کیا ہمارے ملک میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے؟


بڑے بوڑھوں کو اگر کچھ گلہ مع نصیحت کرنا ہوتا تو وہ اظہا ر کی وہ صورت اپناتے جسے ہم ادب کی اصناف میں سے کہانی کے نام سے جانتے ہیں۔ کہانیوں میں دیے گئے کردار تجریدی ہوتے ہیں۔ مگر تھیم معروٖضی ساخت کا تنقیدی اور تعریفی جائزہ ہوتا ہے۔ کہانی کی صورت میں حقیقت قابل برداشت و فہم ہوجاتی ہے۔ بڑھتے اس کہانی کی طرف جس کے کردار تو تجریدی ہوتے ہیں مگر ان کا موضوع سماجی حقیقت کی صورت گری ہے۔ مریم نے میٹرک کا امتحان پاس کرتے ہی گورنمنٹ ڈگری کالج (جو اس کے گھر کے قدرے قریب تھا) میں داخلہ لے لیا۔

مریم کے ابو تھوڑ ا سخت مزاج کے تھے۔ ان کے بس میں ہوتا تو میٹرک کے بعد کبھی کالج میں مریم کو داخلہ نہ لینے دیتے۔ پر امی کے لاکھ اصرا ر کرنے پہ مریم نے کالج میں داخلہ لے لیا۔ اب کالج کے پہلے دن اسے دوست ملی جو تھی تھوڑا گم گوپر مریم کو وہ اچھی لگی۔ مریم کو یوں لگا وہ اس کی ہم مزاج ہے۔ وہ اخلاقاباقی تمام لڑکیوں سے الگ تھی۔ اس کے مزاج کے ساتھ ساتھ اس کا نام بھی الگ تھا۔ کرن پا ل سانولے رنگ اور پر کشش خدوخال کی حامل لڑکی تھی۔

پہلی ہی ملاقات میں دونوں کی دوستی ہو گئی۔ کچھ ہی دنوں میں مریم اور کرن پال گہری دوستیں بن گئیں۔ مگر وہ اس معاشرتی حقیقت کو بھی جانتی تھیں کہ وہ جن معاشرتی اقدار کے تحت جی رہی ہیں ان کے مطابق دوستی کے لئے بھی ذات، مذہب، رنگ، ونسل سب دیکھا جاتا ہے۔ انھوں نے لڑکپن میں سن اور پڑھ رکھا تھا کہ دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جس میں اخلاقیات کے باوجود نفرت کے احساس کو انٹرٹین نہیں کیا جا سکتا۔ جو مذہبی، لسانی، نظریاتی احاطوں سے مبرا ہو کے انسانی بنیادوں پہ قائم ہوتا ہے۔

مگر افسوس کہ تہذیبی فقدا ن کی زبوں حالی کا قصہ یہ ہے کہ اب دوستی کا رشتہ بھی ان پابندوں کے احساس کے بغیر ممکن نہیں۔ مریم اور کرن پال کے گھر بھی ایک دوسرے سے زیادہ دور نہ تھے۔ اور وہ کالج بھی ساتھ جایا کرتی تھیں۔ ایک روز مریمجبصبح کالج کے لیے نکلی تو راستے میں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے جو کتابیں ہاتھ میں اٹھائی ہوئی تھیں وہ کرن نے اخلاقا اٹھا لیں۔ ان کتابوں میں ایک کتاب اسلامیات کی تھی۔ وہ کتاب اٹھائے ہوئے جب کرن کالج کے لیکچر روم پہنچی تو کلاس میں ایک طوفان برپا ہو گیا۔

کوئی کرن کو ناپاک کہنے لگا تو کوئی بلاسفیمر کہنے لگا۔ مریم حیران تھی کہ ایک کتاب اٹھانے سے کیسے کوئی اس کی دوست کو ناپاک اور بلاسفیمر بنا سکتا ہے۔ پر اسے معلوم نہیں تھا کہ کچھ لوگ اپنی زنگ آلود ذہنی حالت کا اظہار ایسے القابات سے کرتے ہیں۔ جب بات زیادہ بڑھنے لگی تو مریم نے سوچا یہ بات کلاس انچارج تک پہنچائی جائے۔ مریم اور کرن انچارج کے پاس گئے پر وہاں بھی کرن کو یہ کہاگیا کہ آئندہ اس کتاب کو مت اٹھانا۔

یہ کتاب صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے ہیں اور مسلمان ہیں۔ مریم شرمندہ تھی کہ آج جو باتیں کرن کو سننی پڑیں وہ مریم کی طبیعت کی ناسازی کے باعث ہوئیں۔ کرن بھی دن بھر بجھی بجھی سی رہی۔ کلاس میں ہر کوئی کرن کو کمتر سمجھ کر اسے باتیں سنانے لگاجو اس ملک خدادا میں اس کے لوگوں کو روز سننی پڑتی ہیں۔ بات گر یہی تک ہوتی تو شاید برداشت کی بھی جا سکتی تھی۔ اس شام کلاس کی ایک بچی جو مریم کی پڑوسن بھی تھی مریم کے گھر آ کر اس کی شکایت لگائی کہ آپ کی لڑکی کی دوستی ایک غیر مسلم لڑکی س ہے۔

ابا جان تو پہلے ہی اس حق میں نہیں تھے کہ مریم کا داخلہ کالج میں کروایا جاٰے یوں ان کو ایک بات مل گئی۔ جو طوفان کلاس میں آیا تھا اس کی ایک تندوتیز لہر گھر تک بھی آپہنچی۔ ابو نے کہا کافر سے دوستی کرنے والا بھی کافر ہوتا ہے۔ مریم سے کہا گیا تم یا تو دوستی چھوڑو گی یا کالج۔ مریم حیران تھی کہ جہاں میرے گھر والوں کو ساتھ دینا تھا میرا۔ وہاں وہ بھی اس وقت ان سب لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ رو رو کے جب مریم تھک چکی تو سوچا نماز پڑھی جائے اور بتایا جائے اللہ کو کہ وہ کافر نہیں ہے۔

نماز کے بعد مریم کو تھوڑا سکون بہم پہنچا۔ دوسرے دن ابو نے کہا کہ وہ خود مریم کو کالج چھوڑ کر آئیں گے۔ اور کالج جا کر والد محترم پرنسپل سے گویا ہوئے کہ میری لڑکی کو کسی ٖغیر مسلم کے ساتھ نہیں بیٹھنے دیا جائے ایک چوڑھی، چودھری کی بیٹی کی دوستی کے لائق نہیں۔ کرن نے جب مریم کو دیکھا تو سمجھ گئی۔ کہ اس کی دوستی کے درمیان مذہب کا بھاری پتھر رکھ دیا گیا ہے۔ کرن سے دوستی ٹوٹنے کے بعد مریم کی تو کئی دوستیں بن گئیں پر کرن کی نہ کوئی دوست بنی اور نہ کسی نے اس کو اپنا دوست بنایا۔ وہ کالج میں سب سے الگ تھلگ بیٹھا کرتی اور نہ ہی کبھی اس سے کسی نے پوچھا کہ تم کیوں سب سے الگ بیٹھی ہو۔ مریم نے اس واقعے کے بعد کرن کو کبھی ہنستے مسکراتے نہیں دیکھا۔ کرن نے کالج ختم ہونے تک کے دن گن گن کر گزارنے شروع کر دیے۔ کئی سال گزر جانے کے بعد مریم نے نیوز میں کرن کو دیکھا جس نے اقلیتی حقوق کے لئے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اور نیو ز چینل پر موجود باریش تجزیہ کار اس کو اسلام اور ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ قرار دیے جاتا تھا۔

کرن نے اقلیتوں کے لیے ایک تنظیم بنا رکھی تھی اور اس کی صدر کی حیثیت سے پریس کانفرنس کر رہی تھی۔ آج اسے یوں ٹی وی پر دیکھ کر مریم کو خوشی ہوئی کہ وہ اپنی کمیونٹی کے لئے کام کر رہی ہے۔ جن پہ اس معاشرے میں خاص عرصے سے ایک مسلسل احساس اجنبیت کو باور کرایا جا رہا ہے۔ وہ خود سے باتیں کرتی اپنے کمرے میں داخل ہو کے آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ ہم نعرے تو بہت لگاتے ہیں لیکن کیا ہمارے ملک میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے؟

جنہیں کسی طرح جسمانی تحفظ میسر آتا ہے انہیں مکمل ذہنی و نفسیاتی تحفظ بھی حاصل ہے؟ ہم نے اس ملک میں انھیں رہنے کی اجازت (حالانکہ ان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اس دھرتی کے باسی ہیں ) تو دے دی پر ہم نے انھیں ذہنی طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ وہ دن رات اس قرب میں گزارتے ہیں کہ وہ ریاست میں رہنے والے دوسرے درجے کے لوگ ہیں۔ خوشیوں میں وہ پاس پڑوسی کو کچھ بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔ کہیں انھیں یہ کہ کے دھتکا ر نہ دیا جائے کہ وہ پڑوسی کے عقیدے سے مختلف عقیدہ رکھتے ہیں۔

وہ انسانیت کی خاطر جب کسی کو خون کا عطیہ دیتے ہیں تو ڈرتے ہیں کہ کہیں انھیں یہ نہ کہ دیا جائے ان کا خون ناپاک ہے۔ یہ سلوک اگر کوئی دنیا کے کسی دوسرے کونے میں کوئی ملک اپنی مسلمان آبادی کے ساتھ کرتا ہے تو درد امہ سے دل جل کے کوئلہ ہو جاتا ہے۔ مگر اپنے ارد گرد اس عذاب سے جو جتنی اقلیت پتہ نہیں کیو ں ہمیں نظر نہیں آتی۔ ہم نے ظلم کے خلاف بھی آواز وہیں اٹھانی ہے جہاں مذہب ایک ہو۔ پر افسوس کہ ہم نے اپنے مذہب کو وہاں استعمال کرنا شروع کیا ہے جہاں انتشار پھیلانا ہو۔

ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا مذہبی بیانیہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پہ خوب زور دیتا ہے۔ اور کسی بھی مذہبی اخلاقیات میں ایسی غیر انسانی اقدا کی اجازت نہیں ہو سکتی۔ یہ تو بس انسان کا بنایا ہوا ہی اک زہر ہے جسے وہ اپنے لوبھ اور لالچ کے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اس تفریق کا نتیجہ ایک مستقل انسانی برتاؤ کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب اسے کوئی حریف باہر سے مہیا نہ ہو سکے تو وہ اس نفسیاتی بحران کی تسکین کے لئے اپنے اندر اختلاف ڈھونڈنے لگتا ہے۔

مریم آئینے میں دیکھ رہی تھی کہ اسے یاد آیا کہ پچھلے دنوں جب اس نے ایک چینل میں انڑنشپ کا سوچا تو وہاں بھی اسے یہ بتایا گیا کہ آپ چینل میں مت جائیں۔ دلیل میں ایک فرقے کا نام لیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اس چینل کا سیٹھ فلاں فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ یاد آتے ہی مریم جھینپ گئی۔ باریش تجزیہ نگار کی آواز مسلسل آ رہی تھی کہ اسلام  خطرے میں ہے۔ مریم نے چیخ کے کہا کہ خدارا اس ملک میں مذہب کے نام پہ انتشار پھیلانا چھوڑ دیں۔

جو جیسا ہے اسے اسی حالت میں قبول کریں اور ملک کی تہذیبی و ثقافتی روح کو زندہ رہنے دیں۔ لاکھ مندر بھی بن جائیں جو جس مذہب کا ہے، اپنے عقیدے پر پختہ رہے گا۔ اس سے کسی صورت اسلام کو خطرہ نہیں ہو گا۔ اپنے عقیدے کو پختہ کیجیے جس کا عقیدہ پختہ ہو وہ چا ہے مندر میں ہو چاہے چرچ میں ہو، حق اللہ کی سدا ہی بلند کرے گا۔ اسے کچھ آرام ملا تو اسے یاد آیا کہ ہمارا یہ حق پہ بات کرنا بھی کئی فتوے لگائے گا، ہمیں کافر بنا دے گا

Facebook Comments HS