باری مولوی کی تھی اٹھا دیا گنجے کو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئی ریاست مدینہ یعنی ایک مذہبی ریاست بنانے کا منشور کپتان نے پیش کیا تھا، ایسا ہی سا مطالبہ مولانا حضرات ایک طویل عرصے سے کر رہے ہیں، لیکن عملی اقدامات نون لیگ والے اٹھا رہے ہیں۔ نون لیگ کے چند اہم اقدامات پر نظر ڈالتے ہیں۔

قرآن پاک کا ترجمہ پہلی جماعت سے یونیورسٹی سطح تک لازمی پڑھانے کی قرارداد مسلم لیگ (ن) کے میاں طاہر جمیل نے پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں مندر تعمیر کیے جانے کے خلاف مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی کنول پرویز چودھری نے قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی۔ متن میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے سرکاری فنڈ استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر قرآن و سنت کی خلاف ورزی ہے۔ اس مندر کے لیے زمین مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے الاٹ کی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی ایم پی اے رخسانہ کوثر نے پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد جمع کرائی ہے، جس میں ’فیشن ایبل یا ڈیزائن دار‘ داڑھی بنانے یا بنوانے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد کے متن کے مطابق جو لوگ اپنی داڑھی کی ’ڈیزائننگ‘ کرواتے ہیں، وہ سنت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ”لہٰذا پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ داڑھی کی ڈیزائننگ کروانے والوں اور متعلقہ حجاموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔“

میاں شہباز شریف نے ٹویٹ کیا ہے کہ ہر ملک کے اپنے قوانین اور عدالت ہیں۔ ترکی کا حق ہے کہ وہ عدالت فیصلے پر عمل کرتے ہوئے آیا صوفیہ کو مسجد بنا دے۔ مسلم دنیا میں ترکی، مذہبی برداشت کی ایک عظیم مثال ہے اور وہ بین مذہبی ہم آہنگی اور مکالمے کا ایک بڑا چیمپئن ہے۔

کسی زمانے میں پولیٹیکل اسلام کی چیمپئن جماعت اسلامی ہوا کرتی تھی۔ پھر تحریک انصاف نے جنم لیا تو اس کے مخالفین نے اسے ”گڈ لکنگ جماعت اسلامی“ کہنا شروع کر دیا۔ عمران خان نے بھی نئی ریاست مدینہ بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اپنی حکومت کا اسلامی امیج بنانے پر زور دیا۔ لیکن نصیب نصیب کی بات ہے، جماعت اسلامی کا کام کرنے میں اب ن لیگ آگے آگے ہے۔ ویسے اگر تحریک انصاف ”گڈ لکنگ جماعت اسلامی“ ہے تو کیا نون لیگ ”بیڈ لکنگ جماعت اسلامی“ بن رہی ہے؟

خیر چھوڑیں مذہب میں سیاست اور سیاست میں مذہب کے استعمال کو، یہ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہیں، ہمارا ان سے کیا لینا دینا۔ آئیں ایک پرانی حکایت پڑھتے ہیں۔

تین دوست بہتر روزگار کی تلاش میں ایک سفر پر نکلتے ہیں۔ ایک پہلوان ہوتا ہے اور پہلوانوں کی روایت کے مطابق ٹنڈ کروا کر روزانہ سر پر آم کی گٹھلی ملا کرتا ہے تاکہ سر ٹھنڈا رہے۔ دوسرا ایک نائی ہوتا ہے۔ تیسرے مولوی صاحب ہوتے ہیں۔ رات ایک ویرانے میں ہو گئی۔ تینوں نے درخت کے نیچے بستر لگائے اور فیصلہ ہوا کہ تینوں باری باری جاگ کر پہرہ دیں گے کہ کوئی جنگلی جانور یا چور ڈاکو نا آن پڑے۔ باریاں تقسیم ہوئیں۔ فیصلہ ہوا کہ سب سے پہلے نائی پہرہ دے گا، پھر مولوی صاحب اور پھر پہلوان۔ سارا دن چل چل کر تھکن سے سب چور تھے۔ کمر ٹکاتے ہی پہلوان اور مولوی صاحب کے خراٹے گونجنے لگے۔

نائی ایک باتونی اور مجلسی شخص تھا۔ یوں تنہا، خاموش اور بیکار بیٹھنا اس کی فطرت میں نہیں تھا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ بور ہو گیا۔ پہلے اس کی نظر مولوی صاحب پر پڑی جو دنیا و مافیہا سے بے خبر سو رہے تھے۔ انہوں نے عمامہ اتار کر ایک طرف رکھ دیا تھا اور ایک پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھے بیٹھے سو رہے تھے۔ ایسے میں چندا کی چاندنی جب پہلوان کی چندیا سے ٹکرا کر نائی کی آنکھوں میں پڑی تو اس کی توجہ اس طرف مبذول ہو گئی اور وہ داد دینے لگا کہ کسی استاد نے پہلوان کی کیا خوبصورت ٹنڈ کی ہے۔

اس نے سوچا کہ میں کسی دوسرے استاد سے کم تو نہیں ہوں، حجامت کی مشق کر لیتا ہوں تاکہ وقت بھی کٹے اور ہاتھ بھی صاف ہو۔ اس نے اپنا استرا اور قینچی نکالے اور مولوی صاحب کی ٹنڈ کرنے میں مشغول ہو گیا۔ ایک تو مولوی صاحب تھکن سے مدہوش ہوئے پڑے تھے اور دوسرا نائی نے اتنی احتیاط برتی کہ ان کی آنکھ نا کھلی اور نائی کی پہرے کی باری ختم ہوتے ہوتے ان کے بال بھی ختم ہو گئے۔

نائی نے اپنے اوزار سنبھالے اور مولوی صاحب کو اٹھا کر کہنے لگا کہ اب میری باری ختم، تمہاری شروع۔ اس کے بعد وہ سو گیا۔ مولوی صاحب کچھ دیر تو ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ پھر بے خیالی میں ان کا ہاتھ اپنے سر پر جا پڑا۔ وہ ہک دک رہ گئے۔ بے اختیار بولے ”یہ نائی بھی بہت احمق ہے، اٹھانا مجھے تھا اٹھا گنجے کو دیا“ ۔

تو صاحبو، کچھ ایسا ہی معاملہ سیاست میں آن پڑا ہے۔ پاکستان کو ایک مذہبی ریاست مولوی نے بنانا تھا، نعرہ اسے کپتان نے مقرر کیا تھا، لیکن بنا نون لیگ رہی ہے۔ استرے والا نائی بھی نہایت شریر ہے، باری مولوی کی تھی اٹھا دیا گنجے کو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1296 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *