ضرورت ہے محبوب کی: برائے سچی محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج مجھے اپنی دوست رانی شدت سے یاد آ رہی ہے۔ وہ ہوتی تو یقیناً مجھے بھی دو چار نہ سہی کسی ایک کے دل کی رانی بنانے کے گر سکھا دیتی کہ اس کے پاس ایک سو ایک نسخہ موجود تھا لیکن اگر وہ ہوتی تو۔ ۔ ۔ ۔ آہ اس کی قدر آئی اس کے جانے کے بعد۔ اس کی زندگی میں اس سے خود کچھ سیکھنے کی بجائے میں صرف اسی کے عشقیہ قصوں کو سننے تک محدود رہی اور خود کبھی قدم اٹھانے کا نہ سوچا۔ اب جب قدم بڑھانے کا سوچا ہے تو کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ملتا۔

لیکن ٹھہریئے بات آگے بڑھانے سے پہلے رانی کا تعارف ہو جائے۔ رانی میری عزی ترین دوست تھی اور میں اس کے ہر برے کام کی ایک اچھی رازدار۔ اسے نصابی کتب کے علاوہ ہر کتاب سے لگاؤ تھا۔ خاص کر فلمی جرائد اور عشقیہ ناولوں سے تو عقیدت تھی اسے۔ نصابی کتب سے بس اتنا لگاؤ تھا کہ صفر کے ہندسے تک نمبر آ جائیں اس سے زیادہ نمبر لینے کی تمنا اس کے دل میں ہر گز نہیں تھی، اس کا خیال تھا صفر سے زیادہ نمبر لینا ذہین طالبات کا حق مارنے والی بات ہے۔

البتہ سالانہ امتحانات کے دنوں میں مجھے خوب پڑھنے پر زور دیتی، میری خدمتیں کرتی، اور رات دیر تک اپنی نگرانی میں پرچے کی تیاری کرواتی، کہ صبح میں اپنے پرچے کے ساتھ ساتھ اس کا پرچہ بھی حل کر سکوں۔ میرا ساتھ دینے کو اپنی نیند قربان کر کے خود بھی ساری رات منٹو کے افسانے پڑھتی رہتی، تاکہ اکیلے جاگنے کی وجہ سے کہیں مجھ پر نیند کا غلبہ نہ آ جائے۔ میرے پاس ہونے کے لیے اس کا پاس ہونا ضروری تھا ورنہ مجھے فیل ہونے کی محنت کرنا پڑتی۔

وہ محنت اور محبت پر صدق دل سے یقین رکھتی تھی خاص کر سچی محبت حاصل کرنے کی محنت پر۔ اس کو جب بھی ہوئی ہمیشہ سچی محبت ہوئی اور اس پر حسین اتفاق دیکھئے کہ اسے ہر چھ ماہ بعد سچی محبت ہوجاتی اور اسے لگتا یہی اس کا رائٹ مین ہے۔ وہ دعوی کرتی اگر اس کا موجودہ محبوب اسے نہ ملا تو زہر کھا کر مر جائے گی لیکن اس کے بغیر زندہ نہیں رہے گی، بس یہی ہے وہ شخض جس کی اسے تلاش تھی۔ اور اس سچی محبت کو حاصل کرنے کے لیے وہ ہر حد سے گزرنے کو تیار بھی ہو جاتی۔

لیکن جوں جوں دونوں ایک دوسرے پر کھلتے، رانی کے کھلتے دل کی کلی مرجھانے لگتی، اس سے پہلے کہ وہ کمبخت اس کے ساتھ ع غ کرنے کی کوشش کرتا وہ اس کو اپنے ناخنوں سے ن و چ ڈالتی یا پھر عین وقت پر وقت اس کا ساتھ دے جاتا اور کوئی مخبری کردیتا کہ بلما دھوکے باز ہے۔ بس جی اچھی محبت خراب نکلتی تو محبت میں مرنے کی باتیں بھول کر ”زندگی خراب ہونے سے بہتر ہے محبت خراب نکلی“ کہہ کہ خود کو دلاسا دیتی۔ وہ ایک مثبت سوچ کی لڑکی تھی تبھی چند دن رونے دھونے اور سوگ منانے کے بعد نئی امید نئے جوش کے ساتھ وہ پھر سے سچی محبت ملنے کے آس لگا لیتی۔

روشن اور کھلے ذہن کی تھی سو کبھی اس نے مایوسی کو اپنے پاس نہیں آنے دیا اور ہمیشہ پچھلے کا غم بھلا کر آگے بڑھی۔ وہ بہت اچھی تھی ہمیشہ سچی محبت ہی کرتی لیکن وہ سارے لڑکے بد نصیب تھے جو اس کو سمجھ نہیں سکے اور اس کی محبت میں خود کو باندھنے کی بجائے اس کے ساتھ بدنامی باندھنے کی کوشش کرتے۔ وہ محبت کے نام پر اپنی ہوس پوری کرنا چاہتے تھے۔ لیکن رانی کا ماننا تھا جو سچی محبت کرتا ہے وہ کچھ ع غ نہیں بلکہ شادی کرتا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ بھری جوانی میں پیا کو پیاری ہونے کی چاہ لیے وہ اللہ کو پیاری ہوگئی۔ شباب کے عروج کے دنوں میں اس کی زندگی کو زوال آ گیا اور وہ مٹی کے پتلے کی تمنا لیے مٹی میں جا کر سوگئی۔ اس کے جانے بعد مجھے پتہ چلا کہ اس کی صحبت میرے لیے کس قدر ضروری تھی۔

محبت ہونا ایک فطری عمل ہے۔ چاہے جانا ہر کسی کی آرزو۔ لیکن مجھے محبت ایسی واہیات چیز میں ذرا دلچسپی نہیں نہ میں نے چاہا کہ کوئی مجھے چاہے۔ میں جب بھی یہ بات کروں تو یقین کر لیں کہ جھوٹ کہتی ہوں سراسر بکواس کرتی ہوں۔ یہ تو صرف اپنا بھرم رکھنے کو کہتی ہوں کہ کبھی محبت نہیں کی، حقیقت یہ ہے کہ کبھی کسی نے اس قابل ہی نہیں جانا۔ جانے کون خوش قسمت لوگ ہیں جو محبت کرتے ہیں، نہیں بلکہ یوں کہیں جن سے کوئی محبت کرتا ہے۔

مجھ سے تو کبھی کسی نے ڈھنگ سے نفرت نہیں کی محبت تو دور کی بات ہے۔ میں ہوں ہی ایسی صم بکم نہ ہنسنے والوں میں شامل، نہ رونے والوں کا ساتھ دینے والی۔ کسی دوسرے سیارے سے آئی مخلوق کی طرح حیرانی سے بس دوسروں کو دیکھتے جاتی ہوں، جس کو کسی کی نفرت نصیب ہوئی نہ کسی محبت کرنے والے نے پاس پھٹکنے دیا۔ اسی لیے میں دونوں ہی جذبوں کو محسوس کرنے سے عاری ہوں۔ مجھے نہیں پتہ لوگ نفرت میں کسی دوسرے کا نقصان کیوں کرتے ہیں اور نہ یہ پتہ ہے محبت میں خود کو برباد کیسے کرتے ہیں۔

لیکن دل کی بات بتاؤں تو یہ کہ میرا دل بھی شدت سے کرتا ہے کہ میرا بھی محبوب ہوتا کوئی مجھے بھی چاہتا مجھ سے بھی کوئی سچی محبت کرتا چلو وہ نہ کرتا میں ہی سچی محبت کر لیتی لیکن کوئی اک پیار بھری نظر تو ڈالتا۔ بہت کوشش کی کہ مجھ پر بھی کوئی الفت بھری نظر ڈالے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ اپنا مکھڑا ایسا حسین نہیں کہ جسے ایک بار دیکھ کر نظر نہ ہٹائی جا سکے اور کوئی دل و جان سے فدا ہو جائے۔ یا پھر یوں کہہ لیں کہ قدرت نے اپنی شکل میں دل موہ لینے والی رعنائی نہیں رکھی اور نہ کسی قاتلانہ اداوں سے نوازا ہے کہ جس سے میں کسی کو متوجہ کر سکوں۔

اپنے دل کی شدید خواہش کے باوجود بھی جب کوئی خوبصورت ”گائے“ میری طرف متوجہ نہ ہو سکا تو توجہ دلاؤ نوٹس کا سوچا اور اپنے اماں بابا کی خدمت میں جا کر مودبانہ گزارش کی کہ کچھ خبر ادھر کی بھی، ہمیں کسی کھونٹے سے باندھنے کا انتظام کیا جائے۔ لیکن میں قسمت کی ایسی دھنی ہوں کہ مقدر نے یاوری نہ کی، یہاں اماں بابا کی سب تدبیریں بھی ناکام گئیں اور میرے لیے آفتاب و ماہتاب کی کال پڑ گئی۔ آخرکار وہ اس آفتاب پر راضی ہو گئے جس کو گرہن لگا تھا لیکن یہاں میں راضی بہ رضا نہیں ہو سکی۔

چلو اپنی شکل واجبی سی ہے لیکن دوسری طرف بھی تو خوبصورت نہ سہی قبول صورت مقبول تو ہو۔ لیکن کوئی امید ہے کہ بر نہیں آتی۔ کوئی معقول بر ملتا ہے نہ ایسی کوئی امید ہوتی ہے، کہ جو ملتا ہے بد ہی ملتا ہے اور میں ٹھہری سچی محبت کی متلاشی۔ رانی تو ہے نہیں جو ہمیں کچھ ضروری تعلیم دیتی اب خود ہی کوشش کرنا ہوگی اسی واسطے سوچا اب ایک اشتہار دیا جائے کہ ایک عدد سچی محبت کرنے والے محبوب کی اشد ضرورت ہے سو اگر کوئی خالص محبوب بننے کا شدید خواہش مند ہو تو درج ذیل پتے پررابطہ کرے۔

موجودہ و غیر موجودہ پتہ : برگد کا درخت، تربوز والا کھیت، محبت پورہ

نوٹ :پہلے آئیے پہلے پائیے جیسی کوئی شرط نہیں آخر میں آنے والا بھی قبولیت کی سند پا سکتا ہے۔ البتہ تیسری شادی اور غیر اخلاقی حرکتوں والے رابطے سے گریز کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *