وباء

دنیا بھر میں کرونا وائرس نے فضا کو آلودہ کرنے کا انتقام انسانی نظام تنفس کو مفلوج کر کے لیا ہے۔ لوگ کیسے خوف کا شکار ہیں۔ جنہوں نے اس کا سامنا کیا ہے وہ اس سے سہمے ہوئے ہیں۔ جو ابھی تک اس نئی فضائی سروس سے خود کو متعارف نہیں کرا سکے، جو مفت میں روح اور جسم جیسے نایاب اور بے مثال رشتے میں کسی سوکن کی طرح آکر دراڑ کھینچ دیتی ہے، اسے یہودیوں کی سازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ کچھ اکیسویں صدی کے مفکر اور مدبر ملت اسلامیہ کا غم اپنے سینوں میں دفن کرنے والے قوم کے ہمدرد اسے عزت مآب جناب محترم ”بل گیٹس“ کی خفیہ سازش کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

انہوں نے ”موساد“ اور ”سی۔ آئی۔ اے“ جیسی خفیہ ایجنسیوں کو چکمہ دے کر عالی قدر محترم ”بل گیٹس“ کی سازشوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جناب ”بل گیٹس“ کرونا وائرس کی ویکسین دینے کے بہانے دنیا بھر کے لوگوں میں ایک مخصوص ”چپ“ نصب کر کے دجال کو خوش آمدید کہیں گے جو لوگوں کو اپنی انگلیوں پر نچائے گا۔ افسوس! کاش کہ یہی حکماء ایک صدی پہلے آتے تو علامہ اقبال اور قائداعظم اپنے پوتوں اور نواسوں کو گود میں کھیلا سکتے۔

جب جنگ ہوئی تو اردو کے نصاب میں جنگ بندی، جنگ اور اس کے اسباب، جنگ اور اس کی تباہ کاریاں جیسے مضامین کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح سیلاب آئے تو اردو نثر کو وسعت دے گئے۔ یہ تو چند ماہ ہی قیام کر سکے اور انگریزی سامراج کے سامنے ٹک نہ سکے۔ اب وائرس آیا ہے جس کے جانے کے لئے سواری تو ہے لیکن کاٹہی نہیں۔ مطلب دنیا جہاں کے کیمیائی گولے تو ہیں لیکن انہیں چلانے کے لئے توپ نہیں ہے۔

شاید، یہ وائرس اردو نظم و نثر کو غالب اور آزاد کی اولاد سے ملا دے۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ اب تین چار سال تک اخبارات، نصاب اور امتحانات کی زینت وائرس رہے۔ یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں وائرس کی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ وائرس فورس کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک کی اعصابی سرحدوں کی نگہبان ہو گی۔

کتنے بے روزگاروں کو روزگار ملے گا۔ دنیا بھر میں جو کرفیو لگایا گیا ہے اس کے اٹھ جانے کے بعد کیسے لوگ ایک نئے سرے سے تندہی کے ساتھ کام کا آغاز کریں گے اور یہ دنیا بھر سے امن کا گہوارہ بن جائے گی۔

وائرس کے آنے سے تو پاکستان کی معیشت میں ترقی کی نئی راہیں کھلنی چاہئیں لیکن پاکستانی عوام کو اپنا مستقبل تاریک کیوں لگ رہا ہے؟

میں اس وائرس کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ مجھے کچھ آوازیں سنائی دیں۔ ”چٹاخ“ ، ”پٹاخ“ ، ”تڑاخ“ ، اس کے ساتھ ہی چیخوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ حکومت نے باہر جانا بند کر رکھا ہے اور بلاوجہ باہر جانے پر سخت سزائیں عائد کی ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس بھی عوام کو محدود رکھنے کے لئے جناب عالی ”مولا بخش“ صاحب کی خدمات لے رہی ہے۔ یعنی لاٹھی چارج کی اجازت عام ہے۔ ملک میں قائم ان حالات اور اصلاحات کی موجودگی میں ایسی خطرناک آوازوں کا گلی سے آنا میرے لئے خطرے کی گھنٹی بجنے کے مترادف تھا۔

مجھے اس کی توقع ہر گز نہیں تھی۔ میں نہایت محتاط ہو کر گلی کی طرف جانے لگا۔ میں نے انتہائی ہوشیاری اور احتیاط سے دروازے میں موجود سوراخ سے باہر جھانکا۔ وہ منظر دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ محلے کے بچے اس نازک ماحول میں بھی بے خوفی سے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ یہ انہی کے کھیلنے کی آواز اور شور وغل تھا۔ جو محلے کے پاگل ”شیدو“ کے گلی میں آنے سے ماؤں کی گودوں میں دبک جاتے تھے وہ کیسے وائرس کی عزت سر عام اچھال رہے تھے۔

یہ قوم اپنے مستقبل کو تاریک کیوں دیکھ رہی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے سمجھ آ گئی تھی

Latest posts by محمد نواز اعوان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
محمد نواز اعوان کی دیگر تحریریں