کیا ہمارے ملک میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے؟

بڑے بوڑھوں کو اگر کچھ گلہ مع نصیحت کرنا ہوتا تو وہ اظہا ر کی وہ صورت اپناتے جسے ہم ادب کی اصناف میں سے کہانی کے نام سے جانتے ہیں۔ کہانیوں میں دیے گئے کردار تجریدی ہوتے ہیں۔ مگر تھیم معروٖضی ساخت کا تنقیدی اور تعریفی جائزہ ہوتا ہے۔ کہانی کی صورت میں حقیقت قابل برداشت و فہم ہوجاتی ہے۔ بڑھتے اس کہانی کی طرف جس کے کردار تو تجریدی ہوتے ہیں مگر ان کا موضوع سماجی حقیقت کی

Read more

انسان نما درندے

انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اس کا مطلب انسان اس دنیا میں بنائے جانے والی ہر مخلوق سے افضل ہے۔ پر کیا واقعے ہی انسان یہ کہلانے کے لائق ہے؟ جس کو اللہ نے دنیا میں پیدا ہونے والی ہر مخلوق سے افضل بنایا اس انسان نے اپنی ہی پہچان کو کھو دیا۔ وہ انسان جسے عقل و شعور دیا گیا وہ درندہ بن گیا۔ اور وہ درندہ ایسا بنا جس سے بھیانک درندے خود پناہ مانگتے ہیں۔ اس کی درندگی اتنی خطرناک ہے کہ جب وہ درندہ بنتا ہے تو اس کی ہوس کا نشانہ صرف انسان ہی نہیں جانور بھی بنتے ہیں۔

Read more

شرمسار باپ کا خواجہ سرا کو آخری پیغام

جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے گھر میں خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ لوگ مبارک باد دیتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے۔ فلاں کے گھر بچہ ہوا ہے۔ کئی خوبصورت نام ڈھونڈنے کے بعد سب سے خوبصورت نام رکھا جاتا ہے۔ اور جب تک وہ انسان اس دنیا میں زندہ رہتا ہے اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ میرا نام تو رکھا گیا پر عارضی کہا نام تو بڑے ہوتے ہی اس نے تبدیل کرلینا ہے میں وہ بچہ تھا جسے پیدا تو کیا گیا مگر اس کے آنے پہ خوشیاں نہیں منائی گئی پہلے تو میرے پیدا ہونے کو چھپایا گیا اور جب بات پھیلی تو لوگوں نے مبارک باد کی جگہ میرے گھر والوں سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

میرے پیدا ہوتے ہی گھر میں طوفان برپا ہوگیا۔ ابو نے تو اسی وقت کہا مار دو اسے۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ سو یوں زندگی میں درد برداشت کرنے کے کے لئے میں زندہ بچ گیا۔ میں وہ زندہ انسان تھا جسے نہ زندوں میں شمار کیا جاتا ہے نہ مردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب ہم یہ کہتے ہیں ہر شخص کو اللہ پیدا کرتا ہے اور کائنات کی ہر شے کو بنانے والا اللہ ہے تو پھر ہم جیسوں کو بنانے پہ اعتراض کیوں ہوتا ہے لوگوں کو؟

Read more

کہیں آپ بھی تو قید نہیں؟

ہم اکثر کچھ لکھنا چاہتے ہیں پر لکھ نہیں سکتے۔ بہت سے الفاظ ہماے پاس ہوتے ہیں۔ لیکن وہ الفاظ ہم کبھی کبھی لکھنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ الفاظ کوئی پڑھ لے۔ ہم ہمیشہ انہیں دل کے کسی کونے میں چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ چند الفاظ ہماری زندگی کی کہانی ہے۔ وہ الفاظ ہم ہمیشہ قید کر کے رکھتے ہیں۔ پھر احساس ہوتا ہے کہ کب تک؟ کسی کو قید

Read more

کیا ہم آزاد ہیں؟

آزادی کیا ہے یہ سمجھنا ہمارے لیے بہت مشکل ہے۔ کیونکہ جب ہم نے اس ملک میں جسے آزاد مملکت پاکستان کہا جاتا ہے آنکھ کھولی تو اسے آزاد پایا ہے۔ ہم نے نہیں دیکھا اسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے شمار قربانیاں دیں ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے جن کا ہندووں نے نام ونشان مٹا دیا انہوں نے اپنی نسلیں قربان کر دی صرف اور صرف آزادی کے لئے اگر یہ جاننا ہے کہ آزادی کیا

Read more

عورت کب مرتی ہے؟

عورت کو جو مقام اللہ نے عطا کیا ہے تمام لوگ اس سے بخوبی آشنا ہیں۔ مگر افسوس ہمارے معاشرے میں وہ مقام ایک عورت کو حاصل ہی نہیں ہے۔ عورت کو ہمیشہ دوسروں کی خدمت کرتے دیکھا گیا ہے۔ ماں باپ کے گھر ہوتی ہے تو گھر والوں کی خدمت کرتے نظر آتی ہے بیاہ کے جب اگلے گھر جاتی ہے تو شوہر کی اور اس کے گھر والوں کی خدمت کرتے نظر آتی ہے۔ پر اس پورے سفر

Read more

سیاسی مفاد یا ذاتی مفاد؟

ملک پاکستان کی سیاسی صورتحال پر اگر غور فکر کی جائے ماضی سے لے کر حال تک ہمیں ایک قدر تقریباً ہر سیاستدان اور ہر سیاسی پارٹی میں مشترک دکھائی دے گی وہ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا پوری دنیا میں سیاستدا ن مخالف سیاستدان کے منشور اور نظرئیے پر تنقید کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں بد قسمتی سے سیاست نام ہی ذاتی کردار کشی کا ہے۔ نظریات کی سیاست کو نظر انداز کرنے کے بعد جب شخصیات کو ہی

Read more

سیاسی مفاد یا ذاتی مفاد؟

جب ہر سیاستدان دوسرے سیاستدان کی سیاسی نظریہ سے اختلاف کرنے کے بجائے ذاتی کردار کشی میں وقت ضائع کریں گے۔ تو یقیناًایسے حالات ہی پیدا ہو نگے۔ بچپن میں ہم ایک کہانی سنا کرتے تھے لکڑہارا اور اس کے چار بیٹے جب وہ الگ الگ لکڑیوں کی گٹھڑی توڑتے ہیں تو ناکام رہتے ہیں لیکن جب مل کے توڑتے ہیں تو کامیاب ہو جاتے۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاستدانوں میں اتفاق نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ہر

Read more