بدھ کا شکست کردہ مجسمہ اور قومی غلط فہمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان قومی ریاستوں کے دور میں بطور ایک قومی ریاست کے وجود میں آیا لیکن اس کے شہریوں کو تعلیم میں یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ وہ اپنی قوم اور ریاست پر فخر کریں۔

نتیجہ یہ کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں کم سوچتے ہیں اور سات سمندر پار کے بارے میں زیادہ۔ ہیرو بھی وہیں سے لاتے ہیں اور جذبات بھی۔ جب ان نیشن سٹیٹس کے شہریوں کے سامنے ان کے ہیرو کو اپنا کر اس کے کارناموں کو اپنا کہتے ہیں تو وہ بے عزتی کر دیتے ہیں کہ میاں یہ کارنامے ہماری قوم کے ہیں تمہاری کے نہیں، اپنا گدھا اپنے پاس رکھو اور ہم شہسواروں میں تم پانچویں سوار مت بنو۔

یہی نظریاتی غلط فہمی اس وقت پریشانی پیدا کرتی ہے جب کوئی دہشت گرد تنظیم مذہب کے نام پر وجود میں آتی ہے اور پاکستانی شہریوں کو بتاتی ہے کہ تمہاری وفاداری ریاست پاکستان سے نہیں ہے بلکہ ایک عالمی ریاست سے ہے جس میں موجودہ ریاست پاکستان کی حیثیت ایک صوبے سے بڑھ کر کچھ اور نہیں ہو گی۔

ہمارا شہری اس دعوے کو اس نظریاتی تعلیم پر پرکھتا ہے جو اسے ریاست نے دی ہے اور اسے تعلیم کے مطابق درست پا کر ریاست کے خلاف اس دہشت گرد تنظیم کے ساتھ نظریاتی یا عملی طور پر مل جاتا ہے اور صدق دل سے ریاست کی حکومت اور اس کے اداروں کو اسلام دشمن یا مرتد سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ حکومتی پالیسی ریاست کے مفاد کے مطابق بن رہی ہوتی ہے۔ پھر اسی غلط فہمی کے نتیجے میں ہمارے ساٹھ ستر ہزار شہری اور ریاستی اہلکار مار دیے جاتے ہیں۔ اور میچ ابھی جاری ہے۔

جن علاقوں میں افغانستان، شام، لبنان اور مصر کی موجودہ قومی ریاستیں قائم ہیں انہیں صحابہ کرام کے زمانے میں، بلکہ یوں کہیے کہ خلافت راشدہ کے زمانے میں فتح کر کے اسلامی خلافت کا حصہ بنایا گیا تھا۔ صحابہ کو وہاں موجود مجسمے خلاف اسلام نہیں لگے تھے۔ نا انہوں نے ابو الہول کو توڑا نا بامیان کے بدھ کو۔ لیکن بدقسمتی سے چودہ سو برس بعد ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو ایسا کرنا لازم سمجھتے ہیں، گویا ان کا خیال ہے کہ وہ اسلام کو خلفائے راشدین اور صحابہ کرام سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔

عربی بولنے اور اسی میں قرآن و حدیث پڑھنے والے مصریوں کو اپنے اجداد پر فخر ہے۔ وہ ان کے کارناموں کو نمایاں کرتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ ہمارے اجداد نے دنیا کی ایک بڑی تہذیب کو جنم دیا تھا۔ ان کے آثار کو محفوظ رکھتے ہیں اور انہیں دنیا کو دکھا دکھا کر ان سے اربوں ڈالر بھی بٹورتے ہیں اور دنیا میں اپنی قومی ریاست کی اہمیت بھی زیادہ کرتے ہیں۔ شامی اور عراقی بھی یہی کرتے ہیں اور ایرانی بھی۔

ہمارے پسندیدہ ترکوں کا بھی یہی حال ہے۔ ترک وسط ایشیا سے موجودہ ملک ترکی کے خطے میں ہزار برس قبل آئے۔ اس کے باوجود وہ اس سرزمین پر پانچ سات ہزار برس پرانے بت پرستوں اور مسیحیوں کو بھی اپناتے ہیں۔ ان کی تہذیب اور کارناموں کو ترکوں کی تہذیب اور کارنامے بتاتے ہیں۔ ان کے آثار کو محفوظ رکھتے ہیں اور ان آثار کو دنیا کو دکھا دکھا کر اربوں ڈالر کماتے ہیں۔

اب کٹر بنیاد پرست سعودی بھی اسی راہ پر چل نکلے ہیں۔ جب القاعدہ اور داعش نے قومی ریاست کے نظریے کو ٹھکرا کر آل سعود کو غاصب قرار دینا شروع کیا تو سعودی ریاست نے اپنا قبلہ تبدیل کیا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ اپنے شہریوں کو جو نظریاتی تعلیم دے رہی ہے اس کے نتیجے میں سعودی عرب ایک قومی ریاست کے طور پر قائم نہیں رہ پائے گا۔ اب وہ بھی قدیم عرب تہذیبوں کے آثار کھود کر ان پر فخر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چند برس قبل وہ ان آثار کو تباہ کرنے یا کم از کم دبا کر رکھنے کے حق میں تھے۔

ہم وہ قوم ہیں جو عربوں، ترکوں، عراقیوں، شامیوں، ایرانیوں اور مصریوں کے برخلاف اپنے اجداد پر شرمندہ ہیں۔ داؤ لگتے ہی ہم اپنے دیسی اجداد کی نسل تبدیل کر کے انہیں عرب شریف سے زبردستی درآمد کر لیتے ہیں۔ اپنی تاریخ کو غیروں کی تاریخ قرار دیتے ہیں اور غیر ممالک کی تاریخ کو اپنا۔ گمان ہمارا یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو ان سب عربوں اور عجمیوں سے بڑھ کر سمجھا ہے جبکہ ان کا گمان ہمارے متعلق کچھ مختلف ہے۔

نتیجہ یہ کہ ہمیں سیاحت سے بھی پھوٹی کوڑی نہیں ملتی، دنیا بھی ہمیں جاہل اور دہشت گرد سمجھتی ہے اور ہم اپنی قومی ریاست سے بھی اپنے ہی شہریوں کو باغی کر رہے ہیں۔ نا ہمیں عربی اپنا سمجھتے ہیں نا عجمی، نا مشرق ہمیں اچھا سمجھتا ہے نا مغرب۔

ایسی تعلیم اور تربیت دیں گے تو پھر سوات کا بدھ توڑا نہیں جائے گا تو کیا اسے سنبھالا جائے گا؟ اور کیا بات صرف بدھ کا بت توڑنے تک ہی محدود رہے گی یا قومی ریاست کا مجسمہ توڑنے تک جائے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1312 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply