تبدیلیوں کا شور
وقت کا دھارا بھی کیسے بدلتا ہے اس کا اندازہ شاید کسی کو ہوتا ہے تو کسے کسی کو نہیں۔ شاید حکومت وقت بھی کو بھی پتہ چل گیا کہ وقت کا دھارا تو ان کی ہاتھ میں ہے اور ان کی ڈوریاں ہلانے والے تو بے بس ہیں۔
حکومت وقت کو لانے والے اب اس کی ناکامی کے خوف سے پریشان ہیں اور حمکران بھی اس بات سے واقف ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ آج کل دوریاں بڑھ رہی ہیں ہر کوئی اپنی چال چل رہا ہے اگر ایک طرف حکومت ناکام ہے تو دوسری طرف وہ بھی ناکام ہیں۔ کیونکہ ان کی بنائی ہر پالیسی بری طرح پٹ رہی ہے اور اب ان کے پاس وقت بھی نہیں کہ وہ ان سب چیزوں کی کا حل نکال سکیں اب تو اسی لولی لنگڑی حکومت کو سہارا دینا ہی ہو گا
پنجاب میں تبدیلی متوقع ہے اور بزدار پلس کو واپس پولین بلانے کی تیاری ہو چکی ہے ان کی جگہ ایک پیسے والی شخصیت لینے جارہی ہے جس کو چودھری بردران کی حمایت حاصل ہے شاید جہانگیر خان ترین کی ٹیم واپس پنجاب پر راج کرنے جارہی ہے
وفاق میں بھی تبدیلیا ں متوقع ہیں عمران خان اب کی بار اپنی ٹیم میں گگلی ماسٹر کو لانا چاہتا ہے تاکہ وقت آنے پر کسی کو بھی گگلی کرائی جا سکے
حکومت میں اکثر لوگ بے وقوف بیٹھے ہیں یہ میں نہیں کہ رہا ایک وفاقی وزیر نے کیبینٹ کی میٹنگ میں کہا بات اس وقت طول پکڑ گئی جب علی زیدی کی پریس کانفرنس بمقابلہ سندھ گورنمنٹ عزیر بلوچ کیس پر کچھ قوتوں نے کہا کہ آپ ہماری اندرونی ایک رپورٹ کو منظر عام پر لا کر سیاست کر رہے جبکہ اس کے بعد تو نئی رپورٹ پر سائن بھی کر دیے گئےتھے۔ شاید یہ ہی علی زیدی کا بھولا پن تھا جس کا فائدہ کسی اپنے نے اٹھایا اور ان کو یہ پرانی رپورٹ تھما دی
اب تو تیر کمان سے نکل چکا ہے اب کیا کریں یا تو ان اداروں کو مورد الزام ٹھرایئں یا پتلی گلی سے نکل جائیں یہ فیصلہ عمران خان کو کرنا ہو گا کیونکہ اس میں سندھ گورنمنٹ کا کردار تو بالکل واضح ہے ان کے پاس جو رپورٹ آئی وہ سب اداروں نے خود سائن کی اگر کہیں گھوٹالہ ہے وہ کسی ادارے کے اندر ہوا ہے جس کی وجہ سے پہلی رپورٹ سائن نہیں ہو سکی
اسلام آباد کی فضا میں ایک عجیب سی اضطرابی ہے شاید مار گلہ کے دامن میں کوئی پلان تیار ہو رہا ہے لیکن اس پلان کے لکھاری پرانے ہی ہیں تو پھر کسی اچھی تبدیلی کی توقع رکھنا بے وقوفی ہی ہو گی شاید اب وقت آ گیا ہے ملک کو آزاد کرنے کا شاید اسی سے کوئی تبدیلی آ جائے
اگلا ماہ آزادی کا ماہ ہے لیکن لگتا ہے ابھی تک ہم آزاد نہیں ہو سکے شاید یہی وجہ ہے ہر دفعہ تجربہ ناکام ہو جاتا کیونکہ پلان بنانے والے اس ملک کا نہیں اپنا مفاد سب سے پہلے دیکھتے ہیں
جن کی ذمہ داری عوام کی فلاح ہے وہ اپنے لیے جعلی کارناموں سے تمغے لیتے ہیں وہ اس ملک کے نظام میں سوراخ کرکے اپنے لیے لائف جیکٹ رکھتے ہیں
اس حکومت سے یہ توقع نہ تھی کیونکہ یہ آخری امید تھی اور اگر امید کا دامن چھوٹ جائے تو پھر کچھ نہیں بچتا۔ فقت اتنا ہے کہنا ہے اب کی پلان عوام کے ہاتھ میں دے دو شاید وہ اس کا کوئی حل نکال لیں


