’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مضمون ان ہدایات کے مطابق بھیجیں تاکہ آپ کا بھیجا گیا مضمون جلد پراسیس کیا جا سکے۔ ان ہدایات کے آخر میں ایمیل ایڈریس دیا گیا ہے جس پر مضمون بھیجا جانا چاہیے۔ اگر آپ کی ایمیل کا سبجیکٹ اردو میں ہے تو سسٹم آپ کو غلطی سے ایک ایرر میسیج بھیج سکتا ہے۔ اسے نظرانداز کر دیں۔

مضمون صرف ایک مرتبہ ہی بھیجیں اور بھیجنے سے پہلے اسے کم از کم دو مرتبہ خود پڑھ کر اسے فائنل کریں۔ سسٹم آپ کو فوراً ایک خودکار ایمیل بھیج دیتا ہے۔ مضمون بھیجنے کے زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ میں یہ ایمیل آپ کو مل جانی چاہیے۔ اپنی ایمیل کا انباکس یا سپیم فولڈر چیک کریں اور اگر ”ہم سب“ کی ایمیل سپیم میں ہے تو اسے ناٹ سپیم مارک کر دیں۔ ”ہم سب“ ایمیل کے ذریعے رابطہ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

مندرجہ ذیل چیک لسٹ کے مطابق معلومات بھیجیں۔ تمام معلومات ایک ہی ایمیل میں ہونی چاہئیں تاکہ اسے اشاعت کے لیے مارک کیا جا سکے۔

چیک لسٹ

اگر آپ کا کوئی مضمون “ہم سب” پر پہلے پبلش ہو چکا ہے تو اس کا یا ہم سب پر اپنے آتھر پروفائل کا لنک بھیجیں۔ ایمیل میں اپنا نام واضح طور پر لکھیں اور بعینہ وہی نام لکھیں جس سے آپ کا گزشتہ مضمون “ہم سب” پر شائع ہوا تھا۔

اگر آپ کا ہم سب پر پہلے کوئی مضمون شائع نہیں ہوا ہے تو پھر مندرجہ ذیل معلومات بھیجیں

1۔ مضمون (ایمیل / ان پیج / مائیکروسافٹ ورڈ فارمیٹ میں)۔ ایمیل کے اندر لکھا گیا مضمون ہمارے لیے سب سے آسان ہوتا ہے۔ آپ اپنے کمپیوٹر یا موبائل فون پر ایمیل میں ہی مضمون لکھیں اور بھیج دیں۔ ورڈ یا ان پیج میں مضمون لکھنے کی صورت میں مضمون کا کچھ تعارف ایمیل کے متن میں شامل ہونا چاہیے تاکہ اٹیچمنٹ کھولے بغیر ہمیں پتہ چل سکے کہ مضمون کس موضوع پر ہے اور اس کا معیار کیا ہے۔ ان پیج کے ٹیکسٹ کو آپ اس لنک پر کلک کر کے یونیکوڈ ٹیکس میں کنورٹ کر سکتے ہیں، جو آپ ہمیں ایمیل میں کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں۔
2۔ آپ کی تصویر
3۔ شناختی کارڈ یا ڈرائیونگ لائسنس یا سٹوڈنٹ کارڈ یا جاب کارڈ وغیرہ کی تصویر
4۔ فیس بک پروفائل کا لنک (برائے رابطہ)
5۔ فون نمبر (برائے رابطہ)

اشاعت کب ہو گی؟

مضمون بھیجنے کے بعد اس کی اشاعت کے لئے انتظامیہ کو فوراً میسینجر یا فون پر پیغامات بھیجنے سے گریز کریں۔ کام کرتے ہوئے ایمیل دیکھی جاتی ہے اور آپ کے فون کرنے یا پیغام بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر مضمون دو دن تک شائع نہیں ہوا تو اس صورت میں رابطہ کریں۔ مضمون شائع ہونے پر سسٹم آپ کو خودکار طریقے سے لنک بھیج دے گا۔

ادارتی ٹیم باری آنے پر مضمون کا جائزہ لے لے گی اور اگر مضمون معیاری ہوا اور ہمارے پاس اسے شائع کرنے کی گنجائش ہوئی تو اسے شائع کر دیا جائے گا۔ ہم سب ایسے مضامین شائع کرنے کو ترجیح دیتا ہے جو خاص طور پر صرف ہم سب کے لئے ہی لکھے گئے ہوں اور کسی دوسری جگہ اشاعت کے لئے نہ بھیجے گئے ہوں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کا بھیجا ہوا مضمون لازمی طور پر شائع کیا جائے۔ ادارتی ٹیم کسی بھی مضمون کو مسترد یا قبول کر سکتی ہے، اور کسی شائع شدہ مضمون کو ہٹا سکتی ہے۔ ادارتی ٹیم اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کرنے کی پابند نہیں ہے۔

مضمون عموماً دو یا زیادہ سے زیادہ تین دن میں شائع کر دیا جاتا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ مضمون موصول ہوتے ہی جلد از جلد شائع کیا جائے۔ لیکن پہلے سے آئے ہوئے دیگر مضامین اور دستیاب عملے پر کام کے لوڈ وغیرہ جیسی وجوہات کی بنا پر تاخیر ہو سکتی ہے۔

کمپوزنگ

مضمون ٹائپ کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ہر لفظ کے بعد ایک سپیس ڈال رہے ہیں۔ ہر جملے کے اختتام پر فل اسٹاپ ضرور ڈالیں۔ ایک سے زیادہ رموز اوقاف استعمال مت کریں، ایک ہی کوما، فل اسٹاپ یا دیگر علامت لکھیں اور ،،، یا ۔۔۔۔ یا ؟؟؟ یا !!!! وغیرہ لکھنے سے گریز کریں۔

خاص طور پر “کی” اور “کے” کے بعد ایک سپیس ڈالنے پر توجہ کریں۔ آئینگے ، آئینگی ، وغیرہ کی بجائے ’آئیں گے ‘ اور ’آئیں گی ‘ لکھنے کی کوشش فرمائیں۔ اسی طرح جائینگے ،جائینگی ، وغیرہ کی بجائے ’جائیں گے ‘ اور ’جائیں گی‘ لکھا جائے تو بہتر ہے۔ انکی، جسکی، انکو، آپکی ، آپکے ، انکے اور جسکے کی بجائے ان کی، جس کی، ان کو، آپ کی ، آپ کے ، ان کے اور جس کے لکھنے کی کوشش کیجئے۔

جہاں اردو لفظ ممکن ہو، وہاں انگریزی لفظ سے گریز فرمائیں۔ اگر انگریزی لفظ بھی ہے تو اسے اردو املا میں لکھنے کو ترجیح دیں۔

سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ مضمون کو ایمیل میں ہی لکھ دیں۔ لیکن آپ مضمون کو ان پیج، مائیکروسافٹ ورڈ یا ایچ ٹی ایم ایل فارمیٹ میں بھیج سکتے ہیں۔ اس صورت میں اس بات کا خیال رکھیں کہ مضمون کا مکمل متن یا کچھ تعارف ایمیل میں شامل ہو تاکہ فائل کھولے بغیر ہی مضمون پر ایک سرسری نگاہ ڈالی جا سکے۔ ایسے مضامین جن میں ایمیل میں یونیکوڈ فارمیٹ میں متن دیا گیا ہو، پہلی فرصت میں پراسیس کیے جاتے ہیں۔

تحریر اور موضوعات

اپنا مضمون بھیجنے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ ضرور پڑھیں۔ کمپوزنگ کی بہت سی غلطیاں آپ خود نکال سکتے ہیں۔ جس تحریر میں کم غلطیاں ہوں، اس پر ایڈیٹر کی کم محنت لگتی ہے، اور وہ جلد شائع ہو سکتی ہے۔

تحریر کی طوالت 500 سے 1000 الفاظ کے درمیان ہونی چاہیے۔ بعض صورتوں میں استثنا دیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ مضمون کا عنوان لگانا، تحریر میں موجود غلطیاں درست کرنا، غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد کو حذف کرنا، ایسا مواد جو کہ ادارتی پالیسی کے خلاف ہو، اسے حذف یا تبدیل کرنا اور بات کو واضح کرنے کے لئے متن میں تبدیلی کرنا، کسی بھی ایڈیٹر کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر آپ ایڈیٹر کے اس اختیار سے متفق نہیں ہیں تو، براہ کرم اپنا مضمون کسی اور جگہ شائع کرنے کے لئے بھیجیں، ہم اسے شائع کرنے سے قاصر ہیں۔

 مضمون لکھنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور مضمون بھیجتے ہوئے آپ اس بات کے بارے میں سوچ لیں کہ آپ کو اس مضمون پر آنے والے اچھے یا برے عوامی ری ایکشن یا قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے خوب سوچ سمجھ کر مضمون لکھیں۔ ہم سب کی ادارتی ٹیم ایڈیٹنگ کرتے ہوئے حتی المقدور کوشش کرتی ہے کہ مضمون میں موجود ایسا مواد ٹھیک کر دیا جائے جو پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔ مضمون بھیجنے سے پہلے خوب غور کر لیں کیونکہ عام حالات میں مضمون شائع ہونے کے بعد سائٹ سے ہٹایا نہیں جائے گا۔

اگر آپ کسی دوسرے مصنف کے مضمون کا جواب لکھ رہے ہیں، یا حالات حاضرہ پر عمومی تبصرہ کر رہے ہیں تو اس فرد کو نشانہ بنانے کی بجائے اس کے موقف پر بات کریں۔ مضمون میں اگر کسی کی کردار کشی کا پہلو ہو تو اس کے شائع ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

مضمون میں اگر آپ کسی واقعے، فرد یا جگہ وغیرہ کا ذکر کر رہے ہیں تو پہلے کسی ماخذ سے اپنے بیان کی درستی کا یقین کر لیں۔

ہم سب ایک رضاکارانہ بنیادوں پر چلایا جانے والا ادارہ ہے۔ یہاں نا تو سٹاف کو کسی قسم کا معاوضہ دیا جاتا ہے اور نا ہی لکھنے والوں کو۔ اردو ڈیجیٹل پبلشنگ میں اتنی آمدنی نہیں ہے کہ ہم سب جیسا ادارہ بھی کل وقتی سٹاف رکھ کر اسے مشاہرہ ادا کر سکے اس لیے چند رضاکار اسے اپنا وقت اور محنت کسی معاوضے کے بعد دے کر چلاتے ہیں۔

ادارتی پالیسی

’ہم سب‘ میں ادارتی پالیسی بالکل واضح ہے۔ دائیں اور بائیں کی کوئی قید نہیں۔ مذہبی اور غیر مذہبی نقطہ نظر پر کوئی پابندی نہیں۔ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر کوئی تحریر روکی نہیں جاتی۔ اظہار کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے۔ اظہا ر کی آزادی میں بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ صحیح یا غلط ، دلیل سامنے آئے گی تو اس کے رد میں موجود دلیل کو بھی سامنے آنے کا موقع ملے گا۔ ذہانت پر صحافی کا اجارہ نہیں۔ پڑھنے والا سب سے زیادہ ذہین ہے۔ وہ پڑھے گا۔ سوچے گا اور دلیل کو قبول یا رد کرے گا۔ اگر صحافی دلیل کو روک لے گا تو پڑھنے والے کو معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کرے گا۔ اس میں معمولی سی شرط یہ ہے کہ صحافت میں ناشائستہ لب و لہجہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کو گالی نہیں دی جا سکتی۔ کسی مذہبی ، ثقافتی یا نسلی گروہ کے خلاف اشتعال نہیں پھیلایا جا سکتا۔ نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کسی کو جرم کی ترغیب دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ قانون شکنی کی حمایت نہیں کی جاتی۔ کسی جرم پر اکسانا اظہار کی آزادی میں شامل نہیں ہوتا۔

’ہم سب‘ کو آپ کی تحریریں شائع کر کے خوشی ہو گی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ’ہم سب‘ ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر سکے جہاں پاکستان میں ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کھلے دل و دماغ سے ایک پرامن اور مفید اجتماعی مکالمے کا حصہ بن سکیں۔

اپنے مضامین اس ایمیل ایڈریس پر بھیجیں۔
[email protected]

ان دو مضامین کا مطالعہ ضرور کریں

۔1۔ ادارتی پالیسی اور ہدایات

۔2۔ چند گزارشات از وجاہت مسعود

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

34 thoughts on “’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟

  • 29/02/2016 at 10:44 pm
    Permalink

    سربہت بہت شکریہ! مگر بہت سے مضامین اور کالمز میں بے جا طور پر ذاتی حوالوں سے بات کی جاتی ہے جیسا کہ ابھی پچھلے دنوں مفتی نعیم صاحب کے حوالے سے لکھے گئے کالم وغیرہ۔۔۔۔ اسی طرح بہت سے لکھاری دشنام اور یاوہ گوئی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔ جو کہ مستقل لکھنے والے ہیں۔۔۔۔۔

  • 01/03/2016 at 1:49 am
    Permalink

    بہت جامع انداز میں املا کی عمومی غلطیوں پر تبصرہ فرمایا ہے ۔ اطمینان ہؤا کہ اس مسئلے پر کُڑھنے کو ہم اکیلے نہیں ☺️ شکریہ

  • 01/03/2016 at 12:55 pm
    Permalink

    جناب عالی۔
    تحریر قلمی ہو یا ٹائپ کر کے بھیجی جاۓ؟

  • 01/03/2016 at 2:30 pm
    Permalink

    What is the best way to subscribe for this blog? I want to be updated about different blogs and posts.

  • 04/03/2016 at 5:47 pm
    Permalink

    اردو سمجھنے،بولنے اور لکھنے والوں کیلئے”ہم سب” ویب سائٹ ایک اچھا اضافہ ہے۔ اور جناب وجاہت مسعود صاحب کی زیرادارت اس پلیٹ فارم میں نکھار آرہا ہے۔میں “ہم سب” کی پوری ٹیم کومبارکباد دیتا ہوں۔
    شہباز سعید آسی

  • 08/03/2016 at 4:52 pm
    Permalink

    زبان کی معیار بندی ضروری ہے۔ جہاں مختلف املا کے ساتھ کوئی لفظ لکھا جاتا ہو۔ اس پر توجہ دیجیے اور کوئی ایک املا مقرر کر دیجیے تا کہ سبھی لوگ اسے معیار تسلیم کر لیں اور آئندہ اسی طرح لکھیں۔ مثلاً ۱۔ علیٰحدہ، ۲۔ علیحدہ اور ۳۔ علاحدہ، ان میں سے کسی ایک کو معیار بنا لین کہ آئندہ اسی طرح سے لکھا جائے گا۔

  • 22/03/2016 at 1:46 am
    Permalink

    میں تقریبا ایک سال سے سوشل میڈیا پہ لکھ رہا ہوں اور ابھی چاہتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ویب سائیٹس پہ بھی لکھائی شائع کیا کروں- میری لکھائی میں صرف ایک مسئلہ ہے وہ یہ کہ چونکہ اردو میری مادری زبان نہیں اور نہ سکولوں میں اتنا گرائمر پڑھاہا پے تو مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے مذکر-مؤنث میں پھنس جاتا ہوں اور کچھ ایسا صورت حال بن جاتا ہے کہ:
    مجنون نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے

    انشاءاللہ میں بھیجوں گا- معیار کے مطابق ٹھہرے تو حوصلہ افزائی ہو جائے گی، نہیں، تو اصلاح ہو جائے گی-
    شکریہ

  • 12/04/2016 at 2:33 pm
    Permalink

    کیا ہم سب ادبی تحریریں اور افسانہ وغیرہ شایع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟

    • 12/04/2016 at 3:11 pm
      Permalink

      جی ہاں گوشہ ادب میں ایسی تحریریں شائع کی جاتی ہیں.

  • 19/04/2016 at 5:49 pm
    Permalink

    ہدایات میں لکھا ہے کہ ان پیج میں نسخ فاونٹ میں ٹایپ کر کے تحریر بھیجی جا سکتی ہے،لیکن کیا ای میل کے متن میں پورا مضمون بھی ٹایپ کرنا ضروری ہے؟

    • 20/04/2016 at 11:01 am
      Permalink

      اگر آپ ایمیل میں متن ٹائپ کر کے بھیجیں گے تو آپ کی تحریر کے جلد پراسیس ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ویسے ان پیج سے آپ کو صرف کاپی اور پیسٹ کرنے کی زحمت اٹھانا ہو گی۔ ان پیج ٹو کے لیے بھی کاپی پیسٹ کے سافٹ وئیر دستیاب ہیں۔

  • 02/02/2020 at 12:51 am
    Permalink

    کیا بغیر تصویر کے تحریر شاٸع نہںں کی جاٸے گی

    • 06/02/2020 at 12:56 am
      Permalink

      تصویر کے بغیر تحریر شائع کی جا سکتی ہے۔ آپ مضمون بھیجتے وقت یہ بتا دیں کہ آپ تصویر شائع نہیں کروانا چاہتی ہیں۔ لیکن آپ کی شناخت ہمارے ریکارڈ میں ہونی ضروری ہے۔

  • 05/03/2020 at 4:10 pm
    Permalink

    سر مجھے اس ویب سائٹ پہ لکھنے کا موقع دے میں کرنٹ افئیر کے حوالے سے اپنی تحریر لکھا کرونگا۔

    • 06/03/2020 at 6:47 pm
      Permalink

      ضرور لکھیے

  • 10/04/2020 at 2:08 pm
    Permalink

    سر۔۔کیا ہم سب کا فونٹ نسخ ہے اور یہ کہاں سے کیسے ڈاونلوڈ ہو سکتا ہے؟

  • 10/04/2020 at 2:10 pm
    Permalink

    سر۔۔کیا ہم سب کا فونٹ نسخ ہے اور یہ کہاں سے کیسے ڈاونلوڈ ہو سکتا ہے؟

  • 20/04/2020 at 8:25 pm
    Permalink

    ماشاءاللہ
    اُردو کی ترویج کے حوالے سے ایک اچھی کاوش جاری ہے جی

  • 21/05/2020 at 10:45 pm
    Permalink

    اسلام علیکم!
    جناب میں نے 16 مئی 2020 کو ایک افسانہ بھیجا تھا جو آپ کے پبلش پالیسی کے مطابق یونیکوڈ کنورٹڈ تھا۔
    تمام لوازمات بھی ساتھ منسلک تھے مثلًا تصویریں وغیرہ
    مہربانی فرما کر شائع کر دیں یا شائع نہ ہونے کی وجہ بتا دیں
    شکریہ
    موبائل نمبر 03062324126

    • 21/05/2020 at 11:26 pm
      Permalink

      جناب آپ کو ایمیل کر دی گئی تھی کہ اسے اشاعت کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔ اور اگر آپ نے ہماری گائیڈ لائن پڑھی ہو تو آپ نے یہ فقرہ ضرور پڑھا ہو گا۔

      ضروری نہیں ہے کہ آپ کا بھیجا ہوا مضمون لازمی طور پر شائع کیا جائے۔ ادارتی ٹیم کسی بھی مضمون کو مسترد یا قبول کر سکتی ہے، اور کسی شائع شدہ مضمون کو ہٹا سکتی ہے۔ ادارتی ٹیم اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کرنے کی پابند نہیں ہے۔

  • 01/06/2020 at 8:29 am
    Permalink

    ہم اور ہمارا سماج وہ معاشر ہ
    انسان کی فطرت ہے کہ وہ تنہا ذندگی بسر نہیں کرسکتا اس لیے فطرطُ گرہ کے ساتھ پسند کرتا ہے۔معاشرہ کے ساتھ بیٹھنا اس کی مجبوری ہوتی ہیں۔اس لیے انسان کو ہم جنسوں سے تعاون کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تاکہ ضروریات زندگی کا حصول آسان ہو سکے۔
    ماہر سوشیالوجسٹ کہتےہیں۔ انسان ایک سماجی کیڑا ہے جو دوسروں کے تعاون کے بغیر ذندہ نہیں رہ سکتا انسان تنہا ذندگی نہیں بسر نہیںکرسکتا۔وہ دوسروں کی مدگار کا طلبگارہےاگر ہم ایک دن کی خوراک کی مشال لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ غذا جس کے بغیر انسان ذندہ نہیں رہ سکتا اس کی حصول کےلیےبھی متعددافرادکی مشترکہ ضروری ہیں۔انسان بڑی مشکت سے ایک روٹی کا ٹکڑا حاصل کرتا ہے۔
    ہمارے سماج معاشرے میں ایسی بہت سی خامیاں ہیں جن کو ہم سوچتے تو ہیں مگر عملی جامہ پہنانے ڈرتے ہیں اور حق بیانی سے کام نہیں لیتے ۔شاید ہم ڈرتے ہیں اپنے اپ سے سماج میں اگر کوی دیکھے گا تو کیا سوچے گا اج ہم دوسروں کی سوچ میں پھنسے ہوۓ ہیں لوگ کیا کہیں گے ہمیں اس سوچ سے نکل کر معاشرتی اور سماجی حالت کو دیکھنا چاہے۔ان براٸیوں کو ختم کرنا چاہیں۔
    اور خدا بھی اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود کو تبدیل نہ کر لے انسان سے گهر بنتا ہے اور گھر سے ایک معاشرہ وجود میں آتا ہے انسان کا کردار اس کی فکر پر منحصر ہوتا ہے انسان ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے جب ایک شخص پیدا ہوتا ہے تو وہ نہ پیداٸشی شریف ہوتا ہے اور نہ وہ کریمنل بلکی اس کو ایک اچھے انسان بننے اور اور مجرم بننے میں یہ معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔اگر ہم ایک اچھا معاشرہ چاہتے ہیں تو براٸیوں کو دور کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے نفس کو ٹھیک کرنا ہوگا دوسروں کی عیب تلاش کرنے کے بجاے خود اپنے اپ کو بے بےعیب کرنا ہوگا کیونکہ ایک اچھا معاشرہ بہترین انسانوں سے ہی تشکیل پاتا ہے۔
    قران میں بھی سورة ال عمران میں معاشرہ کے بارے میں بیان کیا ہے
    ترجمہ ٍتم اچھا کام کرتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ھو۔اس قرانی تصور سے ایک ایسا معاشرہ بنانے کی جانب راہ کھلتی ہے معاشرے کے بنیادی تصور کے مطابق تمام افراد کو بنیادی ضروریات ذندگی بھی میسر ہوں اور ذہنی اسودگی بھی ۔کسی بھی انسانی معاشرے کو اس وقت تک ایک اچھا معاشرہ نہیں کہاجاسکتاکہ جب تک ہر فرد کو مساوی انسان نا سمجھاجاے ایک کمزور کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہوں ایک طاقتور کے پاس ہوں ۔۔
    آج سے چند سال قبل لوگوں کے پاس انٹرنيٹ کی سہولت نہ تھی، پھر بھی وہ مخلص تھے اور ہر بات کو اچھی طرح سمھجتے تھے۔ آج لوگ سوشل میڈیا سے استفادہ کرتے ہیں مگر ان خصوصیات سے عاری ہیں۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جدید سہوليات سماج کو اچھائی کی طرف لے جا سکتی ہیں؟ جب ایک تعلیم یافتہ شخص معاشرے میں ہر طرح کی باتوں کو سچ مان کر اپنا قیمتی وقت دوسروں کی غیبت کرنے میں گزارتا ہے تو کیا قصور اس بے چارے چرواہے کا جو پہاڑوں میں بکریاں چراتا ہے۔

    مجھے نہ کسی سے اختلاف ہے نہ گلہ ہے۔ میں ان تمام لوگوں پہ حیران ہوں جنھیں گفتگو کرنے کے لیے کوئی خاص موضوع نہیں ملتا۔ اور وہ اپنی تمام خاميوں پر پردہ ڈال کر دوسروں میں غیبت اور عیب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر اسی طرح سے یہ سلسلہ چلتا رہا اور ہم جھوٹ کی حوصلہ افزائی کر کے سچ کو دبانے کی کوشش کرتے رہے تو اس اکیسویں صدی میں بھی ہم وہی پتھر کے زمانے میں ہی رہیں گے۔

    اے مسلم دوسروں کے عیب کیوں تلاش کرتا ہے

    اپنے اندر جھانک کے دیکھ بہت کام کرنا رہتا ہے

    زبیر احمد رانا

  • 12/06/2020 at 3:48 pm
    Permalink

    کیا اردو میں ٹائپ کر کے ای میل کر سکتے ہیں یا کسی اور سافٹ ویئر کی بھی ضرورت ہو گی؟

    • 12/06/2020 at 4:54 pm
      Permalink

      اردو میں ٹائپ کر دیجئے۔ بہتر ہو گا کہ ویب سائٹ پر اوپر بائیں ہاتھ لکھنے والوں کے لئے ہدایات موجود ہیں۔ انہیں دیکھ لیجئے

  • 16/06/2020 at 3:19 am
    Permalink

    محترم جناب وجاہت مسعود صاحب –
    اسّلام علیکم – اس سے پہلے میری دو کہانیاں ” ہم سب ” میں چھپ چکی
    ہیں – ایک کا عنوان تھا ”حیدرآباد سے حیدرآباد تک اور دوسری شاید ”سائبان ” انہیں اب ویب سائٹ پر کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے – میں اور کہانیاں چھپوانا چاہتا ہوں اسکے لئے مجھے کیا کرنا ہوگا – میرے پاس کہانیاں ان پیج فارمیٹ میں ہیں -آپ نے ایک نوٹ میں لکھا ہیکہ ”ان پیج ٹو کے لیے بھی کاپی پیسٹ کے سافٹ وئیر دستیاب ہیں۔” کیا آپ اس سافٹ وئیر کا نام بتا سکتے ہیں , مہربانی ہوگی – آپ کے جواب کا انتظار رہیگا
    فقط
    قیّوم خالِد (شکاگو, امریکہ)

  • 13/07/2020 at 4:08 pm
    Permalink

    سر مینے چند روز پہلے ایک مختصر تحریر بھیجی تھی جو کہ اب تک شائع نہیں ہوئی؟

  • 14/07/2020 at 8:50 pm
    Permalink

    سر میں بھی لکھنا چاہتی ہوں اور ہم سب کا حصّہ بننا چاہتی ہوں میں نے کچھ مضامین پر لکھا ہیں اور وہ شائع کروانا چاہتی ہوں اور میں اپنی تصویر نہیں بھیجوا سکتی آپ تصویر کے بغیر ہی میری تحریر شائع کر دیں۔

  • 15/07/2020 at 7:14 pm
    Permalink

    @Manshes Kumar

    We don’t have any email from a sender named Manesh Kumar.

  • 15/07/2020 at 7:17 pm
    Permalink

    @Zahida Kakar

    تصویر کے بغیر شائع ہو جائے گا مگر ہمیں آپ کی شناخت درکار ہے۔ آپ کو ایمیل کی گئی تھی مگر آپ نے شناخت نہیں بھیجی۔

Leave a Reply