السلام الیکم !
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہیں ۔
۔۔۔۔۔ مصنفین کی فہرست میں ان دونوں شاعروں ، ادیبوں ، منتظم اعلیٰ اردو منزل ادبی جشن و اردو منزل عالمی مشاعرے ، ادبی ایوارڈز کے نام بھی شامل فرمائیں ، شکریہ ۔
صبیحہ صبا ( مصنفہ : کتابیں : لفظوں کا شہر ، تری صدا آئی ، لفظ بنے تصویر ، تخیل اور ، دل درد آشنا ) ، اور
صغیر اھمد جعفری ( مصنف : کتاب : خوابوں سے رشتہ ٹوٹ جائے گا )
میں اور ممتاز شاعرہ ، ادیبہ ، صحافی ، منتظم اعلیٰ ادبی جشن و عا،می مشاعرے صبیحہ صبا آجکل ساہیوال ( پنجاب ) میں ہیں ۔ ہمارا فون نمبر یہ ہے :
Tel. No. of Poetess Sabiha Saba and Poet Saghier Ahmed Jafri : 0336 237 6189
السلام علیکم !
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہیں ۔
۔۔۔۔۔ مصنفین کی فہرست میں ان دونوں شاعروں ، ادیبوں ، منتظم اعلیٰ اردو منزل ادبی جشن و اردو منزل عالمی مشاعرے ، ادبی ایوارڈز کے نام بھی شامل فرمائیں ، شکریہ ۔
صبیحہ صبا ( مصنفہ : کتابیں : لفظوں کا شہر ، تری صدا آئی ، لفظ بنے تصویر ، تخیل اور ، دل درد آشنا ) ، اور
صغیر اھمد جعفری ( مصنف : کتاب : خوابوں سے رشتہ ٹوٹ جائے گا )
میں اور ممتاز شاعرہ ، ادیبہ ، صحافی ، منتظم اعلیٰ ادبی جشن و عا،می مشاعرے صبیحہ صبا آجکل ساہیوال ( پنجاب ) میں ہیں ۔ ہمارا فون نمبر یہ ہے :
Tel. No. of Poetess Sabiha Saba and Poet Saghier Ahmed Jafri : 0336 237 6189
مچھلیوں کا احتجاج۔
تحریر محمد رمضان علیانی
آج بہت دنوں بعد دریائے سندھ سے نکلنے والے نالہ کریک جو کہ ہمارے علاقے موضع علیانی سے گزرتی ہے وہاں بہتے پانی کو دیکھنے کے لیے اس کے ایک کنارے پر بیٹھ کر کچھ لمحے قدرت کے حسن نظاروں کو محسوس کر کے لطف اندوز ہونے کے لیے بیٹھ گیا۔ اس بہتے پانی میں چلتی پھر اللہ پاک کی مخلوق کو دیکھنا بھی سکون کا سبب بنتا ہے۔
اسی دوران میں نے مچھلیوں سے گپ شپ کرنے کا ارادہ کیا میرے پہلے سؤال پر ہی مچھلیوں نے مجھے ایسا لاجواب کیا کہ اب سوچتا ہوں کہ کاش ان سے بات ہی نا کرتا۔ میں نے کہا کہ کتنی خوش قسمت جاندار ہیں آپ کہ بہترین ماحول میں تازہ ٹھنڈے اور صاف ستھرے پانی میں رہتی ہیں فوری ہی ایک بڑے قد اور لمبی مچھلی بولی کہ یہ صاف پانی ہے آپ ایسے پانی کو صاف پانی کہتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں صاف پانی نہیں ہے تو اس نے کہا ہے کہ اس پانی میں آپ اپنی دنیا جہاں کی غلاظت پھنکتے ہیں کبھی ہمارا خیال کیا ہے آپ کے ہاں کوئی جانور مر جائے اسے پانی میں کیوں پھنکتے ہیں؟ زاید المعیاد ادویات رات کی تاریکی میں پھینک جاتے ہیں کبھی سوچا ہے کہ وہ آپ کے لئے ناقابل استعمال ہیں اور ہمارے لئے؟. میں نے بات کو بدلنے کے لیے مچھلی کو کہا ہے کہ آپ کو گرمی سردی کی کوئی پریشانی تو نہیں ہو گی؟ فوری طور پر جواب ہے کہ آپ انسانوں نے اب جو ہماری نسلوں کو ختم کرنے کا سسٹم شروع کیا ہے ہم بہت زیادہ پریشان ہیں میں نے پوچھا وہ کیسے؟ مچھلی تعجب سے کہتی ہے آپ اتنے نادان بن کر پوچھا ہے جیسے کچھ نہیں معلوم؟ چلیں آپ مچھلیوں کا شکار کریں پہلے ہی مختلف انداز سے پکڑتے تھے اب جو کرنٹ والا دہشتگردانہ طریقہ اپنایا ہے یہ ظلم نہیں ہے کرنٹ سے ہماری پوری ابادی شدید نقصان کا شکار ہو رہی ہے۔ ابھی تک آپ لوگوں کے پھل دھاگے، تعویذ گنڈے کی وجہ سے ہمارے لئے کافی مشکلات پیش آ رہی تھی کہ یہ کرنٹ والا ہتھیار بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔
کتنی راز دان ہیں ہم آپ کے کرتوتوں کے عینی شاہد ہیں ہم مچھلیاں لیکن کبھی نہیں بتایا ہے اور آپ لوگ ہیں کہ کسی کا کوئی عیب نظر آئے ایسے اچھالتے ہیں کہ دنیا کا غلیض ترین شخص ہے۔
مچھلیوں کا یہ احتجاج دیکھ کر شرمندگی سے آنکھیں جھکا کر اٹھا اور سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کیسے ہم جانوروں کی طرح گری ہوئی حرکت کرتے ہیں کبھی بھی ان کے مسائل ان کی مشکلات پر غور نہیں کیا۔ خیرات کے طور پر ہی سہی کبھئ ان جانداروں کی خوراک دریائے سندھ میں یا دیگر دریاؤں میں ڈال دیں یہ بھی نا کریں کم ازکم مردہ جانور، تعویز گنڈے اور زائد المعیاد ادویات کو ہی دریاؤں میں ڈالنے کی بجایے گڑھا کھود کر اس میں ڈال دیں تو دریاؤں کا ماحول صاف ستھرا رہے گا۔ تخیلاتی ہی سہی مچھلیوں کا احتجاج یہ احتجاج ہمیں سوچنے پر ضرور اکتائے گا کہ کیسی شعور والی قومیں ہوتی ہیں۔
پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ دور سے گزر رہا ہے، جہاں سیاسی، معاشی، اور سماجی مسائل نے قوم کو گہرے غور و فکر پر مجبور کر دیا ہے۔ بطور ایک حافظ، میں ان تمام حالات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ میرا ایمان ہے کہ ہر مسئلے کا حل اللہ کی ہدایت اور انسان کی نیت پر منحصر ہے۔
سیاسی حالات اور قیادت کا فقدان
پاکستان کی سیاست اس وقت تنازعات اور اختلافات کا شکار ہے۔ سیاسی رہنما عوامی خدمت کی بجائے ذاتی مفادات میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسلام ہمیں اتحاد، انصاف، اور مساوات کا درس دیتا ہے، لیکن ہماری سیاست ان اصولوں سے کوسوں دور ہے۔ اگر ہماری قیادت قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنائے اور عوام کی بھلائی کو اپنی اولین ترجیح بنائے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔
معاشی بدحالی اور اس کے اثرات
معیشت ایک قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، لیکن پاکستان کی معیشت اس وقت سنگین مسائل کا شکار ہے۔ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، اور قرضوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ قرآن پاک میں رزق کے اسباب پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زراعت اور صنعت جیسے بنیادی شعبوں پر توجہ دیں، حلال اور جائز طریقوں سے روزگار کے مواقع پیدا کریں، اور اپنی معیشت کو خود کفیل بنائیں۔
جدید ٹیکنالوجی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے
سائبر سیکیورٹی اور کرائم سین انویسٹی گیشن جیسے جدید نظاموں نے جرم کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن ان کے غلط استعمال سے انصاف کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اسلام ہمیں انصاف اور امانت داری کا درس دیتا ہے، اور ان جدید نظاموں کو انہی اصولوں کے تحت استعمال کرنا چاہیے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال رہے۔
ترقی کے امکانات اور ہماری ذمہ داری
پاکستان میں ترقی کی گنجائش بہت زیادہ ہے، لیکن اس کے لیے ہمیں اسلامی اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ سی پیک جیسے منصوبے ملک کو آگے لے جانے میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا فائدہ اسی وقت ہوگا جب عوام اور قیادت مل کر نیک نیتی سے کام کریں۔ علم حاصل کرنا، محنت کرنا، اور رزقِ حلال کمانا ہماری اسلامی ذمہ داریاں ہیں، اور ان کو اپنائے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
اختتامیہ
پاکستان کے مسائل کا حل ہمارے دین میں چھپا ہوا ہے۔ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
"بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔” (القرآن، سورۃ الرعد: 11)
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں اور ایک روشن، مستحکم، اور پرامن پاکستان کی تعمیر کریں۔
السلام الیکم !
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہیں ۔
۔۔۔۔۔ مصنفین کی فہرست میں ان دونوں شاعروں ، ادیبوں ، منتظم اعلیٰ اردو منزل ادبی جشن و اردو منزل عالمی مشاعرے ، ادبی ایوارڈز کے نام بھی شامل فرمائیں ، شکریہ ۔
صبیحہ صبا ( مصنفہ : کتابیں : لفظوں کا شہر ، تری صدا آئی ، لفظ بنے تصویر ، تخیل اور ، دل درد آشنا ) ، اور
صغیر اھمد جعفری ( مصنف : کتاب : خوابوں سے رشتہ ٹوٹ جائے گا )
میں اور ممتاز شاعرہ ، ادیبہ ، صحافی ، منتظم اعلیٰ ادبی جشن و عا،می مشاعرے صبیحہ صبا آجکل ساہیوال ( پنجاب ) میں ہیں ۔ ہمارا فون نمبر یہ ہے :
Tel. No. of Poetess Sabiha Saba and Poet Saghier Ahmed Jafri : 0336 237 6189
اللہ حافظ ۔
السلام علیکم !
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہیں ۔
۔۔۔۔۔ مصنفین کی فہرست میں ان دونوں شاعروں ، ادیبوں ، منتظم اعلیٰ اردو منزل ادبی جشن و اردو منزل عالمی مشاعرے ، ادبی ایوارڈز کے نام بھی شامل فرمائیں ، شکریہ ۔
صبیحہ صبا ( مصنفہ : کتابیں : لفظوں کا شہر ، تری صدا آئی ، لفظ بنے تصویر ، تخیل اور ، دل درد آشنا ) ، اور
صغیر اھمد جعفری ( مصنف : کتاب : خوابوں سے رشتہ ٹوٹ جائے گا )
میں اور ممتاز شاعرہ ، ادیبہ ، صحافی ، منتظم اعلیٰ ادبی جشن و عا،می مشاعرے صبیحہ صبا آجکل ساہیوال ( پنجاب ) میں ہیں ۔ ہمارا فون نمبر یہ ہے :
Tel. No. of Poetess Sabiha Saba and Poet Saghier Ahmed Jafri : 0336 237 6189
اللہ حافظ ۔
ًالسلام علیکم
میرا نام کنور اسلم شہزاد ہے ۔میں چٹکی پر لکھتا ہوں آپ کی ویب سائٹ پر لکھنا چاہتا ہوں کیا آپ مجھے گائیڈ کریں گے ۔
aslamsahzadkunwar99@gmail.comمیرا ایمیل ایڈ ریس ہے
آپکا جواب کا منتظر شکریہ
میں اپنے کالمز ہم سب ڈاٹ کام پر کیسے بھیج سکتا ہوں؟
محمد بلال رشید
https://www.humsub.com.pk/6731/mudeer/
السلام علیکم!
میں اپنے کالم ہم سب ڈاٹ کام پر بھیجنا چاہتا ہوں
رہنمائی فرمائیں
شکریہ
عبداللہ اچکزئی
ذیل کا لنک دیکھ لیجئے
https://www.humsub.com.pk/6731/mudeer/
مچھلیوں کا احتجاج۔
تحریر محمد رمضان علیانی
آج بہت دنوں بعد دریائے سندھ سے نکلنے والے نالہ کریک جو کہ ہمارے علاقے موضع علیانی سے گزرتی ہے وہاں بہتے پانی کو دیکھنے کے لیے اس کے ایک کنارے پر بیٹھ کر کچھ لمحے قدرت کے حسن نظاروں کو محسوس کر کے لطف اندوز ہونے کے لیے بیٹھ گیا۔ اس بہتے پانی میں چلتی پھر اللہ پاک کی مخلوق کو دیکھنا بھی سکون کا سبب بنتا ہے۔
اسی دوران میں نے مچھلیوں سے گپ شپ کرنے کا ارادہ کیا میرے پہلے سؤال پر ہی مچھلیوں نے مجھے ایسا لاجواب کیا کہ اب سوچتا ہوں کہ کاش ان سے بات ہی نا کرتا۔ میں نے کہا کہ کتنی خوش قسمت جاندار ہیں آپ کہ بہترین ماحول میں تازہ ٹھنڈے اور صاف ستھرے پانی میں رہتی ہیں فوری ہی ایک بڑے قد اور لمبی مچھلی بولی کہ یہ صاف پانی ہے آپ ایسے پانی کو صاف پانی کہتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں صاف پانی نہیں ہے تو اس نے کہا ہے کہ اس پانی میں آپ اپنی دنیا جہاں کی غلاظت پھنکتے ہیں کبھی ہمارا خیال کیا ہے آپ کے ہاں کوئی جانور مر جائے اسے پانی میں کیوں پھنکتے ہیں؟ زاید المعیاد ادویات رات کی تاریکی میں پھینک جاتے ہیں کبھی سوچا ہے کہ وہ آپ کے لئے ناقابل استعمال ہیں اور ہمارے لئے؟. میں نے بات کو بدلنے کے لیے مچھلی کو کہا ہے کہ آپ کو گرمی سردی کی کوئی پریشانی تو نہیں ہو گی؟ فوری طور پر جواب ہے کہ آپ انسانوں نے اب جو ہماری نسلوں کو ختم کرنے کا سسٹم شروع کیا ہے ہم بہت زیادہ پریشان ہیں میں نے پوچھا وہ کیسے؟ مچھلی تعجب سے کہتی ہے آپ اتنے نادان بن کر پوچھا ہے جیسے کچھ نہیں معلوم؟ چلیں آپ مچھلیوں کا شکار کریں پہلے ہی مختلف انداز سے پکڑتے تھے اب جو کرنٹ والا دہشتگردانہ طریقہ اپنایا ہے یہ ظلم نہیں ہے کرنٹ سے ہماری پوری ابادی شدید نقصان کا شکار ہو رہی ہے۔ ابھی تک آپ لوگوں کے پھل دھاگے، تعویذ گنڈے کی وجہ سے ہمارے لئے کافی مشکلات پیش آ رہی تھی کہ یہ کرنٹ والا ہتھیار بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔
کتنی راز دان ہیں ہم آپ کے کرتوتوں کے عینی شاہد ہیں ہم مچھلیاں لیکن کبھی نہیں بتایا ہے اور آپ لوگ ہیں کہ کسی کا کوئی عیب نظر آئے ایسے اچھالتے ہیں کہ دنیا کا غلیض ترین شخص ہے۔
مچھلیوں کا یہ احتجاج دیکھ کر شرمندگی سے آنکھیں جھکا کر اٹھا اور سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کیسے ہم جانوروں کی طرح گری ہوئی حرکت کرتے ہیں کبھی بھی ان کے مسائل ان کی مشکلات پر غور نہیں کیا۔ خیرات کے طور پر ہی سہی کبھئ ان جانداروں کی خوراک دریائے سندھ میں یا دیگر دریاؤں میں ڈال دیں یہ بھی نا کریں کم ازکم مردہ جانور، تعویز گنڈے اور زائد المعیاد ادویات کو ہی دریاؤں میں ڈالنے کی بجایے گڑھا کھود کر اس میں ڈال دیں تو دریاؤں کا ماحول صاف ستھرا رہے گا۔ تخیلاتی ہی سہی مچھلیوں کا احتجاج یہ احتجاج ہمیں سوچنے پر ضرور اکتائے گا کہ کیسی شعور والی قومیں ہوتی ہیں۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک حافظ کی نظر
پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ دور سے گزر رہا ہے، جہاں سیاسی، معاشی، اور سماجی مسائل نے قوم کو گہرے غور و فکر پر مجبور کر دیا ہے۔ بطور ایک حافظ، میں ان تمام حالات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ میرا ایمان ہے کہ ہر مسئلے کا حل اللہ کی ہدایت اور انسان کی نیت پر منحصر ہے۔
سیاسی حالات اور قیادت کا فقدان
پاکستان کی سیاست اس وقت تنازعات اور اختلافات کا شکار ہے۔ سیاسی رہنما عوامی خدمت کی بجائے ذاتی مفادات میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسلام ہمیں اتحاد، انصاف، اور مساوات کا درس دیتا ہے، لیکن ہماری سیاست ان اصولوں سے کوسوں دور ہے۔ اگر ہماری قیادت قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنائے اور عوام کی بھلائی کو اپنی اولین ترجیح بنائے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔
معاشی بدحالی اور اس کے اثرات
معیشت ایک قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، لیکن پاکستان کی معیشت اس وقت سنگین مسائل کا شکار ہے۔ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، اور قرضوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ قرآن پاک میں رزق کے اسباب پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم زراعت اور صنعت جیسے بنیادی شعبوں پر توجہ دیں، حلال اور جائز طریقوں سے روزگار کے مواقع پیدا کریں، اور اپنی معیشت کو خود کفیل بنائیں۔
جدید ٹیکنالوجی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے
سائبر سیکیورٹی اور کرائم سین انویسٹی گیشن جیسے جدید نظاموں نے جرم کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن ان کے غلط استعمال سے انصاف کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اسلام ہمیں انصاف اور امانت داری کا درس دیتا ہے، اور ان جدید نظاموں کو انہی اصولوں کے تحت استعمال کرنا چاہیے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال رہے۔
ترقی کے امکانات اور ہماری ذمہ داری
پاکستان میں ترقی کی گنجائش بہت زیادہ ہے، لیکن اس کے لیے ہمیں اسلامی اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ سی پیک جیسے منصوبے ملک کو آگے لے جانے میں مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا فائدہ اسی وقت ہوگا جب عوام اور قیادت مل کر نیک نیتی سے کام کریں۔ علم حاصل کرنا، محنت کرنا، اور رزقِ حلال کمانا ہماری اسلامی ذمہ داریاں ہیں، اور ان کو اپنائے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
اختتامیہ
پاکستان کے مسائل کا حل ہمارے دین میں چھپا ہوا ہے۔ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
"بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔” (القرآن، سورۃ الرعد: 11)
یہ وقت ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں اور ایک روشن، مستحکم، اور پرامن پاکستان کی تعمیر کریں۔
تحریر: حافظ عمر مبشر