مبنی بر حقیقت ہیں یا یہ صرف زندگی کا بیشتر حصہ طے کر جانے والے، عمر رسیدہ لوگوں کا وہم اور مفروضہ ہے۔ جوانوں اور نوجوانوں میں تیزی کا یہ تاثر شاید اس لئے نہ ہو کہ ابھی زندگی کے ساتھ آگے

Read more

ساتویں حس کے حامل، خوش گفتار لوگ

جب پانچوں حس میں وہی دکھائی دینے لگے، جو چھٹی حس کی بھی خواہش ہو، تو اس ہم آہنگی سے ساتویں حس وجود میں آتی ہے، مگر اس منزل کو پا لینا، ہر ایرے غیرے کے مقدر میں نہیں۔ ایسا ہونا اس لئے ممکن نہیں کہ اس مقام تک پہنچنے کے لئے، اور بہت سی خصوصیات کا ہونا بھی بنیادی شرط ہے، جو یا تو پیدائشی ہوتی ہیں، یا ان کو حاصل کرنے کے لئے خاص ہنر درکار ہوتا ہے۔

Read more