جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے گھر میں خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ لوگ مبارک باد دیتے ہیں۔ مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے۔ فلاں کے گھر بچہ ہوا ہے۔ کئی خوبصورت نام ڈھونڈنے کے بعد سب سے خوبصورت نام رکھا جاتا ہے۔ اور جب تک وہ انسان اس دنیا میں زندہ رہتا ہے اسے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ میرا نام تو رکھا گیا پر عارضی کہا نام تو بڑے ہوتے ہی اس نے تبدیل کرلینا ہے میں وہ بچہ تھا جسے پیدا تو کیا گیا مگر اس کے آنے پہ خوشیاں نہیں منائی گئی پہلے تو میرے پیدا ہونے کو چھپایا گیا اور جب بات پھیلی تو لوگوں نے مبارک باد کی جگہ میرے گھر والوں سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
میرے پیدا ہوتے ہی گھر میں طوفان برپا ہوگیا۔ ابو نے تو اسی وقت کہا مار دو اسے۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ سو یوں زندگی میں درد برداشت کرنے کے کے لئے میں زندہ بچ گیا۔ میں وہ زندہ انسان تھا جسے نہ زندوں میں شمار کیا جاتا ہے نہ مردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب ہم یہ کہتے ہیں ہر شخص کو اللہ پیدا کرتا ہے اور کائنات کی ہر شے کو بنانے والا اللہ ہے تو پھر ہم جیسوں کو بنانے پہ اعتراض کیوں ہوتا ہے لوگوں کو؟
Read more